ضائع نہ کریں!

پُرانی کتابوں اور کاپیوں کا کیا کریں؟(قسط : 01)

اُمِّ نور عطاریہ

ماہنامہ فروری 2021

اللہ ربُّ العزّت نے ہمیں بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ ہم کسی صورت بھی اس کی نعمتوں کا کما حقُّہٗ شکر ادا نہیں کرسکتے ، لیکن کم از کم اتنا تو کرسکتے ہیں کہ اپنے ربِّ کریم کی نعمتوں کی قدر کریں ، ان کا استعمال دُرست انداز میں کریں اور انہیں ضائع نہ کریں۔

اللہ کریم بھی کتنی عظیم حکمت والا ہے کہ اس نے انسانوں کی کیسی پیاری تقسیم فرمائی ہے۔ مَرد کام کرکے کماکر لاتے ہیں تو عورتیں گھروں کو سنبھالتی ہیں ، مَردوں کو محنت مزدوری ، زور آزمائی اور سخت سے سخت کام کرنے کی ہمت عطا فرمائی تو عورتوں کو گھرداری ، بچّوں کی تربیت اور سلیقہ مندی کی نعمت سے نوازا ہے۔ ہمارے اس مضمون میں ہماری مخاطَب خواتینِ خانہ ہی ہیں جو گھر سنبھالتی ہیں۔

پیاری اسلامی بہنو! ہمارے بچّے اللہ کے کرم سے مدارس اور اسکولز میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ ہمیں اس پر اللہ کریم کا شکر ادا کرنے کے ساتھ ساتھ کچھ ضروری باتوں پر توجہ بھی کرنی ہے تاکہ ہم اللہ کریم کی نعمتوں کی قدر اور ان نعمتوں کا دُرست استعمال کرسکیں۔

(1)بچّوں کے لئے اسکول کی کتابیں اور کاپیاں تقریباً تعلیمی سال کے آغاز میں ہی خرید لی جاتی ہیں ، البتہ بعض دفعہ دورانِ سال بھی کچھ کاپیاں خریدی جاتی ہیں ، بہرحال جب امتحانات کے بعد تعلیمی سال ختم ہوجاتا ہے یا جس کاپی کا کام ختم ہوجاتا ہے تو عموماً اس میں کئی صفحات خالی ہوتے ہیں۔ اسی طرح گھروں میں موجود کئی نوٹ بکس اور ڈائریز میں بھی کئی کئی صفحات خالی ہوتے ہیں اور استعمال میں نہ ہونے کی وجہ سے یا تو وہ بچّوں کے ہاتھوں ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتی ہیں یا پھر  خواتین انہیں ردّی میں ڈال دیتی ہیں۔ یادرکھئے! ان نوٹ بکس کے خالی صفحات فری میں نہیں آتے اور نہ ہی یہ اللہ کریم کی نعمت ہونے سے خارج ہیں ، جی ہاں! یہ بھی اللہ پاک کی نعمت ہیں ، اس لئے انہیں ضائع نہ کریں بلکہ ان خالی صفحات کو بھی لازمی طور پر استعمال میں لائیں۔ رہی یہ بات کہ کہاں استعمال کریں تو اس کے کئی طریقے ہیں مثلاً : *ان خالی صفحات پر گھر میں یا ٹیوشن میں بچّوں کو لکھنے کی پریکٹس کروائیں *ان خالی صفحات کو نکال کر اسٹیپلر کرکے یا سوئی دھاگے سے سی کر الگ کاپی بنالیں اور گھر کا کوئی حساب ، راشن کا حساب ، فون نمبرز وغیرہ لکھ لیں *کبھی بچّوں کے اسکول یا مدرسہ میں ایپلی کیشن یعنی درخواست یا کوئی پیغام بھیجنا ہوتا ہے تو یہ کاپیاں اس استعمال میں بھی آسکتی ہیں۔ سمجھ دار اور سلیقہ مند خواتین  اس کے علاوہ بھی  کئی طریقے نکال سکتی ہیں۔

(2)بچّوں کی پچھلی کلاس کی کتابیں بھی ایک اہم معاملہ ہیں ، کئی خواتین تو گلی میں ردّی خریدنے والے کی آواز سنتے ہی یہ کتابیں بیچنے کے لئے بچّوں کے ہاتھ بھیج دیتی ہیں۔ اے میری بہنو! بھلا دو چار یا دس پندرہ کتابوں سے آخر کتنے روپے مل جائیں گے اور وہ ردّی والا بھی ان کتابوں کی کوئی عزت و ادب نہیں کرے گا۔  اس لئے اس حوالے سے دو باتوں پر عمل کریں ایک تو یہ کہ جب بچوں کو کاپیاں اور کتابیں لے کر دیں تو انہیں اپنی ہی ملکیت میں رکھیں یعنی آپ کے دل میں یہی نیت ہونی چاہئے کہ یہ کاپیاں اور کتابیں بچوں کی نہیں بلکہ میری ہیں اور دوسری بات یہ کہ یہ کتابیں اپنے یا کسی رشتہ دار یا ہمسائے کے چھوٹے بچّوں کو پڑھنے کے لئے دے دیں جو ابھی پچھلی کلاس سے پاس ہو کر اس کلاس میں گئے ہوں۔ اگر اچھی نیت سے دیں گی تو یقین کیجئے کہ وہ بچّہ اس کتاب کے ذریعے جو سیکھے گا اور پھر بعد میں اپنی پوری زندگی اس سیکھے ہوئے کے ذریعے جو بھی نیکی کرے گا ، اِنْ شَآءَ اللہ آپ کو بھی اس کا ثواب ملے گا۔ (بقیہ اگلے ماہ کے شمارے میں)

 

Share

Articles

Comments


Security Code