فریاد

اصلاح کادرست طریقہ

دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلس شوری کے نگران مولانا محمد عمران عطّاری

ماہنامہ فروری 2021

ایک بار میں نے سوشل میڈیا کے ایک گروپ میں ایک تحریر شیئر کی ، اس تحریر میں ایک لفظ دُرست کرنے کی ضرورت تھی تو اس گروپ میں موجود ایک اسلامی بھائی نے مجھ سے میرے پرسنل نمبر پر رابطہ کیا اور اس غلطی کی جانب میری توجہ دلائی ، مجھے ان کے اصلاح کے اس انداز سے بڑی خوشی ہوئی۔ اسی طرح ایک اسلامی بھائی نے کسی حوالے سے میری اصلاح کرنی تھی ، جب میری ان سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے مجھ سے چند منٹ کا وقت مانگا کہ کچھ بات کرنی ہے ، چنانچہ انہوں نے بھی تنہائی میں بات کی اور میری اصلاح کی ، مجھے ان کا انداز بھی بہت اچھا لگا۔

اے عاشقانِ رسول! اگر کسی سے غلطی ہوجائے اور اس کی اصلاح کرنا ممکن ہو تو اس کی اصلاح کرنی چاہئے ، لیکن اصلاح کرنے کا انداز ایسا ہو کہ سامنے والا اسے قبول بھی کرلے ، بعض لوگوں کا اصلاح کرنے کا انداز بڑا عجیب ہوتا ہے ، مثلاً جس کی اصلاح کرنی ہے اس سے پرسنل رابطہ کرکے اس کی اصلاح کرنے کے بجائے اس کی غلطیوں کو سرِ عام بیان کریں گے ، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر شیئر کریں گے ، الگ سےاس کے ساتھ ملاقات کرکے بات کرنے کے بجائے بھرے مجمعے میں عجیب انداز سے تبصرے کریں گے یا بعض تو دوسروں کی غلطیوں پر  کتاب ہی چھاپ دیں گے۔ بسااوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ موصوف  کا قول یا فعل غلط نہیں ہوتا مگر اپنی کم علمی اور ناسمجھی کی بِنا پر اسے غلط سمجھا جاتا اور پھر اس کے خلاف ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے۔ الغرض ایسے مصلحین اصلاح کا شرعی اور اخلاقی راستہ اپنانے کے بجائے غیرشرعی و غیر اخلاقی ہر طریقہ اختیار کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، کسی نے بڑی پیاری بات کہی ہے : “ اگر آپ کی نیت کسی کی اصلاح کرنے کی ہے تو اکیلے میں کریں اور اگر آپ کی نیت اسے رُسوا کرنے کی ہے تو آپ شور مچائیں ، “ جب آپ شور مچائیں گے بالخصوص سوشل میڈیا جیسے پلیٹ فارم پر یا اپنی نجی محافل اور اپنے حلقۂ احباب میں  تو اس کے اندر کئی طرح کی خرابیاں ہیں :

(1)اصلاح چاہتے ہیں یا کسی کی رسوائی؟ پہلی خرابی یہ ہے کہ اصلاح کے اس انداز سے اس شخص میں بہتری آئے گی یا نہیں اس کی اصلاح ہوگی یا نہیں البتہ یہ ضرور ہے کہ اس کی رُسوائی ٹھیک ٹھاک ہوگی ، لہٰذا آپ چاہتے کیا ہیں؟ اصلاح کرنا یا صرف کسی کو ذلیل و رُسوا کرنا اور اس کی عزت خراب کرنا؟ یقیناً ایک مسلمان کی یہ شان نہیں کہ وہ بلا اجازتِ شرعی اپنے مسلمان بھائی کو رُسوا کرے اور اس کی عزّت خراب کرے۔ اللہ پاک کے آخری نبی  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کافرمانِ عالیشان ہے : “ اَلْمُسْلِمُ اَخُوا الْمُسْلِمِ لَایَظْلِمُہٗ وَلَا یَخْذُلُہٗ وَلَا یَحْقِرُہٗ یعنی مسلمان ، مسلمان کا بھائی ہے وہ نہ تو اس پر ظلم کرتا ہے نہ اسے ذلیل و رُسوا کرتا ہے اور نہ ہی اسے حقیر جانتاہے۔ “ ([i]) تبعِ تابعی بزرگ حضرت سیِّدُنا سفیان بن عُیَیْنَہ  رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا : اگر تم میں سے کوئی شخص دوسرے کے مال سے کچھ لے لے پھر اس کی موت کے بعد اس سے دامن چھڑانا چاہے تو اس کے وارثوں کو وہ چیز دے دے ہمارے خیال میں یہ اس کا کفّارہ ہو جائے گا اور اگر تم میں سے کوئی کسی کی عزت خراب کر دے پھر اس کی موت کے بعد اس کا بدلہ دینا چاہے تو اس کے وارثوں اور تمام زمین والوں کے پاس جائے  اور سب اسے مُعاف کر دیں تو پھر بھی معاف نہیں ہوگا ، پس مؤمن کی عزت اس کے مال سے بڑھ کر ہے۔ جو تم سے کہا جاتاہے اسے سمجھو۔ ([ii])

(2)اصلاح چاہتے ہیں یا فتنہ و فساد؟ اصلاح کے غلط انداز کی دوسری خرابی یہ ہے کہ اس سے بسااوقات فتنہ و فساد اور لوگوں میں انتشار پھیلتا ہے ، اللہ پاک کے آخری نبی  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے ارشاد فرمایا : فتنہ سویا ہوا ہوتا ہے اُس پر اللہ پاک کی لعنت ہو جو اس کو بیدار کرے۔ ([iii]) امامِ اہل ِ سنّت شاہ امام احمد رضا خان  رحمۃ اللہ علیہ  نے ایک سوال کے جواب میں یہ بھی ارشاد فرمایا : مسلمانوں میں بلاوجہِ شرعی تفرقہ ڈالنا شیطان کا کام ہے اور فتنہ قتل سے سخت تَر ہے ، فتنہ سو رہا ہے اس کے جگانے والے پر اﷲ کی لعنت ہے۔([iv])

