اسلامی عقائد و معلومات

انبیاء و رُسُل کے بعد سب سے افضل ہستی

* محمد عدنان چشتی عطاری مدنی

ماہنامہ فروری 2021

تمام انسان آدم   علیہ السَّلام   کی اولاد ہیں لیکن یہ سب برابر نہیں ہیں کیونکہ اللہ پاک نے کسی کو ایمان کی دولت عطا فرما کر دوسروں سے ممتاز فرمایا اور پھر اہلِ ایمان میں کسی کو علم تو کسی کو تقویٰ و پرہیز گاری دے کر دوسروں پر فضیلت عطافرمائی۔ فضیلت کا یہ سلسلہ بڑھ کر افضلیت کو جا پہنچتا ہے اسی لئے اللہ پاک نے مختلف مقبول بندوں کو مختلف اعتبار سے افضلیت سے نوازا ہے۔ نبیِّ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کے صحابۂ کرام   رضی اللہ عنہم  کو اللہ پاک نے دیگر انبیا کے اصحاب سے افضل بنایا۔ صحابۂ کرام میں بھی بعض کو بعض پر فضیلت عطا فرمائی ہے۔ اس بات پر اُمّت کا اجماع ہے کہ خلفائے راشدین تمام صحابہ سے افضل ہیں۔

عقیدہ :

 امامِ اہلِ سنّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان  رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں : اہلِ سنّت و جماعت نَصَر َہُمُ اللہُ تعالٰی کا اجماع ہے کہ مُرسلین ملائکہ و رُسُل و انبیائے بشر صَلَوَاتُ اللّٰہِ تَعَالٰی وَتَسْلِیْمَاتُہ عَلَیْھِمْ کے بعد حضرات خلفائے اربعہ  رضوان اللہ تعالٰی علیھم  تمام مخلوقِ الٰہی سے افضل ہیں ، تمام اُمَمِ عالم اولین وآخرین میں کوئی شخص ان کی بزرگی وعظمت وعزت و وجاہت و قبول و کرامت و قُرب و ولایت کو نہیں پہنچتا ۔

مزید فرمایا : پھر اُن کی باہم ترتیب یوں ہے کہ سب سے افضل صدیقِ اکبر ، پھر فاروقِ اعظم ، پھر عثمانِ غنی ، پھر مولیٰ علی  رضی اللہ تعالٰی عنہم ۔ ([i])

افضلیت کا مسئلہ قطعی ہے :

امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان  رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں : (حضرت صدیق و عمر کی افضلیت پر) جب اجماعِ قطعی ہوا تو اس کے مفاد یعنی تفضیلِ شیخین کی قطعیت میں کیا کلام رہا؟ ہمارا اور ہمارے مشائخِ طریقت و شریعت کا یہی مذہب ہے۔ ([ii])

مسئلہ افضلیت باب عقائد سے ہے :

 اعلیٰ حضرت  رحمۃ اللہ علیہ  لکھتے ہیں : بالجملہ مسئلہ افضلیت ہرگز بابِ فضائل سے نہیں جس میں ضعاف (ضعیف حدیثیں) سُن سکیں بلکہ مواقف و شرح مواقف میں تو تصریح کی کہ بابِ عقائد سے ہے اور اس میں اٰحاد صحاح (صحیح لیکن خبرِ واحد روایتیں) بھی نامسموع۔ ([iii])

جلیلُ القدر حنفی محدث حضرت امام ابو جعفر احمد بن محمد طحاوی  رحمۃ اللہ علیہ  (وفات : 321ھ) فرماتے ہیں : وَنُثْبِتُ الْخِلَافَةَ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَوَّلًا لِاَبِي بَكْرِ الصِّدِّيق رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَفْضِيلًا لَهُ وَتَقْدِيمًا عَلَى جَمِيعِ الْاُمَّةِ ، ثُمَّ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، ثُمَّ لِعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، ثُمَّ لِعَلِيِّ بْنِ اَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ یعنی ہم رسولُ اللہ  صلَّی اللہ علیہ وسلَّم  کے بعد سب سے پہلے حضرت ابوبکر صدیق  رضی اللہ عنہ  کی خلافت ثابت کرتے ہیں اس وجہ سے کہ آپ کو تمام اُمّت پر افضلیت و سبقت حاصل ہے ، پھر ان کے بعد حضرت عمر فاروق ، پھر حضرت عثمان بن عفان ، پھر حضرت علیُّ المرتضیٰ رضی اللہ عنہم  اجمعین کے لئے خلافت ثابت کرتے ہیں۔ ([iv])

اُمّت میں سب سے بہتر :

ایک دن نبیِّ اکرم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے خطبہ ارشاد فرمایا اور پھر توجہ فرمائی تو حضرت ابوبکر صدیق نظر نہ آئے تو آپ نے ان کا نام لے کر دو بار پکارا۔ پھر ارشاد فرمایا : بےشک رُوحُ القُدس جبریل امین   علیہ السَّلام   نے ابھی مجھے خبر دی کہ آپ کے بعد آپ کی اُمّت میں سب سے بہتر ابوبکر صدیق ہیں۔ ([v])

افضلیتِ صدیقِ اکبر بزبانِ مولیٰ علی :

