مصیبت کے ایام


مصیبت کے ایام

راحت اور مصیبت دونوں زندگی کا حصہ ہیں۔انسان کسی بھی وقت کسی بھی قسم کی مصیبت میں مبتلا ہوسکتا ہے۔مصیبت کے ایام کم بھی ہوسکتے ہیں اور زیادہ بھی۔مصیبت میں پریشان ہونا فطری بات ہے لیکن قراٰن پاک کی اس آیت پر توجہ کرنی چاہیے:

اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًاؕ(۶)

ترجَمۂ کنزالایمان: بےشک دشواری کے ساتھ اور آسانی ہے۔ ([1])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

آپ کوہمت اور حوصلہ ملے گا۔

مصیبت کی شدت اور طوالت،لوگوں کے روکھے رویے اور کوئی حل نہ دکھائی دینا بعض اوقات بندے کو مایوس کردیتا ہےاور مایوسی خود ایک مصیبت ہے۔اگر چند باتوں کو پیشِ نظر رکھا  جائے تو مصیبت کے ایام کو حوصلے اور ہمت کے ساتھ گزارنا نصیب ہوگا۔اِن شآءَ اللہ الکریم۔

(1)مصیبت کبھی آزمائش ہوتی ہے اور کبھی گناہوں کی سزا کے طور پر!سورۂ شوریٰ میں ہے:

وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍؕ(۳۰)

ترجَمۂ کنزالایمان: اور تمہیں جو مصیبت پہنچی وہ اس کے سبب سے ہے جو تمہارے ہاتھوں نے کمایا اور بہت کچھ تو معاف فرمادیتا ہے۔([2])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

بہرحال رب العالمین کی بارگاہ میں اپنے گناہوں سےسچی توبہ کرنی چاہیے۔ فرمانِ مصطفےٰ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے: گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسے اُس نے گناہ کیا ہی نہیں۔([3])

(2)اسلامی تعلیمات کے مطابق دعا اللہ سے تعلق کی مضبوط علامت ہے اور یہ نہ صرف نازل شدہ مصیبت کو دور کرتی ہے بلکہ آنے والی بلا کو بھی ٹال دیتی ہے۔ اس لیے اللہ رحمٰن سے اپنی مصیبت دور ہونے کی دعا کیجیے،سورۂ مؤمن میں ہے:

ادْعُوْنِیْۤ اَسْتَجِبْ لَكُمْؕ-

ترجَمۂ کنزالایمان: مجھ سے دعا کرو میں قبول کروں گا۔([4])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

(3)صدقہ دیجیے کہ یہ مصیبت کو ٹال دیتا ہے۔ نبیِّ اکرم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے فرمایا: صَدَقہ دو اورصَدقے کے ذَرِیعے اپنے مریضوں کا مُداوا کیا کرو بے شک صَدَقہ حادِثات اور بیماریوں کی روک تھام کرتا ہے اور یہ تمہارے اَعمال اور نیکیوں میں اِضافے کا باعِث ہے۔([5])

(4)مصیبت یا بیماری آنے پر یہ ذہن بنائیے کہ ہو سکتا ہے کہ عمل کی کمی مصیبت کے ذریعے پوری کی جارہی ہو:فرمانِ مصطفےٰ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  ہے: جب کسی بندے کے لیے اللہ پاک کی طرف سے کوئی درجہ مقدر ہوچکا ہو جہاں تک یہ اپنے عمل سے نہیں پہنچ سکتا تو ا پاک اسے اس کے جسم یا مال یا اولاد کی آفت میں مبتلا کردیتا ہے پھر اسے اس پر صبر بھی دیتا ہے یہاں تک کہ اسے اس درجہ تک پہنچا دیتا ہے جو اللہ نے اس کے لیے مقدر فرمایا ہے۔([6])

(5)مصیبت آنے پر صبر کیجیے۔صبر کی بڑی فضیلت ہے، فرمانِ آخری نبی  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  ہے: جو صبر کرنا چاہے گا تو ا پاک اسے صبر عطا فرمادے گا اورکسی شخص کو صبر سے بہتر اور وسیع کوئی چیز نہیں ملی۔([7])حضرت الحاج مفتی احمد یار خان  رحمۃُ اللہ علیہ  اس حدیث شریف کے تحت لکھتے ہیں: یعنی رب تعالیٰ کی عطاؤں میں سے بہترین اور بہت گنجائش والی عطا صبرہے کہ رب تعالیٰ نے اس کا ذکر نماز سے پہلے فرمایا اور صابر کے ساتھ اللہ(پاک)ہوتا ہے،نیز صبر کے ذریعہ انسان بڑی بڑی مشقتیں برداشت کرلیتا ہے اور بڑے بڑے درجے حاصل کرلیتا ہے، صبرہی کی برکت سے حضرت (امام) حسین ( رضی اللہ عنہ )سید الشہداء (یعنی شہیدوں کےسردار) ہوئے۔([8])

(6)ہمیں ہر حال میں اللہ کریم کا شکر کرنا چاہیے حتی کہ مصیبت و بیماری میں بھی ! حجۃ الاسلام حضرت امام محمد بن محمد غزالی  رحمۃُ اللہ علیہ  فرماتے ہیں: ہرمصیبت اور بیماری (جو انسان کو پہنچے اس) کے بارے میں وہ اس طرح تصور کرے کہ دنیامیں اس سے بھی بڑھ کر بیماری اور مصیبت موجود ہے، اگر اللہ پاک (میری اس مصیبت کو) مزید بڑھادے تو کیا میں اسے روک سکتا یا اسے دور کرسکتا ہوں؟ لہٰذا اس طرح تصور کرکے بندے کو اللہ پاک کا شکر کرنا چاہیےکہ اس نے اس سے بڑی مصیبت و بیماری نہیں بھیجی۔([9])حضرتِ سیِّدُ ناامام شَعَبی  رحمۃُ اللہ علیہ  فرمایا کرتے تھے: لوگ اگر اپنے اوپر آئی ہوئی آفت کا اُس سے بڑی آفت کے ساتھ تقابل کرتے توضَرور بعض آفتوں کو عافیت (سلامتی)جانتے۔([10])

