بیٹیوں کو سحرو افطار کا سلیقہ سکھائیں


بیٹیوں کو سحر و افطار کا سلیقہ سکھائیں


خاندانی نِظام کی مضبوطی اور گھر کے ماحول کی خوبصورتی میں بیٹیوں کا کردار نہایت اہم ہے۔ خُصوصاً رمضانُ المبارَک جیسے مقدّس مہینے میں جب گھروں میں عبادت، خیرخواہی، بَرَکت اور روحانیت کی فضائیں بکھرتی ہیں، تو سَحر و اِفطار کے معمولات مزید اہمیّت اختیار کر لیتے ہیں۔ ایسے میں والدین کی ذمّہ داری ہے کہ وہ بیٹیوں کو نہ صرف روزہ رکھنے کی اہمیّت بتائیں بلکہ سحر و افطار کی تیاری کا سلیقہ، ترتیب، اخلاق اور حکمت عملی بھی سکھائیں تاکہ آنے والی نسلوں میں بھی دین و تہذیب کا یہ خوبصورت ورثہ محفوظ رہے۔

سحر و افطار کی تربیَت کیوں ضَروری؟

سحر و افطار کا اہتمام صرف کھانے پینے کا معاملہ نہیں، بلکہ یہ نظم و ضبط، وقت کی پابندی، مہمان نوازی، شکرگُزاری اور ایثار جیسی خوبیاں پروان چڑھانے کا ذریعہ ہے۔ بیٹی جب سحر و افطار کی تیاری کرنا سیکھتی ہے تو وہ مستقبل میں اپنی زندَگی میں یہ حسنِ عمل منتقل کرتی ہے۔ اس سے گھروں میں محبّت، تعاون اور دینی ماحول قائم رہتا ہے۔

سحر کا اہتمام، حکمت اور ترتیب:

سحر کا وقت بَرَکت والا وقت ہے۔ اس لیے بیٹیوں کو یہ شعور دیا جائے کہ وہ جلد بیدار ہونے کی عادی ہوں، والدہ بیٹی کو آرام سے اپنے ساتھ جگائیں، بیٹی نہ اٹھے یا سُستی دکھائے تو چیخنے چلانے کے بجائے حکمتِ عملی اپنائے، پہلے ہی دن تربیَت دینے میں سختی نہ دِکھائے، ایسے بیٹی بددل ہوسکتی ہے، اس کے لیے رمضانُ المبارَک آنے سے پہلے ہی تھوڑی تھوڑی تربیَت شروع کردیں تاکہ بیٹی مینٹلی بھی تیار ہو اور شوق بھی پیدا ہو، سب سے پہلے تو سحری تیار کرنے سے اتنا پہلے اُٹھیں کہ تحمل سے تہجد اَدا کر پائیں پھر بیٹی کی عمر کے مطابق کام تقسیم کرلیں مثلاً بیٹی اتنی چھوٹی ہے کہ پکانے میں ہاتھ نہیں بٹا سکتی تو اپنے پاس بٹھائیں، اچّھی اچّھی باتیں بتائیں اور ضَرورت کی چھوٹی چھوٹی چیزیں منگوائیں، پانی کی بوتلیں/جگ بھردیں، دسترخوان پر کھانا سجاتی جائیں، گھر کے دیگر افراد کو جگانے کا کہہ دیں۔ اور بیٹی کچھ بڑی ہو تو چائے بنانے کا کہہ دیں، آپ روٹی بنا لیں وغیرہ، اور اس سب کے دوران کچھ لاپرواہی ہونے پر شور شرابا ڈانٹ وغیرہ سے بچیں بلکہ کام خراب ہونے پر درست طریقہ بتائیں،بیٹی جب ماں کو صبر و تحمل کے ساتھ سحری بناتا دیکھے گی تو اس کے اندر بھی ایسے ہی صبر و تحمل پیدا ہوگا، جبکہ اس کے برعکس اگر ماں خود عین ٹائم پر اُٹھے،وقت کی کمی کے سبب بیٹی کو اُٹھانے کے لیے کچن سے ہی شور کرتی جائے چیخنا چلانا ہو، اور جب بیٹی اُٹھے تو ماں کو غصّے میں کام کرتا دیکھے جلد بازی میں کام ہورہا ہے ایک چولہے پر چائے رکھی ہے تو ایک پر روٹی بن رہی ہے چائے کی طرف دھیان دیا تو روٹی جل رہی ہے، روٹی پر دھیان دیا تو چائے اُبل اُبل کر گر رہی ہے، ایک عجیب افراتفری والا معاملہ بنا ہوا ہو، دیگر گھر والوں کو اُٹھانے میں مزید گھر کا ماحول بدامنی کا شکار ہورہا ہو تو جب بیٹی سحری بنائے گی اس کا بھی انداز فطری طور پر ایسا ہی سامنے آئے گا جبکہ پہلے طریقے پر جب عمل کیا تو بہت بہتری اور بدلاؤ والا پُرسکون اور روحانی ماحول ہوگا، گھر کا ماحول ہرگز ہرگز خراب نہ ہونے دیں، گھر والوں کا خیال رکھیں اور سحر کے کھانے کی تیاری میں نَفاست دکھائیں۔ سحر کے وقت گھر کے افراد کے آگے مسکرا کر کھانا رکھیں۔ اس تربیَت سے بیٹی میں صبر، خدمت اور دل جوئی جیسی اعلیٰ صِفات پیدا ہوتی ہیں۔

