خلافت راشدہ اور مولا علی شیر خدا رضی اللہ عنہ(مختصر جائزہ)


خلافتِ راشدہ اورمولا علی  شیر خدا (مختصر جائزہ)

اسلامی تاریخ کے سنہرے اَوراق میں ایک ایسا باب ہے جو آفتابِ نبوّت کی ضِیا باریوں سے منوّر ہے، جہاں خُلَفائے راشدین کے قُلوب میں ایمان کی لَو، محبّت کا سمندر اور اَخوّت کے پھول کِھلے ہوئے نظر آتے ہیں۔ یہ وہ مقدّس دَور تھا جب دلوں میں باہمی احتِرام کی عظمت، خیر خواہی کی شمع اور بھائی چارے کی معطّر فضا موجزن تھی۔اس حوالے سے  بِالخصوص  شیرِ خدا، مولائے کائنات حضرت سیّدنا  علی المرتضیٰ   رضی اللہ عنہ   کے  وہ ایمان افروز، حکمت بھرے اور جرأت مندانہ اقدامات  قابلِ مطالعہ ہیں  جو انہوں نے خلفائے ثلاثہ کی عظمت و ناموس کی حفاظت، ان کے ریاستی فیصلوں کی شَرعی تائید اور اُمّت کے اتّحاد کی خاطر کیے۔ یہ وہ روشن مثالیں ہیں جنہوں نے مسلمانوں کی صفوں میں یک جہتی قائم رکھی، ریاست کے نظم و نسق کو مضبوط بنایا اور فتنہ پردازوں کی سرکوبی کا فریضہ سرانجام دیا۔

حضرت ابوبکرصدّیق   رضی اللہ عنہ   کی بیعت اور تائید

مسلمانوں کے پہلے خلیفہ حضرت ابوبکر صدّیق   رضی اللہ عنہ   نے خلیفہ بننے کے تین دن بعد فرمایا: کوئی ہے جو میری بیعت کو فسخ کرکے دستبرداری اور علیحدگی چاہتا ہو تاکہ میں اسے (بیعت کی پابندیوں سے) دستبردار کر دوں؟ تو مولا علی   رضی اللہ عنہ   نے  کہا: اللہ کی قسم! ہم نہ تو آپ کو اس عہدے سے دستبردار اور مستعفی کریں گے اور نہ ہی آپ سے استعفیٰ اور دستبرداری کا مطالبہ کریں گے، وہ کون (ہمّت والا اور طاقت والا)ہے جو آپ کو پیچھے کرے گا جبکہ رسول اللہ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے آپ کو آگے بڑھایا ہے؟ ([1])

خلافتِ صدّیقی کے حق ہونے کی تائید اور منافقین کا رَد

خلافتِ صدّیقِ اکبر کے شروع میں ایک قبیلے کے سردار  حضرت علی   رضی اللہ عنہ   اور حضرت عبّاس   رضی اللہ عنہ   کے پاس آئے اور عرض کی:اے علی اور اے عباس! کیا وجہ ہے کہ یہ خلافت قریش کے سب سے کمزور اور کم تعداد والے قبیلے میں چلی گئی ہے؟ اس پر حضرت علی   رضی اللہ عنہ   نے (ریاست کے نظم ونسق کو برقرار رکھنے اور ملکی نظام کو قوّت دینے کےلیے) فرمایا: اگر ہم حضرت ابوبکرصدیق   رضی اللہ عنہ   کو اس کا اہل نہ سمجھتے تو ہم انہیں خلیفہ تسلیم نہ کرتے،  بلاشبہ مؤمن ایک دوسرے کے خیر خواہ ہوتے ہیں اگرچہ ان کے گھر اور جسم دُور ہوں، اور بلاشبہ منافق لوگ آپس میں دھوکہ دینے والے ہوتے ہیں۔([2])

