اعلیٰ حضرت اور شاعری

حماد اپنے بڑے بھائی عِمادکے ساتھ بیٹھ کر مدنی چینل دیکھ رہا تھا، جس پر ”اعلیٰ حضرت اور شاعری کے بارے میں سلسلہ چل رہا تھا۔ حماد بھائی جان! یہ اعلیٰ حضرت کون ہیں ؟ عماد ان کے بارے میں مجھے بھی نہیں پتا ! ایسا کرتے ہیں کہ کل دوپہر کے وقت مدرسہ میں قاری صاحب سے پوچھ لیں گے۔ حماد یہ ٹھیک رہے گا۔ دوسرے دن جب یہ دونوں بھائی قراٰن پاک پڑھنے کیلئے قاری صاحب کے پاس پہنچے تو حماد کہنے لگا: قاری صاحب! آپ سے کچھ پوچھنا ہے۔ قاری صاحب جی بیٹا! کیا پوچھنا ہے؟ حماد رات کو مدنی چینل پر ایک سلسلہ آرہا تھا جس میں باربار اعلیٰ حضرت “کا نام لیا جا رہا تھا، یہ اعلیٰ حضرت کون ہیں؟ قاری صاحب اعلیٰ حضرت ایک بہت بڑے عالمِ دین اور وَلِیُّ اللہ تھےجنہوں نے اپنی ساری زندگی دینِ اسلام کی خوب خدمت کی اور اسلام کے دشمنوں کو بے نقاب کیا۔ اعلیٰ حضرت ہند کے شہر بریلی میں پیدا ہوئے ان کا اصل نام ’’محمد‘‘ تھا لیکن دادا نے ’’احمد رضا‘‘ کہہ کر پکارا اور اسی نام سے مشہور ہوئے۔ عماد قاری صاحب ! پھر ان کو اعلیٰ حضرت کیوں کہا جاتا ہے؟ قاری صاحب بڑے بڑے عالم اور مفتی بھی آپ سے مسئلہ پوچھا کرتے تھے سب لوگ آپ کی بہت عزت اور احترام کرتے تھے اس لئے آپ سے محبت کرنے والے پیار سے آپ کو اعلیٰ حضرت کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بہت سے کمالات سے نوازا تھا، اتنے ذہین تھے کہ ساڑھے چارسال کی چھوٹی سی عمر میں آپ نے قراٰنِ مجید ناظِرہ مکمَّل پڑھ لیا۔ (تذکرہ امام احمد رضا، ص3) آپ کا حافظہ اتنا مضبوط تھا کہ صرف ایک ماہ میں قراٰنِ کریم حفظ کر لیا۔ 13 سال 10 ماہ 4 دن کی عُمر میں آپ نے ایک سُوال کے جواب میں پہلا فتویٰ دیا۔ آپ کئی فنون (Arts) کے ماہر (Expert) تھے، آپ نے تقریباً ایک ہزار کتابیں لکھیں۔ قراٰنِ پاک کا ترجمہ بھی کیا جس کا نام” کنزالایمان‘‘ ہے۔ حماد میں نے سنا ہے کہ وہ نعتیں بھی لکھا کرتے تھے ۔ قاری صاحب جی ہاں! وہ نعتیں بھی لکھا کرتے تھے بلکہ انہیں نعت لکھنے میں کمال حاصل تھا ، آپ کے زمانہ میں بڑے بڑے شاعر گزرے ہیں لیکن آپ کی اور ان کی شاعری میں جو بہت بڑا فرق ہے وہ سچا عشقِ رسول ہے جس نے آپ کو ان تمام شاعروں پر فضیلت دیدی۔ آپ نے ایک نعت ایسی بھی لکھی ہے جس میں عربی، فارسی، ہندی اور اردو چار زبانوں کے الفاظ شامل ہیں۔ عماد قاری صاحب! کیا ان کی لکھی ہوئی نعتیں ایک جگہ پر مل سکتی ہیں ؟ قاری صاحب جی ہاں! ان کی لکھی ہوئی نعتوں کو ایک کتاب میں جمع کر دیا گیا ہے جس کا نام ’’حدائقِ بخشش‘‘ ہے۔ حماد ہم اسے ضرور حاصل کریں گے اور پیارے نبی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی نعتیں جھوم جھوم کر پڑھیں گے۔ قاری صاحب اللہ تعالیٰ آپ دونوں کو خوش رکھے اور ہمیشہ اپنے پیارے رسول صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی نعتیں پڑھتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ حماد اور عماد اٰمین! قاری صاحب آپ کا شکریہ کہ آپ نے ہمیں اللہ پاک کے دین کو مسلمانوں تک پہنچانے والے ایک بہت بڑے عالم کے بارے میں بتایا۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭…ماہنامہ فیضان مدینہ، باب المدینہ کراچی

