سوشل میڈیا انفلوئنسر اور ان کی ذمہ داریاں
ہم ایسے تیز رفتار ڈیجیٹل دَور میں جی رہے ہیں جہاں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی کثرت نے اظہارِ رائے کو غیر معمولی وُسعت دے دی ہے۔ آج عام سی آواز چند لمحوں میں ہزاروں بلکہ لاکھوں لوگوں تک پہنچ جاتی ہے۔ اس دَور میں ایسے چہرے اور شخصیات بھی سامنے آئی ہیں جنہوں نے اپنے ذاتی چینلز، تکنیکی صلاحیتوں اور منفرد اندازِ پیشکش کے ذریعے لوگوں کے دلوں پر اثر قائم کیا ہے۔ یہی لوگ آج ”سوشل میڈیا انفلوئنسرز (Social media influencers)“ کہلاتے ہیں۔
انفلوئنسر بننے کے لیے کسی مخصوص ڈگری، منصب یا خطابت کا حامل ہونا ضَروری نہیں۔ دَرحقیقت قوّتِ تاثیر ہر اس شخص میں ہوتی ہے جس کی بات سنی جاتی ہےاور جس کے رویّے، خیالات اور طرزِ زندگی کو لوگ اپناتےہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض افراد اپنے اخلاص، حکمت، لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے جذبے، دینی اقدار کی نمائندگی، وطن سے وفاداری اور اُمید افزا پیغام کی بدولت جلدی مقبولیّت حاصل کر لیتے ہیں۔
اثر انگیزی ایک نعمت ہے اور ہر نعمت کے ساتھ ایک ذمّہداری وابستہ ہوتی ہے، سوشل میڈیا پر اثر رکھنے والا شخص دراصل امانت کا حامل ہوتا ہے، اس کی ذمّہ داری صرف مواد تخلیق کرنا نہیں بلکہ یہ سوچنا بھی ہے کہ اس کے الفاظ، وِڈیوز اور تبصرے معاشرے کو کس سمت لے جا رہے ہیں، کیونکہ اثر انگیزی کو فالوورز کی تعداد سے نہیں بلکہ اس کے مثبت اور مفید نتائج سے جانچا جاتا ہے۔
دینِ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ ہر لفظ اور ہر عمل کا حساب ہے۔
رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان ہے:بند ہ اللہ کی رضا مندی کے لیے ایک بات زبان سے نکالتا ہے اسے وہ کوئی اہمیّت نہیں دیتا (یعنی بندہ اسے معمولی سمجھتا ہے)مگر اس کی وجہ سے اللہ اس کے درجے بلند کردیتا ہے اور ایک بندہ ایک ایسا کلمہ زبان سے نکالتا ہے جو اللہ کی ناراضگی کا باعث ہوتا ہے اسے وہ کوئی اہمیّت نہیں دیتا لیکن اس کی وجہ سے وہ جہنّم میں چلا جاتا ہے۔([1])
یہ حدیث سوشل میڈیا کے ہر فعّال فرد کے لیے ایک آئینہ ہے کیونکہ یہاں کہی گئی بات اسکرین تک محدود نہیں رہتی بلکہ مدّتوں زندہ رہتی ہے کبھی ثواب بن کر اور کبھی وبال بن کر۔
کتنے ہی مواقع پر ایک سچّی بات نے مایوس دل کو زندگی دی، ایک اچّھے رویّے نے بکھرتے گھر کو سنبھال لیا اور ایک مثبت پیغام نے نوجوان کو گمراہی سے بچا لیا۔ بہت سی زندگیاں ایسی ہیں جو کسی ایک سچے پیج، کسی خیرخواہ وڈیو یا کسی بااخلاق شخصیت کو فالو کرنے کی وجہ سے بدل گئیں۔ یہی اصل اثر انگیزی ہے۔
ایک سچّا انفلوئنسر وہ ہے جو خود سے یہ سُوال کرتا رہے:
(1)میں جو پیش کر رہا ہوں اس سے معاشرے/ لوگوں کی اصلاح ہو رہی ہے یا بگاڑ؟
(2)کیا یہ وہ بات ہے جس کے ساتھ میں اللہ کے حُضور حاضر ہونا پسند کروں گا؟
اللہ تعالیٰ ایسے ہی لوگوں کے بارے میں فرماتا ہے:
اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَیَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا(۹۶)
ترجَمۂ کنز الایمان: بےشک وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے عنقریب ان کے لیے رحمٰن محبّت کردے گا۔([2])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
یہی وہ قبولیّت ہے جو شور، سنسنی اور شہرت سے نہیں بلکہ اخلاص اور خیر سے ملتی ہے۔آج ہمارے معاشرے میں الحمدللہ! ایسے بہت سے بااثر افراد موجود ہیں جنہوں نے سوشل میڈیا کو محض تفریح نہیں بلکہ دعوت، تربیَت، اخلاقیات، صحت، قومی شناخت اور اَمن کا ذریعہ بنایا ہے۔ ان کا مواد دِلوں کو جوڑتا ہے، اُمید جگاتا ہے اور ایک متوازن، باکِردار نسل کی تعمیر میں کردار ادا کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ مَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَاۤ اِلَى اللّٰهِ وَ عَمِلَ صَالِحًا وَّ قَالَ اِنَّنِیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ(۳۳)
ترجَمۂ کنز الایمان:اور اس سے زیادہ کس کی بات اچّھی جو اللہ کی طرف بلائے اور نیکی کرے اور کہے میں مسلمان ہوں۔([3])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
یہاں ایک اَہم ذمّہ داری فالوورز پر بھی عائد ہوتی ہےکہ اثر انگیزی کا دائرہ صرف بولنے والے تک محدود نہیں، بلکہ سننے اور پھیلانے والے بھی اس میں شریک ہوتے ہیں۔
رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:جس نے کسی بھلائی کے کام پر رَہنمائی کی تو اس کے لیے وہ کام کرنے والے کی طرح ثواب ہے۔([4])
لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم ان آوازوں کو فروغ دیں جو تعمیر کرتی ہیں، نہ کہ ان کو جو نفرت، بے راہ روی اور انتشار کو بڑھاتی ہیں۔آخِر میں یہ سمجھ لینا ضَروری ہے کہ سوشل میڈیا انفلوئنسر ہونا صرف شہرت نہیں بلکہ لوگوں کی تربیَت میں شراکت ہے۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو اس ذمّہ داری کو پہچانیں، اپنی موجودگی کو روشنی بنائیں اور اپنے اثر کو خیر، اصلاح اور ہدایت کا ذریعہ بنائیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کا ذکر دلوں میں زندہ رہتا ہے اور جن کے لیے دنیا اور آخِرت دونوں میں کامیابی لکھی جاتی ہے۔

Comments