دل نہ لگاؤ


دل نہ لگاؤ


عَنْ اَبِي الْعَبَّاسِ سَهْلِ بْنِ سَعْدِ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ اِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُوْلَ اللهِ دُلَّنِيْ عَلَى عَمَلٍ اِذَا عَمِلْتُهُ اَحَبَّنِيَ اللهُ وَاَحَبَّنِيَ النَّاسُ، فَقَالَ : ازْهَدْ فِي الدُّنْيَا یُحِبُّكَ اللهُ، وَازْهَدْ فِيْمَا عِنْدَ النَّاسِ يُحِبُّكَ النَّاسُ.

ترجمہ:حضرت ابوالعباس سَہل بن سَعد  رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبیِ پاک  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کی:یارسولَ اللہ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  میری ایسے عمل پر رَہنمائی کریں کہ جب میں وہ کروں تو اﷲ کریم مجھ سےمحبّت فرمائے اور لوگ بھی محبّت کریں۔رسولُ اللہ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نےفرمایا: دنیا سے بے رغبت ہو جاؤ تو اللہ تم سے محبّت کرے گا اور لوگوں کے پاس جو کچھ ہے اس سے بے نیاز ہو جاؤ تو لوگ تم سے محبّت کریں گے۔ ([1])

اس حدیثِ پاک میں بنیادی طور پر دو چیزوں کا بیان ہے: (1)حاضر ہونے والےشخص کا سُوال کہ ایک ہی عمل کے نتیجے میں خالق ومخلوق دونوں مجھ سے محبّت کریں (2)نبیِ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کا اس مقصد کو پانے کے لیے زہد کا عمل ارشاد فرمانا کہ یہ وہ عمل ہے جس سے تمہارا مقصد حاصل ہوجائے گا کہ اللہ اور لوگ دونوں تم سے محبّت کریں گے۔

شرحِ حدیث

اس حدیث پاک کے مختلف پہلوؤں پر بات کی جا سکتی ہے: مثلاً *محبّتِ خَلق کا مطالبہ کرنا کیسا؟ *زہد کی اہمیّت اور فضیلت *زہد کی تعریف *زہد کے دعویٰ کے سچّے یا جھوٹے ہونے کا کیسے پتا چلے گا؟ *اللہ اَرحمُ الرّاحمین کا اپنے بندے سے محبّت کا مطلب *زہد اختیار کرنے والے سے اللہ رب العالمین کیوں محبّت کرتا ہے؟ *اللہ پاک کے نزدیک دنیا کی کیا حیثیت ہے؟ *کون سی دنیا مذموم ہے؟ *زاہد سے لوگ کیوں محبّت کرتے ہیں؟ *لوگوں کے مال میں رغبت رکھنے کے نقصانات اور دیگر۔ جلیلُ القدر شارحینِ کِرام نے اس حوالے سے جو کچھ فرمایا اس کاخلاصہ اور نچوڑ ملاحظہ کیجیے ؛

لوگوں کی محبّت پانے کی خواہش

آنے والے کے سُوال میں یہ بھی تھا کہ لوگ بھی مجھ سے محبّت کریں۔ اگر یہ خواہش ممنوع ہوتی تو نبیِ اکرم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  آنے والے کی اصلاح فرما دیتے۔ لہٰذا نیّت اچھی ہو تواس خواہش میں کوئی حرج نہیں کیونکہ محبّتِ خلق محبّت ِخالق کی علامت ہے۔ حضرت ابراہیم  علیہ السّلام  نے دعا کی تھی :

وَ اجْعَلْ لِّیْ لِسَانَ صِدْقٍ فِی الْاٰخِرِیْنَۙ(۸۴)

ترجَمۂ کنزالایمان :اور میری سچی ناموری رکھ پچھلوں میں۔([2])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

خزائن العرفان میں ہے: یعنی ان اُمّتوں میں جو میرے بعد آئیں چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ عطا فرمایا کہ تمام اہلِ ادیان ان سے مَحبت رکھتے ہیں اور ان کی ثنا کرتے ہیں۔

