کچھ نیکیاں کمالے
روزےجیساثواب دلانےوالی نیکیاں
*مولانا شہزاد یونس عطّاری مدنی
ماہنامہ فیضانِ مدینہ مارچ 2026ء
اے عاشقانِ رسول!اللہ کریم کا اِحسانِ عظیم ہے کہ اس نے ہمیں ایسے نیک اعمال بھی عطا فرمائے ہیں کہ جن کو بجالانے سے ہم نفل روزوں کا ثواب حاصل کرسکتے ہیں، آئیے! ان نیک اعمال کے بارے میں چند فرامینِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پڑھتے ہیں، چنانچہ
بُرد بار روزہ رکھنے والے کی طرح ہے
مسلمانوں کے چوتھے خلیفہ حضرتِ مولیٰ علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: بےشک بندہ حِلم (یعنی بُردباری) کے ذریعے روزہ رکھنے والے اور قیام(یعنی نفلی عبادت) کرنے والے کا دَرَجہ پالیتا ہے۔ ([1])
بااخلاق، روزے دار کا درجہ پاتا ہے
اُمُّ المومنین حضرت عائشہ صدّیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: بندہ اپنے حسنِ اخلاق کی وجہ سے رات کو عبادت کرنے والے اور دن میں روزہ رکھنے والے کے درجے کو پالیتا ہے۔([2])
شکر ادا کرنے والا روزہ دار کی طرح ہے
نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: شکر ادا کرتے ہوئے کھانے والے کا اجر صبر کرتے ہوئے روزہ رکھنے والے کی طرح ہے۔([3])
روزہ دار کا کم سے کم صبر یہ ہے کہ اپنے روزے کو روزہ توڑنے والی چیزوں سے محفوظ رکھے اور درمیانی شکر یہ ہے کہ مکروہات سے بچائے،اعلیٰ شکر یہ ہے کہ ان چیزوں سے روزہ کو محفوظ رکھےجن سے روزہ غیر مقبول ہوتا ہے یعنی سَر سے پاؤں تک ہر عُضْو کا روزہ ہو۔([4])
روزہ افطار کروانے کی فضیلت
اللہ کےآخِری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: روزہ دارکو افطارکروانے والے کو ویسا ہی ثواب ملے گا جیسا روزہ رکھنے والے کو ملے گا بغیر اس کے کہ اُس کے اجر میں سے کچھ کم ہو۔ ([5])
با وُضو رہنے کی فضیلت
صحابیِ رسول حضرت عَمْرو بن حُرَیث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ پاک کے پیارے نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: اَلنَّائِمُ الطَّاهِرُ كَالصَّائِم الْقَائِم، ترجمہ: وُضو کرکے سونے والا روزہ رکھنے اور رات بھر قِیام کرنے والے کی طرح ہے۔([6])
ایک روایت میں ہے کہ اَنَّ الطَّاهِرَ كَالصَّائِمِ الصَّابِرِ، یعنی باوُضو آدمی صبر کرنے والے روزہ دار کی طرح ہے۔([7])
حضرت علّامہ عبدُ الرّءُوف مُناوی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: روزہ دار خواہشات کو چھوڑ دینے کی وجہ سے پاکیزہ ہو جاتا ہے اور رات کو قِیام (یعنی نفلی عبادت) کرنے کے سبب اُس پر رحم کیا جاتا ہے اور سونے والا جب ثواب کی نیّت سے پاکی (یعنی وضو) کی حالت میں سوتا ہے تو اس کی روح بارگاہِ الٰہی میں حاضر ہوجاتی ہے۔ ([8])
غریبوں کی مدد کرنے والا روزہ دار کی طرح ہے
حضرتِ سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حسنِ اخلاق کے پیکر صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: محتاج اور مسکین کی پرورش کے لیےکوشش کرنے والااللہ پاک کی راہ میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے۔ حضرتِ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میرا خیال ہے کہ حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے یہ بھی فرمایا کہ وہ رات کے قِیام میں سستی نہ کرنے اور لگاتار روزہ رکھنے والے کی طرح ہے ۔([9])
یعنی جس قسم کا یا جتنا ثواب اُس انتھک عابد کو ملتا ہے جو صائمُ الدّہر قائمُ اللیل ہو اس قسم کا یا اتنا ثواب اُس خدمت کرنے والے کو ملتا ہے۔([10])
حضرتِ سیّدنا عبدُاللہ بن عبّاس رضی اللہ عنہ ما سے روایت ہے کہ رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشادفرمایا:جس نےتین یتیموں کی پرورش کی وہ رات کو قِیام کرنے والے، دن کو روزہ رکھنے والے اور صبح شام اللہ پاک کی راہ میں اپنی تلوار سونتنے والے کی طرح ہے اور میں اور وہ جنّت میں دو بھائیوں کی طرح ہوں گے جیسا کہ یہ دو بہنیں ہیں، اوراپنی انگشتِ شہادت اور درمیانی انگلی کوملایا۔([11])
اللہ پاک ہمیں فرض روزے رکھنے کے ساتھ ساتھ نفلی روزے رکھنے اور دیگر نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ شعبہ اصلاحی کتب، المدینۃ العلمیہ، کراچی
Comments