فرض نمازوں کے علاوہ سنتیں اور نوافل ادا کرنا اسلام کی خوبصورتی، ذوقِ عبادت کی علامت، عابدین کی پہچان اور مسلمانوں کا معمول ہے۔ لیکن بعض لوگ جدت پسند و روشن خیال مولویت سے متاثر ہوکر نوافل و سُنَن خصوصاً تراویح سے روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے لوگ عموماً عبادت کی لذت سے ناآشنا، نماز کے ذوق سے دور اور مناجاتِ الٰہی کی مٹھاس سے محروم ہوتے ہیں۔ سنّت، نفل اور تراویح کی ادائیگی نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے ثابت ہے، جس کی اہمیت کم کرکے اس سے دور کرنے کی کوشش کرنا ایک مسلمان کا کام نہیں ہوسکتا۔ معترضین یہ سوال کرتے ہیں کہ ان غیر ضروری عبادات پر اتنا زورکیوں دیا جاتا ہے؟ الزامی جواب تو یہ ہے کہ آپ لوگ عبادت سے روکنے کی اتنی کوشش کیوں کرتے ہیں؟تفصیلی جواب یہ ہے کہ غور کریں کہ جتنی نفل نمازیں ہیں سنتیں یا تراویح، یہ اچھے اعمال ہیں یا معاذَاللہ برے؟ اگر اچھے ہیں اور یقیناً بہت اچھے ہیں، تو اچھے اعمال کی تاکید کرنا اچھا ہے یا برا؟ ضرور اچھا ہے اور اس کے مقابل جو اس سے روکے، وہ برا ہے کیونکہ وہ خدا کی عبادت سے روک رہا ہے۔ ایسے شخص کو یہ توفیق تونہیں ہوتی کہ جو لوگ غفلت میں غرق اور عبادت سے دور ہیں اُنہیں عبادت کی دعوت دے، الٹا شیطان اُسے یہ پٹی پڑھا دیتا ہے کہ جو عبادت کررہے ہیں اُنہیں بھی گھیرنا شروع کر دو اور میرا نائب بن کر انہیں وسوسے ڈالو کہ بھائی کیا اتنی لمبی نمازِ تراویح پڑھتے ہو، اس کی کوئی اتنی تاکید نہیں ہے۔سچے مسلمان کو عبادت خصوصاً تراویح کس تناظر میں دیکھنی چاہیے، اس کیلئے یہ حدیث ملاحظہ فرمائیں کہ رمضان المبارک کا مہینا شروع ہونے سے پہلے نبیِّ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے صحابۂ کرام سے فرمایا: اے لوگو! تمہارے پاس عظمت و برکت والا مہینا آنے والا ہے، جس میں ایک رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے، اِس کے روزے اللہتعالیٰ نے فرض کیے اور اس کی رات میں قیام (تراویح پڑھنا) تطوع (یعنی نفل) ہے۔(شعب الایمان،ج3،ص305، حدیث: 3608 ملتقطاً)سوچیں کہ اس فرمان کا کیا مقصد تھا؟ تراویح پڑھو یا نہ پڑھو؟ اس کا یقیناً یہی مطلب تھا کہ پڑھو۔ پھر یہ بات یقینی ہے کہ حضور سیّد العابدین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے خود بھی اپنے فرمان کے مطابق تراویح ادا فرمائی، جیسا کہ حدیثِ مبارک ہے کہ نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ایک رات مسجد میں نماز پڑھی تو لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ نماز پڑھی، پھر اگلی رات بھی آپ نے نماز پڑھی تو لوگ زیادہ ہو گئے، اس کے بعد تیسری یا چوتھی رات کو بھی لوگ جمع ہوئے تو رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ان کی طرف نہیں نکلے۔ پھر جب صبح ہوئی تو آپ نے فرمایا: بیشک میں نے دیکھ لیا ہے جو تم نے کیا تھا، اور تمہاری طرف نکل کر آنے کے لئے مجھے صرف اس خوف نے روکا تھاکہ یہ نماز تم پر فرض کر دی جائے گی اور یہ رمضان کا واقعہ ہے۔(بخاری،ج1،ص384، حدیث:1129)تیسرے یا چوتھے دن تشریف نہ لانے کے باوجود نبیِّ پاک علیہ الصَّلٰوۃ والسَّلام اور صحابۂ کرام کے دلوں میں باجماعت تراویح کی رغبت موجود تھی، لیکن باجماعت نماز کااہتمام اس لئے نہ کیا گیا کہ کہیں فرض نہ ہو جائے۔ سرکارِ دوعالم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے وصالِ مبارک کے بعد سیدنا عمر فاروق اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو چونکہ علم تھا کہ سرکار صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی دلی خواہش یہ تھی کہ تراویح باجماعت پڑھی جائے، لہٰذا جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا تو اگرچہ لوگ سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں بھی ہمیشہ سے تراویح پڑھنے کے عادی تھے، لیکن حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں باجماعت تراویح کا اہتمام کردیا۔ (بخاری،ج1،ص658، حدیث:2010ماخوذاً) اور سب صحابہ نے اسے پسند کیا۔تراویح پڑھنا ہمیشہ سے مسلمانوں کا معمول ہے، چنانچہ خلفائے راشدین، تابعین و تبع تابعین، ائمہ ٔ مجتہدین اور محدثین رضوان اللہ علیھم اجمعین سب نے تراویح پڑھی بلکہ خود ائمہ دین کا عمل یہ تھا کہ اپنے مقلدین کو تو روزانہ بیس تراویح پڑھ کر تیس دن میں ایک قرآنِ مجید ختم کرنے کا فرماتے تھے لیکن اُن میں سے بعض خود روزانہ کی بیس تراویح میں پورا قرآن ختم کیا کرتے تھے ۔ یاد رکھیں کہ اسلام کا مزاج اور ذوق وہی ہے جو نبیِّ پاک علیہ الصلٰوۃ والسلام، خلفائے راشدین، صحابۂ کرام، ائمہِ دین، ائمہِ اربعہ، امت کے صُلَحا، صوفیا، عُلَما، فُقَہا اور محدّثین کا ذوق تھا۔ اب اِس سوال کا جواب خود تلاش کرلیں کہ دین کا اصل ذوق، دین کی اصل تصویر اور دین کی صحیح تعبیر وہ ہے جو اوپر بیان ہوئی یا ان لوگوں کی تشریح درست ہے جو یہ کہتے پھریں کہ بھئی! مجھے احادیث میں تراویح کا لفظ دکھاؤ۔ جو بندہ یہ کہتا ہے کہ ”مجھے تراویح کا لفظ دکھاؤ“ وہ کیا کہہ رہا ہے؟ تراویح پڑھو یا یہ کہ نہ پڑھو؟ الفاظ کے ہیر پھیر کے ذریعے حقیقت میں وہ نہ پڑھنے ہی پر اُکسا رہا ہے۔اللہتعالیٰ کا مسلمانوں پر کرم ہے کہ مسجدوں میں دیکھیں تو بچے تک ما شآء اللہ بڑے ذوق شوق سے تراویح میں کھڑے ہوتے ہیں۔ دوسری طرف عورتیں گھریلو کام کاج اور سحری و طَعام کے اہتمام کے باوجود جیسے بَن پڑے خداوند ِ قدّوس کی محبت اور رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی اتباع میں تراویح پڑھتی ہیں۔ لیکن افسوس کہ تراویح کے منکرین (انکار کرنے والوں) میں سے کوئی کہہ رہا ہے کہ تراویح کہاں سے ثابت ہے؟ کوئی کہہ رہا ہے کہ یہ تونماز ہی نہیں تھی۔ کوئی کہہ رہا ہے کہ پتا نہیں کیوں مولوی لوگ نفلوں پر اتنا زور دیتے ہیں۔ ارے بھائی! ساری امت تراویح پڑھتی آئی ہے۔ تم بتاؤ کہ ہم اُس طریقے پر چلیں جو صحابہ، تابعین، تبع تابعین، علمائے دین، محدّثین، مفکّرین، فقہائے مُجتہدین اور مجدِّدین سب کا طریقہ ہے، یا تمہاری مانیں جو کہتے ہو کہ جو مجھے سمجھ آیا وہ ٹھیک ہے اورچودہ صدیوں میں جو پوری امّت دین سمجھی ہے وہ غلط ہے، لہٰذا میں تمہیں چھٹی دیتا ہوں، کوئی تراویح پڑھنے کی ضرورت نہیں، کوئی نفل پڑھنے کی حاجت نہیں؟کیا کسی امتی کی جرأت ہوسکتی ہے کہ جو کام اُس کے نبی نے کیا ہو اور جس کی ترغیب دی ہو وہ اُس کام کی اہمیت کم کرنے کی کوشش کرے؟

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭دارالافتاءاہلِ سنت عالمی مدنی مرکزفیضان مدینہ،با ب لمدینہ کراچی

Share

Articles

Comments


Security Code