اِفطار کا سلیقہ:

بیٹیوں کو سکھائیں کہ وقت سے پہلے تیاری کرنی ہے، بغیر شور مچائے سنّتوں بھری پیاری میٹھی گفتگو کرتے ہوئے کام کریں، بیٹی کو اس کی عمر کے حساب سے کام دیں، اگر چُھری احتِیاط کے ساتھ استِعمال کرنا آتی ہے تو فروٹ کاٹنے کا کام ان کے ذمّے کردیں، شربت بنانا، بوتلیں بھرنا، دسترخوان سجانا، اِفطار کے بعد سب سمیٹنا، برتن دھونا، سنبھالنا وغیرہ، پکانا آتا ہے تو پاس بیٹھ کر کھانا بنوائیں، عموماً افطار میں ایسے پکوان بن رہے ہوتے ہیں جو عام دنوں میں نہیں بنتے تو بیٹی کو طرح طرح کے پکوان بنانا سکھائیں، افطار کی تیاری میں پورا مہینا ملٹی ٹاسکنگ ہوتی ہے اس کو کیسے ہینڈل کرنا ہے سکھائیں، گھر میں کس کو کیا پسند ہے اور کیا پسند نہیں ہے اس کو بھی پیش نظر رکھیں، کس چیز کو پکانے کے لیے اس کا توازن کیا ہوگا اس بات پر بھی تربیَت ہو، نمک مرچ کو کیسے بیلنس رکھنا ہے یہ افطار کے وقت ایک انتہائی اہم مسئلہ ہے جس کی وجہ سے کہیں نہ کہیں لڑائی جھگڑے بھی دیکھنے کو ملتے ہیں، افطار جو کہ قبولیتِ دعا کا وقت ہوتا ہے مگر افسوس کئی گھروں میں اُس وقت میدانِ جنگ بنا ہوتا ہے اس سے بچنا چاہیے۔بیٹی کو سکھائیں کہ افطار کا دسترخوان سجاتے وقت پانی اور کھجور کو سب سے پہلے سامنے رکھیں۔

روحانی پہلو کی تربیَت:

