اہم نوٹ



رسولُ اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:مَنْ لَّمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّوْرِ وَالْعَمَلَ بِهٖ فَلَيْسَ لِلهِ حَاجَةٌ فِيْ اَنْ يَّدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ یعنی جو جھوٹی (بُری) بات کہنا اور اُس پر عمل کرنا نہ چھوڑے، تو اللہ کو اس کے بھوکا پیاسا رہنے کی کوئی حاجت نہیں۔(بخاری،ج1ص628، حدیث: 1903)

روزه ایک ایسی بدنی عبادت ہے جس کی برکت سے انسان اپنے آپ کو ظاہری گناہوں کے ساتھ ساتھ باطنی گناہوں سے بھی بچا سکتا ہے ۔


خوفِ خدا، عشقِ رسول، فہمِ قراٰن و حدیث، تفسیر و تشریح، فقہ و فتاویٰ، فصاحت و بلاغت، عِبادت و رِیاضت، اِطاعت و اتباع، سخاوت و فَیّاضی، بہادری و جرأت، زُہْد و قناعت، شکر، عاجِزی و اِنکساری، گِریہ و زاری، خودداری، ماتَحْتوں پر شفقت، غریبوں کی مدد، پردے کا بے مثال اہتمام، عِفَّت و پاکدامنی اور شرم و حیا وغیرہ اِن تمام اوصاف کو اگر ایک خاتون میں دیکھنا ہو تو وہ عظیم ہستی تمام مؤمنوں کی ماں، حضورِ اکرم،نورِ مجسم،شاہِ بنی آدم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کیزوجۂ محترمہ حضرتِ سیّدتنا عائشہ صدّیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا ہیں۔


اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ ایک بار پھر مقدّس مہمان ماہِ رَمَضان کی آمد ہے۔اس  ماہ کےفرض روزے رکھنا نہ صِرف اُخروی فوائد و ثمرات کے حصول کا باعث ہے بلکہ انسانی جسم کی صحت و تندرستی میں بھی اس کا عمل دخل ہے۔ مختلف امراض میں مبتلااسلامی بھائی روزہ رکھنے کے حوالے سے پریشانی کا شکار ہوتے ہیں، انہیں چاہئے کہ اپنے طبیب کے مشورے سے مناسب غذا استعمال  کرنے کے ساتھ ساتھ احتیاط کا دامن تھامتے ہوئےفرض روزے ضرور رکھیں۔ اس مضمون میں بالخصوص شوگر (ذیابیطس) کے مریضوں کو روزہ رکھنے کے حوالے سے چند معروضات پیش کی گئی ہیں۔


اِرشادِ باری تعالیٰ ہے: ( یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الصِّیَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَۙ(۱۸۳))

ترجمہ:اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کئے گئے جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے، تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔ (پ2، البقرۃ :183)

روزے کی تعریف ”شریعت میں روزہ یہ ہے کہ صبح صادق سے لے کر غروبِِ آفتاب تک روزے کی نیّت سے کھانے پینے اور ہم بستری سے بچا جائے۔“


ہمارے پیارے آقا ،مدینے والے مصطفےٰ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:اَنَامَدِیْنَۃُ الْعِلْمِ وَ عَلِیٌ بَابُھَا میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں۔(معجم کبیر ،ج11ص65،حدیث: 11601)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!شیرِ خدا حضرتِ سیدنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تعالٰی وَجہَہُ الْکریم کی ذاتِ مُقَدّسہ میں دیگر اوصافِ حمیدہ اور خَصائلِ کریمہ کی طرح بہترین مشورہ اور دُرُست رائے دینے کی صلاحیت بھی کامل درجے کی تھی۔ حضرتِ سیّدنا ابوبکر صدیق رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ کا 2برس3ماہ کا  دورِ خلافت ہو یا حضرتِ سیّدنا عمر فاروق اعظم رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ کا ساڑھے دس سالہ زمانۂ خلافت 


آخر درست کیا ہےاور سیدھا راستہ کون سا ہے؟ یہ وہ سوال ہے جو ہمیشہ سے انسانی ذہنوں میں اٹھتا رہا ہےاور اس  کے جواب ہی پر انسانی زندگی کے طرزِ عمل کی بنیاد ہے۔ آسمانی مذاہب یہی سیدھا راستہ دکھانے کےلئے اُترے اور انبیاء علیھم السلام نے پوری شرح و بَسْط سے اسی سوال کا جواب دیا۔ آج بھی اس سوال کی اہمیت کم نہیں ہے، خصوصاً اِن حالات میں جبکہ  غیر مسلم،دین سے بیزار، لادین، دہریت  پسنداور اسلام کا تمسخر اڑانے والے سب لوگ خود کوراہ ِ راست پر سمجھتے ہیں اور یہی دعویٰ مسلمانوں کا بھی ہے۔


ماہنامہ رمضان المبارک کی ویڈیوز لائبریری



ماہنامہ رمضان المبارک کی بُک لائبریری