صحابہ کرام علیہم الرضوان ، اولیائے کرام رحمہم اللہ السلام،علمائے اسلام رحمہم اللہ السلام

اپنےبزرگو ں کو یادرکھئے


شوَّالُ المکرّم اسلامی سال کا دسواں مہینا ہے۔ اس میں جن صحابۂ کرام، اَولیائے عظام اور علمائے اسلام کا وِصال یا عُرس ہے، ان میں سے120کا مختصر ذکر ”ماہنامہ فیضانِ مدینہ“ شوَّالُ المکرّم 1438ھ تا1446ھ کے شماروں میں کیا جاچکا ہے۔ مزید13کا تعارف ملاحظہ فرمائیے:

صحابۂ کرام  علیہمُ الرِّضوان :(1)حضرت عبداللہ بن حارِث قَرشی سَہْمی  رضی اللہ عنہ  قریش کے سردار حارث بن قَیس کے بیٹے تھے، زمانہ جاہلیت میں اس خاندان میں سیادت(سرداری) و دولت دونوں جمع تھیں، حضرت عبداللہ شاعر بھی تھے، انہوں نے اپنے دیگر بھائیوں کے ساتھ ابتدا میں ہی اسلام قبول کیا، حبشہ ہجرت کی اور غزوۂ طائف میں شوّال8ھ کو شہید ہوئے۔([1]) (2)حضرت عبداللہ بن ابو اُمیہ مَخْزومی قرشی  رضی اللہ عنہ  کے والد بنو مخزوم کے معزّز و فیاض و سخی تھے، دورانِ سفر قافلے والوں کی کفالت کرنے کی وجہ سے زادُالرّاکب مشہور تھے، ان کی والدہ عاتِکہ نبیِ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی پھوپھی تھیں، آپ اُمُّ المؤمنین حضرت اُمِّ سلمہ  رضی اللہ عنہ ا کے باپ شریک بھائی تھے، فتح مکہ سے پہلے اسلام لائے، فتح مکہ، غزوۂ حنین اور غزوۂ طائف میں شرکت کی اور غزوۂ طائف شوّال8ھ میں شہید ہوئے۔([2])

اولیائے کرام  رحمہم اللہ السَّلام :(3)صوفیِ باصفا خواجہ فرخ عمری مجدّدی سرہندی المعروف مولوی معنوی  رحمۃُ اللہ علیہ  علومِ ظاہری و باطنی کے جامع، بہترین مدرّس اور درسی کتب کے شارح و محشی تھے، خاندان مجدّدیہ کے تقریباً تمام صاحبزادگان آپ کے شاگرد ہیں، آپ کا وصال 4شوّال 1118ھ کو ہوا، قبّہ مجدّد اَلْفِ ثانی سے جانبِ جنوب ایک قبےمیں مدفون ہیں۔([3]) (4)مرشدمحدِّثِ اعظم پاکستان،سراجُ الاولیاء حضرت خواجہ سراجُ الحق گورداسپوری  رحمۃُ اللہ علیہ  کی ولادت  14ذیقعدہ 1273ھ کرنال، ہند کے قریشی فاروقی گھرانے میں ہوئی، آپ نے ابتدا میں تحصیل دار کی نوکری کی، پھر اپنے آپ کو دین کے لیے وقف کیا اور دورہ حدیث کر کے فارغ التحصیل ہوئے، بیعت و خلافت کا شرف سلسلہ چشتیہ صابریہ سے حاصل ہوا، سراجُ الاولیاء اور آپ کے خلفا نے فتنہ قادیانیت کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، آپ سے کئی کرامات کا صدوربھی ہوا، آپ کا وصال 28شوّال 1350ھ کوہوا،آپ کا مزار محلّہ غفوری گورداسپور پنجاب ہند میں ہے۔([4]) (5)پیر طریقت مفتی سیّد امیر محمد شاہ حسینی نقشبندی  رحمۃُ اللہ علیہ  کی پیدائش گوٹھ امینانی شریف، نزد خداآباد ضلع دادو، سندھ میں ہوئی، آپ صوفی باصفا،مفتیِ اسلام،بانیِ مدرسہ عین العلوم گوٹھ امینانی، کثیر التلامذہ، صاحب فتاویٰ امیریہ اور استاذُالعلماء تھے، وصال 29شوّال 1379ھ کو ہوا،مزاردرگاہ امینانی شریف میں ہے۔([5])(6)پیر طریقت خواجہ حکیم اصغرعلی مستالوی  رحمۃُ اللہ علیہ  خلیفہ ٔ آستانہ عالیہ مستال شریف خواجہ عبدالعلی مستالوی کے فرزند و خلیفہ، عالم و فاضل، حکیم حاذق، امام و خطیب جامع مسجد تلاب پختہ بنی محلہ راولپنڈی، شاعر،مصنّف اور بانیِ آستانہ عالیہ مستال شریف ہیں۔ آپ کی ولادت مستال شریف، آئی نائن، اسلام آباد میں ہوئی اور وصال 24شوّال1411ھ کو فرمایا، مزار مستال شریف، آئی نائن، اسلام آباد میں ہے۔([6])

