گردوں کے افعال

گُردے ہمارے جسم کا ایک اہم حصہ ہیں جو فلٹر کا کام کرتے اور مختلف قسم کے زہریلے مادوں کو جسم سے خارج کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ گردوں کی حفاظت میں لاپرواہی کا انجام مختلف جان لیوا امراض کی صورت میں ہوتا ہے جبکہ بسا اوقات باقی تمام زندگی طبیب کی ہدایت کے مطابق ڈائلیسز (Dialysis) کروانا پڑتا ہے جو بہت تکلیف دہ ہوتا ہے۔

گردوں کے افعال جسم میں موجود ناکارہ اور فاضل مادوں خاص طور پر یوریا اور یورک ایسڈ کا اخراج ٭بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنا ٭استعمال شدہ ادویات میں موجود مضرِ صحت اجزا کا اخراج ٭جسم میں پانی کی مقدار کو کنٹرول کرنا ٭جسم میں نمکیات کی مقدار زیادہ ہوجائے تو انہیں خارج کرکے مقدار کو اِعْتِدال پر لانا وغیرہ۔

گردوں سے متعلق اہم معلومات گردے پیٹ کی پچھلی دیوار کےقریب ریڑھ کی ہڈی کے اطراف میں ہوتے ہیں۔ ہر گردے کی لمبائی تقریباً11سینٹی میٹر، چوڑائی6سینٹی میٹر، موٹائی 3سینٹی میٹر جبکہ وزن تقریباً 100گرام ہوتا ہے۔ گردوں میں نیفرون نامی لاکھوں چھوٹی چھوٹی خم دارنالیاں ہوتی ہیں جن کے ذریعے جسم کے فاضل مادے بذریعہ پیشاب جسم سے خارج ہوجاتے ہیں۔ ان نالیوں میں ایک گھنٹے میں تقریباً 200 لیٹر خون کی گردش ہوتی ہے۔

متفرق مدنی پھول انجیر گُردہ اور مَثانہ (یعنی پیشاب کی تھیلی) کی سوزِش کیلئے مفید ہے۔(گھریلوعلاج، ص112) ٭گردے کی خرابی کا پتا چلانے کے لئےURINE D Rنامی ٹیسٹ کروالیں جو چند سو روپے میں ہوجاتا ہے۔ اس ٹیسٹ کے ذریعے گردے یا پتے میں پتھری کی موجودگی کا بھی پتا چل سکتا ہے ٭گردے کی خرابی کی علامات عموماً جلد ظاہر نہیں ہوتیں اور جب ظاہر ہوتی ہیں تو اس وقت تک کافی دیر ہوچکی ہوتی ہے ٭ہائی بلڈ پریشر اور شوگر کو اگر کنٹرول نہ کیا جائے تو یہ گردوں کی خرابی کا سبب بن سکتے ہیں ٭صاف پانی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں لیکن اپنے طبیب کے مشورے سے، کیونکہ گردے کے بعض امراض ایسے ہیں جن میں زیادہ پانی پینا نقصان کا سبب بن سکتا ہے ٭چائے نوشی کی کثرت گردوں کے لئے نقصان دہ ہے ٭گردوں کی تکلیف عموماً سردی اور شدید گرمی کے موسم میں ہوتی ہے۔ موسمِ سرما میں پانی کم پیا جاتا ہے جبکہ سخت گرمیوں میں پسینے کے زیادہ اخراج کے باعث جسم میں پانی کی کمی کی وجہ سے بھی گردے متأثر ہوسکتے ہیں۔

گردوں کے امراض گردوں کے مختلف امراض میں گردوں میں انفیکشن(UTI)، گردوں میں پیپ پڑجانا، پانی کی تھیلی بن جانا اور پتھری وغیرہ شامل ہیں۔

گردوں میں پتھری ایک تجزیے کے مطابق دنیا میں ہر11 میں سے ایک شخص کو اپنی زندگی میں گردوں کی پتھری کا سامنا ہوتاہے جبکہ ایک بار پتھری ہونے کے بعد دوبارہ بننے کے 50فیصد امکانات ہوتے ہیں۔ پتھری جب اپنی جگہ سے حرکت کرتی ہے تو مریض کو شدید تکلیف ہوتی ہے۔ پتھری کی وجہ سے بلڈ پریشر کا مسئلہ بھی ہوسکتا ہے۔

گردے میں پتھری کے اسباب پانی کم پینا یا گندہ پانی پینا ٭متوازن غذا (Balanced Diet) کا استعمال نہ کرنا ٭گوشت خوری کی کثرت، پالک اور ساگ کا زیادہ استعمال نیز پان، گٹکا اور چھالیہ وغیرہ بھی اس کا سبب ہیں۔

پتھری کا حجم عام طور پر پتھری ریت کے ایک چھوٹے ذرے سے لے کر گولف کی گیند (1.68انچ) جتنی ہوسکتی ہے۔

