اشعار کی تشریح

انہیں جانا ، انہیں مانا

* راشد علی عطاری مدنی

ماہنامہ فروری 2021

انھیں جاناانھیں مانا نہ رکھا غیر سے کام

لِلّٰہِ ا لْحَمْد میں دُنیا سے مسلمان گیا([i])

الفاظ ومعانی : لِلہِ الْحَمْد : اللہ کے لئے حمد ہے۔          

شرح : اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلِ سنّت رحمۃ اللہ علیہ نے اِس شعر میں اِیمان کی حقیقت اور  اَصل رُوح کو بڑےواضح  اَلفاظ میں بیان فرمایا ہے۔ حقیقی زندگی آخرت کی ہے اور اس کی فلاح و کامیابی اور سعادت مندی کےلئےبندےکا  ایمان  والا ہونا  ضروری ہے۔ جس  شخص کےپاس دولتِ ایمان نہ ہو ، وہ آخرت میں تو ذلیل و خوار ہوگاہی بعض اوقات دنیا میں بھی   گرفتارِ عذاب ہوتا ہے۔ ایمان والا  ہونے کے لئے دوباتوں کا ہونا  ضروری ہے :

 (1)اللہ پاک کے آخری نبی ، مکی مَدَنی ، محمدِ عَرَبی  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  اپنے ربِّ کریم کی جانب سے جو جوباتیں لے کر آئے ، اُن سب میں آپ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کو سچا جاننا اور (2)سچا ماننا۔

اس کی  وجہ یہ ہے کہ سرکارِ اقدس  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی ظاہری حیاتِ طیّبہ میں بھی کئی  کُفّارمعجزات دیکھ کر اورقراٰنی آیات  سُن کر آپ   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم   کو سچا جانتے تو تھے ، لیکن تکبّروحسد اور بُغض و عِناد (دشمنی و مخالفت) کے باعث سچا مانتے نہیں تھےاِس لئے وہ کافر کے کافر ہی رہے۔ لہٰذا  مومِن ہونے کے لئے نبیِّ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کو سچّا جان کر زبان و دِل سے سچا ماننا بھی ضروری ہے۔ امامِ اہلِ سنّت  رحمۃ اللہ علیہ  گویااِسی بات کو مذکورہ شعر میں  بیان فرماتے ہیں کہ جانِ اِیمان و شانِ ایمان  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کو میں نے تمام باتوں میں سچّا جانا اور انہیں تما م اَقوال و فرامین میں سچا مانا ہے۔ اِن کے سِوا مجھے کسی اور سے نہ تو کوئی  غرض  ہے ، نہ ہی  کوئی کام۔ میرے مسلمان ہونے اور دو جہاں میں فلا ح و نجات   پانے کے لئے یہی نعمتِ عُظمیٰ  اور فضلِ مولا کافی ہے۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ علیٰ اِحْسَانِہٖ میں ساری عمر اِسی اِعتقاد پر قائم ہوں  اور اِنْ شَآءَ اللہ اسی اعتقاد پر دنیا سے مسلمان رخصت ہوں گا۔

اِیمان  کسے کہتے ہیں؟ علامہ سعدُالدّین تَفتازانی  رحمۃ اللہ علیہ   شرح عقائدِ نسفیہ “ میں اِیمان کی تعریف یوں فرماتے ہیں کہ تَصْدِیْقُ النَّبِیِّ بِالْقَلْبِ فِیْ جَمِیْعِ مَاعُلِمَ بِالضَّرُوْرَۃِ مَجِیْئُہٗ بِہٖ مِنْ عِنْدِاللّٰہِ تَعَالٰی یعنی ہر وہ بات جس کا  یقینی  طور پر اللہ  کریم کی طرف سے آنا  معلوم ہو  اس میں نبیِّ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کو دِل سے سچا ماننا “ ایمان “ ہے۔ (شرح العقائد النسفیہ ، ص276)

اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلِ سنّت  رحمۃ اللہ علیہ اِیمان کی تعریف  اِن اَلفاظ سے فرماتے ہیں کہ : “ سیِّدُالعَالَمِین مُحمَّدٌ رَّسُولُ اللہ  صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم  جو کچھ اپنے ربّ کےپاس سے لائے اُن سب میں اِن کی تصدیق کرنا اور سچے دل سے اِن کی ایک ایک  بات پر یقین لانا ایمان ہے۔ “ (فتاویٰ  رضویہ ، 15 / 431)

امام اہلِ سنّت  رحمۃ اللہ علیہ  اِیمان کےمعنی ایک رُباعی میں یوں ذِکْر کرتے ہیں  :

اللہ کی سَر تا بَقَدم شان ہیں یہ

اِن سا نہیں اِنسان وہ اِنسان ہیں یہ

قرآن تو اِیمان بتاتا ہے انھیں

اِیمان یہ کہتاہے مِری جان ہیں یہ

 (حدائق بخشش ، ص238)

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ* مُدَرِّس جامعۃالمدینہ ،  فیضانِ اولیا ، کراچی



([i] )یہ شعر اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان  رحمۃ اللہ علیہ  کے نعتیہ دیوان “ حدائقِ بخشش ، ص55مطبوعہ مکتبۃ المدینہ “ سے لیا گیا ہے۔

Share

Articles

Comments


Security Code