حضرت مقدام بن  معدی کرب رضی اللہ عنہ


حضرت مِقدام بن مَعدی کَرِب  رضی اللہ عنہ


کم عمری میں جن خوش نصیب بچّوں کو اللہ پاک کے آخِری نبی حضرت محمدِ مصطفےٰ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کے صحابی ہونے کا شرف ملا اُن میں حضرت مِقدام بن مَعدی کَرِب  رضی اللہ عنہ  بھی شامل ہیں، آئیے! ان کے بچپن کے بارے میں پڑھ کر اپنے دِلوں کو محبّتِ صحابۂ کرام سے روشن کرتے ہیں:

آپ رضی اللہ عنہ کا شمار کم سِن صحابہ میں ہوتا ہے۔ ([1])

حُضور نے کندھے پر ہاتھ مارا:

ایک موقع پر رسولِ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے آپ کے کندھے پر ہاتھ مارا اور آپ کو يَاقُدَيْمُ کہہ کر مخاطب فرمایا۔([2])

یادرہے کہ یہ ہاتھ مارنا  ایسا نہیں تھا جیسے کہ ہمارے ہاں بدتہذیبی میں ایک دوسرے کے مارا جاتاہے بلکہ یہ نرمی  اور محبت کا انداز تھا جیسا کہ مشہور مفسر حضرت مفتی احمد یار خان  رحمۃُ اللہ علیہ   نے اس کی شرح میں اسے ہاتھ رکھنے سے تعبیر فرمایا ہے، چنانچہ لکھتے ہیں: کندھے پر ہاتھ رکھنا،قُدَیم تصغیر فرماکر خطاب کرنا کرم و محبّت کے لئے ہے۔([3])

وفد کے ساتھ حُضور کی بارگاہ میں حاضری:

آپ  رضی اللہ عنہ بنو کندہ کے اُس وفد میں شامل تھے جو رحمتِ عالَم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہوا تھا۔([4])

تعدادِ روایات:

آپ سے 47 احادیث مَروی ہیں۔ ([5])

غلّہ ناپ لیا کرو:

آپ  رضی اللہ عنہ  سے ایک روایت مروی ہے کہ رسولِ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے ارشاد فرمایا: اپنا غلّہ ناپ لیا کرو، تم کو اس میں بَرَکت دی جائے گی۔([6])

مفتی شریفُ الحق امجدی  رحمۃُ اللہ علیہ  فرماتے ہیں: یعنی غلّہ جب رکھو تو ناپ کر رکھو اور جب خرچ کرنے کے لئے نکالو تو ناپ کر نکالو اللہ تعالیٰ اس میں بَرکت دے گا۔([7])

وِصال:

حضورِ اکرم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کے وصالِ ظاہری کے وقت آپ  رضی اللہ عنہ  تقریباً 14سال کے تھے، کیونکہ آپ  رضی اللہ عنہ  نے 91سال کی عمر میں سِن 87 ہجری میں شام میں وفات پائی۔([8])

اللہ پاک کی ان پر رَحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری بےحساب مغفرت ہو۔

اٰمِیْن بِجَاہِ خاتمِ النّبیّٖن  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ شعبہ ماہنامہ فیضانِ مدینہ کراچی



([1])فتح الباری لابنِ حجر، 5/263

([2])دیکھئے: ابو داؤد، 3/183، حدیث:2933

([3])مراٰۃ المناجیح، 5/361

([4])الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، 4/44

([5])تہذیب الاسمآء واللغات، 2/415

([6])بخاری، 2/27، حدیث:2128

([7])نزہۃ القاری، 3/484

([8])طبقات ابن سعد، 7/290


Share