Share

اعلیٰ حضرت اور شاعری

ایک اژدہا اپنی بھوک مٹانے کے لئے شکار کرنے نکل پڑا۔ اسے ایک بندر نظر آیا جسے اُس نے موقع پاکر پکڑ لیا۔ بندر نے موت کو سامنے دیکھ کر شور مچانا شروع کر دیا۔قریب ہی کھیتوں میں ایک کسان نے بندر کی آواز سنی تو اس جانب بھاگتا ہوا آیا۔ کسان نے جب بندر کو اس حال میں دیکھا تو ترس کھاکر بڑی مشکل سے اُسے اژدہے سے بچالیا۔ بندر اس احسان کے بدلے میں کسان کا فرمانبردار ہوگیا اور وفادار دوست کی طرح اس کے ساتھ رہنے لگا اور کام کاج میں اس کی مدد کرنے لگا۔ کسان آرام کرتا تو بندر اس کی حفاظت کرتا اور مکھیاں وغیرہ دور کرتا۔ گاؤں کے ایک سمجھدار شخص نے کسان سے کہا: میاں سنو! بندر سے دوستی اچھی نہیں، وہ ایک بےعقل جانور ہے، تمہیں نقصان پہنچا سکتا ہے۔ کسان نے جواب دیا: آپ اپنی نصیحت اپنے پاس رکھیں، مجھے اس بندر پر اعتماد ہے۔ دن گزرتے گئے اور بندر کسان کی خدمت کرتا رہا۔ ایک دن کسان سو رہا تھا اور بندر اس پر بیٹھنے والی مکھیاں اُڑا رہا تھا، لیکن ایک مکھی بار بار اس کے منہ پر آکر بیٹھ جاتی تھی۔ بندر اسے اُڑاتا وہ پھر آبیٹھتی جب کئی مرتبہ ایسا ہوگیا تو بندر بڑا تنگ ہوا اور غصہ میں آکر ایک پتھر اُٹھایا اور زور سے اس مکھی پر دے مارا۔ مکھی تو اُڑ گئی مگر کسان پتھر لگنے سے شدید زخمی ہوگیا، اب اسے گاؤں کے اسی شخص کی نصیحت یادآئی اور اس نے بندر کو اپنے پاس سے بھگا دیا۔

پیارے پیارے مدنی منو اور مدنی منیو!(1)کوئی مصیبت میں نظر آئے تو ہمیں ضرور اس کی مدد کرنی چاہئے۔ (2)بیوقوف کی دوستی دشمن کی دشمنی سے بھی زیادہ نقصان دہ ہوتی ہے۔ (3)بیوقوف شخص اچھے کام کو بھی خراب کردیتا ہے۔ (4)بڑوں کی بات ماننے میں بہت فائدے ہوتے ہیں ۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭…مدرس جامعۃ المدینہ کنز الایمان باب المدینہ کراچی

Share

اعلیٰ حضرت اور شاعری

اَلتَّعَلُّمُ فِی الصِّغَر كَالنَّقْشِ فيِ الْحَجَریعنی بچپن میں سیکھنا پتھر پہ لکیر کی طرح ہے۔ عربی کی یہ کہاوت جتنی مشہور ہے اتنی ہی سچی بھی ہے، بچہ جو باتیں اور اخلاقیات سیکھتا ہے زندگی بھر انہی پر عمل کرتاہے، چاہے وہ اچھائی کا سیدھا راستہ ہو یا بُرائی کی تاریک وادی ہو۔ اگر آج ہم اپنے بچوں کی مدنی تربیت کریں گے تو ہی آگے چل کر وہ ملک و قوم کےخدمت گار اور معاشرے کے بہترین افراد بنیں گے۔ تربیتِ اولاد سے متعلق کچھ مدنی پھول پیشِ خدمت ہیں:

