تاجر صحابہ کرام

حضرت سیّدُنا حکیم بن حِزام  رضی اللہ عنہ  (قسط : 09)

* بلال حسین عطاری مدنی

ماہنامہ فروری 2021

مختصر تعارف : حضرت سیّدُنا حکیم بن حِزام  رضی اللہ عنہ  کا تعلق خاندانِ قریش کی شاخ بنو اسد سے ہے۔ آپ اُمُّ المؤمنین حضرت سیّدتنا خدیجہ   رضی اللہ عنہا  کے بھتیجے اور حضرت زُبیر بن عوام  رضی اللہ عنہ  کے چچا زاد بھائی ہیں۔ فتحِ مکّہ کے سال 8ہجری میں اسلام لائے۔ بہت ہی عقل مند ، معاملہ فہم اور صاحبِ علم و تقویٰ شعار تھے۔ آپ نے 120 سال عمر پائی۔ آپ کا وصال 54 ہجری کو مدینۂ منوّرہ میں ہوا۔ ([i])

تجارتی سرگرمیاں : پیارے آقا  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے آپ کو دُعا دی کہ اے اللہ! اس کے کاروبار میں بَرَکت عطا فرما۔ ([ii]) دُعائے مصطفےٰ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کا اثر یہ ظاہر ہوا کہ آپ  رضی اللہ عنہ  زندگی بھر تجارت کرتے رہے مگر کبھی بھی نقصان نہیں ہوا ، آپ زمانۂ جاہلیت میں کپڑے کی تجارت کیا کرتے تھے ، تجارت کے سلسلے میں یمن اور شام کی طرف سفر کرتے اور خوب نفع کماتے ، اس کے بعد اپنے خاندان کے غریب لوگوں کے پاس آتے (اور مال تقسیم کرتے) تاکہ خاندان والوں کے ساتھ محبت بڑھے اور وہ مالی طور پر بھی مستحکم ہو جائیں۔ اس کے علاوہ آپ  رضی اللہ عنہ  3موسمی بازاروں میں بھی تجارت کیا کرتے تھے (1)بازارِ عُکاظ (2)بازار مَجِنّہ (3)بازار ذو المَجاز۔ ([iii])

پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے لئے تجارت : ایک مرتبہ رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے آپ کو ایک دینار دے کر قربانی کا جانور خریدنے کے لئے بھیجا ، آپ نے جانور خریدا اور اسے دو دینار میں بیچ دیا ، پھر ایک دینار کی بکری خریدی اور پیارے آقا  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی خدمتِ اقدس میں آ کر بکری اور دینار دونوں پیش کر دئیے ، آپ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے خوش ہوکر ان کے لئے برکت کی دُعا فرمائی اور انہیں حکم دیا کہ دینار صدقہ کردیں۔ ([iv])

بنو ہاشم کی مدد : اعلانِ نبوت کے ساتویں سال جب کُفّارِ مکہ نے بنو ہاشم سے قطع تعلق (Boycott) کرکے انہیں شِعْبِ ابی طالب میں محصور کردیا تو وہاں اشیائے خورد و نوش پہنچانے میں آپ  رضی اللہ عنہ  نے بہت اہم کردار ادا کیا : ملکِ شام سے آپ  کا قافلہ آتا تو آپ گیہوں (یعنی گندم) سے بھرا ہوا اونٹ گھاٹی کے قریب لاکر اسے ہنکا دیتے تھے ، یوں اونٹ گھاٹی میں داخل ہوجاتا اور بنو ہاشم اس گیہوں کو لے لیتے۔([v])

سخاوت : آپ  رضی اللہ عنہ  بڑے سخی تھے ، آپ نے 100 غلام آزاد کئے اور 100آدمیوں کو سواری دے کر حج کرائے اور جب خود حج کیا تو 100اونٹوں کی قربانی کی اور عرفہ میں 100 سے زیادہ غلام آزاد کئے۔([vi])

آپ  رضی اللہ عنہ  نے دارُ النّدوہ نامی گھر حضرت سیّدُنا امیرِ معاویہ  رضی اللہ عنہ  کو ایک لاکھ درہم میں فروخت کرکے ساری رقم راہِ خدا میں دے دی۔ ([vii])

اللہ پاک ہمارے رزق میں خیر و برکت دے اور ہمیں راہِ خدا میں خرچ کرنے کی سعادت عطا فرمائے۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ* شعبہ ذمہ دار ماہنامہ  فیضانِ مدینہ ، کراچی



([i])اکمال مع مشکاۃ ، ص591 ، کراماتِ صحابہ ، 254ملتقطاً

([ii])معجم کبیر ، 3 / 205 ، حدیث : 3136

([iii])تھذیب الکمال ، 3 / 77ملتقطاً

([iv])معجم کبیر ، 3 / 205 ، حدیث : 3133

([v])تھذیب الکمال ، 3 / 78

([vi])مراٰۃالمناجیح ، 4 / 247 ماخوذاً

([vii])تھذیب الکمال ، 3 / 82ماخوذاً

Share

Articles

Comments


Security Code