وہ نامی کہ نامِ خدا نام تیرا /رَءُوف و رَحِیم و علیم و علی ہے

نبی سَرورِ ہر رسول و ولی ہے                                   نبی رازدارِ مَعَ اللہِ لِیْ ہے

الفاظ و معانی سَرور: سردار۔ رازدار: بھید جاننے والا۔ مَعَ اللہِ: اللہکے ساتھ۔ لِیْ: میرے لئے۔ شرح اللہ کے نبی، مکّی مَدَنی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم تمام انبیائے کرام علیہم الصَّلٰوۃ وَالسَّلام اور سب اولیائے عظّام رحمۃ اللہ علیہم کے سردار ہیں۔ مخصوص وقت میں اللہ کریم کے ساتھ آپ کو ایسا خصوصی قُرب حاصل ہوتا ہے جس میں کسی فرشتے یا رسول کی گنجائش نہیں ہوتی۔ سرورِ ہر رسول و ولی اللہ کے حبیب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا انبیائے کرام علیہم الصلٰوۃ والسّلام اور اولیائے عظّامرحمۃ اللہ علیہم سمیت ساری مخلوق سے افضل و اعلیٰ اور سب کا سردار ہونا قراٰنِ کریم کی متعدّد آیات اور کثیر احادیث سے ثابت ہے۔ تفصیل جاننے کے لئے فتاویٰ رضویہ جلد 30 میں شامل امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کا مایہ ناز رسالہ تَجَلِّی الْیَقِیْن بِاَنَّ نَبِیَّنَا سَیِّدُ الْمُرْسَلِیْن“ ملاحظہ فرمائیے۔ رازدارِ مَعَ اللہِ لِیْ مَعَ اللہِ لِیْ کے الفاظ سے اس فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی طرف اشارہ ہے :

لِیْ مَعَ اللہِ وَقْتٌ لَایَسَعُنِیْ فِیْہِ مَلَکٌ مُقَرَّبٌ وَلَا نَبِیٌّ مُرْسَلٌ

یعنی میر ے لئے خدا کے ساتھ ایک ایسا وقت ہے جس میں کسی مُقَرَّب فِرِشتے یا مُرْسَل نبی کی گنجائش نہیں۔

(کشفالخفاء،ج2،ص156،حدیث:2157، مدارج النبوۃ،ج 2،ص623،جواہر البحار،ج4،ص265،فتاویٰ رضویہ،ج30،ص244)

وہ نامی کہ نامِ خدا نام تیرا رَءُوف و رَحِیم و علیم و علی ہے

شرح اللہ کے حبیب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ایسی نامور شخصیت ہیں کہ اللہ کریم نے اپنے مُتعدّد نام آپ کو عطا فرمائے جن میں رَءُوف و رَحِیم، علیم اور علی بھی شامل ہیں۔رَءُوف و رَحِیم، علیم اور علی کا اللہ پاک کے ناموں میں سے ہونا مشہور اور قراٰنِ کریم کی مُتعدّد آیات سے ثابت ہے۔ رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے رَءُوف و رَحِیم ہونے کا بیان اس آیتِ مقدسہ میں ہے:( بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ(۱۲۸)) ترجمۂ کنزالعرفان: مسلمانوں پر بہت مہربان رحمت فرمانے والے ہیں۔

(پ 11، التوبۃ:128) جبکہ علیم و علی کے آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ناموں میں سے ہونے کو امام احمد بن محمد قسطلانی رحمۃ اللہ علیہ (وفات: 923ھ) سمیت دیگر علمائے کرام نے بیان فرمایا ہے۔ (مواھبِ لدنیہ،ج1،ص368، جواہرالبحار،ج 1،ص279، 282) اللہ پاک کے ناموں کا حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے لئے ثبوت شیخ عبدالکریم جیلی شافعی یمنی(وفات:832ہجری) رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نےاپنی کتاب ”اَلْکَمَالَاتُ الْاِلٰہِیَّۃِ فیِ الصِّفَاتِ الْمُحَمَّدِیَّۃِ“ میں تیسرے باب کا نام رکھا: اِتِّصَافُ مُحَمَّدٍ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم بِالْاَسْمَاءِ وَالصِّفَاتِ الْاِلٰہِیَّۃِ (یعنی نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا اللہ پاک کے ناموں اور صفات سے مُتَّصِفْ ہونا) اور اس میں اللہ کریم کے کثیر نام دلیل کے ساتھ حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے لئے ثابت فرمائے۔ امام یوسف بن اسماعیل نبہانی  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اس میں سےاللہ کریم کے 99 نام دلیل کے ساتھ حضورِ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے لئے نقل فرمائے۔ (جواہر البحار،ج1،ص275)

خوف ہے گر کچھ روزِ جز ا کا ،دل پہ جما کر نام خدا کا ورد کرو اسمائے محمد،صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمْ

دونوں اشعار امامِ اہلِ سنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کے نعتیہ دیوان”حدائقِ بخشش“سے لئے گئے ہیں۔

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭ماہنامہ فیضان مدینہ،با ب لمدینہ کراچی

Share

Articles

Comments


Security Code