جگرگوشۂ علیُّ المرتضیٰ حضرت محمد بن حنفیہ  رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : میں نے اپنے والد حضرت علی  رضی اللہ عنہ  سے پوچھا : نبیِّ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کے بعد سب سے افضل کون ہے؟ ارشاد فرمایا : ابوبکر ، میں نے پوچھا : پھر کون؟ ارشاد فرمایا : عمر۔ مجھے اندیشہ ہوا کہ اگر میں نے دوبارہ پوچھا کہ پھر کون؟ تو شاید آپ حضرت عثمان کا نام لے لیں گے ، اس لئے میں نے فورا ً کہا : حضرت عمر کے بعد تو آپ ہی سب سے افضل ہیں؟ ارشاد فرمایا : میں تو ایک عام سا آدمی ہوں۔ ([vi])

جسے صحابہ کرام افضل سمجھتے :

حضرت عبدُاللہ بن عمر   رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : ہم رسولُ اللہ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کے زمانے میں حضرت ابوبکر  رضی اللہ عنہ  کو سب سے افضل شمار کرتے تھے ، ان کے بعدحضرت عمر بن خطاب  رضی اللہ عنہ  کو اور ان کے بعد حضرت عثمان بن عفان  رضی اللہ عنہ  کو۔ ([vii])

چونکہ صحابۂ کرام حضرت صدیقِ اکبر کی افضلیت کے قائل تھے اسی لئے بڑے بڑے اَئمہ بھی اس عقیدے پر کاربند تھے جیسا کہ حضرت امامِ اعظم ابوحنیفہ ، حضرت امام شافعی ، حضرت امام مالک  رحمۃ اللہ علیہم صدّیقِ اکبر کو افضل مانتے تھے جیسا کہ حضرت امامِ اعظم نعمان بن ثابت  رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں : انبیائے کرام کے بعد تمام لوگوں سے افضل حضرت ابوبکر صدّیق  رضی اللہ عنہ  ہیں ، پھر عمر بن خطاب ، پھرعثمان بن عفان ذوالنورین ، پھر علی ابنِ ابی طالب  رضوان اللہ علیھم اجمعین  ہیں۔ ([viii])

حضرت امام محمد بن ادریس شافعی  رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں : تمام صحابۂ کرام اور تابعینِ عظام کا اس بات پر اجماع ہے کہ تمام اُمّت سے افضل حضرت ابوبکر صدیق  رضی اللہ عنہ  ہیں ، پھر حضرت عمر ، پھر حضرت عثمان بن عفان ، پھر حضرت علیُّ المرتضیٰ  رضوان اللہ علیھم اجمعین  ہیں۔ ([ix])

حضرت امام مالک  رحمۃ اللہ علیہ  سے پوچھا گیا : انبیائے کرام کے بعد لوگوں میں سب سے افضل کون ہے؟ فرمایا : حضرت ابوبکر صدّیق ، پھر حضرت عمر فاروق۔ ([x])

حضرت شیخ تقی الدّین  رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں : اِنَّ اَبَابَکْر  رضی اللہ عنہ  اَفْضَلُ مِنْ سَائِرِ الْاُمَّۃِ الْمُحَمَّدِیَّۃِ وَسَائِرِ اُمَمِ الْاَنْبِیَاءِ وَاَصْحَابِھِم لِاَنّہٗ کَانَ مُلَازِماً لِرَسُوْلِ اللہِ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم   بِالصِّدِّیْقِیَّۃِ لُزُوْمَ الظِّلِّ لِلشَّاخِصِ حَتّٰی فِی مِیْثَاقِ الْاَنْبِیَاءِ وَلِذٰلِکَ کَانَ اَوَّلُ مَنْ صَدَّقَ رَسُوْلَ اللہ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم   یعنی حضرت ابوبکر صدیق  رضی اللہ عنہ  تمام اُمّت محمدیہ سے اور تمام انبیا کی ساری امتوں اور ان کے اصحاب سے افضل ہیں ، کیونکہ آپ رسولُ اللہ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کے ساتھ اس طرح لازم تھے جس طرح سایہ جسم کے ساتھ لازم ہوتا ہے حتی کہ میثاقِ انبیاء میں اور اسی لئے آپ نے سب سے پہلے نبیِّ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی تصدیق فرمائی۔ ([xi])

شارحِ بخاری حضرت علّامہ اِبنِ حجر عسقلانی  رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں : اِنَّ الْاِجْمَاعَ اِنْعَقَدَ بَيْنَ اَهْلِ السُّنُّةِ اَنَّ تَرْتِيْبَهُمْ فِيْ الْفَضْلِ كَتَرْتِيْبِهِمْ فِي الْخِلَافَةِ رَضِيَ اللہُ عَنْهُمْ اَجْمَعِيْن یعنی اہلِ سنّت و جماعت کے درمیان اس بات پر اجماع ہے کہ خلفائے راشدین میں فضیلت اسی ترتیب سے ہے جس ترتیب سے خلافت ہے۔ ([xii])

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ* رکنِ مجلس المدینۃالعلمیہ کراچی



([i])   فتاویٰ رضویہ، 28/478

([ii])   مطلع القمرین فی ابانۃ سبقۃ العمرین، ص81

([iii])   فتاویٰ رضویہ،5/581

([iv])   متن العقیدۃ الطحاویۃ، ص29

([v])   معجم اوسط،5/18،حدیث:6448

([vi])   بخاری،2/522،حدیث:3671

([vii])   بخاری، 2/518، حدیث:3655

([viii])   شرح فقہ اکبر، ص61

([ix])   فتح الباری ،8/15

([x])   الصواعق المحرقۃ،ص57

([xi])   الیواقیت والجواھر، جز2، ص329

([xii])   فتح الباری ،7/29، تحت الحدیث:3678

Share

Articles

Comments


Security Code