زُہد کی اہمیّت وفضیلت

بندے کے لیے سب سے بلند اور عظیم مقصد یہ ہے کہ وہ اپنے خالق و مالک کا محبوب بن جائے۔ اللہ کریم کی محبت ہر مطلوب کی انتہا اور ہر چاہت کی منزِل ہے۔ امام احمد نے کتاب الزہد میں اور امام بیہقی نے حضرت طاؤس سے مرسلاً روایت کیا: اَلزُّهْدُ فِي الدُّنْيَا يُرِيحُ الْقَلْبَ وَالْبَدَنَ، وَالرَّغْبَةُ فِي الدُّنْيَا تُطِيلُ الْهَمَّ وَالْحَزَنَ یعنی دنیا سے بے رغبتی(زہد) دل اور بدن کو راحت دیتی ہے،اور دنیا کی رغبت غم اور پریشانی کو بڑھا دیتی ہے۔([3])

امام شرفُ الدّین طیبی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں : زُہد سے اللہ پاک کی محبّت حاصل ہونا اس بات پر دلیل ہے کہ زُہد بہت اعلیٰ اور افضل عمل ہے کیونکہ اسے اللہ کریم کی محبّت کا سبب بنایا گیا ہے اور دنیا کی محبّت اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب ہے۔([4])

مِرا دل پاک ہو سرکار! دنیا کی محبت سے

مجھے ہو جائے نفرت کاش! آقا مال و دولت سے([5])

زُہد کسے کہتے ہیں؟

لغوی معنیٰ: اَلْاِعْراضُ عن الشَّيءِ اِحْتِقاراً کسی چیز کو حقیر سمجھ کر اس سے منہ موڑ لینا۔

شرعی معنیٰ: اَلْاِقْتَصارُ عَلىٰ قَدْرِ الضَّرُوْرَةِ مِمَّا يتيقّن حِلَّهٗ حلال ہونے کا پورا یقین رکھتے ہوئے صرف بقدرِ ضَرورت پر اکتفا کرنا۔([6])

ایک حدیثِ مبارَک میں ہے جسے ترمذی اور ابنِ ماجہ نے حضرت ابوذر غفاری  رضی اللہ عنہ سے روایت کیا،نبیِ اکرم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے فرمایا: زہد حلال کو حرام کرنے اور مال ضائع کرنے کا نام نہیں،بلکہ دنیا سے بے رغبتی یہ ہے کہ تمہیں اپنے ہاتھ کی چیز سے اللہ کے پاس چیز پرزیادہ بھروسا ہو،اور مصیبت پر ملنے والے ثواب کی رغبت اس چیز سے زیادہ ہو کہ وہ نعمت تمہارے پاس باقی رہتی۔([7])

دنیا پر قدرت رکھنے کے باوُجود زہد اپنانا

حضرت علّامہ ملّا علی القاری رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں :زُہد اس کا نام ہے کہ انسان دنیا پر قدرت رکھنے کے باوُجود آخِرت کی خاطر دنیا سے دل ہٹا لے،چاہے جہنّم کے خوف سے ہو،یا جنّت کی رغبت سے،یا حق تعالیٰ کے سوا توجہ ہر چیز سے ہٹانے کے سبب۔اور یہ کیفیت اس وقت تک پیدا نہیں ہوتی جب تک سینہ نورِ یقین سے کھل نہ جائے۔اور اس شخص سے زُہد کا تصور نہیں کیا جا سکتا جس کے پاس نہ مال ہو اور نہ مرتبہ۔([8])

میں نے کس چیز میں زہد اختیار کیا ہے؟

حضرت ابنِ مبارَک رحمۃُ اللہ علیہ کو کسی نے پکارا: ”اے زاہد!“ تو انہوں نے فرمایا:اصل زاہد تو عمر بن عبد العزیز رحمۃُ اللہ علیہ ہیں، جن کے پاس دنیا خود چل کر آئی اور انہوں نے اسے چھوڑ دیا، اور میں نے کس چیز میں زُہد اختیار کیا ہے(کہ تم نے مجھے زاہد پکارا)؟

