بچّوں کے عمومی جملےاور ان کا نفسیاتی اثر

سلسلہ : ماں باپ کے نام

بچوں کے عمومی جملے اور ان کا نفسیاتی اثر

* مولانا آصف جہانزیب عطاری مدنی

ماہنامہ اپریل 2021

آپ نے مختلف مواقع پر بچّوں سے یہ چند جملے ضرور سُنے ہوں گے : * میں نے کچھ نہیں کیا۔ ۔ ۔ * میں نے نہیں اس نے کیا ہے۔ ۔ ۔ * ہر وقت مجھے ڈانٹتے رہتے ہیں۔ ۔ ۔ * اسے تو کوئی نہیں ڈانٹتا۔ ۔ ۔ وغیرہ۔

آخر بچّے اس طرح کیوں کہتے ہیں؟ ان کے پیچھے ایک گہری نفسیات پوشیدہ ہے۔ ان کے ذریعے اس بات کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ گھر کا ماحول بچّےکے لئے سازگار ہے یا نہیں!

کبھی آپ نے یہ سوچا یا جاننے کی کوشش کی کہ بچّہ غلطی کرنے کے بعد یہ جملے “ میں نے کچھ نہیں کیا / یہ کام اس نے کیا ہے “ کیوں بولتا ہے؟ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ وہ سچ کا انجام جان چکا ہوتا ہے ، اس کا ننھا ذہن اس بات سے خوف زدہ رہتا ہے کہ غلطی پر ڈانٹ پڑے گی یا مار۔

آپ کے غصّہ یا مار کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ بچّہ یہیں سے جھوٹ بولنا سیکھتا ہے ، اس کو معلوم ہوجاتا ہے کہ سچ بولنے پر ڈانٹ پڑے گی جبکہ جھوٹ بولنے پر کوئی کچھ نہیں کہے گا ، گویا آپ کا رویّہ ہی اسے جھوٹ بولنا سکھا رہا ہوتا ہے۔ لہٰذا بچّے کو غلطی پر ڈانٹ کے بجائے پیار سے نصیحت کیجئے۔ اس کی غلطی کی نشان دہی کرکے اسے سمجھائیے ، اسے ایک محفوظ ماحول فراہم کیجئے تاکہ اسے یہ احساس ہو کہ والدین اس کے دشمن نہیں بلکہ خیر خواہ ہیں۔ اس طرح بچہ نہ صرف سچ بولنے کا عادی بنے گا بلکہ وہ صحیح اور غلط میں اچھے طریقے سے تمیز بھی کر سکے گا۔

کسی بات پر بچّے کو ڈانٹ پڑی ، وہ کمرے کے کونے میں خاموشی سے اداس بیٹھ گیا ، اب آپ اس سے پیار بھرے لہجے میں یہ پوچھیں کہ بیٹا کیا ہوا ، اتنے اداس کیوں ہو؟ اگر وہ آپ کو اس طرح کا جواب دے کہ “ سب مجھے ہر وقت ڈانٹتے رہتے ہیں “ یا “ ہر کوئی مجھے ہی ڈانٹتا ہے “ تو آپ شاید جان جائیں کہ بچے کے ان جملوں کے پیچھے کیسا درد چھپا ہے؟ جس کا وہ اظہار نہیں کر پا رہا! وہ اس عمر میں کس نفسیاتی اذیت کا شکار ہو چکاہے ہر وقت ڈانٹ ڈپٹ والے سلوک سے بچّے کی خود اعتمادی اور ذہنی صلاحیت کو نقصان پہنچتا ہے۔

مذکورہ مثال کے علاوہ اگر آپ دیگر جملوں پر بھی غور کریں گے تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ آپ کا بچّہ اس وقت کچھ نفسیاتی اُلجھنوں کا شکار ہے۔

جن بچّوں کو شروع سے ہی گھر کا ا یسا ماحول ملا ہو اور ان کی تربیت کے انداز پر توجہ نہ دی گئی ہو تو بچّوں کی ذہنی صلاحیتیں ٹُوٹ پُھوٹ کا شکار ہوجاتی ہیں۔ زندگی کے ہر موڑ پر انہیں ناکامی کا سامنا رہتا ہے اور ایسے بچے بڑے ہو کر معاشرے میں ایک ناکام فرد کی سی زندگی گزارتے ہیں۔

محترم والدین! خدارا اپنے بچّوں کی تربیت کا انداز درست کیجئے۔ ان کی صلاحیتوں کو نکھاریئے ، ان کے ننھے جذبات کی قدر کیجئے ، ان کی حوصلہ افزائی کیجئے۔ آپ کا دُرست اندازِ تربیت ہی معاشرے کو بلند حوصلہ ، باصلاحیت اور اخلاق و کردار سے مزین فرد فراہم کر سکتاہے۔

اللہ پاک ہم سب کو عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔  اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبیِّ الْاَمِیْن  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ ، ایم فل اسکالر ، ماہنامہ فیضان مدینہ کراچی

Share

Articles

Comments


Security Code