خلیفہ ٔ وقت  کی حفاظت  کی فکر اور دور اندیشی

جب کچھ لوگوں نے زکوٰۃ کا انکار کیا  اور مرتد ہوگئے تو حضرت ابوبکر صدّیق   رضی اللہ عنہ   بذاتِ خود ان سے جہاد کرنے کے لیے میدان میں نکلنے لگے،  تو حضرت علی  رضی اللہ عنہ  نے ان کی سواری کی لگام تھام کر عرض کی: اِلَى اَيْنَ يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللہ؟  اَقُولُ لَكَ مَا قَالَ لَكَ رَسُولُ اللهِ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  يَوْمَ اُحُدٍ: شِمْ سَيفَكَ، وَلَا تَفْجَعْنَا بِنَفْسِكَ، وَارْجِعْ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَوَاللَّهِ لَئِنْ فُجِعْنَا بِكَ لَا يَكُونُ بَعْدَكَ لِلْاِسْلَامِ نِظَامٌ اَبَدًا یعنی اے  خلیفۂ رسول ! آپ کہاں جا رہے ہیں؟ میں آپ سے وہی بات کہتا ہوں جو رسولُ اللہ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے آپ سے غزوۂ اُحد کے دن فرمائی تھی: اپنی تلوار نیام میں رکھیے اور اپنی جان کے غم میں مبتلا  نہ کیجیے اور مدینہ واپس تشریف لے جائیے۔ اللہ کی قسم! اگر ہمیں آپ کا صدمہ پہنچا تو آپ کے بعد اسلام کا نظام کبھی قائم نہیں ہو پائے گا۔([3])

خلافتِ صدیقی و فاروقی کو حجت و بنیاد قرار دیا

ایک موقع پر مولا علی شیرِ خدا    رضی اللہ عنہ   نے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ کریم نے حضرت صدّیقِ اکبر وفاروقِ اعظم   رضی اللہ عنہما دونوں کوبعد میں آنے والے تمام حکمرانوں کے لیے قِیامت تک کے لیے حجّت اور راہ نما بنادیا، اللہ پاک  کی قسم! یہ دونوں (اپنے اُمورِ خلافت کو بہتر طریقے سے انجام دینے میں)بہت دُور تک آگے بڑھ گئے ہیں (جہاں دوسرے نہیں پہنچ سکتے) اور ان دونوں نفوسِ قدسیہ  نے اپنے بعد میں آنے والوں کو بہت تھکا دیا۔([4])

مولا علی   رضی اللہ عنہ   کا یہ فرمان  خلافتِ راشدہ کے نِظام اور بہترین طرزِ حکمرانی کی اہمیّت پر ایک دستخط اور مہر کی حیثیت رکھتا ہے۔

 گستاخِ شیخین کے لیے سخت تادیبی کاروائی

حضرت علی   رضی اللہ عنہ   نے حضرت ابوبکر و حضرت عمر   رضی اللہ عنہما کے بارے میں گستاخانہ کلمات کہنے والوں کے لیے ایک سخت اخلاقی اور قانونی حدود کا اعلان کیا،   ایک مرتبہ کسی نے عرض کی: اے امیر المؤمنین! میں ایک ایسے گروہ کے پاس سے گُزرا جو  صدّیقِ اکبر وفاروقِ اعظم   رضی اللہ عنہما کا تذکرہ اس طرح کررہے تھے جو اسلام میں رَوا نہیں ۔یہ سن کر مولا علی شیر خدا  رضی اللہ عنہمنبر پرکھڑے ہوگئے اور ارشاد فرمایا: خالقِ کائنات کی قسم! صرف حقیقی مؤمن ہی ان دونوں سے محبّت کرے گا اور بدبخت وبد دین ہی ان سے نفرت ومخالفت کرے گا کیونکہ ان کی محبّت قربت (ایمان حقیقی) اور ان سے نفرت بے دینی ہے۔ لوگوں کو کیا ہوگیا کہ رسولُ اللہ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کے ان دونوں بھائیوں ، وزیروں ، دوستوں ، قریش کے سردار اور مسلمانوں کے روحانی والدین کااس طرح ذکر کرتے ہیں (پھر مولا علی نے گستاخوں کا منہ بند کرتے ہوئے فرمایا) میں ہراس شخص سے بےزار  ہوں جو ان کا اس بُرے انداز میں ذکر کرتا ہے اورمیں اسے سزا دوں گا۔([5])

