وہ بزرگانِ دین جن کا وِصال/عُرس رمضانُ المبارَک میں ہے۔

رَمَضانُ المُبارک اسلامی سال کا نواں مہینا ہے۔اس میں جن صحابۂ کرام، اَولیائے عُظَّام اور عُلَمائے اسلام کا یومِ وصال یا عرس ہے، ان میں سے28کا مختصر ذکر ”ماہنامہ فیضانِ مدینہ“ رَمَضانُ المُبارک1438ھ اور1439ھ کے شماروں میں کیا گیا تھا مزید15کا تعارُف ملاحَظہ فرمائیے:صحابۂ کرام علیہمُ الرِّضوان: (1)اُمُّ المؤمنین حضرت سیّدَتُنا خدِیجۃُ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کی ولادت واقعہ عامُ الفِیل سے15سال پہلے ہوئی اور وصال اعلانِ نَبُوّت کے دسویں سال10رَمَضانُ المبارَک کو ہوا۔ مکّۂ معظّمہ کے مشہور قبرستان جنّتُ المَعلیٰ میں مدفون ہیں۔ خاندانِ قریش کی معزّز، باہمّت، عقل مند، صاحبِ ثروت اور پاکدامن خاتون، عورتوں میں سب سے پہلے دینِ اسلام قبول کرنے والی، سرکارِ دوعالَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سب سے پہلی رفیقۂ حیات ہیں۔(طبقات ابنِ سعد،ج1، ص105،ج8، ص14، امتاع الاسماع،ج6، ص27) (2)اُمُّ المؤمنین حضرت سیّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ بنتِ حضرت سیّدُنا ابوبکرصدّیق رضی اللہ عنہما کی ولادت مکّہ شریف میں اعلانِ نَبُوّت کے چوتھےسال ہوئی اور وصال 17رمضان 57ھ کوہوا۔آپ کا مزارجنّتُ البقیع میں ہے۔ آپ عالمہ،محدّثہ،مفتیہ، اشعارِ عرب و علمِ انساب میں ماہر تھیں۔ صحابہ وتابعین کی جماعتِ کثیرہ نے آپ سے 2ہزار 210 احادیث روایت کی ہیں۔( زرقانی علی المواہب، ج4، ص381،392، مدارج النبوۃ،ج2، ص468،473) اولیا و مشائخِ کرام رحمہم اللہ السَّلام: (3)خاندانِ نبُوّت کےچشم و چراغ امام سیّد محمد بن عبداللہ نفس الزّکیہ رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت تقریباً 100ھ مدینۂ منوّرہ میں ہوئی۔ان کی شہادت 15 رَمَضانُ المبارَک 145ھ کو مدینہ شریف کے قریب اَحْجَارُ الزَّیْت کے مقام پرہوئی اورجنّتُ البقیع میں دفن کئے گئے۔ آپ تبعِ تابعی، مجموعۂ علم و عمل، عابدوزاہد، مضبوط ارادےکے مالک، مجاہدِاسلام اور مقبولِ خواص وعوام تھے۔ (طبقاتِ ابنِ سعد، ج5، ص440،438۔ تہذیب التہذیب، ج7، ص238) (4)حضرت سیِّدُنا ابو علی شقیق بن ابراہیم اَزْدِی بَلخی حنفی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت بلخ (صوبہ خراسان) ایران میں ہوئی۔ 9رمضان 194 ھ میں جنگِ کُولان (ماوراء النھر) میں شہیدہوئے، آپ کا مزارِ مبارَک دَنغَرہ(Danghara) (صوبہ خَتْلان) تاجکستان میں ہے۔آپ امامِ زاہد،شیخِ خراساں، سلطانُ الاولیاء،شمسِ ملّت ودین اور اکابراولیا میں سے ہیں۔ (سیر اعلام النبلاء، ج9، ص316،313، وفیات الاخیار، ص47) (5)عید روس الاکبر، اما م الاولیاءحضرت سیِّد عبداللہ بن ابوبکر باعلوی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 811ھ کو تریم(صوبہ حضرموت) یمن میں ہوئی اوروصال 12 رمضان 865ھ کو ہوا۔