(3)اصلاح چاہتے ہیں یا خود کو مشہور کرنا؟ اصلاح کے مذکورہ انداز سے مُصلِح کا مقصد کسی مشہور شخصیت پر کیچڑ اُچھال کر خود کو مشہور کرنابھی ہو تو کوئی تعجب کی بات نہیں کیونکہ ہمارے معاشرے میں ایسے افراد کی بھی کمی نہیں۔ حکیمُ الاُمّت مفتی احمد یار خان نعیمی  رحمۃ اللہ علیہ  ایک حدیثِ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں : جو شخص کسی کے ذریعہ سے اپنے (آپ) کو مشہور و نامور کرے قِیامت میں ایسے شخصوں کو (سرِ) عام رُسوا کیاجاوے گا کہ فرشتہ اسے اونچی جگہ کھڑا کرکے اعلان کرے گا کہ (اے) لوگو! یہ بڑا جھوٹا مکّار فَریبی (دھوکے باز) تھا۔ ([v])

(4)اصلاح چاہتے ہیں یا کسی کی توہین؟ جس کی آپ غیرشرعی اور غیر اخلاقی طریقے سے اصلاح کررہے ہیں بلکہ جس کو آپ بدنام کر رہے ہیں اگر بالفرض وہ ہستی کوئی عالمِ دین ہیں تو یقیناً آپ کے اس انداز سے جہاں ان کی غلطی کسی اور عالمِ دین کے سامنے آئے گی وہیں عوام کے سامنے بھی آئے گی ، اور پھر ہر ایک اپنے اپنے اعتبار سے اس عالمِ دین کے بارے میں کمنٹس کررہا ہوگا ، اس طرح عوام کی ایک تعداد اس عالمِ دین کی توہین کی مرتکب ہونے کے ساتھ ساتھ اس کی غیبت میں بھی پڑجاتی ہوگی ، میرےشیخِ کامل ، امیرِ اہلِ سنّت حضرت علّامہ محمد الیاس عطّاؔر قادری  دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ   لکھتے ہیں : عام آدمی اور عالمِ دین کی غیبت میں بڑا فرق ہے ، عالم کی غیبت میں اکثر اُس کی توہین کا پہلو بھی ہوتا ہے جو کہ کافی تشویشناک ہے۔ عالم کی تَوہین کی تین صورَتیں اور ان کے بارے میں حکمِ شرعی بیان کرتے ہوئے میرے آقا اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان  رحمۃ اللہ علیہ  فتاوٰی رضویہ جلد 21صفحہ 129 پرفرماتے ہیں : (1)اگر عا لمِ (دین)کو اِس لئے بُرا کہتا ہے کہ وہ “ عالم “ ہے جب تو صریح کافر ہے اور (2)اگر بوجہِ عِلم اُس کی تعظیم فرض جانتا ہے مگر اپنی کسی دُنیوی خُصُومت (یعنی دشمنی) کے باعث بُرا کہتا ہے ، گالی دیتا (ہے اور) تحقیر کرتا ہے تو سخت فاسِق فاجِر ہے اور (3)اگر بے سبب (یعنی بِلاوجہ )رنج (بُغض) رکھتا ہے تو مَرِیْضُ الْقَلْبِ وَ خَبِیْثُ الْباطِن (یعنی دل کا مریض اور ناپاک باطن والا) ہے اور اُس (یعنی عالم سے خواہ مخواہ بُغض رکھنے والے)کے کُفْرکا اندیشہ ہے ۔ ([vi])

میری تمام عاشقانِ رسول سے فریاد ہے! بلاوجہِ شرعی دوسروں پر نظریں رکھنے اور ان کے عیبوں کو ڈھونڈنے اور اُچھالنے کے بجائے خود پر نظر رکھئے اور اگر کسی کی غلطی آپ کے سامنے آ بھی جاتی ہے تو اوّلاً یہ سوچئے کہ کیا آپ پر اس کی اصلاح کرنا لازم بھی ہے ، نیز شرعی اعتبار سے اصلاح کا دُرست انداز کیا ہونا چاہئے اگر آپ کو اس کی معلومات نہیں ہے تو اس کے متعلق “ دارُ الافتاء اہلِ سنّت “ سے معلوم کرلیجئے ، بصورتِ دیگر آپ سے غلطیاں ہوتی رہیں گی اور آپ اپنے طور پر یہ سمجھ رہے ہوں گے کہ میں بہت ثواب کا کام کررہا ہوں جبکہ آپ مذکورہ بیان کردہ خرابیوں میں سے کسی خرابی میں پڑ کر اپنا وقت برباد کرنے کے ساتھ ساتھ اپنا اعمال نامہ بھی کالا کررہے ہوں گے۔ اللہ پاک ہمارے ظاہر و باطن کی اصلاح فرمائے۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم



([i])   مسلم ، ص1064 ، حدیث : 6541

([ii])   حلیۃ الاولیاء ، 7 / 328 ، رقم : 10720

([iii])   جامع صغیر ، ص370 ، حدیث : 5975

([iv])   فتاویٰ رضویہ ، 6 / 600

([v])   مراٰۃ المناجیح ، 6 / 620

([vi])   غیبت کی تباہ کاریاں ، ص141

Share

Articles

Comments


Security Code