نزول قرآن کے مقاصد (تیسری اور آخری قسط)
انسانوں کے درمیان فیصلے اور احکام
نُزولِ قراٰن کا ایک مقصد قراٰنِ کریم میں یہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ یہ کتاب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے اور انہیں واضح احکام دینے کے لیے نازل کی گئی۔ سورۃُ النسآء میں فرمایا:
اِنَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَیْنَ النَّاسِ بِمَاۤ اَرٰىكَ اللّٰهُؕ-وَ لَا تَكُنْ لِّلْخَآىٕنِیْنَ خَصِیْمًاۙ(۱۰۵)
ترجَمۂ کنزُالایمان: اے محبوب بے شک ہم نے تمہاری طرف سچّی کتاب اتاری کہ تم لوگوں میں فیصلہ کرو جس طرح تمہیں اللہ دکھائے اور دغا والوں کی طرف سے نہ جھگڑو۔ ([1])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
سورۃُ المآئدۃ میں فرمایا:
وَ اَنِ احْكُمْ بَیْنَهُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ لَا تَتَّبِـعْ اَهْوَآءَهُمْ وَ احْذَرْهُمْ اَنْ یَّفْتِنُوْكَ عَنْۢ بَعْضِ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ اِلَیْكَؕ-
ترجَمۂ کنزُالایمان: اور یہ کہ اے مسلمان اللہ کے اُتارے پر حکم کر اور ان کی خواہشوں پر نہ چل اور ان سے بچتا رہ کہ کہیں تجھے لغزِش(بہکا) نہ دے دیں کسی حکم میں جو تیری طرف اُترا۔([2])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ قراٰن ایک مکمل قانون اور ضابطہ بھی ہے۔ یہ انسانوں کے باہمی معاملات، حُقوق و فرائض، خاندانی مسائل، معاشی لین دین، سیاسی اُمور، قانونی معاملات اور ہر قسم کے اختلافات میں واضح فیصلے فراہم کرتا ہے۔ معاشرے میں جب قراٰنی احکام کے مطابق فیصلے کیے جاتے ہیں تو عدل قائم ہوتا ہے، ظلم ختم ہوتا ہے اور معاشرتی اَمن و استحکام میسر آتا ہے۔ لیکن جب انسانوں کے مَن گھڑت قوانین کو ترجیح دی جاتی ہے تو معاشرے میں بے انصافی، استِحصال اور فساد پھیلتا ہے۔
اللہ کی عبادت کی طرف دعوت
نزولِ قراٰن کا ایک اَہم مقصد قراٰنِ کریم میں یہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ یہ کتاب لوگوں کو اللہ کی عبادت کی طرف بلانے اور شرک سے نکالنے کے لیے نازل کی گئی، چنانچہ فرمایا:
اِنَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ فَاعْبُدِ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّیْنَؕ(۲)
ترجَمۂ کنزُالایمان: بےشک ہم نے تمہاری طرف یہ کتاب حق کے ساتھ اتاری تو اللہ کو پوجو نِرے اس کے بندے ہوکر۔([3])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
اسی طرح سورۃُ الانعام میں بھی فرمایا:
وَ هٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ فَاتَّبِعُوْهُ وَ اتَّقُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَۙ(۱۵۵)
ترجَمۂ کنزُالایمان: اور یہ برکت والی کتاب ہم نے اتاری تو اس کی پیروی کرو اور پرہیزگاری کرو کہ تم پر رحم ہو۔([4])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
نیکی اور تقویٰ کی تعلیم
نُزولِ قراٰن کا ایک مقصد قراٰنِ کریم میں یہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ یہ کتاب لوگوں کو نیکی اور تقویٰ سکھانے کے لیے نازل کی گئی۔ سورۃُ الجمعۃ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
هُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُزَكِّیْهِمْ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَۗ-وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍۙ(۲)
ترجَمۂ کنزُالایمان: وہی ہے جس نے اَن پڑھوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا کہ ان پر اس کی آیتیں پڑھتے ہیں اور انہیں پاک کرتے ہیں اور انہیں کتاب اور حکمت کا علم عطا فرماتے ہیں اور بےشک وہ اس سے پہلے ضَرور کھلی گمراہی میں تھے۔([5])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
سور ۃ اٰل عمرٰن میں فرمایا:
لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُزَكِّیْهِمْ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَۚ-
ترجَمۂ کنزُالایمان: بے شک اللہ کا بڑا احسان ہوا مسلمانوں پر کہ ان میں انہیں میں سے ایک رسول بھیجا جو ان پراس کی آیتیں پڑھتا ہے اور انھیں پاک کرتا اور انھیں کتاب و حکمت سکھاتاہے۔ ([6])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
سورۃُ البقرۃ میں حضرت ابراہیم علیہ السّلام کی دُعا میں یہ مضمون آیا:
رَبَّنَا وَ ابْعَثْ فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِكَ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ یُزَكِّیْهِمْؕ-
ترجَمۂ کنزُالایمان: اے رب ہمارے اور بھیج ان میں ایک رسول انہیں میں سے کہ ان پر تیری آیتیں تلاوت فرمائے اور انہیں تیری کتاب اور پختہ علم سکھائے اور انہیں خوب ستھرا فرمادے۔([7])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
یہ آیات بتاتی ہیں کہ قراٰن کا نُزول محض معلومات فراہم کرنے کے لیے نہیں بلکہ انسانوں کے اَخلاق اور کِردار کو سنوارنے کے لیے ہے۔ تزکیہ کا مطلب ہے انسان کو بُرائیوں سے پاک کرنا اور نیکیوں سے آراستہ کرنا۔ قراٰن جھوٹ، چوری، دھوکا، ظلم، بدگمانی، حسد، بغض، تکبّر جیسی تمام اخلاقی بُرائیوں سے روکتا ہے اور سچّائی، امانت، انصاف، حسنِ ظن، خیرخواہی، محبّت، تواضع جیسی نیکیوں کی تعلیم دیتا ہے۔ یہ تزکیہ صرف ظاہری نہیں بلکہ باطنی بھی ہے یعنی دل اور روح کی پاکیزگی۔ معاشرے میں جب لوگ قراٰن کی تعلیم پر عمل کرتے ہیں تو ان میں بلند اخلاق پیدا ہوتے ہیں، باہمی محبّت اور اعتماد بڑھتا ہے اور معاشرہ اَمن و سُکون کا گہوارہ بن جاتا ہے۔ رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:اِنَّمَا بُعِثْتُ لِاُتَمِّمَ صالح الْاَخْلَاقِ میں حسنِ اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہوں۔([8])
رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی صداقت کی دلیل
نُزولِ قراٰن کا ایک مقصد قراٰنِ کریم میں یہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ یہ کتاب رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی نبوّت اور صداقت کی واضح دلیل ہے۔ سورۃُ العنکبوت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیٰتٌ مِّنْ رَّبِّهٖؕ-قُلْ اِنَّمَا الْاٰیٰتُ عِنْدَ اللّٰهِؕ-وَ اِنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ(۵۰) اَوَ لَمْ یَكْفِهِمْ اَنَّاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ یُتْلٰى عَلَیْهِمْؕ-
ترجَمۂ کنزُالایمان: اور بولے کیوں نہ اتریں کچھ نشانیاں ان پر ان کے رب کی طرف سے تم فرماؤ نشانیاں تو اللہ ہی کے پاس ہیں اور میں تو یہی صاف ڈر سنانے والا ہوں اور کیا یہ اُنہیں بس نہیں کہ ہم نے تم پر کتاب اُتاری جو ان پر پڑھی جاتی ہے۔([9])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
گُناہوں سے نکالنے کا ذریعہ
نُزولِ قراٰن کا ایک مقصد قراٰنِ کریم میں یہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ یہ کتاب لوگوں کو گُناہوں اور تاریکیوں سے نکال کر نُور اور نیکیوں کی طرف لانے کے لیے نازل کی گئی۔
سورۃ ابراہیم میں فرمایا:
الٓرٰ كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ لِتُخْرِ جَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ ﳔ
ترجَمۂ کنزُالایمان: ایک کتاب ہے کہ ہم نے تمہاری طرف اتاری کہ تم لوگوں کو اندھیریوں سے اُجالے میں لاؤ ۔([10])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
سورۃُ الحدید میں بھی فرمایا:
هُوَ الَّذِیْ یُنَزِّلُ عَلٰى عَبْدِهٖۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ لِّیُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِؕ-
ترجَمۂ کنزُالایمان: وہی ہے کہ اپنے بندہ پر روشن آیتیں اُتارتا ہے کہ تمہیں اندھیریوں سے اُجالے کی طرف لے جائے۔([11])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