حضرت علّامہ ملّا علی القاری رحمۃُ اللہ علیہ اس حکایت کے بارے میں فرماتے ہیں:یہ کامل زُہد کی وضاحت ہے،ورنہ زُہد کی اصل حقیقت کسی چیز کی طرف میلان نہ رکھنے کا نام ہے،اور حقیقت میں یہ کیفیت اللہ کی ایک خاص کشش کے بغیر حاصل نہیں ہوتی جو سالک کو فانی چیزوں سے ہٹا دے اور باقی رہنے والی حالتوں میں مشغول کر دے۔([9])

زُہد کا دعویٰ سچّا یا جھوٹا ہونے کی دلیل

مرقاۃُ المفاتیح میں ہے: نفس زُہد کا دعویٰ کرتا ہے تو اس کی سچّائی یا جھوٹ اسی وقت ظاہر ہوتا ہے جب دنیا میسّر ہو اور قدرت حاصل ہو،اور دنیا نہ ہونے کی حالت میں بات دو احتمالوں کے درمیان رہتی ہے،اور اللہ بہتر جانتا ہے۔ ([10])

زُہد کا نتیجہ

زہد کا نتیجہ دنیا سے بقدر ضَرورت پر قَناعت ہے اور اس سے مراد اتنا کھانا کہ جس سے بھوک مٹ جائے اور ایسا لباس کہ جس سے سَتر چُھپ جائے اور ایسا گھر کہ جو اسے سردی و گرمی سے بچائے اور اتنا سامان کہ جس کی اسے ضَرورت ہوتی ہے۔([11])

عقل مند کون؟

زہد اختِیار کرنے والے عقل مند ترین لوگ ہوتے ہیں کیونکہ انہوں نے اسی چیز سے محبّت کی جس سے اللہ محبّت کرتا ہے، اور اسی چیز کو ناپسند کیا جسے اللہ ناپسند کرتا ہے یعنی دنیا کو جمع کرنے کو، اور انہوں نے اپنے نفس کو راحت میں رکھا۔ امام شافعی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں:اگر مجھے عقل مند ترین لوگوں کے لیے وصیّت کرنی ہو تو میں زاہدوں کے حق میں کروں۔([12])

بڑا زاہدکون ہے؟

بیہقی نے حضرت ضَحّاک سے مُرسَل روایت کیا: ایک شخص بارگاہِ نبوی  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  میں حاضر ہوا اور عرض کی: سب سے بڑا زاہد کون ہے ؟ فرمایا :سب سے زیادہ زاہد وہ ہے جو قبر اور بوسیدہ ہونے کو نہ بھولے،دنیا کی بہترین زینت چھوڑ دے، باقی رہنے والی چیز کوفانی چیز پر ترجیح دے،کل کو اپنے دنوں میں شُمار نہ کرےاور خود کو مُردوں میں شُمار کرے۔([13])

نبی کے نور کا صدقہ خدایا جگمگا دینا

کرم! یارب! اندھیرا قبر کا مجھ کو ڈراتا ہے([14])

صوفیا کے نزدیک زُہد کاخلاصہ

صوفیا کے نزدیک زُہد کا مطلب ہے کوشش کے ساتھ کسی چیز کی رغبت دل سے ہٹادینا،اور اس کے تین درجے ہیں: پہلا: شُبہات سے زُہد،اللہ کی ناراضی سے بچنے کے لیے۔ دوسرا: ضَرورت سے زائد کھانے پینے سے زُہدتاکہ مراقبے میں مشغول ہو کر وقت کا درست استِعمال کرے۔تیسرا: تم اپنے زُہد کو رب کی عظمت کے سامنے کوئی اہمیّت نہ دو اور تمہارے نزدیک زُہدکا ہونا اور اس کا نہ ہونا دونوں کا برابر ہو جانا۔([15])

