کیسا ہونا چاہئے؟

مسجد انتظامیہ کو کیسا ہونا چاہئے؟(قسط : 03)

* ابوالنّور راشد علی عطاری مدنی

ماہنامہ فروری 2021

گزشتہ سے پیوستہ

(2)مسجد کے عملہ  کا انتخاب

مسجد عملہ میں عمومی طور پر خطیب ، امام ، مؤذن اور خادم آتے ہیں ، مساجد کی آمدن ،  رقبے اور ضرورت کے اعتبار سے نائب امام اور ایک سے زائد خادم بھی رکھے جاتے ہیں۔ بہر کیف مسجد کے عملہ کا انتخاب بھی ایک اہم امر ہے۔

ہمارے ہاں عموماً خطیب کا انتخاب بیان سُن کر کیا جاتا ہے ، مسجد انتظامیہ یا چند نمازیوں کو انداز پسند آگیا تو خطیب صاحب منتخب کرلئے جاتے ہیں ، یاد رکھئے کہ خطیب کی ذِمّہ داری لوگوں کو دینِ اسلام کی تعلیمات  بتانا ہوتاہے اس لئے خطیب  صاحب عالمِ دین اور صاحبِ مطالعہ ہونے چاہئیں ، چنانچہ   مسجد انتظامیہ کو چاہئے کہ جو قراٰنِ کریم ، احادیثِ مبارکہ اور سیرتِ اسلاف کی روشنی میں  دینی تربیت کرتا ہو ایسے خطیب کا انتخاب کریں۔

امام  کسی بھی مسجد کا سب سے اہم ترین رکن سمجھا جاتا ہے کیونکہ خطیب صاحب نے تو ہفتے میں ایک دن آنا ہے جبکہ امام صاحب دن میں پانچوں نمازوں میں موجود ہوتے اور لوگوں سے ملاقات کرتے ہیں۔ اکثر مساجد میں  امام اور خطیب ایک ہی ہوتے ہیں ، ایک طرح سے دیکھا جائے تو یہ بہت ہی مناسب اور احسن طریقہ ہے کیونکہ امام کو مسجد کے نمازیوں اور علاقے میں رہنے والے افراد کے حالات اور نفسیات کا اچھی طرح اندازہ ہوتا ہے اور وہ اس کی روشنی میں جمعہ کے بیان کے ذریعے نیکی کی  دعوت عام کرسکتا ہے۔ بہرحال امام کا انتخاب بھی دیکھ بھال کرکیجئے ، صرف آواز اور شکل و وجاہت ہی نہیں بلکہ یہ بھی دیکھئے کہ  کیا وہ نماز کے ضروری مسائل کا اتنا علم   رکھتا ہے جو نماز کی  تکمیل کے لئے لازمی ہے۔ بالخصوص طہارت ، نماز کی شرائط ، فرائض ، واجبات ، مکروہات کا علم بہت اچھی طرح ہو۔ اس کا بہترین حل یہی ہے کہ امام و خطیب   کسی اچھے عالمِ دین  کے مشورے  ہی سے منتخب کئے جائیں۔

 اللہ کریم امیرِ اہلِ سنّت حضرت علّامہ محمد الیاس قادری  دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ   کو سلامت رکھے کہ ان کی بنائی ہوئی تحریک دعوتِ اسلامی نے تو بہت آسانی کردی ہے ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ دعوتِ اسلامی کا ایک شعبہ بنام “ مجلس ائمہ مساجد “ قائم ہے جس کے تحت مساجد میں ائمہ ، مؤذنین وغیرہ کا تقرّر بھی ہوتاہے اور عُلَمائے کرام کے ذریعے ان کے  ٹیسٹ  بھی لئے جاتے ہیں۔ لہٰذا مسجد انتظامیہ کو چاہئے کہ دعوتِ اسلامی کی اس مجلس سے رابطہ کرکے امام کا مطالبہ کریں۔

امام کے انتخاب میں ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ مستقبل کے اعتبار سے خوب سوچ کر پلاننگ کریں ، یہ ہرگز مناسب نہیں کہ  ابھی اگر مسجد زیرِ تعمیر ہے تو گزارہ کرنے کے لئے کسی طالبِ علم  کو امام رکھ لیں اور جب مسجد عالیشان تعمیر ہوجائے تو اس بےچارے کو نکال دیں ، اگر مسجد تعمیر ہونے کے بعد کسی بڑے عالمِ دین ہی کو لانا ہے تو شروع ہی سے طے کرلیں اور ابتداءً رکھے جانے والے امام صاحب کو بتادیں کہ ہم مسجد کی تعمیر تک آپ کی خدمات حاصل کریں گے۔

