مسجد کی آبادکاری میں امام صاحب کا کردار

گزشتہ دو ماہ کے شماروں میں امامت جیسے اہم منصب کے حوالے سے دو موضوعات “ امام صاحب اور کردارو گفتار ، امام صاحب اور در س و بیان “ پر کچھ مدنی پھول پیش کئے گئے تھے ، ذیل میں اسی سلسلے کی آخری قسط میں “ مسجد کی آبادکاری میں امام صاحب کا کردار اور اہلِ علاقہ و انتظامیہ کے ساتھ امام صاحب کا انداز “ کے حوالے سے چند مدنی پھول پیش کئے جارہے ہیں۔

* پیارے امام صاحبان! یادرکھئے کہ مسجد میں نمازِ باجماعت پڑھانے کے بعد آپ کا سب سے اہم اور بڑا مقصد مسجد کی آبادکاری ہونا چاہئے اور مسجد کی آبادکاری نمازیوں سے ہوتی ہے ، اس لئے امام صاحب کو چاہئے کہ اپنے درس و بیان اور ملاقات میں نماز کا ذِکْرکرنے کی کوشش کریں ، دعوتِ اسلامی کے جامعۃُ المدینہ سے فارغُ التّحصیل ایک مدنی اسلامی بھائی جو کراچی کی ایک جامع مسجد میں امامت و خطابت کی خدمت سرانجام دیتے ہیں ، ان کا بیان ہے کہ ہماری مسجد میں نمازیوں کی تعداد بہت کم تھی ، فجر میں بمشکل ایک صف ہوتی جبکہ دیگر نمازوں میں ایک سے ڈیڑھ صف تک نمازی ہوتے تھے ، اَلْحَمْدُلِلّٰہِ میں نے ربیعُ الاوّل کے مبارک مہینے میں جہاں جہاں بیان کا موقع ملا ، نماز کو عشقِ رسول کی تکمیل کے طور پر بیان کیا ، اسلامی بھائیوں کو نمازِ باجماعت کی ترغیب دلائی۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ ہماری مسجد میں فجر کے نمازی تین سے چار صفوں تک ہونے لگے اور عام نمازوں میں بھی تین گنا سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ بانی ِدعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا محمد الیاس عطّار قادری   دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ   کو اُن کی اس کارکردگی کا علم ہوا تو بہت حوصلہ افزائی فرمائی۔

* امام صاحب کی کوشش ہونی چاہئے کہ وہ علاقے میں دینی شعور بیدار کرنے کی تدبیریں کریں اور عملی طور پر بھی لوگوں میں شوق و جذبہ پیدا کرنے کے لئے کوشاں رہیں۔ اگر ائمۂ مساجد چاہیں تو اپنے منصب کو استعمال کرتے ہوئے علاقے میں دینی ہلچل پیدا کرسکتے ہیں ، گلی محلے میں کھلم کھلا ہونے والے گناہوں کو روک سکتے ہیں ، وہ بچّوں کو اپنی اولاد کے درجے میں رکھ کر شفقت  کا معاملہ کریں ، نوجوانوں کو بھائی سمجھ کر نرمی وخیر خواہی کا پہلو اپنائیں ، بوڑھوں کو باپ کا درجہ دیتے ہوئے اِکرام کریں ، اس منصب کا تقاضا یہ ہے کہ اِمامت کو محض نوکری کی نظر سے نہ دیکھیں ، بلکہ یہ اہم دینی ذمّہ داری ہے ، ملنساری اور ہمدردانہ رویّہ کا ایسا نمونہ پیش کریں کہ  لوگ ان کے گرویدہ ہوجائیں۔