پتھری کی علامات پیشاب میں جلن اور رکاوٹ، بخار اور سردی لگنا، پیشاب کا گاڑھا ہوجانا وغیرہ۔

پتھری کے 2گھریلو علاج (1)کچے پپیتے پر سفید یا کالا نمک لگا لیجئے اور تھوڑی سی پسی ہوئی کالی مرچ چھڑک لیجئے، دن میں تین مرتبہ (تقریباً دس دس گرام) خوب اچھی طرح چبا کر کھا لیجئے۔ چبانا دشوار ہو تو پیس کر بھی استعمال کرسکتے ہیں۔ اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ گردے (اور پتّے) کی پتھری نکل جائے گی۔ زیادہ مقدار میں نہ کھائیے کیونکہ یہ ثقیل (یعنی وزنی) ہونے کے سبب دیر سے ہضم ہوتا ہے (اگرچہ دوسری چیزوں کو جلد ہضم کرنے میں مدددیتا ہے)۔ (بیمار عابد، ص31) (2)ہم وَزن مُولی اور آلو بھون کر حسبِ ضَرورت سَونف، نمک اور کالی مِرچ شامل کر کے استِعمال کرنا گُردے کے دَرْد اور پَتھری کیلئے مفید ہے۔(گھریلو علاج، ص55)

کھانے پینے کی احتیاطیں گردوں کے مختلف امراض میں مریض کی کیفیت کے مطابق الگ الگ احتیاطیں کرنی ہوتی ہیں۔ اس حوالے سے اپنے طبیب کے مشورے پر عمل کیا جائے۔

گردوں کی بیماریوں کے لئے طبّی نسخہ روزانہ صبح نہار منہ تین گرام میٹھا سوڈا (طبیب کی اجازت سے) پانی کے ساتھ استعمال کیجئے، پیاس ہو یا نہ ہو زیادہ سے زیادہ پانی استعمال کیجئے، گیارہ دن میں اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ آرام آجائے گا۔ اگر مرض زیادہ پُرانا ہے تو 41 دن تک یہ علاج کیجئے۔(بیمار عابد، ص32)

کوئی دوا کارگر نہ ہو تو! گردوں کی بیماری کے سبب پیشاب تھوڑا تھوڑا آتا ہو یا پیشاب میں جلن اور چُبھن ہوتی ہو اور کوئی دوا کارگر نہ ہوتی ہو تو بارش کے پانی پر باوضو ہر بار بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم کے ساتھ سُوْرَۃ اَلَمْ نَشْرَحْ گیارہ بار پڑھ کر دَم کردیجئے اور دن میں چار بار (صبح ناشتے سے قبل، ظہر کے وقت، عصر کے بعد اور سوتے وقت) تین تین گھونٹ وہ پانی پئیں۔ ہر بار پینے سے پہلے سات بار دُرودِ ابراہیم پڑھ لیجئے۔ اِنْ شَآءَ اللہ تعالٰی گردے کی بیماری اور پیشاب کی جلن وغیرہ دور ہوجائے گی۔(بیمار عابد، ص32)

گُردوں کے درد کے دو گھریلوعلاج (1)خربوزے کے تھوڑے سے بیج چِھیل کر روزانہ کھا لیجئے اور اوپر پانی پی لیجئے۔ اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ گُردے کے درد میں راحت ملے گی۔ (2)مُولی اور اس کے پَتّے، ککڑی، کھیرا، تربوز، خربوزہ کثرت سے کھانا بھی اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ گردے کے درد سے نَجات کا باعِث ہوگا۔(گھریلو علاج، ص55)

گردوں کے درد کا روحانی علاج ایک بار دُرود شریف پڑھ کر ہر بار بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم کے ساتھ سُوْرَۃ اَلَمْ نَشْرَحْ7بار پھر آخر میں ایک بار دُرود شریف پڑھ کردم کردیجئے، اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ گردے کا درد ختم ہوجائے گا۔(بیمار عابد،ص31)

گردے ناکارہ ہونے کی علامات پیشاب کا بننا بند یا بہت کم ہوجانا، شدید کمزوری، جسم پر سوجن، ہائی بلڈ پریشر۔

اگر گُردے ناکارہ ہوجائیں اگر کسی کے گُردے فیل ہوں اور وہ طویل مدّت تک انجیر استعمال کرے تو بِفَضْلِہٖ تَعَالٰی اُس کو صحّت مل سکتی ہے۔(گھریلو علاج، ص112)

نوٹ:اس مضمون میں درج کوئی علاج یا نسخہ گردوں کے ڈاکٹر (Urologist) سے مشورے کے بغیر استعمال نہ فرمائیں۔

اے ہمارے پیارے اللہ پاک!ہمیں گردوں سمیت جسم کے دیگر تمام اعضاء کے امراض سے محفوظ فرما اور تیری عبادت میں بسر ہونے والی طویل زندگی عطا فرما۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭…ماہنامہ فیضا ن مدینہ ،باب المدینہ کراچی

Share

Comments


Security Code