اِن کے ہاتھ میں ہر کنجی ہے

امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان  علیہ رحمۃ الرَّحمٰن کے ماہِ وصال صفر ُالمُظَفَّر کے موقع پر آپ کے دو اشعار مع شرح پیشِ خدمت ہیں:

(1) اِن کے ہاتھ میں ہر کنجی ہے مالکِ کُل کہلاتے یہ ہیں

(حدائقِ بخشش،ص482)

شرحاللہ کریم نے تمام خزانوں کی کنجیاں یعنی ہر طرح کے اختیارات رسولِ کریم علیہ الصلوۃ و التسلیم کو عطا فرماکر آپ کو ہر چیز کا مالک بنادیا ہے ۔ اِن کے ہاتھ میں ہر کنجی ہے اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے اپنے رسالے ’’اَلْاََمْنُ وَ الْعُلٰی‘‘ میں کثیر احادیث سے ثابت کیا ہے کہ نُصرت کی کنجیاں، نفع کی کنجیاں، نبوت کی کنجیاں، خزانوں کی کنجیاں، زمین کی کنجیاں، دنیا کی کنجیاں، جنت کی کنجیاں، دوزخ کی کنجیاں اور ہر چیز کی کنجیاں سرکارِ نامدار صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو عطا کی گئی ہیں۔(فتاویٰ رضویہ،ج30،ص426تا435) مالکِ کُل کہلاتے یہ ہیں ہر مسلمان پر لازم ہے کہ اللہ کے حبیب صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو اپنا مالک اور خود کو آپ کا غلام سمجھے۔امام قاضی عیاض مالکی علیہ رحمۃ اللہ القَوی نقل فرماتے ہیں:جوہرحال میں سرکارِ مدینہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو اپنا والی اور اپنے آپ کو حضور کا غلام نہ سمجھے وہ سنّتِ نبی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی حلاوت (مٹھاس) سے محروم رہے گا۔ (الشفاء،ج2،ص19)

دستِ عطا میں تیرے رحمت کی کنجیاں ہیں بٹتا ہے سب کو صدقہ ہر صبح و شام تیرا

(قبالۂ بخشش،ص15)

(2) رب ہے مُعْطِی یہ ہیں قاسم رزق اس کا ہے کھلاتے یہ ہیں

(حدائقِ بخشش،ص482)

الفاظ و معانی مُعْطِیْ:عطا کرنے والا۔ قاسم:تقسیم کرنے والا۔ شرح اللہ پاک نعمتیں عطا فرماتا ہے اور سرکارِ نامدار صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم انہیں تقسیم کرتے ہیں۔ایک بڑی نعمت رزق ہے جو مخلوق کو اللہ کی عطا سے حضور صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ذریعے ملتی ہے۔ رب ہے مُعْطِی یہ ہیں قاسم فرمانِ مصطفیٰ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے:اِنَّمَا اَنَا قَاسِمٌ وَّاللّٰہُ یُعْطِیْ یعنی اللہ کریم عطا فرماتا ہے اور میں تقسیم کرتا ہوں۔(بخاری،ج1،ص 42، حدیث:71) شارحِ بخاری ،فقیہ اعظم ہندمفتی محمد شریف الحق امجدی علیہ رحمۃ اللہ القَوی اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں:معنی یہ ہوئے کہ مخلوقات میں سے جس کسی کو اب تک جو کچھ ملا یا آئندہ ملے گا ان سب کا دینے والا اللہ ہے، اور ان سب کا بانٹنے والا میں ہوں۔ جس طرح اللہ کے مُعْطِیْ ہونے میں کسی قسم کی کوئی تخصیص جائز نہیں، اسی طرح حضورِ اقدس صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے قاسم ہونے میں کسی قسم کی تخصیص جائز نہیں۔ جس طرح تمام مسلمانوں کا اعتقاد ہے کہ عالَم کی ہر نوع ہر فردخواہ و ہ فرشتے ہوں خواہ وہ انسان خواہ جن ہوں خواہ اور کچھ،سب کو سب کچھ اللہ کی عطا سے ملا اور ملے گااسی طرح یہ اعتقاد بھی واجب کہ سب کو بِلا اِستِثْناء جو کچھ ملا یا ملے گا وہ سب حضورِ اقدس صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے دئیے سے ملا۔ (نزہۃ القاری،ج 1،ص425)

تم کو قاسم کیا ہے رازق نے تم نے سب کچھ دیا رسول اللّٰہ

رزق رب کا ہے تم کھلاتے ہو سارے عالَم کو یا رسول اللّٰہ

(قبالۂ بخشش، ص136)

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭…ماہنامہ فیضان مدینہ ،باب المدینہ کراچی

Share

Comments


Security Code