حدیث شریف اور اس کی شرح

جعلی طبیب متوجہ ہوں!!!

* ناصر جمال عطّاری مدنی

ماہنامہ فروری 2021

رسولُ اللہ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کافرمان ہے : مَنْ تَطَبَّبَ وَلَمْ يُعْلَمْ مِنْهُ طِبٌّ قَبْلَ ذَلِكَ فَهُوَ ضَامِنٌ ترجمہ : جو تکلفاً علاج کرے اور اُسے علمِ طب نہ آتا ہو تو وہ ضامن ہے۔ ([i]) اللہ کے آخری نبی  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کے اِس فرمان کی وضاحت یہ ہے کہ جس نے طِب کے اُصول و ضوابط نہ پڑھے ہوں اور وہ لوگوں کے سامنے خود کو طبیب ظاہر کرکے علاج کرے اور اُس کے علاج سے کوئی مرجائے یا مریض کو کسی قسم کا نقصان پہنچے تو وہ جعلی طبیب دیت ([ii])  کا ضامن ہے۔ ([iii])

خواہ انسان ہو یا جانور ، علاج ہر جاندار کی ضرورت ہے۔ چونکہ انسان مخلوقات میں افضل ہے اسی لئے اس کی عزت اور تکریم کی اہمیت بھی اُتنی ہی زیادہ بیان کی گئی ہے اور انسانی جان کی صحت اور اُس کی حفاظت کے لئے ضروری اقدامات کرنے کو زیادہ اہم قرار دیا گیا ہے۔ انسانی صحت کی حفاظت کے لئے علاج کی سہولت ہونے کے ساتھ معالج کا ماہر ہونا بھی نہایت ضروری ہے۔ بہترین معالج انسانی معاشرے کے لئے ایک مسیحا کا کردار ادا کرتا ہے لیکن یہ اُسی صورت میں ممکن ہے کہ جب اُس میں خالقِ حقیقی کا خوف ہو ورنہ وہ اپنے مریض کو پیسہ کمانے کی مشین کے طور پر بھی استعمال کرتا ہے اور یہ خود غرضی اُسے بسا اوقات ایسے ایسے اقدامات پر ابھارتی ہے جو بسا اوقات انسانی جان کے نقصان کا ذریعہ بن جاتی ہے۔

یہ تو اُس صورت میں ہےکہ جب ایک ماہر ڈاکٹر یا حکیم علاج میں غفلت برتتے ہوئے یا لالچ میں آکر اس طرح کی کوئی حرکت کر گزرے مگر اُن حضرات پر زیادہ افسوس ہے جو طب و حکمت کے بارے میں تھوڑی بہت جان کاری حاصل کرکے “ نِیم حکیم “ بَن بیٹھتے ہیں اور ناتجربہ کاری کی وجہ سے مریض کو مزید اذیت و تکلیف میں مبتلا کردیتے ہیں۔ ہماری دنیا میں اس طرح کے چند طبقات بستے ہیں ، آئیے!جعلی طبیب بن کر علاج تجویز کرنے کے اسباب کے بارے میں جانتے ہیں :

(1) “ شہرت “ کی طلب انسان سے بہت کچھ کروادیتی ہے ، چونکہ کسی کا کامیاب علاج کرنا بھی شہرت کا ایک زبردست ذریعہ ہے ، اسی شہرت کی بھوک انسان کو علاج بتاکر داد لینے پر اُبھارتی ہے ، وہ اپنے بارے میں بلند بانگ جھوٹے دعوے کرنا شروع کردیتا ہے ، بسااوقات تو شفا یاب ہونے والے مریضوں کی جھوٹی تعداد لاکھوں میں بتاکر متأثر کرنے کی کوشش کرتا ہے ، بات اِسی پر ختم نہیں ہوتی بلکہ اپنی جھوٹی ڈگریوں اور جعلی سرٹیفکیٹ کےسہارے اپنی دکان چمکاتا رہتا ہے ۔

(2) “ مال و دولت کی لالچ “ بھی ایسا کرنے پر اُبھارتی ہے ، بالخصوص وہ پس ماندہ یا ترقی پذیر علاقے جہاں اسپتال کی سہولت موجود نہیں یا بہت دور دور ہے تو ایسی صورت میں اس طرح کے مقامات سونے کی چڑیا ثابت ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ ان مقامات پر اپنی ناتجربے کاری کی وجہ سے کئی جانوں کے ضیاع کاسبب بنتے ہیں۔

