سحری و افطاری کی غذائیں اور احتیاطیں

روزہ  ہماری بخشش و مغفرت کا بہترین ذریعہ ہونے کے ساتھ ہماری جسمانی صحت و تندرستی کا بھی ضامن ہے جیسا کہ فرمانِ مصطفےٰ صلَّیاللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے: صُوْمُوْا تَصِحُّوْا(یعنی  روزہ رکھو صحت یاب ہو جاؤ گے)(معجم اوسط،ج6، ص146،حدیث: 8312)  اس  مہینے  کے  معمولات    دیگر مہینوں  سے  جدا  ہوتے ہیں  لہٰذا  اس مہینے  میں  کھانے  پینے   میں بھی  بہت   احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے کیوں کہ بسا اوقات یہ بے  احتیاطی  صحت کی خرابی تک لے جاتی ہے،سَحَری  اور افطاری میں  کیا  کھائیں  اور  کن  چیزوں  سے  احتیاط کریں،  ذیل  میں  ان  چیزوں  کے  متعلّق   مدنی  پھول  پیش  کئے  جا رہے  ہیں جن  پر عمل  کرنے  سے  اِنْ شَآءَاللہ صحت  بھی  بہتر رہے  گی اور  روزہ رکھنے اور  روزہ  گزارنے  میں بھی  دشواری کم ہو گی لیکن یادرکھئے کہ اس میں ہماری نیّت صرف یہ ہونی چاہئے کہ اللہ کریم کاحکم پورا کرنے اور روزے میں بھوک پیاس کی شدّت کی وجہ سے ہونے والی بے صبری و تشویش سے بچنے کی نیّت سے  ان مدنی پھولوں پر عمل کریں گے۔

