محبت الٰہی اور اس کی نشانیاں

) وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِؕ (ترجمہ:ایمان والے سب سے زیادہ اللہ سے محبت کرتے ہیں۔(پ2، البقرہ:165)

آیت میں فرمایا گیا کہ اہل ِ ایمان سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہیں کہ خدا کی محبت پر ہر شے قربان کردیتے ہیں اور اِس محبت کو کسی شے پر قربان نہیں کرتے اور جہاں خدا کی اور غیر کی محبت کے تقاضوں کا مقابلہ ہو وہاں محبت ِ الٰہی کے تقاضے کو ترجیح دیتے ہیں۔بلا شبہ محبت ِ الٰہی عظیم سعادت اور اعلیٰ درجے کی عبادت ہے۔قرآن اور دین کا بنظر ِ غائر مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ تمام عبادات کی اصل محبت ِ الٰہی ہے، مثلاً نماز کے متعلق فرمایا:)وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكْرِیْ(۱۴)(ترجمہ:اورمیری یاد کیلئے نماز قائم رکھ۔ (پ16، طٰہٰ:14) یونہی زکوٰۃ و صدقات کا معاملہ ہے کہ مال کی محبت سے اوپر درجے کی محبت خدا کے ساتھ ہوتی ہے تو بندہ اپنا محبوب مال راہِ خدا میں خرچ کرتا ہے چنانچہ فرمایا: )وَ یُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰى حُبِّهٖ مِسْكِیْنًا وَّ یَتِیْمًا وَّ اَسِیْرًا(۸) اِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللّٰهِ لَا نُرِیْدُ مِنْكُمْ جَزَآءً وَّ لَا شُكُوْرًا(۹)( ترجمہ: اور وہ اللہ کی محبت میں مسکین اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں ان سے کہتے ہیں کہ ہم تمہیں خاص اللہ کی رضا کے لئے کھانا دیتے ہیں ، ہم تم سے کوئی بدلہ یا شکرگزاری نہیں مانگتے۔ (پ29، الدھر:8،9)اور فرمایا:) لَنْ  تَنَالُوا  الْبِرَّ  حَتّٰى  تُنْفِقُوْا  مِمَّا  تُحِبُّوْنَ  ﱟ  (ترجمہ : تم ہرگز بھلائی کو نہیں پا سکو گے جب تک راہِ خدا میں اپنی پیاری چیز خرچ نہ کرو۔(پ4، اٰلِ عمرٰن:92)روزے میں بھی محبت کی جلوہ گری ہے کہ بھوک پیاس برداشت کرنا تو بہت نمایاں علامت ِ محبت ہے کہ خدا کی خاطر حلال کھانا پینا اور جنسی خواہشات کو قربان کردیاجاتا ہے۔ اسی کی طرف حدیث قدسی میں یوں اشارہ فرمایا گیا: ” الصوم لی وانا اجزی بہ“ ترجمہ: روزہ میرے لئے ہے اور میں خود اس کی جزا دوں گایا میں خود ہی اس کی جزا ہوں۔(مسلم، ص448، حدیث:2708) یونہی حج تو پورے کا پورا سفرِ محبت ہے کہ ظاہری اعتبار سے بے سلے کپڑے پہننا، خانہ کعبہ کے گرد چکر لگانا، منٰی و مزدلفہ و عرفات کے میدان میں جاکر کچھ دیر ٹھہرنا اور واپس چلے آنا ظاہری طور پر عقل میں نہیں آتا لیکن نظرِ محبت میں یہ سب محبوب کے حکم پر عقل قربان کرنے کی صورتیں ہیں اسی لئے حج کے حکم کی ابتدا ہی یوں ہے )وَ  لِلّٰهِ  عَلَى  النَّاسِ حِجُّ  الْبَیْتِ (ترجمہ :اور اللہ کیلئے لوگوں پر اس گھر کا حج کرنا فرض ہے۔ (پ4، اٰلِ عمرٰن:97)قرآن مجید میں محبت ِ الٰہی کی علامات کو مختلف پیرائے میں بیان فرمایا ہے مثلاً محبت کی ایک نشانی یہ ہے کہ مُحِب اپنے محبوب کیلئے جان، مال، اولاد، گھر بار سب کچھ قربان کرنے کیلئے تیار ہوجائے، اس کی عملی مثال سیدنا ابراہیم علیہِ السَّلام کی سیرت طیبہ میں بہت نمایاں نظر آتی ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے جب آپ علیہِ السَّلام کو حکم دیا کہ (بڑھاپے میں عطا کئے جانے والے )اپنے بیٹے اسماعیل اور اپنی زوجہ حضرت ہاجرہ رضیَ اللہُ عنہَا کو ایک بیابان (ویرانے)میں چھوڑ آؤ تو حضرت ابراہیم علیہِ السَّلام بلاتردد حکم ِ الٰہی پر عمل کرتے ہوئے مکّے کے چٹیل میدان(جہاں دور دور تک کوئی سایہ دار درخت اور پانی نہ تھا)میں بیوی، بچے کو چھوڑ آئے۔ قرآن مجید میں آپ علیہِ السَّلام کے الفاظ یوں مذکور ہیں: )رَبَّنَاۤ اِنِّیْۤ اَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ بِوَادٍ غَیْرِ ذِیْ زَرْعٍ عِنْدَ بَیْتِكَ الْمُحَرَّمِۙ (ترجمہ: اے میرے رب! میں نے اپنی کچھ اولاد کو تیرے عزت والے گھر کے پاس ایک ایسی وادی میں ٹھہرایا ہے جس میں کھیتی نہیں ہوتی۔ (پ13، ابراھیم:37)بیابان(ویرانے) میں تنہا چھوڑی جانے والی حضرت ہاجرہ رضیَ اللہُ عنہَا کی خدا سے محبت اور حکم و قضا(قسمت) پر راضی رہنے کا جذبہ ملاحظہ فرمائیں کہ بخاری شریف میں ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہِ السَّلام بیوی اور بیٹے کو تنہا چھوڑ کر چل دئیے تو حضرت ہاجرہ رضیَ اللہُ عنہَا نے بار بار سوال کیا کہ ہمیں یہاں کہاں چھوڑ کر جارہے ہیں؟ کوئی جواب نہ ملنے پر آخر میں پوچھا کہ کیا یہی اللہ کا حکم ہے؟آپ علیہِ السَّلام نے کہا:ہاں! تب حضرت ہاجرہ رضیَ اللہُ عنہَا نے نہایت ایمان افروز جملہ کہا:ٹھیک ہے، تب تو اللہ ہم کو ضائع نہیں ہونے دے گا۔ (بخاری،ج 2،ص424، حدیث:3364)پھر اسی خانوادے میں محبتِ الٰہی کے اُس لازوال، بے مثال واقعے پر نظر دوڑائیں کہ چشم فلک نے تسلیم و رضا اور محبتِ الٰہی کا ایسا شاہکار کبھی نہ دیکھا ہوگا کہ حکمِ ربانی پر حضرت ابراہیم علیہِ السَّلام عزیز و محبوب بیٹے اسماعیل علیہِ الصلٰوۃُ و السَّلام کو ذبح کرنے کیلئے تیار ہوگئے اور بیٹے سے فرمایا : اے میرے بیٹے! میں نے خواب میں دیکھا کہ میں تجھے ذبح کررہا ہوں ۔اب تو دیکھ کہ تیری کیا رائے ہے؟ بیٹے نے کہا: اے میرے باپ! آپ وہی کریں جس کا آپ کو حکم دیاجارہا ہے۔ اِنْ شَآءَ اللہ عنقریب آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔(پ23، الصّٰٓفّٰت:102) باپ اپنے بیٹے کو خدا کے حکم پر ذبح کرنے کو تیار ہے اور بیٹا گردن پر چھری چلوانے کیلئے راضی ہے، سُبْحٰنَ اللہ۔ اس سے بڑھ کر محبتِ الٰہی کیلئے بندہ کیا قربان کرسکتا ہے۔محبتِ الٰہی کی ایک اور نشانی محبوب حقیقی کی عبادت سے محبت کرنا بھی ہے۔ قرآن مجید میں ان مقربین ِ بارگاہِ الٰہی کا راتوں کو جاگنا، بستروں سے جدا رہنا، نیند قربان کرنا اور راحت وآرام لُٹا دینا کئی آیات میں مذکور ہے چنانچہ فرمایا:( كَانُوْا قَلِیْلًا مِّنَ الَّیْلِ مَا یَهْجَعُوْنَ(۱۷) وَ بِالْاَسْحَارِ هُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ(۱۸))ترجمہ : وہ (تقویٰ و احسان والے) رات میں کم سویا کرتے تھے اور رات کے آخری پہروں میں بخشش مانگتے تھے۔(پ26، الذّٰریٰت:17،18) اور ایک جگہ فرمایا:( تَتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّ طَمَعًا٘ )ترجمہ: ان (مومنین کاملین) کی کروٹیں ان کی خوابگاہوں سے جدا رہتی ہیں اور وہ ڈرتے ہوئے اور امید کرتے ہوئے اپنے رب کو پکارتے ہیں۔(پ21، السجدۃ: 16)ایک جگہ فرمایا: ( وَ الَّذِیْنَ یَبِیْتُوْنَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَّ قِیَامًا(۶۴)) ترجمہ :اور وہ جو اپنے رب کیلئے سجدے اور قیام کی حالت میں رات گزارتے ہیں۔ (پ19، الفرقان:64) راتوں کو جاگ کر محبوبِ حقیقی کی ملاقات و مناجات کے شوق میں سجدہ و قیام میں رات گزارنا محبت کے سچے اور غالب جذبے کے بغیر بہت مشکل ہے۔’’