آپ کا مزار زبنل قبرستان میں مرجعِ خلائق ہے۔آپ عالمِ دین،شیخِ طریقت، صاحبِ کرامت کئی کتب کے مصنّف اوربانیِ سلسلہ ٔعید روسیہ ہیں۔ (معجم المؤلفین، ج2، ص232، العیدروس الاکبر، ص 14،17، 64) (6)مشہورولیِ کامل حضرت سیِّدُنا شاہ محمد غوث شطاری قادری گوالیاری رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 907ھ گوالیار (مدہیہ پردیش) ھند میں ہوئی۔ 14 رمضان970ھ کو وصال فرمایا، آپ کامزارِ مبارَک گوالیار (مدہیہ پردیش) ہندمیں ہے۔ آپ کثیر المُجاہَدہ، عاجزی و انکساری کے پیکر،صاحبِ قلم، مرجع ِعُلَما تھے،آپ کی وظائف وعملیات پرمشتمل کتاب جواہرِ خمسہ عرب وعجم میں مشہور ہوئی۔(حضرت شاہ محمدغوث گوالیاری، ص99،33، قطبُ الھند سیدنا عبدالوہاب جیلانی، ص44، خزینۃُ الاصفیاء، ص318،316) (7)دانائے سرحد حضرتِ اخوند پنجو بابا عبدالوہّاب چشتی صابری رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 943ھ کو علاقہ یوسف زئی(ضلع صوابی خیبرپختونخواہ) پاکستان میں ہوئی اور 27 رَمَضان 1040ھ کو وصال فرمایا، آپ کا مزار اکبر پورہ پشاور میں ہے۔آپ لوگوں کو ارکانِ اسلام (کلمہ، نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج) کی تاکیدکرتے رہتے تھے اسی لئے پنجو بابا کے نام سے مشہور ہوگئے۔(تذکرہ اولیائے پاکستان،ج2، ص129،125، اردو دائرہ معارفِ اسلامیہ،ج2، ص211،210) (8)شیخُ الہند حضرت سیّدُنا شیخ محمدسلیم چشتی فاروقی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 884ھ میں سرائے علاءُ الدّین زندہ پیرمحل دہلی ہند میں ہوئی۔ آپ نے 29 رمضانُ المبارک 979ھ کو وصال فرمایا، آپ کاعالی شان روضہ فتح پور سِیکری (Sikri) (ضلع آگرہ، یوپی) ہند میں ہے۔ آپ اکابر اولیائے ہند سے ہیں۔ (تحفۃ الابرار، ص 251، اخبار الاخیار مترجم، ص566، خزینۃ الاصفیاء، ج2، ص363،361) (9) تلمیذِجمال الاولیاء، حضرت علّامہ شمس الدّین محمد رشید مصطفیٰ عثمانی جونپوری حنفی چشتی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 1000ھ موضع برونہ ضلع جونپور (یوپی)ہند میں ہوئی اور وصال 9رمضان 1083 ھ کو فرمایا ،مزارِ مبارَک جونپور (یوپی) ہند میں مرجعِ خلائق ہے۔آپ عالمِ باعمل، استاذُالعُلَماء، شیخِ طریقت ، بانیِ سلسلہ رشیدیہ، مصنّفِ کتب، صاحبِ دیوان شاعر اور مؤثّر شخصیت کے مالک تھے۔ مناظرہ رشیدیہ آپ ہی کی تصنیف ہے۔(تاریخِ مشائخِ قادریہ، ج2، ص109،103، ہدیۃ العارفین، ج1، ص568) (10)سلطانُ الاولیاء، حضرت شیخ عبداللہ فائز داغستانی مجدّدی شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 1294ھ کو موضع کیکونوا (نزد غیمری) داغستان (زیرِ انتظام روس) میں ہوئی۔ آپ عالمِ جلیل، مجاہدِاسلام، مرشدِ کبیراورصاحبِ کرامت تھے۔ 