آئینہ دیکھنے میں ثواب / علمِ موسیقی سیکھنا کیسا؟

باتوں سے خوشبو آئے

علم پر عمل کی برکت

ارشادِ حضرت سیّدنا ابودرداءرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ: جو اپنے علم کے دسویں حصے پر بھی عمل کرلے تواللہ پاک اسے ان باتوں کا علم عطا فرمائے گا جن سے وہ ناواقف ہے۔(الجامع لاخلاق الراوی،ص58،رقم:34)

عالمِ دین سے ناراض ہونے والے کی مثال

ارشادِ حضرت سیّدنا  مُعافیٰ بن عمران رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ: عالمِ دین سے ناراض ہونے والا اس شخص کی طرح ہے جو جامع مسجد کے ستونوں سے ناراض ہوتا ہے۔(الجامع لاخلاق الراوی،ص147،رقم:411)

روزہ دار کا سونا بھی عبادت

ارشادِ حضرت سیّدنا ابو مسلم خَولانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ: روزہ دار کی نیند تسبیح ہے اور کامل روزہ دار وہی ہے جوچُپ رہے اور فضول باتیں نہ کرے۔ (حسن السمت فی الصمت،ص 49)

علم کے چار دروازے

ارشادِ حضرت سیّدنا ضَحاک بن مُزاحِم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ:عِلم کا پہلا دروازہ خاموشی، دوسرا دروازہ توجّہ سے سننا، تیسرا اس پر عمل کرنا  جبکہ چوتھا علم کو عام کرنا اور سکھانا ہے۔(الجامع لاخلاق الراوی،ص129،رقم:315)

Share

آئینہ دیکھنے میں ثواب / علمِ موسیقی سیکھنا کیسا؟

احمد رضا کا تازہ گلستاں ہے آج بھی

حکمتِ عملی

جسے عام لوگ نَحْس(منحوس) سمجھ رہے ہیں اس سے بچنا مناسب ہے کہ اگر حسبِ تقدیر اُسے کوئی آفت پہنچے اُن کا باطل عقیدہ اور مُسْتحکم ہوگا کہ دیکھویہ کام کیا تھا اس کا یہ نتیجہ ہوا اور ممکن کہ شیطان اِس کے دل میں بھی وسوسہ ڈالے۔(فتاویٰ رضویہ ،ج23،ص267)

آئینہ دیکھنے میں ثواب

عورت کہ اپنے شوہر کے سنگار کے واسطے آئینہ دیکھے ثوابِ عظیم کی مستحق ہے۔(فتاویٰ رضویہ ،ج23،ص490)

علمِ موسیقی سیکھنا کیسا؟

علمِ موسیقی کے تَعَلُّمْ (سیکھنے) میں وقت ضائع کرنا صالحین (نیک بندوں) کا کام نہیں بلکہ کم ازکم عَبَث (بیکار) ہے اور ہر عبث میں تضییعِ وقت (وقت ضائع کرنا) ممنوع۔(فتاویٰ رضویہ ،ج24،ص126)

عطّار کا چمن، کتنا پیارا چمن!

اصل آزادی

نبیِّ آخِرُالزَّماںصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، صحابۂ کرام، اہلِ بیتِ اَطہار اور اولیائے کرام رضواناللہِ علیہم اَجْمعین کی غلامی میں دراصل آزادی ہے۔(مَدَنی مذاکرہ، 13شوال المکرم1435ھ)

کس بات سے اِجتناب ضروری ہے؟

ہر وہ بات جس سے گناہوں کا دروازہ کھلے اس سے اجتناب کرنا (یعنی بچنا) ضَروری ہے۔(مَدَنی مذاکرہ،8محرم الحرام1436ھ)

قَبولیت کا دارومدار

قَبولىت کا دارو مدار کثرت و قلّت پر نہىں، بلکہ اِخلاص پر ہے۔(مَدَنی مذاکرہ، 5ربیع الاول1439ھ)

Share

Articles

Comments


Security Code