عبادت سے محبت‘‘ میں تلاوت، ذکر، نماز سب اعمال کی محبت شامل ہے اور محبوب حقیقی کا پاک مبارک کلام(قرآن کریم) سن کر آنسو بہانا بھی اسی میں داخل ہے جیسا کہ قرآن مجید میں ہے:اور جب یہ سنتے ہیں وہ جو رسول کی طرف نازل کیا گیا تو تم دیکھو گے کہ ان کی آنکھیں آنسوؤں سے اُبل پڑتی ہیں اس لیے کہ وہ حق کو پہچان گئے۔(پ7، المائدۃ:83) اور رات کے لمحات اور خلوت میں قرآن کی تلاوت کے ذریعے خدا سے ہم کلام ہونا بھی اسی میں داخل ہے۔ فرمایا:( یَّتْلُوْنَ  اٰیٰتِ  اللّٰهِ  اٰنَآءَ  الَّیْلِ  وَ  هُمْ  یَسْجُدُوْنَ)ترجمہ کنزالعرفان :وہ رات کے لمحات میں اللہ کی آیتوں کی تلاوت کرتے ہیں اور سجدہ کرتے ہیں۔ (پ4، اٰلِ عمرٰن: 113)یونہی ذکرِ الٰہی کی کثرت تو محبت کی اعلیٰ علامت ہے کہ روایت میں ہے: من احب شیئا اکثر ذکرہ یعنی جو جس سے محبت کرتا ہے وہ اسے بڑی کثرت سے یاد بھی کرتا ہے، اس لئے قرآن مجید میں کثرت ِ ذکر کا بار بار تذکرہ ہے چنانچہ فرمایا: (فَاذْكُرُوْنِیْۤ اَذْكُرْكُمْ)ترجمہ کنزالعرفان: توتم مجھے یاد کرو میں تمہیں یاد کروں گا۔(پ2، البقرۃ:152) اور محبانِ خدا کے کثرتِ ذکر کے احوال و کیفیات کا یوں بھی بیان فرمایا گیا: ( الَّذِیْنَ  یَذْكُرُوْنَ  اللّٰهَ  قِیٰمًا  وَّ  قُعُوْدًا  وَّ  عَلٰى  جُنُوْبِهِمْ  ) ترجمہ :وہ جو کھڑے اور بیٹھے اور پہلوؤں کے بل لیٹے ہوئے اللہ کو یاد کرتے ہیں ۔(پ4، اٰلِ عمرٰن:191) اور سیّدُ المُحبین حضور پرنور صلَّی اللہُ علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم کا عمل مبارک یہ تھا کہ وہ ہر وقت اللہ کا ذکر کرتے تھے۔ (بخاری،ج 1،ص229) ذکر و عبادت کی ایک صورت نماز بھی ہے اوریہ اپنی ذاتی حیثیت میں سب سے افضل و اعلیٰ علامت ِ محبت ہے بلکہ خود قرآن مجید میں ہی فرمایا کہ لقائے الٰہی کا شوق رکھنے والوں کیلئے نماز بھاری نہیں ہوتی کہ محبت میں مشکل کام بھی آسان ہوجاتا ہے،چنانچہ فرمایا:(وَ اِنَّهَا لَكَبِیْرَةٌ اِلَّا عَلَى الْخٰشِعِیْنَۙ(۴۵) الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ وَ اَنَّهُمْ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ۠(۴۶) )ترجمہ: اور بے شک نماز ضرور بھاری ہے مگر ان پر نہیں جو دل سے میری طرف جھکتے ہیں جنہیں یقین ہے کہ انہیں اپنے رب سے ملنا ہے اور انہیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔(پ1، البقرۃ:45،46)محبوب سے ہم کلام ہونا اور اس کی بارگاہ میں حاضر ہونا اہل ِ محبت کی معراج ، آنکھوں کی ٹھنڈک اور دلوں کی راحت ہے ۔ اسی لئے نبی کریم صلَّی اللہُ علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم نے فرمایا: نماز میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔(مصنف عبدالرزاق،ج 4،ص249، حدیث: 7969) اور فرمایا نماز مومن کی معراج ہے۔(مرقاۃ المفاتیح ،باب المساجد،ج2،ص452،تحت الحدیث:746) مزید فرمایا: جب تم میں کوئی نماز ادا کرنے کھڑا ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے سرگوشی کرتا ہے لہٰذا دیکھ لے کہ اس سے کیسے سرگوشی کررہا ہے۔(مستدرک للحاکم، ج1،ص503، حدیث:895)ہم بھی ایمان والے ہیں اور ایمان والے سب سے زیادہ خدا سے محبت کرتے ہیں۔ اوپر بیان کردہ علامات کی روشنی میں ایک مرتبہ اپنی زندگی کا جائزہ لیں کہ کتنی علامات ِ محبت ہمارے اندر پائی جاتی ہیں؟

