روزہ داروں کے لئے انمول تحفہ

پھلوں اور سبزیوں کے فوائد

روزہ داروں کےلئےانمول تحفہ

* مولانا محمد نواز عطاری مدنی

ماہنامہ اپریل 2021

 زمانہ جس طرح سائنس کےمیدان میں ترقی کرتا چلا جارہا ہے یوں ہی اسلام کےنظامِ عبادت کی افادیت کا اعتراف بھی ہوتا چلاجا رہا ہے ، یہ صرف دعویٰ ہی نہیں بلکہ حقیقت ہےکہ اسلام کے نظامِ عبادت کا کوئی حکم ایسانہیں جوانسان کی فطرت اوراس کی جسمانی اور روحانی ضرورت کےمنافی ہو ، ہرحکم میں کسی نہ کسی انداز میں روحانی فوائد کے علاوہ جسمانی فوائد بھی چھپے ہوئے ہیں۔ روزے کا حکم بھی خالقِ کائنات کے احکامات میں سے ایک ہےجس کادورانیہ موسم کی تبدیلیوں کی بناپر عمومی طور پر ملکِ پاکستان میں 12 سے15 گھنٹے پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس دورانیے میں کھانےپینے سے مکمل اجتناب کے نتیجےمیں بظاہر جسم میں طاقت كی کمی  محسوس ہوتی ہے ،  ربِّ کریم نے ایسی ایسی نعمتیں پیدا فرمائی ہیں کہ جو اس کمزوری کو کنٹرول کرتی اور جلد از جلد طاقت کو بحال کرتی ہیں ، ان  نعمتوں میں سے ایک نعمت کھجورہے۔ اس کی برکات کے بارے میں رسولِ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی روزہ اِفْطار کرے تو کھجوریا چُھوہارے سے اِفْطار کرے کہ وہ بَرَکت ہے اور اگر نہ مِلے تو پانی سے کہ وہ پاک کرنے والا ہے۔                                    (تِرْمذی ، 2 / 162 ، حدیث : 695)

افطارکے معاملے میں خود حضور نبیِّ کریم   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم   کا عمل مبارک یہ تھا کہ نَمازسے پہلے تَر کھجوروں سے روزہ اِفْطَار فرماتے ، تَر کھجوریں نہ ہوتیں تَو چند خشک کھجوریں یعنی چُھوہاروں سے اور یہ بھی نہ ہوتیں تو چند چُلُّو پانی پیتے۔                                         (ابوداؤد ، 2 / 447 ، حدیث : 2356)

حکیمُ الاُمّت مفتی احمدیارخان نعیمی  رحمۃُ اللہ علیہ  فرماتے ہیں : اس ترتیب سے پتہ لگا کہ تَر کھجور سے روزہ افطار کرنا بہت اچھا ہے ، پھر اگر یہ نہ ملیں تو خشک چھواروں پر افطار کرنا ، ہمارے ہاں رمضان شریف میں کثرت سے بازار میں کھجوریں آجاتی ہیں اور عام طور پر لوگ خریدتے ہیں ، مسجدوں میں بھیجتے ہیں ان سب کا ماخذ یہ حدیث ہے۔ (مزید فرماتے ہیں) روٹی چاول یا کسی پُرتکلف چیز سے روزہ افطار نہ فرماتے تھے ، بعض روزہ داروں کو دیکھا گیا کہ سگریٹ سے روزہ افطارتے ہیں  نعوذ باا ، روزہ دار کے منہ میں پہلے پاکیزہ چیز جانی چاہئے ، سگریٹ گندی بدبو دار چیز بھی ہے اور اس سے روزہ افطارکرنا مضر ِصحت بھی ہے۔   (مراٰۃ المناجیح ، 3 / 155ملخصاً)