ایک مرتبہ صدّیقِ اکبر اور فاروقِ اعظم کی عزّت و ناموس پر پہرا دیتےہوئے یوں فرمایا: رسولُ اللہ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے سبقت لے لی، پھر حضرت ابوبکر دوسرے ہوئے اور عمر فاروق تیسرےہوئے۔ اگر میں کسی ایسے شخص کو پاؤں جو مجھے ابوبکر اور عمر   رضی اللہ عنہما  پر فضیلت دے تو میں اسے مفتری (یعنی تہمت لگانے والے)  کی حَد کے طور پر 80 کوڑے ماروں گا اور اس کی گواہی قابل قبول نہ ہوگی۔([6])

خلافتِ فاروقی کے فیصلوں کو قائم رکھا

مولا علی شیرِ خدا    رضی اللہ عنہ  نے   خُلفائے ثلاثہ کے دَور ہی میں نہیں بلکہ ان کے بعد بھی ان  کے ساتھ محبّت و اَدَب کا رشتہ قائم رکھا اور ان کے اقداماتِ حقہ کی تائید و توثیق بھی کی، جیسا کہ امیرُ المؤمنین حضرت عمر فاروقِ اعظم   رضی اللہ عنہ   نے اہلِ نجران کو ملک بدر کردیاتھا۔مولا علی شیر خدا   رضی اللہ عنہ   کے دَور ِ خلافت میں وہ لوگ آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کی: اے امیر المؤمنین! اب کاغذی کارروائی آپ کے ہاتھ میں ہے،پہلے بھی آپ نے ہمارے لیے سفارش کی تھی، حضرت عمر   رضی اللہ عنہ   نے ہمیں ہماری زمین سے نکال دیا تھا آپ ہمیں دوبارہ لوٹنے کی اجازت مرحمت فرمادیں۔ یہ سن کر مولا علی شیر خدا نے (فاروقِ اعظم   رضی اللہ عنہ   کےفیصلہ کا دفاع کرتے ہوئے اسے درست قرار دیا اور)  فرمایا: تمہاری بربادی ہو، بے شک حضرت  عمر فاروق   رضی اللہ عنہ   بالکل درست فیصلہ فرمانے والے تھے اور یاد رکھو! حضرت عمر فاروقِ اعظم   رضی اللہ عنہ   نے جو فیصلہ فرمادیا میں اس میں ذرّہ بھر تبدیلی نہیں کروں گا۔([7])

معاہدہ فاروقی کو قائم رکھا

حضرت مولا علی   رضی اللہ عنہ   کوفہ تشریف لائے تو آپ نے ارشاد فرمایا:مَا قَدِمْتُ لِاَحُلَّ عُقْدَةً شَدَّهَا عُمَرُ یعنی امیر المؤمنین حضرت عمر   رضی اللہ عنہ   نے جو معاہدہ کرلیا تھا میں اسے ہرگز نہیں توڑوں گا۔([8])

