تفسیرِ قراٰنِ کریم

صاحبانِ فضل وتقوی کے سردار اور اہل ِفضیلت کا کردار

* مفتی محمد قاسم عطاری

ماہنامہ فروری 2021

 ارشادِ باری تعالیٰ ہے : (وَ لَا یَاْتَلِ اُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَ السَّعَةِ اَنْ یُّؤْتُوْۤا اُولِی الْقُرْبٰى وَ الْمَسٰكِیْنَ وَ الْمُهٰجِرِیْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ﳚ-وَ لْیَعْفُوْا وَ لْیَصْفَحُوْاؕ-اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَكُمْؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۲۲)) ترجمہ : اور تم میں فضیلت والے اور (مالی) گنجائش والے یہ قسم نہ کھائیں کہ وہ رشتے داروں اور مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو (مال) نہ دیں گے اور انہیں چاہیے کہ معاف کردیں اور دَرگزرکریں ، کیا تم اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہاری بخشش فرمادے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔  (پ18 ، النور : 22)  (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

 شانِ نزول :

 یہ آیت حضرتِ ابوبکر صِدیق  رضی اللہ عنہ  کے بارےمیں نازل ہوئی ، واقعہ یوں ہے کہ حضرت مِسطَح  رضی اللہ عنہ  حضرت ابو بکر صدیق  رضی اللہ عنہ  کی خالہ کے بیٹے تھے ، نادار ، مہاجر اور بدری صحابی تھے۔ صدیقِ اکبر  رضی اللہ عنہ  اُن کا خرچ اُٹھاتے تھے مگر جب حضرت عائشہ صدیقہ   رضی اللہ عنہا  پر منافقوں نے تہمت لگائی تو حضرت مسطح نے بھی تہمت لگانے والوں کا ساتھ دیا۔ اس پر صدیقِ اکبر  رضی اللہ عنہ  بہت رنجیدہ ہوئے اور آپ نے قسم کھائی کہ آئندہ مِسطَح پر کچھ بھی خرچ نہیں کریں گے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ دینی فضیلت اور مالی وسعت رکھنے والے حضرات کو یہ قسم نہیں کھانی چاہئےکہ وہ رشتے داروں ، مسکینوں اور راہِ خدا کے مہاجروں پر خرچ نہیں کریں گے۔ ان لوگوں سے اگر کوئی غلطی ہوجائے تو انہیں معاف کردیں اور درگزر سے کام لیں۔ اے صاحبانِ فضیلت! کیا تمہیں پسند نہیں کہ خدا تمہاری بخشش کردے۔ جب نبیِّ کریم  صلَّی اللہ علیہ وسلَّم  نے یہ آیت پڑھی تو حضرت ابوبکر صدِیق  رضی اللہ عنہ  نے فوراً عرض کی : بے شک میری آرزو ہے کہ اللہ تعالیٰ میری مغفرت کرے اور میں مِسطَح کے ساتھ جو اچھا سلوک کرتا تھا اس کو کبھی ختم نہیں کروں گا۔ (بخاری ، 3 / 285 ، حدیث : 4750)

آیت سے مُستفاد نِکات

پہلا نکتہ :

 یہ آیت سیدنا ابوبکر صدیق  رضی اللہ عنہ  کی عظمت و فضیلت پر روشن دلیل ہے کہ خود رب العالمین نے آپ کو اُولُوا الْفَضْلِ (فضیلت والے) افراد میں سے قرار دیا۔ اہلِ سنّت کا عقیدہ ہے کہ انبیاء و رسل  علیہم الصَّلٰوۃ وَالسَّلام  کے بعد حضرت ابوبکر صدیق  رضی اللہ عنہ  تمام انسانوں سے افضل ہیں اور یہ عقیدہ قرآن و حدیث اور اجماعِ امت سے ثابت ہے۔ علامہ ابنِ حجر ہیتمی  علیہ الرَّحمہ  فرماتے ہیں : “ علماءِ اُمت کا اس عقیدے پر اتفاق ہے کہ اُمت میں سب سے افضل سیدنا ابوبکر صدیق  رضی اللہ عنہ  ہیں اور اُن کے بعد سیدنا عمر بن خطاب  رضی اللہ عنہ  ہیں۔ (الصواعق المحرقۃ ، ص 169)