یہ آیات بتاتی ہیں کہ قراٰن انسان کو گُناہ اور ضَلالت کی تاریکیوں سے نکال کر ایمان اور طاعَت کے نُور کی طرف لے جاتا ہے۔ جب انسان قراٰن کی تلاوت کرتا ہے، اس کے احکام پر عمل کرتا ہے اور اس کے مطابق اپنی زندگی گُزارتا ہے تو اس کے گُناہ معاف ہوتے ہیں، اس کا دل پاک ہوتا ہے اور وہ اللہ کا محبوب بندہ بن جاتا ہے۔ قراٰن میں توبہ کی ترغیب، گناہوں کی معافی کی بشارت اور نیک اعمال کے اَجر کا تذکرہ بار بار آتا ہے تاکہ انسان مایوس نہ ہو اور اللہ کی طرف رُجوع کرے۔ معاشرے میں جب لوگ قراٰن سے دُور ہوجاتے ہیں تو وہ گناہوں میں ڈوبتے چلے جاتے ہیں اور پھر مایوسی اور نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہوجاتے ہیں، لیکن قراٰن کی طرف لوٹنے سے انہیں نئی زندگی ملتی ہے۔
اللہ کی رَحمت اور بَرکت
نُزولِ قراٰن کا ایک مقصد قراٰنِ کریم میں یہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ یہ کتاب تمام جہانوں کے لیے رَحمت اور بَرکت ہے۔
سورۃ یونس میں فرمایا:
یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَتْكُمْ مَّوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ شِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِۙ۬-وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ(۵۷)
ترجَمۂ کنزُالایمان: اے لوگو تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت آئی اور دلوں کی صحت اور ہدایت اور رَحمت ایمان والوں کے لیے۔([12])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
سورۃُ بنی اسراءیل میں فرمایا:
وَ نُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَآءٌ وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَۙ-وَ لَا یَزِیْدُ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا خَسَارًا(۸۲)
ترجَمۂ کنزُالایمان: اور ہم قرآن میں اتارتے ہیں وہ چیز جو ایمان والوں کے لیے شفا اور رحمت ہے اور اس سے ظالموں کو نقصان ہی بڑھتا ہے۔([13])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
یہ آیات بتاتی ہیں کہ قراٰن اللہ کی رَحمت کا مظہر ہے۔ یہ انسانوں کے لیے دنیا اور آخِرت میں بھلائی کا ذریعہ ہے۔ جو لوگ قراٰن کی تعلیمات پر عمل کرتے ہیں ان پر اللہ کی رحمتیں نازِل ہوتی ہیں، ان کی زندگیوں میں بَرکت آتی ہے، ان کے مسائل حل ہوتے ہیں اور ان کے دل اطمینان پاتے ہیں۔ قراٰن کی تلاوت سے گھروں میں برکت آتی ہے، بیماریوں سے شفا ملتی ہے، اور شیطانی وساوس دُور ہوتے ہیں۔ معاشرے میں جب قراٰن کی تعظیم ہوتی ہے، اس کی تلاوت اور تعلیم کا اہتمام ہوتا ہے تو پورے معاشرے پر اللہ کی رحمتیں برستی ہیں۔ رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:مَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ اللَّهِ يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ وَيَتَدَارَسُونَهُ بَيْنَهُمْ اِلَّا نَزَلَتْ عَلَيْهِمُ السَّكِينَةُ وَغَشِيَتْهُمُ الرَّحْمَةُ وَحَفَّتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ وَذَكَرَهُمُ اللَّهُ فِيمَنْ عِنْدَهُ جو لوگ اللہ کے گھروں میں سے کسی گھر میں جمع ہوکر اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں اور آپس میں اس کا درس کرتے ہیں تو ان پر سکینہ نازِل ہوتی ہے، رَحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے، فرشتے انہیں گھیر لیتے ہیں اور اللہ اپنے پاس والوں میں ان کا تذکرہ کرتا ہے۔ ([14])
تذکیر اور عبرت و سبق
نُزولِ قراٰن کا ایک مقصد قراٰنِ کریم میں یہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ یہ کتاب انسانوں کو یاد دلانے اور ان کی نصیحت کرنے کے لیے نازل کی گئی اور یہ کتاب گزشتہ قوموں کے واقعات بیان کرکے عبرت اور سبق فراہم کرتی ہے۔ سور ۂ صٓ میں بھی فرمایا:
كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ مُبٰرَكٌ لِّیَدَّبَّرُوْۤا اٰیٰتِهٖ وَ لِیَتَذَكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ(۲۹)
ترجَمۂ کنزُالایمان: یہ ایک کتاب ہے کہ ہم نے تمہاری طرف اتاری برکت والی تاکہ اس کی آیتوں کو سوچیں اور عقل مند نصیحت مانیں۔([15])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
قراٰن کا یہ پہلو بہت اَہَم ہے کہ یہ انسان کو اس کی اصل حقیقت، اس کے خالق، اس کی ذمّہ داریوں اور آخِرت کی جوابدہی کی یاد دلاتا رہتا ہے۔ انسان دنیا کی مصروفیات میں اکثر ان بنیادی سوالات کہ میں کہاں سے آیا، مجھے یہاں کیوں بھیجا گیا اور میرا انجام کیا ہوگا؟ کے نتائج سے لاتعلّق ہوجاتا ہے۔ قراٰن بار بار ان حقائق کی طرف متوجّہ کرتا ہے۔ یہ تذکیر صرف معلومات کی نہیں بلکہ عملی زندگی میں اللہ کی یاد کو تازہ رکھنے کی ہے۔ معاشرے میں جب لوگ اپنے مقصدِ زندگی کو بھول جاتے ہیں اور مادیَّت میں کھو جاتے ہیں تو قراٰن کی یہ تذکیر انہیں روحانی بیداری کی طرف بلاتی ہے۔
سورۃ یوسف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
لَقَدْ كَانَ فِیْ قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِّاُولِی الْاَلْبَابِؕ-مَا كَانَ حَدِیْثًا یُّفْتَرٰى وَ لٰكِنْ تَصْدِیْقَ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ تَفْصِیْلَ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠(۱۱۱)
ترجَمۂ کنزُالایمان: بےشک ان کی خبروں سے عقل مندوں کی آنکھیں کُھلتی ہیں یہ کوئی بناوٹ کی بات نہیں لیکن اپنے سے اگلے کاموں کی تصدیق ہے اور ہر چیز کا مفصّل بیان اور مسلمانوں کے لیے ہدایت ورحمت۔([16])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
سورۃھود میں فرمایا:
وَ كُلًّا نَّقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهٖ فُؤَادَكَۚ-
ترجَمۂ کنزُالایمان: اور سب کچھ ہم تمہیں رسولوں کی خبریں سناتے ہیں جس سے تمہارا دل ٹھہرائیں۔([17])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
قراٰنِ کریم میں حضرت نوح، ابراہیم، موسیٰ، عیسیٰ اور دیگر اَنبیا علیہم السّلام کے واقعات، قومِ عاد، ثمود، فرعون اور دیگر ظالم قوموں کے انجام اور مختلف تاریخی واقعات کا تذکرہ اس لیے کیا گیا ہے تاکہ ہم عبرت حاصل کریں۔ یہ واقعات بتاتے ہیں کہ جن قوموں نے اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا، ظلم و فساد پھیلایا اور اصلاح سے انکار کیا ان کا انجام تباہی تھا، اور جنہوں نے ایمان کو قبول کیا، نیک عمل کیے اور صبر سے کام لیا انہیں اللہ نے کامیابی عطا فرمائی۔ یہ تاریخی سبق ہر دَور کے لیے یکساں اہمیّت رکھتے ہیں۔ معاشرے میں جب لوگ تاریخ سے سبق نہیں سیکھتے تو وہ وہی غلطیاں دہراتے ہیں جو پہلے لوگ کر چکے ہیں، لیکن قراٰن کی تعلیمات پر عمل کرکے ہم ان غلطیوں سے بچ سکتے ہیں۔
قراٰنِ کریم کے نُزول کے یہ مقاصد اور حکمتیں بتاتی ہیں کہ یہ کتاب زندگی کے ہر شعبے کے لیے جامع رَاہنمائی ہے۔ اس میں عقائد سے لیکر اخلاقیات تک، عبادات سے لیکر معاملات تک، انفرادی زندگی سے لیکر اجتماعی نِظام تک اور دنیا سے لیکر آخِرت تک ہر پہلو کو مُحیط کیا گیا ہے۔
ہمارا فریضہ ہے کہ ہم قراٰن کی ان عظیم حکمتوں اور مقاصد کو سمجھیں، اس کی تلاوت کو اپنا معمول بنائیں، اس کے معانی پر غور کریں، اس کے احکام پر عمل کریں، اور اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں کو اس کی تعلیمات کے مطابق ڈھالیں۔ جب ہم ایسا کریں گے تو دنیا میں بھی کامیابی اور سکون حاصل ہوگا اور آخِرت میں بھی اَبدی نَجات نصیب ہوگی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں قراٰن کو سمجھنے، اس پر عمل کرنے اور اس کی روشنی میں زندگی گُزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔
اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ، ایم فل علوم اسلامیہ ایڈیٹر ماہنامہ فیضانِ مدینہ کراچی

Comments