دورِ فاروقی اور مولا علی کی مشاورتی خدمات

ایک مرتبہ حضرت فاروقِ اعظم   رضی اللہ عنہ   نے فارس پر لشکر کشی کے لیے خود نکلنے کا اِرادہ کیااور صحابۂ کرام   رضی اللہ عنہم سے مشورہ مانگا: آپ لوگوں کی کیا رائے ہےکہ میں یہاں سے کچھ لوگوں کو ساتھ لے جاؤں اور وہاں قریب کسی مقام پر ٹھہر کراسلامی لشکر جمع کروں اور مسلمانوں کی مدد کروں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو فتح عطا فرمادے۔ اکثر صحابہ نے عرض کی: ہماری رائے یہ نہیں ہے (کہ آپ ان کے پاس چلے جائیں) ہاں! آپ کے مشورے اور رائے ان سے دُور نہیں ہیں (یعنی ان کے کام آئیں گے ) لڑنے کے لیے عرب کے شہ سوار اور جنگجو اور بہادر کافی ہیں ان ہی لوگوں نے دشمن کے لشکروں کو شکست فاش دی ہے، بعض صحابہ   رضی اللہ عنہم نے اس رائے پر تنقید کی، پھر حضرت علی   رضی اللہ عنہ   کھڑے ہوئے اور کہنے لگے: اکثر حضرات نے جو رائے دی ہے وہ درست ہے جنگ میں کامیابی اور ناکامی کا دارومدار تعداد کے کم یا زیادہ ہونے پر نہیں ہے، یہ تو اللہ کا دین ہے جس کو اس نے غالب کردیا ہے اور اسی کا لشکر ہے جسے اس نے فرشتوں کےذریعے مضبوط کیا یہاں تک کہ اسلامی لشکر اس مقام تک پہنچ گیا ہے ہم تو اللہ کے وعدے پر بھرو سا کرتےہیں وہی اپنے وعدے کو پورا کرنے والا ہے اور اپنے لشکر کی مدد کرنے والا ہے۔([9])

مولا علی   رضی اللہ عنہ   کی بیعتِ عثمانی اور  فساد کی  روک تھام

حضرت علی   رضی اللہ عنہ   نے تیسرے خلیفہ راشد حضرت سیّدنا عثمانِ غنی   رضی اللہ عنہ  کی  نہ صرف بیعت میں سبقت کی بلکہ فسادی گروہوں کو مدینہ پہنچنے سے پہلے ہی راستے میں روک کر اور انہیں ملامت کر کے ایک عظیم  خدمت اور عملی دفاع کا مظاہرہ کیا۔

بہت سے مورّخین کی رائے ہے کہ حضرت علی   رضی اللہ عنہ   حضرت عثمان   رضی اللہ عنہ    کی بیعت کرنے والوں میں سب سے پہلے تھے ۔ایک مرتبہ مولا علی   رضی اللہ عنہ   کو خبر پہنچی کہ عبد اللہ بن سبا جو اصل کے اعتبار سے یمن کا ایک یہودی تھا ایک گروہ کو لے کر مدینے کی جانب چلا آرہا ہے تاکہ لوگوں کو خلیفہ حضرت عثمان  رضی اللہ عنہ  کے خلاف بھڑکائے (اور امن و سکون کو برباد کرے) تو حضرت علی  رضی اللہ عنہ  نے حضرت عثمان  رضی اللہ عنہ  سے عرض کی: میں آپ کو ان (فسادی ) لوگوں کے شر سے محفوظ رکھوں گا ، پھر حضرت علی ان فسادیوں سے راستے میں مقامِ جُحْفَہ میں ملے ،انہیں ڈانٹ پلائی ، ملامت کیا اور واپس لوٹادیا، یہ لوگ اپنے آپ کو شرمندہ کرتے ہوئے واپس چلے گئے۔([10])

دَورِ عثمانی میں مولا  علی  رضی اللہ عنہ   کا سفیرانہ کردار

مولا علی   رضی اللہ عنہ   جہاں  ایک بہترین مشیر اور انتظامی معاملات پر گہری نگاہ  رکھتے تھے وہیں ایک بہترین  سفیر   ہونے کی صلاحیت سے مالا مال تھے ۔ 