بڑی نعمت:

 تابعی بُزُرگ حضرتِ وہب بن مُنَبِّہ  رحمۃُ اللہ علیہ  ایک دن ایک گونگے، بہرے اور مصیبت زدہ شخص کے پاس سے گزرے۔ ایک شخص نے پوچھا:کیا اس کے پاس کوئی نعمت موجود ہے؟ آپ  رحمۃُ اللہ علیہ  نے ارشاد فرمایا: ہاں، یہ جو کچھ کھاتا پیتا ہے اس کا آسانی کے ساتھ حلق سے اترجانا اور پھر پیشاب وغیرہ کی صورت میں جسم سے نکل جانا، یہ ان ظاہری فوت شدہ نعمتوں سے بڑی نعمت ہے۔([11])

(7)شکوہ وشکایت کا کچھ فائدہ نہیں بلکہ صبر کا ثواب کمانے کا موقع ضائع ہو جاتا ہے۔ اللہ پاک نے حضرت عزیر  علیہ السّلام  کی طرف وحی فرمائی: جب تم پرکوئی مصیبت آئے تومیری مخلوق سے شکایت نہ کرنا بلکہ مجھ سے عرض کرنا جیساکہ میں مخلوق کی خطائیں فرشتوں کے سامنے بیان نہیں کرتا۔([12])

(8)مصیبت و بیماری دور کرنے کی تدبیر اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ وظائف بھی اپنے معمولات میں شامل رکھیے۔ *مسلمان کے لیے سب سے بڑا وظیفہ نماز ہے۔ *حضرت طلحہ بن مطرف  رحمۃُ اللہ علیہ  فرماتے ہیں:ایک مریض تھا جب اس کے پاس قراٰنِ پاک کی تلاوت کی جاتی تو وہ بیماری سے افاقہ محسوس کرتا، میں اس کے خیمہ میں گیا اور اس سے کہا کہ آج میں تمہیں تَندرست دیکھ رہاہوں! اس نے جواب دیا کہ میرے پاس قراٰنِ پاک کی تلاوت کی گئی ہے۔([13])*رسولُ اللہ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے فرمایا: جو شخص اپنے گھر میں داخل ہوتے وقت سورۂ اِخلاص پڑھے گا تو یہ سورت اس گھر والوں اور اس کے پڑوسیوں سے محتاجی کو دور کردے گی۔([14])*امیرِ اہلِ سنّت  دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ  فرماتے ہیں: ”حَیّ“ اور ”قَیُّوماللہ پاک کے صفاتی نام ہیں، اور اللہ پاک کے ہر نام میں بَرَکت ہی بَرَکت ہے۔ ”یَاحَیُّ یَاقَیُّومُ“بہت ہی بابَرَکت وِرد ہے۔ اگر کوئی مصیبت یا پریشانی آجائے تو بکثرت ”یَاحَیُّ یَاقَیُّومُ“ پڑھیں اِن شآءَ اللہ آفتیں دور ہوں گی اور مشکلات حل ہوجائیں گی (نوٹ: وظیفہ کے اول آخر تین تین بار درود شریف پڑھنا ہے۔)([15])

گھر والوں کی ذمہ داری:

طویل عرصے سے مصیبت یا بیماری وغیرہ میں مبتلا شخص   بعض اوقات چڑچڑا ہو جاتا ہے، بات ٹھیک سے سمجھ نہیں پاتا،بحث برائے بحث کرتا اور بعض  اوقات مایوسی کی باتیں کرتا ہے تو ان اس کے گھر والوں اور ارد گرد کے لوگوں  کو چاہیے کہ اس کی خدمت بھی کریں اور اپنے رویے سے بیزاری کا اظہار نہ کریں کہ اب اس کی خدمت ہمیں کرنی پڑ رہی ہے کیونکہ گھر والوں کی طرف سے بیزاری کی صورت میں مصیبت میں مبتلا شخص کی زندگی اداس اور ویران ہو جاتی ہے۔ اگر ہم ایسے شخص کی دل جوئی، حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ عملی تعاون کریں گے تو ہمیں ثواب ملے گا۔

اللہ کریم ہمیں مصیبت سے بچائے اور مصیبت زدوں سے تعاون کرنے کی بھی توفیق عطا فرمائے۔

اٰمِیْن بِجَاہِ خاتم النّبیّٖن  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* چیف ایڈیٹر ماہنامہ فیضانِ مدینہ، رکن مجلس المدینۃ العلمیہ کراچی



([1])پ30، الم نشرح:6

([2])پ25، الشوریٰ:30

([3])ابنِ ماجہ، 4/491، حدیث:4250

([4])پ24، المؤمن:60

([5])شعب الایمان، 3/282، حدیث: 3556

([6])ابوداؤد، 3/246، حدیث: 3090

([7])مسلم، ص406، حدیث: 2424

([8])مراٰۃالمناجیح،3/59

([9])احیاء العلوم، 4/158

([10])تنبیہ المغترین، ص177

([11])تنبیہ المغترین، ص177

([12])احیاء العلوم ،4/164

([13])التبیان فی آداب حملۃ القراٰن للنووی،ص94

([14])معجم کبیر، 2/340، حدیث:2419

([15])ماخوذ از مدنی مذاکرہ، 11جمادی الاخریٰ1442ھ


Share