قرآن کیوں نازل ہوا؟

قراٰنِ کریم ا س ربِِّ عظیم کا بے مِثل کلام ہے جو اَکیلا معبود،  تَنْہا خالق اور ساری کائنات کا حقیقی مالک ہے، قراٰنِ کریم کے نازل ہونے کی اِبتدا رمضانُ المبارک کے بابرکت مہینے میں ہوئی،جسےنبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں لانے کا شَرَف روحُ الْاََمِیْن حضرت جبرئیل علیہ السَّلام کو حاصل ہوا، جبکہ شب ِ مِعراج کچھ آیات بِلاواسطہ بھی عطا ہوئیں، اسے کم و بیش 23سال کے عرصے میں نازل کیا گیا، جہاں اسے دیکھنا، درست پڑھنا اورسننا مسلمان کے لئے ثواب کا باعث ہے وہیں اس کے نازل ہونے کے مَقاصِد کو پیشِ نظر رکھنا بھی بہت اہمیت رکھتا ہے۔ قراٰن کیوں نازل ہوا؟ خود اس مُقدَّس کتاب کےاندر کئی مقامات پراس بات کابیان موجود ہے کہ اسے کیوں نازل کیاگیا، مثلاً”اس مبارک کتاب کو اس لئےنازل کیا گیا تاکہ لوگ اس کے ذریعے اللہ پاک کے عذاب سےڈریں“(پ7،الانعام:92) ”اس کی پیروی کریں اور پرہیز گار بَنیں“(پ8،الانعام:155) ”کفر، گمراہی اور جہالت کے اندھیروں سے نکلیں“(پ13،ابرٰھیم:1) اللہ پاک کےاحکام، وعدے اور وعیدیں لوگوں تک پہنچیں‘‘(پ14، النحل:44،قرطبی،ج5،ص79،تحت الآیۃ:44) ”لوگ اس پاکیزہ کتاب میں غور و فکر کرکے نصیحت حاصل کریں۔“(پ23، صٓ:29) کُتُبِ الٰہیہ کے مَقاصِد حضرت علَّامہ اسماعیل حَقِّی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:”اللہ پاک کی کتابوں سے مقصود ان کے تقاضوں کے مطابق عمل کرنا ہے نہ کہ فقط زبان سے بِالتَّرتیب ان کی تلاوت کرنا۔ (اگرچہ فقط تلاوت کرنے کے بھی بہت فضائل ہیں البتہ) اس کی مثال یہ ہے کہ جب کوئی بادشاہ اپنی سلطنت کے کسی حکمران کی طرف کوئی خط بھیجے اور اس میں حکم دے کہ فلاں فلاں شہر میں اس کے لئے ایک محل تعمیر کر دیا جائے اور جب وہ خط اس حکمران تک پہنچے تو وہ اس میں دئیے گئے حکم کے مطابق محل تعمیر نہ کرے البتہ اس خَط کو روزانہ پڑھتا رہے، تو جب بادشاہ وہاں پہنچے گا اور مَحل نہ پائے گا تو ظاہر ہے کہ وہ حکمران عِتاب(مَلامَت) بلکہ سزا کا مستحق ہو گا کیونکہ اس نے بادشاہ کا حکم پڑھنے کے باوجود اس پر عمل نہیں کیا تو قراٰن بھی اسی خَط کی طرح ہے جس میں اللہ پاک نے اپنے بندوں کو حکم دیا کہ وہ دین کے ارکان جیسے نماز اور روزہ وغیرہ کی تعمیر کریں اوراگر بندے فقط قراٰنِ مجید کی تلاوت کرتے رہیں اور اللہ پاک کے حکم پر عمل نہ کریں تو ان کا صرف قراٰن مجید کی تلاوت کرتے رہنا حقیقی طور پر فائدہ مند نہیں۔ (روح البیان، البقرۃ، تحت الآیۃ: ،ج 1،ص155 ملخصاً)یادرہے! یہ بات قراٰنی احکامات پر عمل کی ترغیب کے طورپر ہےالبتہ صرف تلاوت کرنے کے بھی بہت فضائل ہیں۔قراٰنِ پاک کے احکامات اورہماری عادات ہرایک اس بات پر غور کرے کہ قراٰنِ پاک جن مَقاصِد کے لئے نازل ہواکیاوہ ان پر عمل کررہاہے؟ اس میں مسلمانوں کو نماز پڑھنے، رمضان کے روزے رکھنے اور زکوٰۃادا کرنے کا حکم دیا گیا لیکن آج مسلمانوں کی اکثریت نمازوں سے دور ہے۔ ایک تعداد ہے جو فرض روزے نہ رکھنے کے مختلف حیلے بہانے تراش رہی ہے۔ قراٰنِ پاک میں مسلمانوں کو باطل اور ناجائز طریقے سے کسی کا مال کھانے سے منع کیا گیا ہے، لیکن آج مال بٹورنے کا کون سا ایسا ناجائز طریقہ ہے جو مسلمانوں میں کسی نہ کسی طرح رائج نہ ہو۔ اس میں مسلمان عورتوں کو گھروں میں رہنے اور پردہ کرنے کا حکم دیاگیا لیکن آج ہمارے معاشرے میں بےپردگی عام ہونے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں میں ہی کچھ لوگ عورت کے پردہ کرنے کو دَقْیانُوسِی سوچ اور تنگ ذہنیت قرار دے رہے ہیں، اس پاکیزہ کلام میں لوگوں کو بدکاری، شراب نوشی، والدین کی نافرمانی سےمنع کیا گیا لیکن آج مسلمانوں کی ایک تعدادان حرام کاموں میں مصروف ہے۔ کہاں ہیں وہ مسلمان؟ سوائےمخصوص اورتھوڑی تعداد کے آج وہ مسلمان نہ جانے کہاں ہیں جنہیں قراٰنِ پاک کے حلال وحرام کا علم ہو؟ جنہیں اسلامی اَخلاق کا پتا ہو؟ جن کے دل اللّٰہ پاک کی آیات سُن کر ڈر جاتے ہوں اور ان کے اعضاء اللّٰہ پاک کے خوف سے کانپ اُٹھتے ہوں؟ جن کے دل و دماغ پر قراٰنِ کریم کے اَنوار چھائے ہوئے ہوں۔ جب تک مسلمان اس مقدّس کتاب کےدستور و قَوانِین پر سختی سے عمل پیرا رہے تب تک دنیا بھر میں ان کی شان وشوکت کا ڈنکا بجتا رہا اور غیروں کے دلوں پران کارُعب جمارہا، لیکن جب سے انہوں نے قراٰنِ کریم کے احکامات پر عمل چھوڑر کھاہےتب سے دنیا میں بَظاہرکیسی ہی عزّت سہی مگر حقیقت میں ذِلّت و خوار ی ان کامقدّربنی ہوئی ہے۔