بیٹیوں کو یہ بھی سکھایا جائے کہ سحر و افطار صرف کھانے کا نام نہیں بلکہ قُربِ الٰہی کا ذریعہ ہے۔ انہیں دُعا، صبر اور شکر کا درس دیں۔افطار کی تیاری کے دوران نَماز کے وقت میں پہلے نَماز اَدا کرنی ہے، افطار کے لمحات میں مانگی جانے والی دُعا قبولیت کا درجہ رکھتی ہے، اس لیے ان لمحات کو ذِکر و دُعا سے مزیّن کرنا سکھائیں۔ اسی طرح انہیں قراٰنِ پاک کی تلاوت، نوافل اور نیکی کے دیگر کاموں میں حصّہ لینے کی ترغیب دیں تاکہ رمضان ان کے لیے روحانی تربیَت کا مہینا ثابت ہو۔ بیٹیوں کو سحر و افطار کا سلیقہ سکھانا دراصل ایک خوبصورت دینی اور اخلاقی ذمّہ داری ہے۔ یہ تربیَت صرف کھانے کی تیاری تک محدود نہیں بلکہ اس کے ذریعے حَیا، خدمت، شکرگُزاری، محبّت اور دین دوستی جیسے اوصاف ان کی شخصیت میں پروان چڑھتے ہیں۔ جو بیٹی آج اپنی ماں سے سحر و افطار کا سلیقہ سیکھتی ہے، وہ کل ایک گھر میں روشنی، سکون اور رحمت کا سبب بنتی ہے۔ یہی تربیَت نسلوں کو سنوارتی ہے اور اسلامی تہذیب کو زندہ رکھتی ہے۔ یاد رہے ان سب کاموں میں بیٹی کی جو تربیَت کرنی ہے اس میں بیٹی کا شوق اور جذبہ بڑھانا ہے اس پر کام مسلّط نہیں کرنا کہ اسے کام نہیں آتا مگر زبردستی کروانا ہے اس طرح بیٹی کام سے بیزار ہوگی اور بوجھ سمجھے گی دل سے شوق و لگن کے ساتھ کام نہیں کرے گی، بیٹی کا کام سکھاتے وقت تربیَت کے دوران پہلے اُس کام کا شوق پیدا کروانا ہے، شوق شوق میں بیٹیاں چھوٹی عمر سے پورا گھر سلیقے سے سنبھالنا بھی سیکھ جاتی ہیں، جبکہ بیزاریت اور بوجھ سمجھتے ہوئے بڑی عمر میں ہوتے ہوئے بھی وہ سلیقہ نہیں لا پاتیں اور کام سے جان چھڑانا چاہتی ہیں۔

سحر و افطار میں احتِیاط سکھائیں:

 بیٹیوں کو سکھائیں کہ سحر و اِفطار میں اِسراف، دکھاوا یا بے جا پکوانوں کی بھرمار سے بچنا چاہیے۔ بیٹیوں کو سکھائیں کہ سحر میں ہلکی اور مفید غذائیں زیادہ بہتر ہیں، جیسے دودھ، کھجور، پھل، انڈا، دلیہ یا ہلکی روٹی وغیرہ۔ بہت زیادہ تیز مصالحہ یا نمک والے کھانوں سے روزے کے دوران پانی کی کمی بڑھ سکتی ہے اور بلڈ پریشر والے افراد کے لیے خطرہ ہو سکتا ہے۔ صحّت، عمر اور روزہ دار کی جسمانی حالت کے مطابق سحری اور افطار میں ان اشیاء کے استِعمال میں فرق ہو سکتا ہے۔

اِفطار میں احتِیاط:

افطار کے وقت پکوڑے، سموسے، تلی ہوئی چیزیں اور کولڈ ڈرنک وغیرہ عموماً زیادہ کھائی جاتی ہیں، مگر ماہرینِ غذائیّت کی رائے ہے کہ رَمضان میں صحّت مند رہنے کے لیے ان کی مقدار اور قسم پر خاص توجّہ دی جائے۔ تلی ہوئی (fried) اور زیادہ چکنائی والی غذائیں، جیسے سموسے، پکوڑے وغیرہ، روزہ کے بعد ہاضمے پر بوجھ ڈال سکتی ہیں اور معدے کی تیزابیّت، بدہضمی و سستی یا وزن بڑھنے کا سبب بن سکتی ہیں، کولڈ ڈرنکس اور زیادہ شکر (sugar) یا مصنّع (processed) اجزاء پر مشتمل اشیاء، وزن میں اضافے، energy کے اچانک اُتار چڑھاؤ اور معدے کے مسائل پیدا کر سکتی ہیں۔ چند سادہ اور مفید چیزیں افطار کے لیے کافی ہیں۔

رمضانُ المبارَک میں اپنے گھر مدنی چینل ضَرور عام کریں بِالخصوص سحر و افطار کے اوقات میں، بعدِ عصر اور بعدِ عشا ہونے والے مدنی مذاکرے بھی دیکھنا نہ بھولیں۔ اس میں عقائد اور شرعی مسائل کے ساتھ ساتھ گھریلو مسائل اور ان کا حل، اولاد کی تربیَت، میاں بیوی، والدین عزیز و اَقارِب کے لحاظ سے مختلف پہلوؤں پر بہت مفید راہنمائی اور مشورے ملتے ہیں جن پر عمل کرنے سے گھر کے ماحول میں بہت بدلاؤ دیکھا جاتا ہے۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* نگران عالمی مجلس مشاورت (دعوتِ اسلامی) اسلامی بہن


Share

Articles

Comments


Security Code