قراٰنِ کریم  میں کم وبیش  23 مقامات پر کھجور کا ذکر آیا ہے ، اسے آخری نبی  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی پسندیدہ غذا ہونے کاشرف بھی حاصل ہے ، روایات کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابۂ کرام علیہمُ الرّضوان کھجور  کو نہ صرف عام حالات میں کھایا کرتے تھے بلکہ دورانِ جہاد دیگرغذائی اشیا کی قلت  کی وجہ سے صرف کھجور پر گزار ہ کرکے بھی دشمنوں سے ٹکرائے ہیں۔

روزے میں صبحِ صادق سےغروبِ آفتاب  تک نہ کھایا جاتا ہےاورنہ ہی کچھ پیا جاتا ہے اس لئےجسم کی کیلوریز یاجسم کے حرارےآہستہ آہستہ کم ہوتےجاتےہیں کھجور اس سب کمی کو پورا کرتی ہے ، بالخصوص وہ حضرات جوبلڈپریشرکی کمی ، فالج ، لقوہ یا سر چکرانے کے مرض میں مبتلا ہوتے ہیں ان کے لئے کھجور بہترین غذا ہے ، بعض اوقات غذائیت کی کمی کی بنا پر خون  کی کمی کی شکایت ہوجاتی ہے ، جس کی بنا پرروزہ افطار کرنے کے وقت ایسی چیز کی ضرورت ہوتی ہےجواس کمی کو پورا کرسکے تواس کےلئے کھجور سے بہترکوئی دوسری چیزنہیں ، نیز وٹامنز کے اعتبار سے کھجورکے جو تجزیے دنیا میں کئے گئےان کے مطابق انسان کوتندرست رکھنے کے لئے مطلوب تمام عناصر بہت اچھی مقدارمیں کھجور کے اندر پائے جاتے ہیں ، زمانۂ رسالت میں کھجور اور “ ستو “ مجاہدین کے راشن  کا حصہ ہوتےتھے۔                           (کھجور کی تحقیق ، ص53)

کھجورکھانے میں احتیاطیں : اَدھ پکی اور پُرانی کھجوریں ایک ہی وقت میں کھانا نقصان دہ ہے ، کھجورکے ساتھ انگور یا کِشمِش یا مُنَقّہ ملا کر کھانا ، کھجو ر اور انجیرایک وقت  میں کھانا ، بیماری سے اُٹھتے ہی کمزوری میں زیادہ کھجوریں کھانا اور آنکھوں کی بیماری میں کھجوریں کھانا  نقصان دِہ ہے۔ ایک وقت میں 5تولہ(یعنی 32.58گرام)سے زیادہ کھجوریں نہ کھائیں ۔ پُرانی کھجور کھاتے وَقت کھول کر اندرسے دیکھ لیجئے کیوں کہ اِس میں بعض اَوقات چھوٹے چھوٹے لال کیڑے ہوتے ہیں لہٰذا صاف کرکے کھائیے۔ جس کَھجور میں کیڑے ہونے کا گمان ہو اُس کوصاف کئے بِغیر کھانا مکروہ ہے۔ بہتر یہ ہے کہ کَھجوریں  چند مِنَٹ کیلئے پانی میں بِھگو دیجئے تاکہ مکّھیوں کی بِیٹ اورمَیل کُچیل وغیرہ چُھو ٹ جائے  پھر دھوکراستِعما ل فرمائیے ۔ دَرَخْتْ کی پکی ہوئی کھجوریں زیادہ مُفید ہو تی ہیں۔ (مگردھوئے بغیر کھجوریں بلکہ کوئی ساپھل اورسبزی وغیرہ استعمال نہ کریں ورنہ گرد وغبار ، مکھیوں ، کیڑےمکوڑوں کی بیٹ اورجراثیم کش دواؤں کے اثرات پیٹ میں جاکربیماریوں کاباعث ہوسکتےہیں)۔

