مسجد انتظامیہ کو کیساہوناچاہئے؟(پانچویں اور آخری قسط)

کیسا ہونا چاہئے؟

مسجد انتظامیہ کو کیسا ہونا چاہئے؟  (پانچویں اور آخری قسط)

* مولانا ابوالنور راشد علی عطاری مدنی

ماہنامہ اپریل 2021

گزشتہ سے پیوستہ :

*مسجد کمیٹی کو علاقے میں ایک منَظَّم انداز میں رہنا چاہئے ، نمازیوں اور اہلِ علاقہ کے ساتھ مَحَبّت و پیار کی فضا ضروری ہے تاکہ نیکی و تقویٰ میں باہم تعاون ہو۔ مقتدیوں کے جائز مطالبات کا احترام کرے۔

*مسجد کے عملہ یا اہلِ علاقہ میں سے کسی کے ساتھ کوئی مسئلہ ہو تو اکیلے میں ملاقات کرکے حل کرنا چاہئے ، نہ کہ بازاروں میں شور مچایا جائے ، اور کسی شرعی عذر کی بنیاد پر کسی کو مسجد آنے سے منع کرنا ہو تو اس کے لئے بھی تنہائی اور پیار محبت کا انداز اپنائیں ، رعب ، غصہ اور لڑائی جھگڑے والا انداز مسجد سے نمازیوں کو دور کردے گا جس کے ذمّہ دار جھگڑا و غصہ کرنے والے ہوں گے۔ کراچی کے ایک مدنی اسلامی بھائی جو کہ ایک مسجد کے امام و خطیب بھی ہیں ان کا بیان ہے کہ کورونا وائرس کے باعث شعبانُ المعظم 1441ھ میں جب لاک ڈاؤن ہوا تو مساجد میں بھی نمازیوں کی تعداد کم کرنے اور وُضو وغیرہ گھروں ہی سے کرکے آنے کی تاکید کی گئی۔ میں ان دنوں ایک ضروری کام کی وجہ سے پنجاب گیا ، چند دن بعد واپسی ہوئی ، دو تین دن میں غور کیا تو تین یا چار نمازی جو مستقل اور پہلی صف کے پابند تھے وہ مسجد نہیں آرہے تھے ، دیگر نمازیوں سے معلوم کیا تو پتا چلا کہ وہ اس قریب کی مسجد کوچھوڑ کر دُوردوسری مسجد جارہے ہیں۔ مجھے بڑی حیرانگی ہوئی بہرحال میں نے پہلی فرصت میں ہی ان سے ملاقات کی ، مسجد آنے کا کہا تو پتا چلا کہ مسجد انتظامیہ کے کسی فرد نے انہیں مسجد میں وُضو کرنے اور رَش ہونے کے باعث سخت انداز میں ٹوکا تھا۔ اَلحمدُ لِلّٰہ میرے کوشش کرنے سے وہ پھر سے ہماری مسجد کے مستقل اور پہلی صف کے پابند نمازی بن گئے۔

*محافل و اجتماعات کے موقع پر آنے والی دریاں ، دیگیں ، برتن وغیرہ جن کے ہوں انہیں وقت پر پہنچا دینا ضروری ہے ، بعض دفعہ دیکھا گیا ہے کہ یہ چیزیں کئی کئی دن تک وہیں پڑی رہتی ہیں اس میں حقوقُ العباد کا ضیاع ہوسکتا ہے۔

(7)مسجد کی آبادکاری میں انتظامیہ کے

 لئےچند اہم متفرق مدنی پھول

ہر ذی شعور جانتا ہے کہ مساجد کا قیام اللہ کریم کی عبادت اور انہیں آباد کرنے کے لئے ہوتاہے ، صرف تزئین و آرائش مقصد نہیں ہوتا۔ اس لئے مسجد انتظامیہ کو چاہئے کہ مسجد کو سہولیات دینے کے ساتھ ساتھ نمازی اور آباد کرنے والے افراد بھی دیں ، اس کے لئے چند مدنی پھول پیشِ خدمت ہیں امید ہے کہ ان پر عمل کرنے سے مساجد زیادہ آباد ہوں گی ، اِن شآءَ اللہ!

*مسجد انتظامیہ کو چاہئے کہ امام صاحب سے باہم مشاورت کے بعد مسجد میں ربیعُ الاوّل میں سیرت و شانِ مصطفےٰ کا بیان ، ربیعُ الآخر میں حُضور غوثِ اعظم اور دیگر اولیا کا ذِکْر ، رَمَضان میں روزوں کے مسائل ، عیدین کے قریب عید کے مسائل الغرض جیسے دن چل رہے ہوں ویسے ہی موضوعات پر درس و بیان کا سلسلہ جاری رہنا چاہئے۔

*اسی طرح مساجد میں بچوں کو ناظرہ قراٰن پاک پڑھانے کا لازمی اہتمام ہونا چاہئےاور اگر ان مدارس کا سالانہ پروگرام رکھا جائے جس میں ناظرہ مکمل کرنے والے بچّوں اور ان کے والدین کی حوصلہ افزائی کا اہتمام بھی کیا جائے تو بہت خوب ہوگا ، لیکن یاد رہے کہ ان کاموں کے اخراجات مسجد کے فنڈ سے نہیں کرسکتے اس کے لئے الگ سے انتظام کرنا ہوگا۔