(3)بعض افراد کو ہر کام میں کُودنے اور مفت کے مشورے دینے کا شوق ہوتا ہے ایسے لوگ اپنی عادت سے مجبور ہوکر ہر بیماری کا علاج بتاتے پھرتے ہیں اوراُس طریقہ ٔ علاج کو اپنانے پر اصرار بھی کرتے ہیں ، کبھی کبھی تو ایسے ٹوٹکے بھی بتادیتے ہیں جو مرض بھگانے کے بجائے اُس کی شدت بڑھادیتا ہے اور اُن کے مشورےکے غلط ہونے کا اندازہ وقت گزرنے کے بعد ہوتا ہے۔ ایسے مشیر بے تدبیر کے تجویز کردہ علاج سے وہی نجات پا سکتا ہے جس کی عقل حاضر اور شعور زندہ ہو۔

(4)بعض افراد بطورِ مذاق بھی خود ساختہ علاج بتادیتے ہیں جس کی وجہ سےجان و مال کا نقصان ہوجاتا ہے ، ایسے افراد کو اس حدیثِ مبارکہ سے عبرت حاصل کرنی چاہئے۔

(5)بعض لوگ مریض سے بغض و کینہ کی وجہ سے اُسے غلط دوائیاں بتادیتے ہیں اور دوائی کے اُلٹے اثرات دیکھ کر خوش ہوتے ہیں۔

(6)بعض لوگوں کو انسانوں پر تجربے کرنے کا شوق ہوتا ہے اسی شوق کو وہ یوں پورا کرتے ہیں کہ طرح طرح کی دوائیوں کے فوائد و نقصانات جاننے کے لئے عام ، سیدھے سادھے اور بھولے بھالے لوگوں پر تجربہ کرتے ہیں۔ عموماً میڈیکل اسٹور والوں سے لوگ بیماری بتاکر دوا طلب کرتے ہیں وہ بھی تجربے کے شوق میں ڈاکٹر کی ہدایات کے بغیر دوا دے دیتے ہیں جس کے نتائج تکلیف میں اضافے اور جان جانے جیسی بھیانک صورت میں نکلتے ہیں۔

جعلی طبیب دراصل بے رحمی ، انتقامی مزاج اور اس طرح کی کئی وجوہات کی پیداوار ہیں لہٰذا ہمیں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ اسلام ہمیں رحم دلی کا حکم دیتا ہے چنانچہ حدیثِ قدسی میں ہے : اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے : اگر تم میری رحمت چاہتے ہوتو میری مخلوق پر رحم کرو۔ ([iv]) رسولُ اللہ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے ارشاد فرمایا : بےشک اللہ پاک اپنے رحم کرنے والے بندوں پر ہی رحم فرماتا ہے۔  ([v]) اسلام ہمیں بےحسی و بے رحمی سے بچاتا ہے جیسا کہ ہمارے نبی  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے ارشاد فرمایا : جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا اللہ پاک اُس پر رحم نہیں فرماتا۔ ([vi])

مریضوں پر رحم کا تقاضا یہ ہے کہ ہم کسی بھی طرح غلط علاج بتانے کے بجائے ماہر ڈاکٹر سے رجوع کرنے کا مشورہ دیں ، اِ س سلسلے میں مریض پر آنے والی مالی دشواریوں کو بھی حسبِ توفیق دور کرنے کی کوشش کریں اوریہ سب کرتے ہوئے ایسے الفاظ استعمال کرنے سے بچیں جو مریض کو گھائل کردیں بلکہ وہ لہجہ رکھیں جو اُسے علاج کا قائل اور صحیح ڈاکٹر کی جانب مائل کرسکے۔ ہمارا یہ رویہ جعلی طبیبوں میں کمی کا سبب بنے گا۔ اِنْ شَآءَ اللہ

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ* ذمہ دار شعبہ فیضانِ اولیاو علما ، المدینۃالعلمیہ کراچی



([i])   ابن ماجہ ، 4 / 103 ، حدیث : 3466

([ii])   دیت اس مال کو کہتے ہیں جونفس(جان)کے بدلے میں لازم ہوتا ہے۔ (بہارشریعت ، 3 / 830)

([iii])   اسعاف الحاجۃ ، ص 579 ، تحت الحدیث : 3466 ، اعلام الانام ، 4 / 79

([iv])   مکارم الاخلاق للطبرانی ، ص326 ، حدیث : 41

([v])   بخاری ، 1 / 434 ، حدیث : 1284

([vi])   مسلم ، ص975 ، حدیث : 2318

Share

Articles

Comments


Security Code