* جس شخص پر امامت کی ذمّہ داری عائد ہو اسے چاہئے کہ اسے پوری اہمیت دے۔ حسبِ استطاعت اس کا حق ادا کرے تو یقیناً اس کے لئے اس میں اجرِ عظیم ہے۔ مقتدیوں کے انفرادی اور اجتماعی حالات کا خیال رکھے۔ انہیں پریشانی اور مشکل میں نہ ڈالے۔ انہیں اپنی طرف راغب کرے ، مُتَنَفر نہ کرے۔ نماز پڑھانے کاانداز بھی نمازیوں کو قریب لانےیا مُتَنَفّر کرنے کا سبب بن سکتاہے ، رسولِ کریم   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ و سلَّم   کے مبارک فرامین اور اسلافِ اُمّت کے ملفوظات سے ایسی راہنمائی ملتی ہے کہ اِمامت میں کیا انداز ہونا چاہئے۔ امام کو چاہئے کہ نمازیوں کی طبیعت ، صحّت اور عمر کا لازمی لحاظ رکھے ، اگر کوئی ضعیف یا بیمار نماز میں شامل ہوتو نماز کو کچھ مختصر کرے یعنی قِراءَت کم کرے ، اگر کسی نمازی کے لئے زیادہ دیر بیٹھنا دشوار ہو تو قَعْدَہ میں تَشَہُّد اور دُرود شریف وغیرہ بہت زیادہ آہستہ رفتار سے نہ پڑھے بلکہ کچھ ایسے جلدی پڑھے کہ تلفظ بھی دُرست ادا ہوجائیں اور نمازی کو زیادہ دیر بیٹھنے کی دشواری بھی نہ ہو ، پیارے نبی   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم   کا فرمانِ عالی شان ہے : جب کوئی لوگوں کو نماز پڑھائے تو وہ نماز میں تخفیف کرے کیونکہ ان میں کمزور ، بیمار اور ضعیفُ العُمْر بھی ہوتے ہیں اور جب وہ اکیلا نماز پڑھے تو جیسے چاہے نماز لمبی کرے۔ (بخاری ، 2 / 252 ، حدیث : 703) ایک اور روایت میں ہے کہ رسولُ اللہ   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم   نے فرمایا : اے لوگو! تم میں سے بعض لوگ نفرت پیدا کرتے ہیں جو شخص لوگوں کی اِمامت کرائے وہ اختصار سے کام لے کیونکہ ان میں ضعیف بوڑھے اور ضرورت مند ہوتے ہیں۔ (بخاری ، 2 / 252 ، حدیث : 470)

نماز میں تخفیف سے مراد ایسی نماز ہے جو مختصر بھی ہو اور اس کے ارکان ، واجبات اور سُنَن مکمل بھی ہوں ، یہ مطلب نہیں کہ مَعَاذَ اللہ   نماز کے ارکان ہی پورے ادا نہ ہوں جیسا کہ مفتی احمد یار خان نعیمی   رحمۃ اللہ علیہ   لکھتے ہیں : ہلکی نماز (یعنی تخفیف) سے یہ مراد نہیں کہ سنتیں چھوڑ دیں یا اچّھی طرح ادا نہ کریں بلکہ مراد یہ ہے کہ نماز کے ارکان دراز نہ کرے بقدر کفایت ادا کرے جیسے رکوع سجدے کی تسبیحیں تین بار کہے۔ (مراٰۃ المناجیح ، 2 / 203)

الغرض! امام کے لئے ضروری ہے کہ وہ مقتدیوں کی طبیعت و صحّت کا خیال رکھتے ہوئے مکمل اور صحیح نماز پڑھائے اور رسولُ اللہ   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم   کی ہدایات پر عمل کرے۔

* امامِ مسجد کو علاقے میں بالکل غیرجانبدار ہوکر رہنا چاہئے ، کسی بھی سیاسی پارٹی وغیرہ کا نہ تو حصہ بنے اور نہ ہی کسی قسم کی جانبداری سے کام لے۔ کبھی بھی کسی سیاسی پارٹی یا گروپ وغیرہ کو سپورٹ کرنے کی بات نہ کرے کہ ایسا کرنے سے بعض لوگ تو امام صاحب کے قریب آجائیں گے لیکن بقیہ سب مخالفت کا نشانہ بنا ئیں گے ، خطابات میں ملکی اور علاقائی حالات کو پیشِ نظر رکھتے

ہوئے ہی گفتگو کریں۔

* امام صاحب کو چاہئے کہ مسجد کے انتظامی معاملات میں غیرضروری مداخلت نہ کریں ، مسجد انتظامیہ کسی پہلو سے شرعی راہنمائی طلب کرے تو بیان کردیں یا کوئی خلافِ شریعت کام ہوتا ہوا دیکھیں تو سمجھا دیں ، ہر معاملے میں دخل دینے یا بات نہ مانے جانے کی صورت میں ہر گز نہ اُلجھیں۔

* محافل ، بڑی راتوں ، اعتکاف اور دیگر مواقع پر مسجد ، انتظامیہ اور نمازیوں کو وقت دینے کی عادت ہونی چاہئے ، ہر موقع پر “ میرے پاس وقت نہیں “ کا پہاڑا پڑھنے والے امام صاحبان مساجد میں بہت کم کامیاب ہوتے ہیں۔

