ندی کا پانی خشک ہوگیا
نبیِ رَحمت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بابَرَکت زندگی کا ہر لمحہ اللہ تعالیٰ کی قدرت، نصرت اور آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے بلند مرتبے کا آئینہ دار ہے۔ آپ کے بچپن کے اَدوار میں بھی ایسے انوکھے واقعات ظاہر ہوئے جو نہ صرف آپ کے خُصوصی مقام و شرف کی گواہی دیتے ہیں بلکہ ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ اللہ کے برگزیدہ بندوں کے ساتھ تعلق، ان کی اتباع اور یقینِ کامل کی دولت بندے کی راہوں سے رُکاوٹیں ہٹا دیتی ہے۔
جب رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی عمر دس سال سے چند سال زیادہ ہوئی، تو آپ اپنے چچا زبیر کے ساتھ ایک سفر پر روانہ ہوئے، دورانِ سفر قافلہ ایک ایسی وادی سے گُزرا جس میں ایک اُونٹ گزرنے والوں کے لیے راستہ کی رُکاوٹ بنا ہوا تھا، جب اس اُونٹ نے رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو دیکھا تو وہ بیٹھ گیا اور اپنے سینے (کے اگلے حصّے) کو زمین سے رگڑنےلگا۔
پس آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اپنے اُونٹ سے اُترے اور اس پر سوار ہو کر روانہ ہوئے یہاں تک کہ وادی پار کرلی تو اس اونٹ سے اُتر گئے۔پھر جب قافلہ کی اس سفر سے واپسی ہوئی تو رستے میں ایک ایسی وادی سے گزرے جہاں ندی بہہ رہی تھی اور پانی کا بہاؤ تیز تھا، جس کی وجہ سے قافلے والے رُک گئے (کیونکہ بہتا پانی آگے بڑھنے میں رُکاوٹ تھا) رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: میرے پیچھے پیچھے آجاؤ پھر آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم بے جھجک پانی میں اُتر گئے، اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ پانی فوراً خشک ہوگیا اور سب نے آپ کے پیچھے پیچھے اس ندی کو پار کر لیا۔ جب قافلے والے مکّہ پہنچے تو اس بات کا تذکرہ کرنے لگے کہ یہ لڑکا بڑی شان و مرتبے والا ہے۔ (سیرتِ حلبیہ، 1 / 170)
سُبْحٰنَ اللہ! ہمارے پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی شان و عظمت دیکھئے کہ راستہ کی رُکاوٹ بننے والا اونٹ آپ کو دیکھتے ہی بیٹھ گیا اور خود کو حُضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سواری کے لیے پیش بھی کردیا۔ اور پھر ندی سے گزرتے ہوئے پانی کا خشک ہوجانا تو عظیمُ الشّان معجزہ ہے۔ معجزے پر مشتمل اس واقعہ سے ہمیں چند باتیں سیکھنے کو ملتی ہیں:
*جانور بھی رسولِ اکرم سے محبّت و اپنائیت رکھا کرتے تھے۔
*اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو بچپن ہی سے اپنی خاص عنایتوں اور نشانیوں سے نوازا تاکہ اہلِ بصیرت ان کی شان کو پہچان سکیں۔
*جانوروں کے ساتھ بھی شفقت بھرا برتاؤ کرنا چاہیے اور جانور کی محبّت کا جواب محبّت بھرے برتاؤ سے دینا چاہیے۔
*اللہ تعالیٰ اپنے محبوب بندوں کو مشکلیں حل کرنے کا ذریعہ بنا دیتا ہے وہ جہاں قدم رکھتے ہیں، وہاں مشکلات خود راستہ چھوڑ دیتی ہیں۔
*ہمیں اپنے ساتھیوں اور ہم سفروں کے کام آنا اور ان کی مشکلات دور کرنی چاہئیں۔
*کامیابی کے راستے پر دوسروں کو بھی اپنے ساتھ رکھ کر کامیابی سے ہمکنار کرنا چاہیے۔
*کامیاب لوگوں کو Fallow کرنا کامیابی کی ضمانت ہے۔
*قدرتِ الٰہی کے سامنے کوئی ظاہری رُکاوٹ باقی نہیں رہتی، وہ چاہے جانور کا جمود ہو یا پانی کا بہاؤ، جب اللہ چاہے سب مسخّر (یعنی تابع)ہو جاتے ہیں۔
*مشکل وقت میں اہلِ ایمان کو ظاہری تدبیر سے زیادہ یقین و توکّل کے ساتھ قدم بڑھانا چاہیے، کیونکہ یقین راستے کھول دیتا ہے۔
*زندگی کے ظاہری راستوں پر اللہ والوں کے پیچھے چلنا جب منزل تک پہنچا دیتا ہے تو عمل کے راستے میں ان کے پیچھے چلنا بھی یقیناً کامیابی کا ضامن ثابت ہوگا ۔
*ہمیں کمال والے کا کمال تسلیم کرنا چاہیے اور کسی کی قابلِ تعریف بات کی تعریف کرنی چاہیے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ شعبہ ماہنامہ فیضانِ مدینہ کراچی
Comments