اس آیت اور اس کے شانِ نزول سے سیدنا صدیقِ اکبر  رضی اللہ عنہ  کا مغفرت یافتہ اور جنتی ہونا بھی ثابت ہوتا ہے کہ خدا نے معاف کرنے پر مغفرت کا فرمایا تھا اور صدیقِ اکبر  رضی اللہ عنہ  نے اولین مصداق کے طور پر فورا معاف کردیا۔ نیز اس طرزِ عمل میں آپ  رضی اللہ عنہ  کی کمالِ سعادت مندی بھی عیاں ہے کہ آیت سنتے ہی دل کی رنجش جاتی رہی اور فورا سرِ تسلیم خم کردیا۔ حقیقت یہی ہے کہ اہلِ عشق و وفا ، اصحابِ صدق و صفا ، متلاشیانِ سعادت و رضا اور طالبانِ مولیٰ کا حکمِ خدا و مصطفیٰ پر یہی شیوہ ہوتا ہے اور صدیقِ اکبر  رضی اللہ عنہ  تو سعادت مندوں کے سردار ہیں۔

دوسرا نکتہ :

آیت میں اہلِ ثروت و صاحبِ وسعت لوگوں کےلئے بھی تعلیم و ہدایت ہے کہ جب انہیں خدا نے مالی سہولت سے نوازا ہے تو وہ اسے اپنی ذات تک محدود نہ کریں بلکہ غریبوں ، محتاجوں کا خیال رکھیں اور اس صدقہ و سخاوت میں ذاتی معاملات یا کسی رنجش کو رکاوٹ نہ بننے دیں جیسا کہ عموماً ہوتا ہے کہ اگر کوئی مال دار کسی غریب اجنبی یا رشتے دار کی مدد کررہا ہو اور اس غریب کی طرف سے کوئی خلافِ مزاج بات ظاہر ہوجائے تو سب سخاوت و امداد ختم کردی جاتی ہے۔ ایسا طرزِ عمل خدا کے پسندیدہ بندوں کی روِش کے خلاف ہے۔

تیسرا نکتہ :

 جو شخص کوئی کام نہ کرنے کی قسم کھائے پھر معلوم ہو کہ اس کا کرنا ہی بہتر ہے تو اسے چاہئے کہ وہ کام کرلے ، پھر قسم کا کفارہ دیدے ۔ رسولِ کریم  صلَّی اللہ علیہ وسلَّم  نے ارشاد فرمایا : “ جو شخص قسم کھائے اور دوسری چیز اُس سے بہتر پائے توقسم کا کفارہ دیدے اور وہ کام کرلے۔ “ (مسلم ، ص694 ، حدیث : 4272)

چوتھا نکتہ :

 رشتے داروں سے حسنِ سلوک اور صلہ رحمی ترک نہیں کرنی چاہئے اگرچہ ان کی طرف سے زیادتی ظاہر ہو جیسے آیت اور اس کے شانِ نزول سے واضح ہے۔ نبیِّ کریم  صلَّی اللہ علیہ وسلَّم  نے فرمایا : “ صلہ رحمی کرنے والا وہ نہیں جو بدلہ اتارے ، بلکہ وہ ہے کہ جب اس سے رشتہ توڑا جائے تو وہ اسے جوڑے۔ “

(بخاری ، 4 / 98 ، حدیث : 5991)

