پوچھ کر دیکھ لیجئے


پوچھ کر دیکھ لیجیے

(You should ask once)

بیرونِ ملک مقیم ایک شخص نے بتایا کہ میں منہ اندھیرے چلنے والی ٹرین سےاپنی نوکری پرجایا کرتا تھا۔ٹرین میں صبح صبح تمام مسافروں کو ایک ایک کپ چائے پیش کی جاتی تھی۔ایک دن مجھے چائے کی مزید طلب ہوئی تو میں نے ساتھ بیٹھے آدمی سے پوچھا : کیا آپ اور چائے پئیں گے؟ اس کا جواب تھا کہ آپ کا دماغ خراب ہوگیا ہے،ٹرین والے ہر مسافر کو ایک ہی کپ چائے کا دیتے ہیں۔ اس کے جارحانہ جواب سےمیں بدمزہ تو ہوا لیکن میں نے پوچھ کر دیکھنے کا فیصلہ کیااور ویٹر کو بلا کر پوچھا : ایک کپ چائے اور مل سکتی ہے ؟ اس نے کہا: کیوں نہیں! اور میرے لیے گرما گرم چائے لے آیا۔ اب میں نے ساتھ والے آدمی کو دوبارہ چائے کی دعوت دی تو وہ شرمندہ سا ہو کر بولا: نہیں ! میرا موڈ نہیں ہے۔

اس دنیا میں ہمارے بہت سے کام ایک دوسرے پر موقوف ہوتے ہیں جیسے اسٹوڈنٹ اور ٹیچر، اولاد اور والدین، دکاندار اور خریدار، افسر اور ملازم وغیرہ کو ایک دوسرے سے کام پڑتا رہتا ہے۔ جب ہمیں کسی سے کام پڑتا ہے تو تین قسم کے خیالات ہمارے ذہن میں ہوتے ہیں ؛(1)یہ ہمارا کام کردے گا یعنی 100 فیصد چانس(2)پتا نہیں کہ یہ ہمارا کام کرے گا یا نہیں؟ففٹی ففٹی چانس(3)یہ کبھی ہمارا کام نہیں کرے گا(زیرو چانس)۔تیسری صورت میں ہم ایسے شخص کو کام ہی نہیں کہتے حالانکہ پوچھ لینے میں حرج نہیں کہ کیا آپ میرا یہ کام کردیں گے؟ یا یہ کام ہوسکتا ہے؟ یاد رکھیے یہ امکانات کی دنیا ہے،ہوسکتا ہے کہ آپ کا کام ہوجائے۔

چند مثالیں:

*اسٹوڈنٹ کو کلاس میں سبق سمجھ نہ آئے تو اپنا یہ ذہن نہ بنائے کہ میرے ٹیچر بہت مصروف شخص ہیں، یہ کہاں مجھے الگ سے سبق سمجھائیں گے،بلکہ پوچھ کر دیکھ لے،عین ممکن ہے کہ بیزی ہونے کے باوجود ٹیچر اس پر شفقت کریں اور الگ سے سبق سمجھا دیں۔٭بچے کودوستوں کے ساتھ کسی جگہ جانا ہو،کچھ اسپیشل کھانا ہو یا روٹین سے ہٹ کر کوئی چیز خریدنی ہو تو وہ اپنے ابو یا امی سے اجازت لینے سے یہ سوچ کر گھبراتا ہے کہ میرے والدین بہت سخت ہیں وہ کبھی اجازت نہیں دیں گے تو والدین سے مہذب انداز میں پوچھ کر دیکھ لے،ہوسکتا ہے کہ والدین لچک کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے مطلوبہ کام کی اجازت دے دیں۔ ٭دکاندار جب خریدار کو کسی چیز کی قیمت بتا کر کہتا ہے کہ یہ فائنل ریٹ ہے تو خریدار اس چیز کو خریدنے کا ارادہ ہی ترک کردیتا ہے حالانکہ اسے چاہیے کہ پوچھ کر دیکھ لے کہ کچھ گنجائش نکل سکتی ہے؟ تو اکثر گنجائش نکل ہی آتی ہے۔ اسی طرح ہم کچھ لوگوں کو نمازِ باجماعت پڑھنے، روزہ رکھنے، دعوتِ اسلامی کے قافلوں میں سفر کرنے، اجتماعات میں شریک ہونے کی دعوت دینےسے یہ سوچ کر کترا جاتے ہیں کہ یہ کہاں ہماری بات مانے گا؟ لیکن ایسے سینکڑوں بلکہ ہزاروں واقعات ریکارڈ پر ہیں کہ جب مبلغینِ دعوتِ اسلامی نے ایسوں کو نرمی سے دعوت دی تو انہوں نے اس پر لبیک کہا اور بتدریج دعوتِ اسلامی کے دینی ماحول میں شامل ہوگئے۔ بہرحال! اس طرح کی سینکڑوں مثالیں معاملاتِ حیات میں تلاش کی جاسکتی ہیں۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* چیف ایڈیٹر ماہنامہ فیضانِ مدینہ، رکن مجلس المدینۃ العلمیہ کراچی


Share