* امام صاحب اگرچہ غیرحاضریوں کی صورت میں اپنی تنخواہ سے کٹوتی کرواتے ہوں لیکن یادرکھئے کہ جو کٹوتی انتظامیہ اور مُقتدیوں کے دِلوں میں ہوتی رہتی ہے اس کا مُداوا ہونا بہت مشکل ہوتاہے ، نمازوں میں غیر حاضر رہنے والے امام صاحب سے اکثر مقتدی نالاں ہوتے ہیں ، اور پیٹھ پیچھے چہ مگوئیاں بھی جاری رہتی ہیں ، نتیجۃً امام صاحب کو الوداع کردیا جاتاہے۔

* امام اور مقتدیوں کے درمیان مَحَبّت و پیار کی فضا ضروری ہے تاکہ نیکی و تقویٰ میں باہم تعاون ہو۔ خواہش پرستی اور شیطانی اغراض کی اِتّباع میں اگر کینہ و بُغض پیدا ہو گیا ہو تو اسے ختم کرنے کی کوشش کرنی چاہئے مقتدیوں کے جائز مطالبات کا احترام کرے۔ اگر مقتدی اپنے گھر محفل میں شرکت کرنے ، ایصالِ ثواب کرنے ، کسی مثبت موضوع پر درس و بیان کرنے کا مُطالبہ کریں تو مناسب انداز میں قبول کرلینا چاہئے ، اسی طرح مقتدیوں کی ذمّہ داری ہے کہ وہ امام کے حقوق کا خیال رکھیں اور ان کی عزت و احترام دوسروں سے بڑھ کر کریں۔

* کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو امام صاحبان کے ساتھ بہت ہمدردی دکھاتے ہیں ، ہر بات میں تائید کرتے ہیں ، بات بات پر امام صاحب کی تعریفیں کرتے ہیں اور کچھ ہی عرصہ بعد امام صاحب سے پیسے ادھار مانگتے ہیں ، ایک دو بار تو پیسے مانگ کر لوٹا دیں گے ، اس کے بعدعموماً نظر نہیں آتے۔ ایسوں سے محتاط رہنا چاہئے۔

* مقتدی اکثر خوشی و غمی کے موقع پر امام صاحب کی شرکت سے خوش ہوتے ہیں ، اس لئے چاہئے کہ اگر کوئی کسی خوشی کے موقع پر دعوت دے تو مناسب صورت میں ضرور جائے ، کوئی نمازی بیمار ہوجائے تو عیادت کیلئے جائے ، اسی طرح اگر علاقے میں کوئی میّت ہوجائے بِالخصوص کسی نمازی یا اس کے رشتے دار کا انتقال ہوجائے تو نمازِ جنازہ اور کفن دفن کے معاملات میں ضرور شرکت کرنی چاہئے ، یہ عمل جہاں سوگواروں کیلئے دِلجوئی کا سبب ہوگا وہیں امام صاحب کی قدر بھی لوگوں کی نظر میں بڑھے گی۔

* نمازِ باجماعت کے بعد کئی لوگ بچّوں کو دَم کروانے کے لئے آجاتے ہیں۔ امام صاحب اگر باقاعدہ اَوراد و وَظائف اور عملیات نہ بھی کرتے ہوں تو بھی مختصر اَوراد جیسے “ دُرودِ پاک “ ، “ یاسَلامُ “ یا “ سْوْرَۃُ الْفَلَق اور سُوْرَۃُ النَّاس “ پڑھ کر دَم کردینا چاہئے۔

پیارے امام صاحبان! آپ کا منصب ، ذمّہ داری اور اس منصب کی نزاکت ہر شعبہ و فیلڈ سے جدا ہے ، آپ کا کردار و گفتار ، رہن سہن ، اخلاق ، اندازِ زندگی ، حُسنِ معاشرت غرض یہ کہ ہر اُٹھنے والا قدم مسجد ، منبر و محراب ، دینِ اسلام اور اسلامی اقدار کا محافظ ہونا چاہئے ، اللہ کریم تمام امام صاحبان کو دینِ اسلام کی خدمت کا فریضہ احسن انداز میں جاری و ساری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔                                           اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم 

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*ناظم ماہنامہ  فیضانِ مدینہ ، کراچی

 

Share

Articles

Comments


Security Code