4رمضان 1393ھ کو وصال فرمایا، جبل قاسِیُون (دمشق، شام) پر اپنی تعمیرکردہ خانقاہ میں تدفین ہوئی۔ (دمشق کے غلایینی علماء، ص71 وغیرہ) (11)شیخُ الاسلام حضرت خواجہ محمد قمرُالدّین سیالوی چشتی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 1324ھ سیال شریف ضلع گلزارِ طیبہ سرگودھا (پنجاب) میں ہوئی ،آپ کا وصال 17 رَمَضان1401ھ کو ہوا،آپ کا مزار سیال شریف ضلع گلزارِ طیبہ سرگودھا (پنجاب) میں ہے۔ آپ خانقاہِ سیال شریف کے چشم و چراغ، جیّدعالمِ دین، مصنّفِ کتب، مجاہدِ تحریکِ پاکستان، مرجعِ عُلَمااورفعَّال شخصیت کے مالک تھے۔( نور نور چہرے، ص347،333) علمائے اسلام رحمہم اللہ السَّلام (12)امیُرالمؤمنین فی الحدیث حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن ذَکْوان قَرَشی مدنی رحمۃ اللہ علیہ کی تقریباً ولادت 65 ھ کو مدینہ شریف میں ہوئی اور 17 رَمَضان 130ھ کومدینہ شریف میں وصال فرمایا۔ آپ جلیلُ القدر تابعی، محدّث، استاذُالتّابعین،فقیہِ مدینہ، مؤثّرشخصیت کے مالک تھے۔ کچھ عرصہ نگرانِ بیتُ المال کوفہ بھی رہے۔ (المعارف ، ص204، اعلام للزرکلی، ج4، ص86،85، تاریخِ اسلام للذہبی، ج3، ص677،575) (13) فقیہِ حنفیہ حضرتِ سیِّدُنا حافظُ الدّین محمد بن محمد بَزَّاز کَرْدَرِی حنفی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت کَرْدَر(مضافاتِ خوارزم) ازبکستان میں ہوئی۔ رَمَضانُ المبارک 827ھ کو مکّہ شریف میں وصال فرمایا۔ اصول و فروع میں امام اورعلوم ِمعقول و منقول میں شیخِ کبیر تھے، فتاویٰ بزّازیہ اورمَناقبِ کردری آپ کی اہم تصانیف ہیں۔ (اعلام للزرکلی، ج7، ص45، فوائد البہیہ ص 245، حدائق الحنفیہ، ص340، معجم المؤلفین،ج 3، ص646) (14)قاضی علّامہ شہابُ الدّین احمد بن محمد خَفَاجی مصری حنفی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 977 ھ سَرْیَاقَوْس (نزد قاہرہ) مصرمیں ہوئی۔12 رَمَضان المبارک1069 ھ کو مصر میں وصال فرمایا۔آپ حنفی عالمِ دین ،صاحبِ دیوان شاعر،بہترین ادیب،قاضی القُضاۃ اور درجن سے زائدکتب کے مصنّف ہیں۔آپ کی کتاب نسیمُ الرّیاض فی شرح الشفاء للقاضی عیاض کو شہرت حاصل ہوئی۔ (خلاصۃ الاثر، ج1، ص331،343، معجم المؤلفین، ج1، ص286، حدائق الحنفیہ، ص436، فہرس الفہارس، ج1، ص377) (15) شیخُ الحدیث علّامہ احسان علی رضوی حنفی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 1316ھ موضع فیض آباد ضلع سیتامَڑھی (Sitamarhi) (سابق ضلع مظفرپور، صوبہ بہار)ہند میں ہوئی۔ رَمَضان1402ھ کو وصال فرمایا ۔ آپ فاضلِ دارالعلوم منظرِاسلام بریلی شریف ، محدّثِ اعظم بہار،خلیفۂ حجّۃ ُالاسلام اور استاذالعُلَماء ہیں۔ (تذکرہ علمائے اہلِ سنت سیتامڑھی، ص50،55)

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭۔۔۔رکنِ شوریٰ و نگران مجلس المدینۃ العلمیہ، باب المدینہ کراچی

Share

Comments


Security Code