*محافل ، بڑی راتوں ، اعتکاف اور دیگر مواقع پر مسجد انتظامیہ کو چاہئے کہ وقت دینے کی عادت بنائیں ، بیان وغیرہ کے دوران تھوڑی دیر کے لئے آجانا کافی نہیں۔

*مسجد کی ضروریات مثلاً امام و مؤذن کی تنخواہ ، بجلی و گیس وغیرہ کا بل ، پنکھے ، لائٹیں اور دیگر چیزوں کی تبدیلی و ریپئرنگ وغیرہ کے لئے لازمی طور پر رقم کی ضرورت ہوتی ہے اور ہر مسجد کی آمدن کا انداز و مقدار ایسا نہیں ہوتا کہ مسجد انتظامیہ کو اس حوالے سے کوئی ہاتھ پاؤں نہ مارنے پڑیں ، اس لئے جہاں مسجد کی آمدن کم ہو مسجد انتظامیہ کو چاہئے کہ اہلِ علاقہ و اہلِ رابطہ سے اچھے انداز سے رابطہ کریں اور مسجد کے لئے ماہانہ فنڈنگ کا ذہن بنائیں۔

*مسجد انتظامیہ کے لئے ایک بہت ہی اہم مدنی پھول یہ ہے کہ انہیں کچھ دن اور وقت مخصوص کرنے چاہئیں جن میں وہ مسجد میں بیٹھ کر اہلِ علاقہ و نمازیوں سے ملاقات یاکوئی کام ہو تو اسے ڈیل کریں ، باہمی مشاورت کریں ، امام و مؤذن وغیرہ مسجد کے عملہ سے بھی لازمی طور پر ماہانہ یا 15دن بعد کوئی مشاورت کی صورت رکھیں تاکہ ان کے مسائل ، تجاویز اور تأثرات کی روشنی میں مزید اچھے سے اچھا اہتمام کرنے کی کوشش کریں۔

*اگر علاقے میں بجلی جاتی ہو تو مسجد انتظامیہ کو چاہئے کہ چارجنگ لائٹ ، U.P.S ، جنریٹر یا کسی اور ذریعہ لائٹ کا انتظام لازمی کریں ، بہترین طریقہ تو یہ ہے کہ مسجد میں چند ایسی چارجنگ لائٹس لگائی جائیں جو بجلی آف ہونے پر خود ہی روشن ہوجاتی ہیں۔

*مسجد انتظامیہ کو چاہئے کہ مسجد کی ماہانہ صفائی کا بھی اہتمام کریں ، بِالخصوص وہ مساجد جن میں مؤذن وخادم ایک ہی آدمی ہو اور پھر مسجد بھی ایسی جگہ ہو کہ جہاں دھول مٹی وغیرہ اُڑتی رہتی ہوجیسے روڈ کنارے کی مساجد میں یہ پریشانی پیش آتی ہے۔

*بعض مساجد میں اذان کے فوری بعد جب کہ بعض میں تو اذان سے بھی پہلے ساری لائٹیں اور پنکھے چلا دئیے جاتے ہیں ، مسجد انتظامیہ کو اس پر کنٹرول کرنا چاہئے اور ضرورت کے مطابق ہی لائٹیں اور پنکھے چلانے چاہئیں ، اسی طرح واٹر کولر اور گیزر وغیرہ بھی موسم کی صورتِ حال کے مطابق بروقت چلانے اور بند کرنے کا اہتمام ہونا چاہئے۔

*مسجد کی جنازہ والی چارپائی ، کلمہ والی چادر ، سوئم وغیرہ کے لئے مسجد میں انتظام اور کلمہ طیبہ و تسبیح وغیرہ پڑھنے کے لئے شُماروں (یعنی کھجور گھٹلیاں یا موتی وغیرہ) کا بھی مسجد میں لازمی انتظام رکھیں کہ یہ چیزیں اہلِ محلہ کو مسجد کے قریب کرتی ہیں۔

*بارش ، آندھی طوفان ، مسجد کی تعمیرات اور دیگر مواقع پر مسجد کے سامان مثلاً دریاں ، صفیں ، قالین ، الیکٹرک کا سامان جیسے لائٹس اور پنکھے وغیرہ کو توجہ کی بہت حاجت ہوتی ہے ، بعض دفعہ جہاں انتظامیہ کے افراد ایکٹو نہیں ہوتے یہ چیزیں بارش اور آندھی کا خود ہی مقابلہ کررہی ہوتی ہیں ، یہ انداز سراسر مسجد کے لئے نقصان دہ ہے۔ ہمیشہ یاد رکھئے کہ مؤذن و خادم اسی کام کے جواب دہ ہیں جس کام کا عرف کے مطابق ان سے اجارہ ہوا ، مسجد کا سامان بغیر حفاظت یونہی بکھرا پڑا ہے یا ڈھیر لگا ہے بہر صورت اس کا اللہ کریم کی بارگاہ میں بھی مسجد انتظامیہ ہی نے جواب دینا ہے اور دنیا میں بھی وہی ذمہ دار ہیں لہٰذا مسجد کے منتظم کی حیثیت سے انہیں مسجد کی چیزوں کی حفاظت پر توجہ دینی چاہئے۔

*مسجد انتظامیہ ایکٹو ہونا چاہئے ، خود میں کام تقسیم کرلینے چاہئیں ، ایک دوسرے پر نہیں ڈالنا چاہئے ، تاکہ مسجد کی ضروریات بلاوجہ اِلتِوا کا شکار نہ ہوں۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ ، نائب مدیر ماہنامہ فیضان مدینہ کراچی

Share

Articles

Comments


Security Code