بزرگان دین کے مبارک فرامین

Image

شرم وحیا علمِ دین حاصل کرنے میں رکاوٹ نہیں


Image

جنّت کی زمین کے وارث وہ لوگ ہیں جو پانچوں نَمازیں باجماعت ادا کرتے ہیں۔


Image
لوگوں کے ساتھ اچّھا سُلوک کرنا نِصف (یعنی آدھی)  عَقْل ہے، اچھا سُوال کرنا نِصف عِلْم ہے جبکہ اچھی تدبیر اختیار کرنا نصف  زندگی ہے۔(اِرشادِ حضرت سیّدُنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ)(منبھات،ص 9)
Image
ہاں(دنیا میں حُقوقُ العباد) مُعاف کرالینا سَہْل (یعنی آسان) ہے، قِیامت کےدن اس کی(یعنی معافی کی) اُمّید مشکل کہ وہاں ہر شخص اپنے اپنے حال میں گرفتار نیکیوں کا طلبگار بُرائیوں سے بیزار ہوگا، پَرائی نیکیاں اپنے ہاتھ آتے اپنی بُرائیاں 
Image
میں نے حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے زیادہ خوبصورت کوئی نہ دیکھا، گویا آپ کا چہرہ سورج کی طرح چمکتا ہوا لگتاتھا۔ جب آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم مسکراتے تو دانتوں کی چمک سے دیواریں روشن ہو جایا کرتی تھیں۔
Image
جن لوگوں نے بزرگوں کی زیارت نہ کی ہو ان کے سامنے بزرگوں کا حُلیہ بیان کرنا چاہئے کیونکہ جس طرح بزرگوں سے ملاقات کرنا برکت کا باعث ہے یونہی ان کے چہرے کا تصور کرنے سے بھی برکت حاصل ہوتی ہے۔
Image
جس شخص کی آنکھوں سے خوفِ خدا کے سبب آنسو جاری ہوجائیں اور اس کے قَطْرے زمین پر گِریں تو جہنّم کی آگ اسے کبھی نہیں چُھوئے گی۔