درسِ قراٰن اگر ہم نے نہ بُھلایاہوتا

یہ زمانہ، نہ زمانے نے دِکھایاہوتا

وہ مُعزَّز تھے زمانے میں مسلماں ہوکر

اورہم خوار ہوئے تارِکِ قراٰں ہوکر

اس سے بڑھ کر بدقسمتی یہ کہ اگر کسی غلط بات پر عمل کرنے والے شخص کو سمجھایا جائے تو بسااوقات اُلٹا جواب سننے کو ملتا ہے۔ بعض تو کہتے ہیں کہ تم نے دو لفظ کیا پڑھ لئے اب ہمیں بھی سمجھانے لگ گئے! گرد کی تَہہ آج کل حال یہ ہےکہ قراٰنِ پاک کےعمدہ سے عمدہ اور نفیس نسخے مسجدوں میں الماریوں کی زینت جبکہ گھروں اور دکانوں میں برکت کے لئے رکھےتو ہیں، ریشمی غلاف بھی ان پر موجود ہیں لیکن پڑھنے، سمجھنے اور عمل کرنے کی حالت یہ ہے کہ ان الماریوں اور ریشمی غلافوں پر گَرد کی تَہہ جَم چکی ہے اور حقیقتاً وہ گَرد ان غلافوں اورالماریوں پر نہیں بلکہ اس پاکیزہ کلام کےساتھ ایسا رَوَیَّہ اختیارکرنے والے مسلمانوں کے دلوں پر جمی ہوئی ہے۔ قراٰنِ کریم کے احکام پر عمل نہ کرنے کا دُنْیَوِی نقصان تو اپنی جگہ اُخْرَوِی نقصان بھی انتہائی شدید ہے۔ قراٰنِ پاک پرعمل نہ کرنے کا اُخْرَوِی نقصان نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: قراٰن شفاعت کرنے والا ہے اور اس کی شفاعت مقبول ہے، جس نے (اس کے احکامات پر عمل کر کے) اسے اپنے سامنے رکھا تو یہ اسے پکڑ کر جنّت کی طرف لے جائے گا اور جس نے (اس کے احکامات کی خلاف ورزی کر کے) اسے اپنے پیچھے رکھا تو یہ اسے ہانک کر جہنم کی طرف لے جائے گا۔ (معجمِ کبیر،ج 10ِص198، حدیث:10450ملتقطاً) نزولِ قراٰن کے مَقاصِد اور دعوت اسلامی فتنوں سے بھرے ہوئے اس دور میں اللّٰہ پاک کے کرم سے دعوتِ اسلامی جامعۃُ المدینہ (للبنین، للبنات، آن لائن وغیرہ)، مدرسۃُ المدینہ(للبنین، للبنات، بالغان، بالغات، جُزوقتی،رہائشی،آن لائن)، سنّتوں بھرے اجتماعات، مدنی قافلوں، مدنی چینل، ماہنامہ فیضانِ مدینہ اور دیگر بہت سے ذرائع سے شرعی تقاضوں کے تحت نُزولِ قراٰن کے مَقاصد کوعام کرنےمیں مصروفِ عمل ہے۔ لیکن ہماری منزل ابھی بہت دورہے لہٰذا میری تمام عاشقانِ رسول سے فریاد ہےکہ اللّٰہ پاک کے پاکیزہ کلام کی قَدرکیجئے، اس کی دُرست تلاوت کیجئے، اس کے درست ترجمے اور تفسیر سے آگاہی حاصل کرکےاس پر عمل بھی کیجئے، بلکہ دوسروں کوبھی اس کی ترغیب دلائیے،([1]) اللہ کریم ہمیں حقیقی معنوں میں قراٰنِ کریم کےنزول کےمَقاصِد پرعمل کرنے کی توفیق عطافرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم



[1] ۔۔۔ قراٰنِ کریم کےدرست ترجمےاورتفسیرسےآگاہی حاصل کرنے کے لئےمکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ تفسیر ”صراط الجنان “ پڑھئے ۔

Share