(1) بچوں کو وقت کا پابند بنائیے اس بات کا خاص خیال رکھئے کہ آپ کے بچے وقت پر اسکول پہنچیں۔ اگر تاخیر سے اسکول پہنچیں گے تو سبق ضائع ہوگا، ٹیچر کی نظروں میں بچے کا امیج خراب ہوگا، کلاس میں ریکارڈ خراب ہوگا، وغیرہ وغیرہ بہت سے نقصان ہوں گے۔ پابندی ِوقت کے لئے پیش بندی (دور اندیشی) سے کام لیجئے، پہلے ہی ایسی تدابیر اختیار کیجئے کہ بچے تاخیر کا شکار نہ ہوں۔ صبح ناشتے اور بچوں کی تیاری میں دیر نہ کیجئے، صبح جاگنے سے اسکول پہنچنے تک نظام الاوقات اس طرح منظّم کیجئے کہ بچے اسکول ٹائم شروع ہونے سے 10 منٹ پہلے اسکول پہنچ جایا کریں اس پیش بندی کا فائدہ یہ ہوگا کہ اگر کبھی تاخیر ہو بھی گئی تو کم از کم اسکول کے وقت پر ضرور پہنچ جائیں گے۔ (2)ڈسپلن کا ذہن دیجئے والدین کا کام یہیں ختم نہیں ہوجاتا کہ بچے کو اسکول بھیج دیا اور ذمہ داری ختم! بلکہ موقع بموقع خود بھی بچے کی تربیت کرتے رہنا چاہئے، اپنے بچے کو ڈسپلن (Discipline) سکھائیے، انہیں سمجھائیے کہ ”اسکول کے اصول کی پابندی کیا کریں، ٹیچرز کی بات مانیں، ان کا ادب کریں۔“ ڈسپلن کی پابندی سے بچوں کا ریکارڈ بھی اچھا رہے گا اور ٹیچرز کی نگاہوں میں عزت بھی بنے گی۔ (3) روزانہ ہوم ورک کروائیےاسکول میں گھر کے لئے جو کام دیا جائے وہ بچوں سے روزانہ لازمی کروائیے، اس کے لئے کوئی وقت مقرر کرلیجئے اور پابندی ِوقت کے ساتھ اپنی نگرانی میں ہوم ورک (Home work) مکمل کروائیے، اسکول کے کام میں بالکل بھی سمجھوتا مت کیجئے، آپ اس معاملے میں ذرا سی لچک دکھائیں گے تو بچے تو بچے ہیں وہ کھیل کود میں لگ جائیں گے اور ہوم ورک کی طرف سے بالکل غافل ہوجائیں گے، یوں ان کی پڑھائی خراب ہوگی، ریکارڈ خراب ہوگا، اسکول میں ٹیچر سرزنش کریں گے۔ آپ کی ذرا سی بے پروائی بچوں کا مستقبل تاریک کرسکتی ہے۔ روز کا ہوم ورک روز کروائیں گے تو ان کی پڑھائی اچھی ہوگی، ہر نیا سبق سمجھنے میں آسانی ہوگی، امتحانات میں بہت زیادہ محنت نہیں کرنی پڑے گی۔ (4) اسکول بیگ دیکھ لیجئےبچے کو ذہن دیں کہ ہوم ورک کے بعد اپنی کتابیں پنسل وغیرہ لازمی بیگ میں رکھیں، ادھر ادھر نہ پھینکیں، اپنی چیزوں کی خود حفاظت کرنے کی عادت بنائیں نیز اپنا معمول بنائیے کہ صبح بچوں کو اسکول روانہ کرنے سے پہلے ان کا بیگ چیک کیجئے، کتابیں پوری ہیں؟ کاپیاں سب موجود ہیں؟ پنسل، اسکیل وغیرہ اسٹیشنری سب موجود ہے نا! اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ بچے کوئی کتاب وغیرہ گھر پر بھول کر نہیں جائیں گے نیز محترم والدین! آپ کو بھی معلوم رہے گا کہ بچے کو اب کس چیز کی ضرورت ہے! کیا کاپی ختم ہونے والی ہے یا نئی پنسل خریدنی ہے۔

ماں باپ کی دُعا اولاد کو کامیاب بناتی ہے! ہر نماز کے بعد اللہ پاک کی بارگاہ میں ہاتھ پھیلائیے اور دُعا کیجئے کہ ”یااللہ! ہماری اولاد کو دین و دنیا کی کامیابی عطا فرما۔“اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭…شعبہ تراجم ،المدینۃ العلمیہ ،باب المدینہ کراچی

Share