سحری میں کیا کھائیں؟ سَحَری رسولِ کریم صلَّیاللہعلیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سنّت ہے،اس کا یہ فائدہ  بھی ہے کہ اس سے  روزے میں قوّت حاصل ہوتی ہے۔(1)سحری میں دودھ اور اس سے بنی اشیاء کا استعمال کیجئے (2) چکّی کے آٹے کی روٹی، دَلیہ یا باسمتی چاول یا دال روٹی وغیرہ استعمال کیجئے کہ  ان سے بھوک دیر میں لگتی ہے (3)دہی توانائی برقرار رکھتا ہے۔ کوشش کرکے دہی گھر میں ہی بنا ئیں  کیونکہ گھر میں بنائے ہوئے دہی میں کیلشیم زیادہ ہوتی ہے (4) دہی میں زِیرہ، الائچی یا خوبانی شامل کر کے کھانا اور لسّی پینا بھی مفید ہے (5)سحری تاخیر سے کریں لیکن اتنی تاخیر بھی نہ کردیں کہ صُبحِ صادِق کا شک ہونے لگے (6)بغیر شَکر والے جوس یا دودھ والے  جوس پیجئے کہ  پیاس کم لگے گی (7)سَحَری میں شوربے والا سالن استعمال کرنا چاہئے (8)بچّوں کو سحر و افطار میں پروٹین (Protein) والی غذاؤں کے ساتھ دودھ والا شربت دیجئے (9)سحری میں  پراٹھے کے بجائے روٹی پر زیتون کا تیل (Olive Oil) لگا کر رات کے بنے  سالن کے ساتھ کھانا زیادہ مفید ہے (10)روزے کا دورانیہ طویل ہو تو پیاس سے بچنے کےلئے کھجور کے شیک میں O.R.S ڈال کر پی لیں یہ پانی کی کمی سے  محفوظ رکھے گی (11)شوگر  کے  مریض اگر سَحری میں کھجور کھائیں تو بلڈ پریشر(Blood Pressure) اور شوگر لیول ٹھیک رہتا ہے، کھجور قوّت  کو بحال رکھتی ہے (12)سحری میں کیلا کھانا بہت ہی مفید ہے۔ افطاری میں کیا کھائیں(1)روزہ رکھنے سے شام کے وقت  کمزوری محسوس ہونے لگتی ہے جبکہ کھجور کھانے سے جَلد توانائی بحال ہو جاتی ہےکیونکہ یہ غِذائیت سے بھر پور ہوتی  ہےاور کھجور سے افطار کے پیچھے  یہی حکمت کار فرما ہے۔ (2) دن بھر نہ کھانے سے معدے میں تیزابیت ہو جاتی ہے  اورکھجور میں ایسی معدنیات اور نمکیات ہوتی ہیں جو تیزابیت پر قابو پالیتی ہیں (3)افطاری کے بعد کے اوقات میں پانی کا زیادہ سے زیادہ  استعمال کیجئے تاکہ دن کے وقت جسم میں پانی کی کمی سے بچا جا سکے (4)روزہ کھولنے کے لئے کھجور، دہی، پانی یا تازہ پھلوں کے رس  نوش  کیجئے (5)ایسے پھل اور سبزیاں جن میں پانی کی وافر مقدار موجود ہو مثلاً خربوزہ، تربوز، کھیرا، ٹماٹر، انگور، سنگترہ، پپیتا اور انناس وغیرہ کا استعمال بہت مفید ہے (6)رمضان میں زیادہ سے زیادہ موسمی پھل استعمال کریں (7)افطاری میں  ان غذاؤں کا انتخاب کریں جو  معدنیات سے بھرپور، نرم اور جلد ہضم ہونے والی ہوں (8)کولڈڈرنک اور بازاری  مشروبات کے بجائے روایتی مشروبات مثلاً  لسّی، شکنجبین، فالسے کا شربت اورملک شیک (Milkshake) وغیرہ پینا آپ  کی  صحت اور جیب دونوں کیلئے مفید ہے (9)افطار کے بعدنمازِ مغرب مسجد میں باجماعت اداکریں تاکہ افطار اور کھانے کے درمیان وقفہ ہوجائے اور فرض بھی ادا ہوجائے ،ایسا کرنے سے کھا نا کچھ کم کھایا جائے گا اور ہمارا وزن بھی قابو  میں رہے گا (10) بیمار حضرات خصوصاً ذیابیطس (Diabetes)یا دل کے امراض میں مبتلا افراد کواپنے مُعالِج(Doctor) کے مشورے سے کھانا پینا چاہئے۔ سحری کی احتیاطیں(1)سحر اور افطار میں متوازن خوراک ہی صحت کی ضامن ہوتی ہے (2) سحری کے دوران ایک ساتھ بہت زیادہ پانی پی لینا نقصان دہ عمل ہے اس عمل سے معدہ پانی سے بھر جاتا ہے جو اکثر Vomit یعنی اُلٹی کا سبب  بن  جاتا ہے (3)چینی یا مصنوعی شکر سے تیّار شدہ غذاؤں کا زیادہ استعمال نقصان پہنچاتا ہے (4)سحری میں سادہ غذاؤں  کا استعمال کریں اورکوشش کریں کہ مرغّن یا پروٹین والی غذائیں یعنی گوشت وغیرہ کم کھائیں، ان کے  کھانے سے دن کے اوقات میں پیاس زیادہ لگے گی (5)زیادہ نمک استعمال نہ کریں (6)گُردوں کےمریض سحر و افطار میں پانی کا استعمال رکھیں تاہم ڈائیلائسز (Dialysis) کروانے والے افراد اپنے مُعالِجین کی ہدایت پر پانی استعمال کریں (7)ہمیشہ بھوک لگنے کی صورت میں کھائیں، سیر ہونے کی حالت میں  اوپر تلے کئی چیزیں نہ کھائیں (8)تلی ہوئی اشیاء سے مکمّل پرہیز رکھئے کہ یہ پیاس کا سبب بنتی ہیں (9)سحری کے وقت روغنی غذائیں زیادہ مقدار میں کھانے سے  خون میں شکر کی سطح بڑھ جاتی ہے اس لئے شوگر، بلڈپریشر وغیرہ کے مریض اپنے طبیب سے لازمی مشورہ کریں اور صرف ان غذاؤں کا انتخاب کریں جو فرض روزوں میں رکاوٹ نہ بنیں ۔افطاری کی احتیاطیں (1)پکوڑے، سموسے اور ان جیسی دیگر اشیاء کھانی ہی ہوں توہفتے میں ایک دن کے لئے مخصوص کردیں کہ یہی آپ کی صحت کے لئے بہتر ہے(2) کڑک چائے، کافی، سافٹ ڈرنک یا اس جیسی دیگرمشروبات،مسالہ جات اورتیز مرچ کھانے سے پرہیز کریں (3)سالن وغیرہ میں مرچ مسالہ نارمل رکھئے کہ تیز مسالے پیاس، سینے کی جلن اور پیٹ کی خرابی کا سبب بنتے ہیں(4)افطار کے وقت بہت ٹھنڈا پانی پینے سے پرہیز  کیجئےکہ روزے میں فوراً برف کا ٹھنڈا پانی پی لینے سے گیس ، تَبْخِیْرِ ِمِعدہ اور جگر کے وَرم کا سخت خطرہ ہے۔ (5)افطاری میں کھانا کم کھائیں  کیونکہ سارا دن بھوکا رہنے کے بعد اگر آپ کا جسم یک دم بہت زیادہ غذا حاصل کر لیتا ہے تو یہ پیٹ میں گیس پیدا کرنے سمیت معدے کے دیگر امراض کو جنم دے سکتا ہے۔

اللہ پاک ہمیں  ان  مدنی  پھولو ں پر عمل کرنے   کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

نوٹ:اس مضمون کی طبّی تفتیش حکیم رضوان فردوس عطّاری نے کی ہے۔

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭۔۔۔ماہنامہ فیضانِ مدینہ، باب المدینہ کراچی

Share

Articles

Comments


Security Code