شیخِ طریقت امیرِ اہلِ سنت  دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ  فرماتےہیں : مدینۂ منوَّرہ زادھَا اللہ شرفاً وَّ تعظیماً کی کھجوروں کی گُٹھلیاں مت پھینکئے۔ کسی اَدَب کی جگہ ڈالدیجئے یادَریا بُرد فر ما دیجئے ، بلکہ ہو سکے تو سَرَوْتے(یعنی چھالیاکترنےیا گنڈیریاں کاٹنےکےاوزار) سے بارِیک ٹکڑیاں کر کے ڈِبیہ میں ڈالکر جَیب میں رکھ لیجئے اورچَھالیہ کی جگہ استِعمال کر کے اس کی بَرَکتیں لوٹئے۔ کوئی چیزخواہ دُنیا کے کسی بھی خطّے کی ہو جب مدینۂ منوَّرہ کی فَضاؤں میں داخِل ہوئی تو مدینے کی ہوگئی لہٰذا عاشقانِ رسول اس کا اَدَب کرتے ہیں ۔        (فیضانِ رمضان ، ص119)

 اللہ پاک ہمیں نعمتوں کی قدر کرنے اور شکرگزاربندہ بننےکی توفیق عطافرمائے۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

(نوٹ : تمام غذائیں اپنے طبیب (ڈاکٹر یا حکیم) کے مشورے سے استعمال کیجئے۔ اس مضمون کی شرعی تفتیش حکیم محمد رضوان فردوس عطاری نے کی ہے۔ )

بارگاہِ رسالت سے قلم کا تحفہ ملا

3رمضانُ المبارک ، یومِ عرسِ حکیمُ الاُمّت حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی  رحمۃُ اللہ علیہ  کے عرس کی مناسبت سے ایک ایمان افروز واقعہ حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی  رحمۃُ اللہ علیہ  نے تفسیر لکھنے کے لئے ایک بیش قیمت قلم مخصوص کر رکھا تھا جس سے تحریر و تصنیف کا کوئی اور کام نہ کرتے اس کا واقعہ بیان کرتے ہوئے خودارشاد فرماتے ہیں : مجھے مدینۂ منورہ میں ایک دُکان پر ایک قیمتی قلم بے حد پسند آیا دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ کاش! میرے پاس ہوتا ، مگرمہنگا ہونے کی وجہ سے خرید نہ سکا اور چپ چاپ لوٹ آیا لیکن دل میں بار بار خیال آتا رہا کہ بارگاہِ رسالت  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  سےاجازت ملی ہے تو حاضری کی سعادت پائی ہے اگر اسی بارگاہ سے وہی قلم عطا ہوجائے تو کرم بالائے کرم ہوگا ، غالباً اسی دن یا اگلے دن ظہرکی نماز مسجدِ نبوی شریف میں ادا کرکے فارغ ہواتو ایک صاحب ملاقات کے لئے آئے  اور یہ کہتے ہوئے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا کہ میں آپ کے لئے ایک تحفہ لایا ہوں ، ہاتھ باہر نکال کر وہ تحفہ میرے سامنے رکھ دیا اب جو میں نے نظر اٹھائی تو سامنے وہی بیش قیمت قلم تھا حالانکہ میں نے کسی سے بھی اس کاتذکرہ نہیں کیا تھا مجھے یقین ہوگیا کہ بارگاہِ رسالت  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  میں میری عرض سُن لی گئی ہے جبھی تو مجھے مطلوبہ عطىہ مل گىا ہے۔ اس کے بعد فرماىا : اب میں نے اس قلم کو صرف تفسىر لکھنے کے لئے خاص کرلىا ہے ۔ مزید فرماتے ہیں کہ جب ىہ قلم لے کر لکھنے بىٹھتا ہوں تو اىسے اىسے مضامىن ذہن مىں آتے ہىں کہ مىں خود حىران رَہ جاتا ہوں۔            (حالاتِ زندگی ، حیاتِ سالک ، ص147 ملخصاً)

(حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی  رحمۃُ اللہ علیہ کی سیرت کے بارے میں مزید جاننے کے لئے مکتبۃُ المدینہ کا رِسالہ “ فیضانِ مفتی احمد یار خان نعیمی “ پڑھئے۔ )

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ ، ماہنامہ فیضان مدینہ کراچی

 

Share

Articles

Comments


Security Code