جنگلی پڑوسی(قسط:01)

جانورو ں کی سبق آموز کہانیاں

 جنگلی پڑوسی(قسط : 01)

* مولانا ابو معایہ عطاری مدنی

ماہنامہ اپریل 2021

جنگل میں عام طور پر ایک جیسے جانور ساتھ رہتے ہیں لیکن اس جگہ ایسا نہیں ، یہاں صرف تین گھر ہیں ، وہ بھی تینوں ایک ساتھ ایک لائن میں ، جن میں الگ الگ جانور رہتے ہیں۔ درمیان والے گھر میں دو چیتے ، سیدھی طرف دو سفید کتے اور الٹی جانب دوزیبرے۔

مل کر رہنے کا سب کو فائدہ تھا ، سکون سے وقت گزرتا تھا ، صبح سویرے جنگل کو نکل جاتے اور کھانے پینے کے لئے چیزیں جمع کرتے اور شام کو اپنے گھر لوٹ آتے تھے۔

ایک دن رات کا کھانا کھاتے وقت چھوٹے چیتے نے اپنے بڑے بھائی سے کہا : بھیّا! اب یہ گھر چھوٹا لگ رہا ہے۔

بڑا بھائی : کیا مطلب ہے تمہارا؟

وہ ساتھ وا لا بڑا گھر ہےنا ، سفید کتوں کا ، میں چاہ رہا ہوں کہ اسے اپنے گھر کے ساتھ ملا لوں تاکہ ہمارا گھر بہت بڑا ہوجائے اور ہم آرام سے رہ سکیں اور اس میں کھیل سکیں۔

بڑا بھائی : چھوٹے! وہ ہمارے پڑوسی ہیں! یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم ان کے گھر پر قبضہ کر لیں ، پھر وہ بیچارے کہاں جائیں گے؟

چھوٹا : بس! بس!! یہ ہمدردی اپنے دل میں ہی رکھیں اور پڑوسیوں کا زیادہ نہ سوچیں ، ضروری یہ ہے کہ ہم سکون سے رہیں اور مزے کی زندگی گزاریں ، دوسروں کو تکلیف ہوتی ہے تو ہونے دو۔

ہاں یہ تو تم نے صحیح کہا ، بڑا گھر ہوجائے گا تو پھر مجھے دوڑنے کی مشقیں کرنے کے لئے بھی دور میدانوں میں نہیں جانا پڑے گا۔ چھوٹے کی باتوں نے بڑے کو قائل کر لیا تھا لیکن! ایک خدشہ باقی تھا جسے بتاتے ہوئے بڑے نے کہا : اگر انہوں نے جانے سے انکار کر دیا تو؟

چھوٹا : یہ کون سا مسئلہ ہے ، ہم چیتے ہیں چیتے!!! انہیں مار دیں گے اور گھر پر قبضہ کرلیں گے۔

ہاہاہاہا! اس طرح تو پھر ان کے رہنے کا بھی انتظام ہوجائے گا ، میرا مطلب ایک تمہارے پیٹ میں اور ایک میرے پیٹ میں ، بڑے نے زور سے ہنستے ہوئے کہا۔

********************

چھوٹے اٹھ جاؤ! دیکھو تو سورج کی روشنی سے پورا گھر روشن ہوچکا ہے ، بڑے کتے نے چھوٹے کو اٹھاتے ہوئے کہا۔

کچھ دیر بعد دونوں بھائی مل کر ناشتہ کر رہے تھے کہ چھوٹا چیتا بغیر پوچھے ہی ان کے گھر کے اندر گھس آیا اور دھمکاتے ہوئے کہنے لگا :

ہم نے فیصلہ کرلیا ہے اب سے یہ گھر ہمارا ہے ، تمہیں دو دن کی مہلت ہے ، یہ گھر خالی کردو اور دوسری جگہ رہنے کا انتظام کرلو۔

دوستوں نے جب دشمن بن کر دھمکی دی تو دونوں بھائی سَکتے میں آگئے ، کچھ دیر بعد دونوں کے حَواس بحال ہوئے تو ناشتہ چھوڑ کر اس مسئلے کے حل کے لئے غور و فکر کرنے لگے۔

بڑے کتے نے کہا : یہ مصیبت کہاں سے ٹوٹ پڑی ، اگر ہم نے ان کی بات نہ مانی تو وہ ہمیں مار دیں گے۔

ہاں صحیح کہا تم نے ، بڑے کی تصدیق کرنے کے بعد چھوٹے نے مشورہ دیتے ہوئے کہا : کیوں نا! اس بارے میں ہم اپنے پڑوسی سے مشورہ کریں اور ان سے مدد کی درخواست کریں؟

پڑوسی بیچارے کیا کریں گے؟ ان دونوں میں بھی اتنی طاقت نہیں ہے کہ چیتوں کا مقابلہ کر سکیں ، بڑے نے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔

چھوٹا : یہ تو بعد کی بات ہے ، پہلے انہیں بتائیں تو سہی ، مجھے یقین ہے وہ ہمیں تنہا نہیں چھوڑیں گے ، چلو! ابھی ان کے ہاں چلتے ہیں پھر جو ہوگا دیکھا جائے گا۔

پیارے بچو! کوئی پریشانی ہو ، کوئی ڈرائے یا دھمکائے تو اپنے گھر والوں اور دوستوں کو اس بارے میں ضرور بتانا چاہئے۔

کیا پڑوسی کتوں کی مدد کریں گے؟ کیا چیتے کتوں کو واقعی مار دیں گے۔ ۔ ۔ ؟

یہ جاننے کے لئے انتظار کیجئے اگلے ماہ کے شمارے کا۔ ۔ ۔ !

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ ، ماہنامہ فیضان مدینہ کراچی

Share

Articles

Comments


Security Code