مؤذن صاحب بھی مسجد کا اہم حصہ ہوتے ہیں ، اور کیوں نہ ہوں کہ دن میں پانچ مرتبہ لوگوں کو اللہ کریم کے دربارِ عالی میں حاضر ہونے کا حکم نامہ جو  پہنچاتے ہیں۔ لہٰذا  مسجد انتظامیہ کو چاہئے کہ بطورِ مؤذن ایک مستقل مزاج ، وقت کے پابند ، بلند و صاف آواز ، درست اذان دینے والے اور خوش اخلاق بندے کا انتخاب کریں۔ اسی طرح خادم بھی ایسا ہی منتخب کریں جو وقت کی پابندی اور کام کی  لگن رکھنے کے ساتھ ساتھ پاکی ناپاکی کے مسائل جانتا ہو تاکہ مسجد کی صفائی وغیرہ میں کچھ غلط نہ کربیٹھے۔

(3)مسجد کے عملہ کے ساتھ انتظامیہ کا برتاؤ

مسجد انتظامیہ کے اوصاف میں سے ایک اہم وصف “ مسجد کے عملہ کے ساتھ برتاؤ “ بھی ہے۔  اس پہلو سے مسجد انتظامیہ کے ہر فرد کے ساتھ ساتھ ہر ہر مسلمان کو یہ بات اپنے ذہن میں پختہ کرلینی چاہئے کہ خطیب ، امام ، مؤذن ، خادم ، قاری ، حافظ ، عالم اور مفتی سبھی کے سبھی خواہ جتنے بھی عظیم ہیں اس سب کے ساتھ ساتھ وہ انسان بھی ہیں ، بتقضاضۂ بشریت  ان سے بھی خطا ہوسکتی ہے۔  چنانچہ اگر کبھی  مسجد کے عملے سے کوئی  ایسی غلطی ہوجائے جو عوام کی تنفیر کا باعث نہ ہو تو اسے اگنور (Ignore) کردیں اور اگر کوئی ایسا معاملہ ہے جو عوام کی طرف سے نفرت کا باعث بھی ہے اور ان کے منصب کے اعتبار سے بھی بہت زیادہ نامناسب ہے تو  دارُالافتاء اہلِ سنّت  یا کسی بھی معتبر سنی عالمِ دین سے شرعی راہنمائی لے کر اسی پر عمل کریں۔ خود سے ہی مفتی بن جانا یا اس لحاظ سے کہ ہم انتظامیہ ہیں بدتمیزی اور بداخلاقی پر اتر آنا شرعی طور پر بھی درست نہیں ہے۔

مسجد عملہ بالخصوص ان میں سے  جو عالم ہوں ان  کے ساتھ گفتگو ، لَین دَین اور اُٹھنے بیٹھنے کا انداز مہذّب اور شائستہ ہونا چاہئے ، ٹھیک ہے آپ مسجد انتظامیہ میں سے ہیں لیکن وہ جتنے عوام کے خطیب  اور امام ہیں اتنے ہی آپ کے لئے بھی ہیں۔ نمازی حضرات تو امام و خطیب صاحبان کے ہاتھ چوماکریں اور مسجد انتظامیہ ان کے ساتھ ملازموں والا سلوک رکھے بہت تشویش ناک بات ہے۔ دینِ اسلام  نے تو ماتحتوں ، ملازموں ، غلاموں کے ساتھ بھی حسنِ سلوک کی تعلیم دی ہے جبکہ امام و خطیب تو وہ ہیں جو ہماری اور آپ کی نمازوں کی مقبولیت اور نسلوں کی  تربیت کا ذریعہ ہیں۔

مسجد کی آمدن و گنجائش  اور عرف کے مطابق مسجد عملہ کو رہائش اور دیگر سہولیات دینا بھی مسجد انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔ مساجد کی تعمیر اور تزئین و آرائش بہت اچھی بات ہے ، مہنگے سے مہنگا ماربل اور اعلیٰ سے اعلیٰ سہولیات بالکل ہونی چاہئیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ افراد جو اس مسجد کی خدمت و آبادکاری میں مصروف ہوتے ہیں یعنی امام و مؤذن وغیرہ ، ان کے لئے رہائش اور ضروری سہولیات کی فراہمی بھی بہت اچھا ، ضروری اورثواب والا کام ہے۔ مسجد انتظامیہ کو  معلوم ہونا چاہئے کہ  جس طرح عوام الناس اور نمازیوں کو سہولت دینے کا ثواب ہے اسی طرح امام و مؤذن اور مسجد کے دیگر عملہ کو سہولیات دینا بھی  ثواب کا کام ہے۔

مسجد انتظامیہ کو چاہئے کہ مسجد کی طرح مسجد کے عملہ کا بھی پورا پورا خیال رکھیں اور شرعی  راہنمائی لیتے ہوئے ان کی رہائش ، سہولیات ، عرف کے مطابق کھانے وغیرہ کا اہتمام ، سیلری ، بونس ، بیماری وغیرہ یا خدانخواستہ کسی حادثے کی صورت میں ان کی عیادت و تیمارداری اور  علاج معالجہ کے لئے  مالی خدمت  اور دیگر معاملات میں ان کا ساتھ دینے کی بھرپور کوشش کریں۔

(بقیہ اگلے ماہ کے شمارے میں۔ ۔ ۔ اِنْ شَآءَ اللہ)

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ* ناظم ماہنامہ  فیضانِ مدینہ ، کراچی

 

Share

Articles

Comments


Security Code