علمائے اسلام  رحمہم اللہ السَّلام :(7)شیخ الشیوخ حضرت امام حافظ ابنِ صَیرفی ابو عَمرو عثمان بن سعید اموی دانی مالکی  رحمۃُ اللہ علیہ  کی پیدائش 371ھ کو قرطبہ میں ہوئی، آپ نے تحصیلِ علم کے بعد مصر، قیروان، تیونس اور پھر دانیہ، اُندلس میں درس و تدریس کی خدمات سر انجام دیں، آپ عالمِ اندلس، امامُ الوقت، حافظُ الحدیث، مفسّر و اديب، واعظ و خطيب اور مستجابُ الدّعوات بُز ُرگ تھے، مگر آپ کی شہرت علومِ قراٰنیہ بالخصوص فنِّ قراءت میں مہارت و تدریس کی وجہ سے ہے، آپ کا وصال دانیہ میں 15 شوّال 444ھ کو ہوا، نمازِ جنازہ میں سلطانُ الوقت سمیت کثیر لوگوں نے شرکت کی۔([7])(8)امام الائمہ حضرت ابو عبد اللہ محمد بن ایّوب بن نوح غافقی بلنسی مالکی  رحمۃُ اللہ علیہ  یورپین ملک اسپین (Spain)کے شہر بلنسیہ (Valencia)کے رہنے والے تھے، آپ کی پیدائش530ھ اور وصال 6شوّال608ھ کو ہوا۔ آپ علوم و فنون میں ماہر مالکی عالمِ دین، بہترین قاری، مفتی اسلام، مفسّر قراٰن، ادب عربی کے ماہر، جامع مسجد بلنسیہ کے خطیب، جود و سخا کے پیکر، اخلاقِ حسنہ کے مالک اور اندلس کے نابغۂ عصر تھے۔([8]) (9)شیخ القراء حضرت امام زینُ الدّین عبد الرحمٰن بن شحاذۃ یمنی شافعی مصری  رحمۃُ اللہ علیہ  975ھ کو قاہرہ مصر میں پیدا ہوئے اور 15شوّال 1050ھ کو وصال فرمایا،آپ شيخ القراء، امام المجودين، مدرّس، کثیر التلامذہ، حسن ظاہری اور باطنی دونوں سے مالا مال، ولی کامل اور فقيہ عصر تھے۔ آپ مالدار تاجر بھی تھے، اپنا مال طلبہ و فقرا پر دل کھول کر خرچ کرتے تھے۔([9]) (10)شیخ القراء حضرت علّامہ ابوسماح احمد بن رجب بقری شافعی  رحمۃُ اللہ علیہ  کی پیدائش1074ھ میں ہوئی، آپ ذہین و فطین، کثیر العلم، فقیہ شافعی اور محقِّق تھے، گھر ہو یا سفر بہت زیادہ تلاوت قراٰن کرتے۔ آپ پڑھنے پڑھانے میں بہت محنت کرتے تھے، زندگی کے آخری سال میں حج کے لیے تشریف لے گئے جب مقام نخل میں پہنچے تو آخِر شوّال 1189ھ کو وفات ہوئی اور وہیں دفن کیے گئے۔([10]) (11)عاشق الرسول حضرت مولانا عبدالقدیر قادری بدایونی  رحمۃُ اللہ علیہ  کی پیدائش شوّال1311ھ بدایون، یوپی، ہند کے عثمانی علمی گھرانے میں ہوئی اور یہیں3شوّال1379ھ کو وصال فرمایا۔ آپ جامع معقول و منقول، شیخ طریقت، مدرس و جانشین مدرسہ و خانقاہ قادریہ بدایون، مفتی اعظم ریاست حیدرآباد دکن، مجاہد دین و ملّت، مسلمانوں کے فعّال رہنما اور تحریک آزادی ہند میں بھرپور حصّہ لیا۔([11]) (12)شیخ الحدیث مولانا سیّد حاجی احمد شاہ المعروف سیّد سخی صابر گجراتی  رحمۃُ اللہ علیہ  کی ولادت 1351ھ کو گجرات، پاکستان میں ہوئی، آپ جیّد عالمِ دین، تلمیذ حکیمُ الامت و محدّثِ اعظم پاکستان و شیخِ طریقت، استاذالعلماء اور جود و سخا کے پیکر تھے، ان کا وصال 30شوّال1401ھ میں ہوا، دربارِ عالیہ شہنشاہ ولایت محلّہ علی پورہ گجرات میں مدفون ہوئے۔([12]) (13)شمس الفقہاء حضرت مفتی محمدعبداللہ بلوچ نعیمی  رحمۃُ اللہ علیہ  کی پیدائش 1344ھ کو مکران،ایران میں ہوئی، آپ جید عالمِ دین و مفتی، علمائے کراچی بالخصوص تاج العلماء مفتی محمد عمر نعیمی کے شاگرد، بہترین مدرّس، بانی دارُالعلوم مجدّدیہ نعیمیہ ملیر کراچی، استاذُ العلماء، محب کتب و مخطوطات اور صاحب فتاویٰ مجدّدیہ نعیمیہ ہیں۔ وصال روڈ ایکسیڈنٹ کی وجہ سے10شوّال1402ھ کو فرمایا، مزار دارُالعلوم مجددیہ نعیمیہ میں ہے۔([13])

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* رکن مرکزی مجلسِ شوریٰ(دعوتِ اسلامی)و نگران مجلس ماہنامہ فیضانِ مدینہ کراچی



([1])دیکھیے: الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ، 1/685- 3/15- 4/43

([2])دیکھیے: الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ، 4/10-8/404

([3])روضۃ القیومیہ، 1/472، 473

([4])انسائیکلوپیڈیا اولیائے کرام، 3/400 تا411

([5])انوارعلمائے اہل سنت سندھ،ص54تا56

([6])انسائیکلوپیڈیا اولیائے کرام، 2/661

([7])سیراعلام النبلاء، 13/481تا485

([8])غایۃ النہایۃ فی طبقات القراء،2/93-سیراعلام النبلاء، 16/69

([9])خلاصۃ الاثر، 2/358- فوائد الارتحال، 4/583

([10])ہدیۃ العارفین، 1/179- تاريخ عجائب الآثار فی التراجم والاخبار (تاریخ الجبرتی)، 1/650

([11])اکابر بدایون، ص49تا58

([12])خفتگان خاک گجرات، ص 24، 25

([13])انوار علمائے اہلسنت سندھ، ص486 تا 489


Share