ننھے میاں کی کہانی

محبت کا انوکھا انداز

* فضیل عطاری مدنی

ماہنامہ فروری 2021

 چلیں سب بچّے بیگ سے اسلامیات کی بکس نکالیں۔

سِدرہ آپی کی بات سنتے ہی سب بچے جلدی جلدی کتابیں کھولنے لگے لیکن ننھے میاں کو تو سونے سے کہاں فرصت تھی۔

ننھے میاں! اٹھ جاؤ؟آپی نے دیکھ لیا تو آج پھر ڈانٹ پڑے گی ، قریب بیٹھے ہوئے اُسامہ کی بات سنتے ہی ننھے میاں ایسے ہلے جیسے کسی نے کرنٹ لگا دیا ہو۔

یہ ننھے میاں کہاں ہیں؟ جی آپی میں یہاں اُسامہ بھائی کے ساتھ ، آپی کی آواز سنتے ہی ننھے میاں نے فوراً جواب دیا ، واہ بھئی ننھے میاں! آج ٹیوشن میں آپ جاگ رہے ہیں۔

آپی کی بات سنتے ہی ننھے میاں مسکراتے ہوئے اُسامہ کو دیکھنے لگے۔

اچھا بچّو! بکس پڑھنے سے پہلے آج میں آپ کو بہت ہی دلچسپ سچی اسٹوری سناؤں گی آپ سب ریڈی ہیں؟

جی آپی.......

ایک دفعہ کا ذِکر ہے کہ ہمارے پیارے نبی  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  جمعہ کی نماز  کے بعد  مسجد کے ایک پلر سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئے ، آپ کے ساتھ آپ کے بہت ہی پیارے صحابی حضرت ابوبکر صدیق  رضی اللہ عنہ  بھی بیٹھے تھے۔

 کچھ دیر کے بعد جب اذان کا وقت ہوا تو مؤذنِ رسول حضرت بلال  رضی اللہ عنہ  نے اذان دینا شروع کردی اور بچّو جب حضرت بلال نے کہا : “ اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللہ “ تو پتا ہے  حضرت ابوبکر صدیق  رضی اللہ عنہ  نے کیا کیا؟

مجھے پتا ہے ، مجھے پتا ہے! ننھے میاں جَھٹ سے بول پڑے اور سب بچّے حیرت سے ننھے میاں کو دیکھنے لگے۔

ارے واہ بھئی ننھے میاں! پھر ہمیں بھی تو بتائیں آپ کو کیا پتا ہے؟آپی نے مسکراتے ہوئے ننھے میاں سے پوچھا۔

اس کے بعد حضرت ابوبکر صدیق  رضی اللہ عنہ  نے نماز پڑھی۔ ننھے میاں کا جواب سنتے ہی آپی مسکرانے لگیں اور کہا : ننھے میاں! نماز تو اذان مکمل ہونے کے بعد پڑھی جاتی ہے لیکن میں نے پوچھا تھا کہ اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللہ “ سُن کر آپ  رضی اللہ عنہ  نے کیا کیا؟

یہ تو پتا نہیں! ننھے میاں کی بات سنتے ہی سب بچے ہنسنے لگے۔

ارے کسی کی بات پر ہنسنا نہیں چاہئے اور ننھے میاں نے تو بات بھی بہت اچھی کی ہے ، آپی کی بات سنتے ہی سب بچّے چپ ہوگئے۔

اچھا آپی آپ ہی بتادیں  کہ  حضرت ابوبکر صدیق  رضی اللہ عنہ  نے کیا کام کیا تھا؟ پاس بیٹھی زَہرا نے بے چینی سے ہاتھ ہلاتے ہوئے کہا۔

بچّو! جب انہوں نے “ اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللہسنا تو اپنے دونوں انگوٹھوں کے ناخنوں کو اپنی دونوں آنکھوں پر رکھا اور کہا : “ قُرَّۃُ عَیْنِیْ بِکَ یَارَسُوْلَ اللہ! “

آپی اس کا کیا مطلب ہے؟ اُسامہ نے حیرت سے دیکھتے ہوئے سوال کیا۔

آپی : اس   کا معنی ہے : یارسولَ اللہ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  آپ میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہیں۔

آپی کی بات سنتے ہی ننھے میاں کی زبان سے سُبْحٰنَ اللہ  نکلا اور بولے :

لیکن آپی! حضرت ابو بکر صدیق  رضی اللہ عنہ  نے ایسا کیوں کیا؟

ننھے میاں اس لئے کہ حضرت ابو بکر  رضی اللہ عنہ  کو ہمارے پیارے نبی  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  سے بہت محبت تھی تو جب آپ کا نام سنا تو محبت میں انگوٹھے آنکھوں سے لگالئے اور  پتا ہے پھر ہمارے پیارے نبی  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے ان سے کیا فرمایا؟

آپی کی بات سنتے ہی سب بچے ننھے میاں کو دیکھنے لگے!

نہیں نہیں مجھے بھی نہیں پتا ، ننھے میاں نے اِدھر اُدھر گردن ہلاتے ہوئے جواب دیا۔

آپی نے کہا : چلو میں بتاتی ہوں ، ہمارے پیارے نبی  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے ابوبکر صدّیق  رضی اللہ عنہ  سے فرمایا : ’’اے ابوبکر! جو شخص ایسا کرے جیسا تم نے کیا تو اللہ پاک اس کے اگلے پچھلے تمام گناہ بخش دے گا۔ “ (ماخوذ از فیضانِ صدیقِ اکبر ، ص186)

سُبْحٰنَ اللہ......

آپی! پھر تو ہمیں بھی آپ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کا نام سُن کر انگوٹھے چومنا چاہئے نا؟ ننھے میاں نے آپی کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔

آپی : ہاں ہاں کیوں نہیں ہمیں بھی اللہ پاک کے آخری نبی  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  سے محبت ہے چلیں! آئیں ہم بھی دُرود شریف پڑھتے ہیں اور یہ عمل بھی کرتے ہیں :

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                    صلَّی اللہُ علٰی محمَّد

پیارے نبی  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم   کا نام سنتے ہی آپی اور  سب بچّوں نے اپنے انگوٹھے چوم کر اپنی آنکھوں سے لگالئے۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ* کڈز مدنی چینل ، کراچی

 

Share

Articles

Comments


Security Code