جب اہلِ مصر جُحْفَہ میں آئےاور حضرت عثمان   رضی اللہ عنہ   پر اعتِراضات کیے توحضرت عثمان   رضی اللہ عنہ   منبر پر  جلوہ افروز ہوئے اور فرمایا: اے پیارے نبی کے صحابہ! مجھے بُرا بنایا جارہا ہے،بُرائیوں کو پھیلایا جارہا ہے، نیکیوں کو چُھپایا جارہا ہے میرے بارے میں نادان لوگوں کو بے وقوف بنایا جارہا ہے ، تم میں کوئی ایسا ہےجو ان لوگوں کے پاس جائے اور پوچھے کہ وہ کس چیز پر ناراض ہیں اور کیا چاہتے ہیں؟شیرِ خدا  مولا علی  رضی اللہ عنہ   کھڑے ہوئے اور عرض کی :میں(یہ ذمّہ داری قبول کرتا ہوں )۔ یہ دیکھ کر حضرت عثمان نے فرمایا:آپ ان کو زیادہ جانتے بھی ہیں اور ان سے پوچھ گچھ کرنے کا زیادہ حق بھی رکھتے ہیں ، حضرت مولا علی (حضرت عثمان کےسفیر بن کر ) اہلِ مصر کے پاس گئے، تو انہوں نے آپ کو خوش آمدید کیا اور کہا: ہمارے پاس آپ سے زیادہ کوئی محبوب شخص نہیں آیا۔ آپ نے پوچھا:تم لوگ کس بات پر ناراض ہواور تمہاری شکایات کیا ہیں ؟ انہوں نے اپنی شکایات بتائیں([11])مولا علی   رضی اللہ عنہ  نے سفارتی پہلو کو سامنے رکھا اور خاموشی سے ان لوگوں کی شکایات لے کر حضرت عثما ن کے پاس پہنچے تو حضرت عثمان   رضی اللہ عنہ   نے ان لوگوں کو جوابات بھجوائے (مولا علی نے حضرت عثمان غنی کے جوابات ان لوگوں تک احسن طریقے سے پہنچائے) تو لوگ راضی ہو گئے اور خوشی خوشی مدینہ میں داخل ہو گئے۔ اور حضرت عثمان   رضی اللہ عنہ   نے اس بارے میں اہلِ بصرہ اور اہلِ کوفہ کو بھی خط لکھ دیا کہ جو شخص مدینہ حاضر نہ ہو سکےتووہ (کسی کو یہاں مدینے میں)اپنا وکیل مقرّر کر دے(اور جو شکایت ہو حل کروالے)۔ ([12])

یہ تمام واقعات  انتہائی اختصار کے ساتھ پیش کیے گئے ہیں اس کے علاوہ بھی اَوراقِ تاریخ میں سینکڑوں ایسے واقعات اور مثالیں موجود ہیں جن سے واضح  ہو تا ہے کہ مولا علی شیرِ خدا  رضی اللہ عنہ  کو خلفائے ثلاثہ سے کس قدر محبّت تھی اور آپ ان کا کس قدر اِکرام فرماتے تھے اور ان کے دَورِ خلافت میں بھی دینی خدمات کے لیے پیش پیش رہتے تھے۔  شیرِ خدا  کی یہ تابناک خدمات اور ایمان افروز اقدامات اُمّتِ مسلمہ کے لیے ایک روشن چراغ اور ہمیشہ کے لیے قابلِ تقلید نمونہ ہیں۔ آپ نے خلفائے ثلاثہ کی بیعت، حمایت، دفاع اور ان کے فیصلوں کی توثیق کے ذریعے اسلامی ریاست کے استحکام، اُمّت کے اتّحاد اور خلافتِ راشدہ کے تسلسل کو یقینی بنایا۔ اللہ کریم ہمیں خلفائے راشدین کی محبّت سے سرشار فرمائے اور آخِرت میں ان کا قُرب و وسیلہ عطا فرمائے۔

اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* سینیئر استاذ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضانِ مدینہ، کراچی



([1])تاریخ ابن عساکر، 30/306

([2])کنز العمال، جز5، 3/262، حدیث:14152

([3])کنز العمال،جز5، 3/262،حدیث:14154

([4])مناقب امیر المؤمنین عمر بن الخطاب لابن الجوزی، ص42

([5])مناقب امیر المؤمنین عمر بن الخطاب لابن الجوزی، ص42

([6])كنز العمال ، جز13، 7/6، حدیث:36097

([7])مصنف ابن ابی شیبہ، 17/65، حدیث:32667

([8])مصنف ابن ابی شیبہ،17/65،حدیث:32668

([9])تاریخ طبری، 4/123تا 124 ملخصاً

([10])فقہ السيرةللبوطی، 540 تا 541ملخصاً

([11])تاریخ ابن عساکر، 39/249

([12])تاریخ ابن عساکر، 39/249


Share