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭ دارلافتاء اہل سنت عالمی مدنی مرکز فیضان مدینہ،با ب لمدینہ کراچی

Share

محبت الٰہی اور اس کی نشانیاں

کیا   آپ جانتے ہیں

سوال: رمَضان کے روزے کب فرض ہوئے؟

جواب: 10شعبانُ المعظّم دوہجری میں۔ (درمختار مع رد المحتار،ج3،ص 383)

سوال: قراٰن ِ پاک کس مہینے میں نازل ہوا؟

جواب: رمَضان شریف میں۔ (پ2،البقرۃ:185)

سوال: رمَضان کو رمَضان کیوں کہاجاتاہے؟

جواب: جو مہینا جس موسِم میں تھا اس کا وہی نام رکھا گیا، رمضان گرمی کےموسِم میں تھا اس لئےاس کا نام رمضان رکھا گیا۔

(تفسیر نعیمی ،ج 2،ص 205)

سوال: وہ کونسی عبادت ہے جسے پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے عِبادت کا دروازہ فرمایا؟

جواب: روزہ۔(جامع صغیر،ص146:حدیث2415)

سوال: روزہ فرض ہونےکی ایک وجہ کیاہے؟

جواب: ہمارےپیارے نبیصلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نےرمضان کےکچھ دن غارِحِرا میں گزارے تھے اس وقت دن میں کھانا نہیں کھاتےتھے۔ اُن دنوں کی یا د تازہ کرنے کےلئے روزے فَرض کئے گئے۔(فیضانِ رمضان،ص73 ماخوذاً)

سوال:کس شخص کو قیامت تک روزے کا ثواب ملتارہےگا؟

جواب: جس کا روزےکی حالت میں انتِقال ہوجائے۔ ( الفردوس،ج3،ص 504،حدیث:5557)

سوال: رمَضان کے ایک روزے کی کتنی اَہَمّیَّت ہے؟

جواب:اگر رمضان کے ایک روزےکےبدلےزندگی بھر روزہ رکھاجائے تب بھی ثواب میں اس کےبرابر نہیں ہوسکتا ۔

(فیض القدیر،ج6،ص 101،تحت الحدیث:8492 مفہوماً)

Share