اﷲ تم سے محبّت کرے گا

جب بندہ زہد اختِیار کرے گا تو اللہ اس سے محبّت فرمائے گا، اس لیے کہ بندےنے اس چیز سے اِعراض کیا جس سے اللہ نے اِعراض فرمایا، اور جس کی طرف اس نے پیدائشِ دنیا کے بعد کبھی نظرِ رحمت نہیں فرمائی۔(جیسا کہ حدیث میں آیا ہے) اور یہ بات سمجھائی گئی ہے کہ اگر تم دنیا سے محبّت کرو گے تو اللہ تم سے ناراض ہو جائے گا، کیونکہ اس کی محبّت دنیا کی محبّت کے نہ ہونے کے ساتھ ہے۔نیز اس لیے بھی کہ اللہ تعالیٰ اس سے محبّت کرتا ہے جو اس کی اِطاعت کرے، اور اللہ کی محبّت اور دنیا کی محبّت جمع نہیں ہو سکتیں، کیونکہ دل ربّ کا گھر ہے، اور وہ پسند نہیں کرتا کہ اپنے گھر میں کسی اور کو شریک کیا جائے۔اور اللہ کی محبّت سے مُراد ثواب عطا کرنا ہے۔([16])

محبت میں اپنی گُما یاالٰہی

نہ پاؤں میں اپنا پتا یاالٰہی

رہوں مست وبے خود میں تیری وِلا میں

پِلا جام ایسا پِلا یاالٰہی ([17])

پھر جس دنیا کی مذمّت کی گئی ہے، اس سے مراد ضَرورت سے زائد دنیا ہے۔رہی ضَرورت کی حد تک دنیا طلب کرنا تو وہ واجب ہے۔بعض عُلما نے کہا:ضَرورت کی حد تک حاصل کرنا دنیا میں شمار ہی نہیں ہوتا،اصل دنیا وہ ہے جو کفایت سے زائد ہو۔اسی پر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان دلیل ہے:

زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوٰتِ مِنَ النِّسَآءِ وَ الْبَنِیْنَ

ترجَمۂ کنزُالعرفان: لوگوں کے لیے ان کی خواہشات کی محبّت کو آراستہ کردیا گیا یعنی عورتوں اور بیٹوں۔ ([18])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

یہ آیت وُسعت اور عیش طلبی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔([19])

دنیاسے محبّت کی محمود صورت

 مال و دولت اور دنیا کی ایسی محبّت مذموم ہے جو شہواتِ نفسانی کی تکمیل کے لیے ہو کیونکہ ایسی محبّت انسان کو اللہ پاک کی یاد سے غافل کردیتی ہے۔ بَہَرحال بھلائی کے کام کرنے، محتاج کی حاجت روائی کرنے، ستم رسیدہ کی مدد کرنے، تنگدست کو کھانا کھلانے کے لیے مال سے محبّت کرنا عبادت ہے۔([20]) لیکن یہ بھی خیال رہے کہ اگر کوئی شخص لوگوں پر فخر، گھمنڈ اور لوگوں پر برتری جتانے کے لیے دنیا ملنے پر خوش ہو تو یہ مذموم ہے، اور اگر اللہ کے فضل پر شکر کے طور پر خوش ہو تو یہ قابلِ تعریف ہے۔([21])

اللہ اور کس کس سے محبّت فرماتا ہے؟

اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں سے محبّت فرماتا ہے جن میں درجِ ذیل اوصاف پائے جاتے ہوں۔ قراٰنِ مجید میں مختلف مقامات پر ان کا ذکر آیا ہے:ایمان، تقویٰ، صبر، نیکی، انصاف، پاکیزگی، توبہ اور توکل اختیار کرنے والوں سے۔

لوگوں کی پاس جوکچھ ہےاس سے بے رغبت رہو

نبیِ اکرم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نےدنیا سے بے رغبتی کے ساتھ ساتھ اس سے بھی بے رغبت رہنے کا فرمایا ہے جوکچھ لوگوں کے پاس ہےیعنی: مال اور مرتبہ۔([22])