ایک دوسری حدیث میں فرمایا : تم لوگ ایک دوسرے کے پیچھے دوڑنے والے نہ بنو یعنی (یہ طریقہ نہ اپناؤ کہ) اگر لوگ ہمارے ساتھ بھلائی کریں گے تو ہم بھی بھلائی کریں گے اور اگر ہمارے اوپر ظلم کریں گے تو ہم بھی ظلم کریں گے ، بلکہ تم اپنے آپ کو اس طریقے پر رکھو کہ اگر لوگ تمہارے ساتھ احسان کریں تو تم بھی احسان کرو اور اگر بدسلوکی کریں تو تم ظلم نہ کرو۔   (ترمذی ، 3 / 405 ، حدیث : 2014)

پانچواں نکتہ :

 آیت میں عفو (معاف کرنا) اور صفح (درگزر کرنا) دو الفاظ ہیں۔ عفو (معاف کرنے) کا مطلب ہے ، “ سزا نہ دینا “ اور صفح (درگزر کرنے) کا مطلب ہے ، “ سزا نہ دینے کے ساتھ ساتھ ملامت اور ڈانٹ ڈپٹ تک نہ کرنا “ ۔ “ صفح “ کا مرتبہ “ عفو “ سے اوپر ہے۔   (المفردات فی غریب القرآن ، ص 486)

حضرت یوسف علیہ السَّلام نے اپنے بھائیوں سے یہی “ صفح “ (درگزر) کرتے ہوئے فرمایا تھا : ( لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَؕ- ) ترجمہ : آج تم پر کوئی ملامت نہیں۔ (پ13 ، یوسف : 92)  (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

اور فتح ِ مکہ کے وقت نبیِّ کریم  صلَّی اللہ علیہ وسلَّم  نے اہلِ مکہ سے یہی’’ عفو و صفح‘‘ فرمایا تھا ، چنانچہ پہلے آپ نے ظلم و ستم ڈھانے والے کفارِ مکہ سے پوچھا : “ آج میں تم سے کیا معاملہ کرنے والا ہوں؟ “ انہوں نے جواب دیا : اَخٌ كَرِيْمٌ وَابْنُ اَخٍ كَرِيْمٍ آپ کرم والے بھائی اور کرم والے باپ کے بیٹے ہیں۔ اس پر نبیِّ کریم  صلَّی اللہ علیہ وسلَّم  نے فرمایا : لَاتَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ فَاذْهَبُوْا اَنْتُمُ الطُّلَقَآءُ آج تم پر کوئی ملامت نہیں۔ جاؤ! تم سب آزاد ہو۔ “

 (زرقانی علی مواھب ، 3 / 449ملخصاً)

 چھٹا نکتہ :

آخری بات بطورِ خاص ہمارے لئے بہت ایمان افروز اورہماری زندگیوں کا رُخ بدل دینے والی ہے۔ وہ یہ کہ اگر ہم چاہتےہیں کہ خداوند کریم ہمیں معاف کردے تو ہم لوگوں کو معاف کرنا شروع کردیں۔ رحم کرنے والے پر رحمٰن رحم فرماتا ہے ، نرمی کرنے والوں پر خدا نرمی کرتا ہے ، غصہ پینے والوں سے خدا اپنا غضب روک لیتا ہے ، بھوکوں کو کھلانے والے کے دسترخوان میں خدا برکت ڈال دیتا ہے ، غریبوں پر صدقہ کرنے والوں کے مال میں خدا وسعت ڈال دیتا ہے ، دوسروں کی مدد کرنے والے کی خدا مدد فرماتا ہے۔ ہم دوسروں کے لئے بھلائی چاہنے اورخیر پہنچانے والے بن جائیں ، ربِّ کریم کی طرف سے ہم پر خیر کی بارش برسنا شروع ہوجائےگی۔

 اللہ تعالیٰ ہمیں صدیق ِ اکبر  رضی اللہ عنہ  کی مبارک سیرت کے صدقے نیک بنائے۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ* دارالافتاء اہلِ سنّت عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ ، کراچی

 

Share

Articles

Comments


Security Code