چاند سے باتیں کرتے/لعاب ِدہن دودھ کی جگہ کفایت کرتا/کھارا پانی میٹھا ہوجاتا

(1)نُور ظاہر ہوا پیدائش کے وقت رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ساتھ ایک ایسا نور نکلا کہ اس کی روشنی میں آپ کی والدہ ماجدہ بی بی آمنہ رضی اللہ عنھا نے شام کے محل دیکھ لئے۔(کشف الغمۃ،ج 2،ص63)

(2)اولین کلمات مبارک زبان سے سب سے پہلے یہ کلمات ادا ہوئے:اَللہُ اَکبرُ کَبِیْرًا وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ کَثِیْرًا۔(خصائص کبریٰ،ج 1،ص91)

(3)فَرشتے جھولا ہِلاتے فرشتے حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے گَہوارے (جُھولے) کو ہلایا کرتے تھے۔ (انموذج اللبیب، ص221)

(4)چاند سے باتیں کرتے رَبّ کے محبوب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم جب گہوارے میں تھے تو چاندآپ سے باتیں کیا کرتا اور مبارَک اُنگلی سے جس طرف اِشارہ فرماتے اس طرف جھک جاتا تھا۔ (انموذج اللبیب،ص221)

حکایت حضرت سیِّدُنا عبّاس رضی اللہ عنہ نےبارگاہِ رسالت میں عرض کی: یارسولَ اللہ!آپ کی نبوت کی نشانیوں نے مجھے آپ کے دِین میں داخِل ہونے کی دعوت دی تھی۔میں نے دیکھا کہ آپ گہوارے(یعنی جُھولے)میں چاندسےباتیں کرتے اور اپنی اُنگلی سے اس کی جانب اِشارہ کرتے تو جس طرف اِشارہ فرماتے چاند اس جانب جھک جاتا۔ حُضُور پُرنُور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: میں چاندسےاور وہ مجھ سے باتیں کرتا اور مجھے رونے سے بہلاتاتھا۔جب چاند عرشِ الٰہی کے نیچے سجدہ کرتا تو میں اُس کی تَسْبِیْح کی آوازسنا کرتا تھا۔(خصائص کبریٰ،ج1،ص91)

(5)شَقِّ صَدْر چار دفعہ شَقِّ صَدْر ہوا یعنی سینہ مبارک چاک کیا گیا۔عمرِ مبارک کے اِبتدائی سالوں میں حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا کے یہاں، دس سال کی عمر میں، نُزولِ وحی کے آغاز کے موقع پر غارِ حرا میں اورشبِ معراج۔(خصائص کبریٰ،ج 1،ص93، زرقانی علی المواھب،ج1،ص288)

اللہ کریم کا فرمانِ عظیم ہے: اَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ ترجمۂ کنزُ الایمان:کیا ہم نے تمھارے لئے سینہ کشادہ نہ کیا۔(پ30، الم نشرح: 1) بعض مفسرین کے نزدیک اس آیت میں ظاہری طور پر سینۂ مبارک کا کھلنا مراد ہے۔ اس کی شکل یہ تھی کہ حضرت جبریلِ امین علیہ السَّلام نے سینۂ پاک کو چاک کرکے قلبِ مبارک نکالا اور زَرّیں (یعنی سونے کے) طَشْت میں آبِ زَمزم سے غسل دیا اور نور و حکمت سے بھر کر اس کو اس کی جگہ رکھ دیا۔(صراط الجنان،ج10،ص739)

شَقِّ صَدْر کی حکمت پہلی مرتبہ شَقِّ صَدْر کی حکمت یہ تھی کہ حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ان وسوسوں اور خیالات سے محفوظ رہیں جن میں بچّے مبتلا ہو کر کھیل کود اور شرارتوں کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔ دوسری بار دس برس کی عمر میں شَقِّ صَدْر ہوا تاکہ جوانی کی پر آشوب شَہوتوں کے خطرات سے آپ بے خوف ہوجائیں۔ تیسری بار غارِ حرا میں شَقِّ صَدْر ہوا اور آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّمکے قلب میں نورِ سکینہ بھر دیا گیا تا کہ آپ وحیِ الٰہی کے عظیم اور گِراں بار بوجھ کو برداشت کر سکیں۔ چوتھی مرتبہ شبِ معراج میں آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا مبارک سینہ چاک کرکے نور و حکمت کے خزانوں سے مَعمور کیا گیا، تا کہ آپ کے قلب مبارک میں اتنی وُسعت اور صلاحیت پیدا ہو جائے کہ آپ دیدارِ الٰہی کی تجلّیوں اور کلام رَبّانی کی ہیبتوں اور عظمتوں کے مُتَحَمِّل ہو سکیں۔(سیرتِ مصطفےٰ، ص79بتغیر) اس واقعہ کا نام شَرْحِ صَدْر بھی ہے، شَقِّ صَدْر بھی۔(مراٰۃ المناجیح،ج8،ص114)

اَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ سے یوں آواز آتی ہے

کُشادہ کر دیا اللّٰہ نے سینہ محمد کا

(6)نبیوں کے نبی ہمارے حضورصلوات اللہ تعالٰی وسلامہ علیہ سب انبیاء کے نبی ہیں اورتمام انبیاء ومُرسلین اوران کی امتیں سب حُضور کےامتی۔ حُضور کی نبوت و رسالت زمانہ سیّدُنا ابوالبشر(حضرت آدم) علیہ الصَّلٰوۃ وَالسَّلام سے روزِ قیامت تک جمیع خلق اللہ (اللہ کی ساری مخلوق) کو شامل ہے۔ حضور کے نبی الانبیاء ہونے ہی کا باعث ہے کہ شبِ اسرا (معراج کی رات) تمام انبیاء و مرسلین نے حضور کی اِقتداء کی (یعنی آپ کے پیچھے نماز پڑھی)۔(فتاویٰ رضویہ،ج 30،ص138، انموذج اللبیب، ص51)

تُو ہےخورشیدِرسالت پیارے،چھپ گئےتیری ضیامیں تارے

                                  انبیا اور ہیں سب مہ پارے،تجھ سے ہی نور لیا کرتے ہیں(حدائقِ بخشش،ص112)

(7)لعابِ دہن دودھ کی جگہ کفایت کرتا شِیر خوار(یعنی دودھ پیتے) بچّوں کو پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا لعابِ دہن (تھوک مبارک) نصیب ہوجاتا تو انہیں دودھ کی ضَرورت نہ رہتی۔(انموذج اللبیب،ص211) عاشورا (یعنی 10محرم الحرام) کے دن سرکارِ مدینہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اپنے اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر کے دودھ پیتے بچّوں کو طلب فرماتے اور ان کے منہ میں لعابِ دہن ڈال کر ان کی ماؤں سے فرماتے:رات تک انہیں دودھ نہ پلانا۔ لعابِ دہن کی برکت سے بچّوں کو رات تک دودھ پینے کی ضَرورت نہ رہتی۔ (دلائل النبوۃ،ج6،ص226،زرقانی علی المواھب،ج 5،ص289) (8)کھارا پانی میٹھا ہوجاتا حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا لعابِ دہن (تھوک مبارک) کھارے پانی کو میٹھا کردیتا تھا۔ (زرقانی علی المواھب،ج7،ص194)ایک بار آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے حضرت سیّدُنا انس رضی اللہ عنہ کے گھر میں موجود کنویں میں لعابِ دہن ڈالا تو اس کا پانی مدینۂ منورہ کے تمام کنووں سے زیادہ میٹھا ہوگیا۔(خصائص کبریٰ،ج 1،ص105)

جس سے کھاری کنویں شِیرۂ جاں بنے

                                                     اس زُلالِ حلاوت پہ لاکھوں سلام(حدائقِ بخشش،ص302)                                           

(9)رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن رحمتِ عالَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّمکو تمام جہانوں کے لئے رَحمت بناکر بھیجا گیا۔(انموذج اللبیب، ص52) فرمانِ خداوندی ہے: وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ ترجمۂ کنزُ الایمان:اورہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہان کے لئے ۔ (پ17، الانبیاء: 107) تاجدارِ رسالت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نبیوں، رسولوں اور فرشتوں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے لئے رحمت ہیں، دین و دنیا میں رحمت ہیں، جِنّات اور انسانوں کے لئے رحمت ہیں، مومن و کافر کے لئے رحمت ہیں ، حیوانات، نباتات اور جمادات کے لئے رحمت ہیں الغرض عالَم میں جتنی چیزیں داخل ہیں، سیّدُ المرسَلین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ان سب کے لئے رحمت ہیں۔(صراط الجنان،ج6،ص386) آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی رحمت میں سے کفار کو بھی حصّہ حاصل ہواکہ آپ کی بدولت ان کے عذاب میں تاخیر ہوئی ۔ (انموذج اللبیب، ص52) قراٰنِ کریم میں ارشاد فرمایا گیا: وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ وَ اَنْتَ فِیْهِمْ ترجمۂ کنزُ الایمان:اور اللّٰہ کا کام نہیں کہ انہیں عذاب کرے جب تک اے محبوب تم ان میں تشریف فرما ہو۔(پ9،الانفال:33)

عذابِِ خدا منکروں پر اترتا

نہ ہوتی اگر عام رحمت نبی کی

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭ماہنامہ فیضان مدینہ،با ب لمدینہ کراچی

Share

Articles

Comments


Security Code