فتح مکّہ اور رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا حلم

فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے:اِنَّ الرِّفْقَ لَا يَكُونُ فِي شَيْءٍ اِلَّا زَانَهٗ، وَلَا يُنْزَعُ مِنْ شَيْءٍ اِلَّا شَانَهٗ یعنی جس شے مىں نَرمى ہو وہ آراستہ ہوجاتى ہے اور جس چیز سے نکال دى جائے وہ عىب دار ہوجاتى ہے۔( مسلم، ص1073، حدىث:2594) سىرتِ نبوى کى وَرَق گَردانی (یعنی مطالعہ کرنے) سے معلوم ہوتا ہے کہ نرمی آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے مِزاج مبارَک کا حصّہ تھی، جىسا کہ فتحِ مکّہ کے باب مىں اس کا واضح ثُبوت نظر آتا ہے۔ 10 رمضانُ المبارک 8 ہجری کو رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم مدىنہ سے تقرىباً 10ہزار کا لشکرِ جرار ساتھ لےکر مکّہ کى طرف روانہ ہوئے۔ مکّہ سے اىک منزل کے فاصلے پر مقام ”مرُّالظَّھْران“ مىں پہنچ کر اسلامى لشکر نے پڑاؤ ڈالا، حضورِ انور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فوج کو حکم دىا کہ ہر مُجاہد اپنا الگ الگ چُولہا روشن کرے، اِدھر حضرت ابوسفىان (جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے) اپنے کچھ ساتھىوں کے ساتھ ”مرُّالظَّھْران“ آپہنچے اور دیکھا کہ مىلوں تک آگ ہى آگ جل رہى ہے۔ یہاں پر انہیں حضرت عباس رضی اللہ عنہ ملے اور سرکارِ دوعالَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں لے آئے۔ رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کى رَحمت گوىا پُکار پکار کر کہہ رہى تھى: ڈرو نہیں! ىہ دنىا کے سلاطىن نہىں بلکہ رَحمةٌ لِّلعٰلمین کا دربارِ کرم ہے۔ حضرت ابو سفىان اور ان کے ساتھى کلمہ پڑھ کر آغوشِ اسلام مىں آگئے۔ رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا حلم و کرم دىکھئے کہ آپ نے مکّۂ مکرمہ کى سرزمىن پر قدم رکھتے ہى جو پہلا حکم جارى فرماىا اس کے ہر لفظ مىں رحمتوں کے سمندر موجىں مار رہے تھے”جو شخص ہتھىار ڈال دے اس کے لئے اَمان ہے، جو اپنا دَروازہ بند کرلے اس کےلئے اَمان ہے، جو کعبہ مىں داخل ہوجائے اس کے لئے اَمان ہے۔“ اس وقت آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اپنى اونٹنى ”قَصوا“ پر سُوار تھے، سِىاہ رنگ کا عِمامہ سرِ اَقدس سے برکتیں لے رہا تھا، چاروں طرف مُسَلَّح لشکر حاضر تھا لیکن اس قدر جاہ و جلال کے باوجود شہنشاہِ دوعالَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کى شانِ تواضُع کا عالَم یہ تھا کہ آپ سرجُھکائے سورۂ فَتْح کى تلاوت فرما رہے تھے۔(زرقانی علی المواھب،ج3،ص432، 434، سیرتِ مصطفیٰ، ص 433( پىارے اسلامى بھائىو! فخر و غُرور شىطان کی طرف سے ہے جو شخص اس آفت مىں مبتلا ہو وہ تائىدِ الٰہى سے محروم رہتا ہے۔ آج اگر کوئى مُعاشرے مىں کسى حد تک مقام حاصل کرلے تو وہ اپنى کم ظرفى کے سبب اپنى زبان اور طرزِ عمل سے بڑائى جتانے پر اتر آتا ہے اور اس کے دل سے عَفو و دَرگزر کا جذبہ ختم ہوجاتا ہے، حالانکہ بندے کو اس موقع پر عاجزی ہی کرنی چاہئے کہ مُعاشرے میں اسے اچھی نگاہ سے دیکھا جانا اللہ کا فضل ہے اور شکر کا مقام ہے۔نبىِّ کرىم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم صحابۂ کرام کے ہمراہ حرمِ الٰہى مىں داخل ہوئے، کعبہ کو بُتوں کى گندگى سے پاک کىا اور نَماز ادا فرمائی پھر باہَر تشرىف لے آئے۔ مسلمانوں کے علاوہ ہزاروں کُفّار و مشرکىن کا مجمع بھی موجود تھا، شہنشاہِ کونىن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اس ہزاروں کے مجمع پراىک نگاہ ڈالى تو دىکھا کہ سردارانِ قرىش سر جُھکائے، لَرزاں وتَرساں کھڑے ہىں۔ شىخُ الحدىث علّامہ عبدُالمصطفىٰ اعظمى رحمۃ اللہ علیہ اس کى منظر کشى کرتے ہوئے تحرىر فرماتے ہىں: ان ظالموں مىں وہ لوگ بھى تھے جنہوں نے آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے راستوں پر کانٹے بچھائے تھے، وہ لوگ بھى تھے جو آپ پر پتھروں کى بارِش کرچکے تھے، وہ بے رحم بھى تھے جنہوں نے دَندانِ مبارک کو شہىد کر ڈالا تھا، وہ خوں خوار بھى تھے جنہوں نے آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر قاتلانہ حملے کئے تھے، وہ ظلم وستم ڈھانے والے بھى تھے جنہوں نے آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کى صاحبزادى سىّدہ زىنب رضی اللہ عنہا کو نىزہ مار کر اُونٹ سے گرادىا تھا۔ وہ آپ کے خون کے بھى پىاسے تھے حضور (صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم) کے پىارے چچا حضرت امىر حمزہ رضی اللہ عنہ کے قاتِل اور ان کى ناک کان کاٹنے والے، ان کى آنکھىں پھوڑنے والے، ان کا جِگر چبانے والے اسى مجمع مىں موجود تھے، آج ىہ سب کے سب دس بارہ ہزار مہاجرىن و انصار کے لشکر کى حِراست مىں کھڑے کانپ رہے تھے، اسى عالَم مىں شہنشاہِ رسالت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کى نظرِ رَحمت ان جَفاکاروں کى طرف متوجہ ہوئى اور اىک سوال پوچھا جس نے ان پر لَرزہ طارى کردىا، فرماىا: اے گروہِ قرىش! تمہارا کىا خىال ہے، مىں تم سے کىسا سُلوک کرنے والا ہوں؟ انہوں نے اُمىدوں مىں ڈوبے لہجے مىں عرض کى:نَظُنُّ خَیْراً ہم حُضُور سے خىر کى اُمىد رکھتے ہىں، آپ کرىم نبى ہىں اور اللہ پاک نے آپ کو قدرت عطا فرمائى ہے، رحمتِ دوعالَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرماىا: مىں آج تمہىں وہى بات کہتا ہوں جو مىرے بھائى ىوسف (علیہ السَّلام) نے اپنے بھائىوں کے بارے مىں کہى تھى ”آج مىرى طرف سے کوئى گرفت نہىں، اللہ تعالىٰ تمہارے سارے گناہوں کو مُعاف فرمائے اور وہ سب سے زىادہ رحم فرمانے والا ہے۔“ جاؤ مىرى طرف سے تم آزاد ہو۔(سیرتِ مصطفے، ص438 تا 440، مدارج النبوہ،ج 2،ص490،489)عَفوو دَرگزر کا جو بے مثال مظاہرہ رحمتِ عالَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرماىا انسانى تارىخ اس کى مثال پىش کرنے سے قاصِر ہے۔کفارِ مکّہ اس شانِ رَحمت کو دىکھ کر جُوق دَر جوق بڑھ کر حُضورپُر نور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے دستِ مبارک پر اسلام کى بىعت کرنے لگے، وہ تلوارىں جو کل تک اسلام کی مخالفت میں برسرِ پیکار تھىں، اب وہ اسلام کى عظمت کا ڈَنکا بجانے کے لئے چمکنے لگىں، رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا اپنے سخت ترىن دشمنوں کے ساتھ ىہ روىہ حِلم وبُردباری کى عُمدہ مثال تھا، آپ کا ىہى طرىقہ کار ان کى ہداىت کا باعث بنا، رحمتِ دوعالَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کى سىرت کا کوئى گوشہ اىسا نہىں جو کمالِ انسانىت کا آئىنہ دار نہ ہو، مُعاشرے کى تعمىر و تکمىل مىں جہاں اور بہت سى چىزىں اہمىت رکھتى ہىں وہیں ایک اہم اور ضَروری چىز حِلم وبُردباری بھی ہے۔ فتحِ مکّہ شاہد ہے کہ قبولِ اسلام سے پہلے جب حضرت عِکرمہ بن ابوجہل اپنى زوجہ کى معىت مىں حُضور نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کى بارگاہ مىں حاضر ہوئے تو حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے پہلے ہی صحابۂ کرام سے ارشاد فرما دیا تھا کہ عِکرمہ تمہارے پاس آنے والا ہے تم اس کے باپ کو بُرا نہ کہنا کىونکہ مَرے ہوئے کو اگر بُرا کہا جائے تو اس کے زندہ رشتہ داروں کو اذىت پہنچتى ہے۔ (سبل الہدیٰ و الرشاد،ج 5،ص253) چنانچہ ان کے آنے پر حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے پُرجوش اِستقبال کرتے ہوئے فرمایا: مَرْحَبًا بِالرَّاكِبِ الْمُهَاجِر (مہاجرسوارکو خوش آمدید)۔(سبل الہدیٰ و الرشاد،ج 9،ص388) اس کے بعد وہ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے سامنے کھڑے ہوئے اور یہ کہہ کر قبولِ اسلام کی سعادت پائی: اَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَحْدَهٗ لَا شَرِيْكَ لَهٗ وَاَنَّكَ عَبْدُ الله وَرَسُولُه اس وقت سر شرمساری کے ساتھ جھکا کر عرض گزار ہوئے کہ یارسولَ اللہ!بلاشبہ آپ سب سے زیادہ کریم اور وفادار ہیں۔(سبل الہدیٰ و الرشاد،ج5،ص253، تاریخ الخمیس فی احوال انفس نفیس،ج2،ص29) اللہ تعالیٰ ہمیں بھی دوسروں کے ساتھ نرمی، عَفو و درگزر اور بُردباری کا رَویہ اپنانے کی توفیق عطا فرمائے ۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭ مُدَرِّس جامعتہ المدینہ، شاہ جہان پور (ہند)

Share