جب انسان یہ کرلے گا تواسے یہ انعام ملے گا کہ لوگ اس سے محبّت کریں گے کیونکہ لوگوں کے دلوں میں دنیا کی محبّت فطری طورپر رکھی گئی ہے اور یہ محبّت ان کے دلوں پر نقش ہوگئی ہے تو جو کوئی انسان سے اس کی پسندیدہ چیز میں جھگڑتا ہے تو انسان اس سے نفرت کرتا ہے اور اسے چھوڑ دیتا ہے اور جو کوئی انسان کی پسندیدہ چیز میں اس کے مقابلے میں نہیں آتا انسان اس سے محبّت کرتا ہے اور اسے عزّت دیتا ہے۔ اسی لیے مشہور تابعی حضرت حسن بصری رحمۃُ اللہ علیہ نے فرمایا: ”لوگ آدمی کی عزّت کرتے رہتے ہیں یہاں تک کہ جب وہ ان کی دنیا کا خواہشمند ہوتا ہے تو وہ اُسے حقیر سمجھتے ہیں اور اس کی بات کو بھی ناپسند کرتے ہیں۔ “ منقول ہے کہ اہلِ بصرہ میں سے کسی سے پوچھا گیا کہ تمہارا سردار کون ہے ؟ اس نے جواب دیا: حضرت حسن بصری( رحمۃُ اللہ علیہ )، پوچھنے والے نے کہا: انہیں تمہارے نزدیک یہ مقام و مرتبہ کیوں حاصل ہے ؟ اس نے کہا: ہم ان کے علم سے دلیل پکڑتے ہیں اور وہ ہماری دنیا سے بے نیاز ہیں۔([23])

سوچنے کی بات

فی زمانہ ماحول ایسا ہے کہ دنیا اور مال و مرتبہ کی محبّت سر چڑھ کر بول رہی ہے۔ جس کو دیکھو دنیا کی ترقّی کے لیے کوشاں اور مال کے لالچ میں مبتلا ہے۔ایسے میں زُہد اختِیار کرنے کی سوچ دقیانوسی قرار دی جاتی ہے حالانکہ زہد جنّت کے راستے پر لے جاتا ہے۔ زہد سے اللہ کریم کی محبّت حاصل ہوتی ہے اور لوگ بھی ایسے شخص سے محبّت کرتے ہیں لیکن افسوس ہمارے یہاں سب کچھ اُلٹ ہو رہا ہے،فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے کہ زہد اختِیار کر کے خالق اور مخلوق کے پیارے بن جائیں یا دنیا اور مال کی محبّت میں مبتلا ہو کر رہ جائیں۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* استاذ المدرسین، مرکزی جامعۃ المدینہ فیضانِ مدینہ کراچی



([1])شعب الایمان،7/344،حدیث:10523

([2])پ19، الشعراء : 84

([3])الزہد لاحمد،ص35،حدیث:51

([4])شرح الطیبی،9/351، تحت الحدیث : 5187

([5])وسائل بخشش،ص408

([6])فیض القدیر،1/615،تحت الحدیث: 960

([7])دیکھیے:ترمذی،4/152،حدیث:2347

([8])مرقاۃ، 9/41، تحت الحدیث:5187

([9])مرقاۃ، 9/41، تحت الحدیث:5187

([10])مرقاۃ، 9/41، تحت الحدیث:5187

([11])مرقاۃ، 9/41، تحت الحدیث:5187

([12])اربعین للنووی،ص107، تحت الحدیث:31

([13])شعب الایمان،7/355،حدیث:10565

([14])وسائل بخشش،ص442

([15])مرقاۃ، 9/41، تحت الحدیث:5187

([16])دیکھیے فیض القدیر،1/615،تحت الحدیث:960

([17])وسائل بخشش،ص108

([18])پ3،اٰل عمران14

([19])اربعین للنووی،ص:108، تحت الحدیث:31

([20])دلیل الفالحین،2/402، تحت الحدیث :471

([21])اربعین للنووی،ص:109، تحت الحدیث:31

([22])دیکھیے :مرقاۃ، 9/40، تحت الحدیث:5187

([23])دیکھیے فیض القدیر،1/615،تحت الحدیث:960


Share