بچوں کو دوسروں کا احساس کرنا سکھائیے


بچّوں کو دوسروں کا احساس کرنا سکھائیے


معاشرہ افراد سے بنتا ہے اور افراد کی تربیَت کا سب سے پہلا اور مضبوط مرکز گھر ہوتا ہے۔ ماں باپ ہی وہ عظیم ہستیاں ہیں جو اپنی اولاد کے دلوں میں محبّت، ہمدردی اور دوسروں کا خیال رکھنے کا جذبہ پیدا کرتی ہیں۔اگر بچّوں کو بچپن ہی سے دوسروں کے احساسات اور ضروریات کا خیال رکھنا سکھایا جائے تو وہ بڑے ہو کر معاشرے کے بہترین افراد میں شمار ہوسکتے ہیں۔ اسی اَہم پہلو کی طرف توجّہ دلانے کے لیے چند باتوں کی نشان دہی کی جارہی ہے۔

جواپنے لیے پسند کرووہی دوسروں کے لیے کرو:

ماں باپ کی یہ ذمّہ داری ہے کہ وہ بچّوں کے دل میں یہ بات بٹھائیں کہ جو چیز وہ اپنے لیے پسند کرتے ہیں، وہی دوسروں کے لیے بھی پسند کریں۔ نبیِ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے فرمایا: تم میں سے کوئی اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔ ([1]) اس حدیثِ مبارکہ کی روشنی میں اگر بچوں کو سکھایا جائے کہ وہ دوسروں کے ساتھ وہی سلوک کریں جو اپنے لیے چاہتے ہیں تو ان کے اخلاق سنور جائیں گے۔ اگر بچّہ چاہتا ہے کہ اس کے ساتھ نرمی سے بات کی جائے تو اسے بھی دوسروں کے ساتھ نرمی اختیار کرنی چاہیے، اور اگر وہ یہ چاہتا ہے کہ اس کی بات سنی جائے تو اسے بھی دوسروں کی بات غور سے سننی اور ان کا احتِرام کرنا چاہیے۔

دوسروں کو تکلیف سے بچانا:

ماں باپ کو چاہیے کہ وہ بچوں کے دل میں یہ احساس پیدا کریں کہ کسی کو تکلیف دینا اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہے۔  بچوں کو سمجھائیں کہ جیسے انہیں درد، ڈانٹ یا بے عزّتی اچھی نہیں لگتی، اسی طرح دوسروں کو بھی یہ باتیں تکلیف دیتی ہیں۔ روزمرہ مثالوں کے ذریعے یہ بات ذہن نشین کروائی جائے کہ دھکا دینا، چڑانا، مذاق اڑانا یا سخت الفاظ کہنا بھی تکلیف دینے والے کام ہیں۔ کسی مسلمان کو تکلیف دینے والے کو اللہ پاک سخت سزا دیتا ہے۔ مشہور تابعی بزرگ حضرت مُجاہد  رحمۃُ اللہ علیہ  فرماتے ہیں: جہنمیوں پرخارش مُسلّط کردی جائے گی۔ تو وہ اپنے جسم کوکھجلائیں گے حتّی کہ ان میں سے ایک کی (کھال اور گوشت اُترنے سے) ہڈّی ظاہر ہو جائے گی۔ اُسے پکارکر کہا جائے گا:اے فُلاں!کیا تمہیں اس سے تکلیف ہوتی ہے؟وہ کہے گا: ہاں۔ پکارنے والا کہے گا: تُو مسلمانوں کو تکلیف پہنچایا کرتا  تھا یہ اس کی سزا ہے۔([2])

شور شرابے سے روکنا :

والدین کو چاہیے کہ وہ بچّوں کو سمجھائیں کہ گھر میں شور مچانا گھر والوں اور پڑوسیوں کی تکلیف کا باعث ہے۔ بچّوں کو نرمی سے بتایا جائے کہ چیخنا چلانا، چیزیں پٹخنا یا شور مچاکر کھیلنا بیماروں، بُز ُرگوں اور آرام کرنے والوں کے سکون میں خلل ڈالتا ہے۔ جب بچے یہ سمجھ لیں گے کہ ان کے شور سے دوسروں کو پریشانی ہوتی ہے تو ان کے اندر احساس پیدا ہوگا اور وہ شور وغیرہ کرنے سے بچیں گے۔

بچّوں کو بتائیں کہ پڑوسیوں کے حقوق کی ادائیگی اِس قدر اہم ہے کہ ایک مرتبہ نبیِ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے صحابۂ کرام سے ارشاد فرمایا: خدا کی قسم! وہ شخص مومن نہیں، خدا کی قسم! وہ شخص مومن نہیں، خدا کی قسم! وہ شخص مومن نہیں۔ صحابۂ کرام  نے پوچھا: یارسول اللہ کون؟فرمایا: جس کی آفتوں سے اس کے پڑوسی محفوظ  نہ ہوں۔ (یعنی جو شخص اپنے پڑوسیوں کو تکلیفیں دیتا ہو) ([3])

رول ماڈل بنیں:

بچّے والدین کی نقل کرتے ہیں، اس لیے سب سے پہلے خود اچھی مثال قائم کریں۔ گھر میں اپنے والدین کا احتِرام کریں، آپس میں محبّت سے بات کریں، پڑوسیوں کی مدد کریں، غریبوں پر ترس کھائیں اور خادموں سے اچھا سُلوک کریں۔ بچے یہ سب دیکھ رہے ہوتے ہیں اور خود بخود سیکھتے ہیں۔

دوسروں کے نقصان پر ہمدردی کرنا سکھائیں:

بعض بچے دوسروں کی مصیبت پر خوش ہوتے ہیں یہ انتہائی بُری عادت ہے۔ والدین کو چاہیے کہ بچّوں کو دوسروں کے نقصان یا مصیبت پر ہمدردی کرنا اور ممکنہ صورت میں پریشانی دُور کرنا سکھائیں۔بچّوں کو بتائیں کہ کسی کی مصیبت پر خوش ہونا خود اس مصیبت میں مبتلا ہونے کا باعث بن سکتا ہے۔نبیِ پاک  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے ارشاد فرمایا: ’’اپنے بھائی کی شماتت نہ کر (یعنی اس کی مصیبت پر خوش نہ ہو )کہ اللہ پاک اس پر رَحم کرے گا اور تجھے اس میں مبتلا کردے گا۔“([4])

دوسروں کی مصیبت پر خوش ہونے والی بُری عادت سے بچوں کو یوں بھی بچایا جاسکتا ہے کہ ان کو نیک لوگوں کے واقعات سنائے جائیں۔ جیساکہ حضرت سَری سقطی کا واقعہ ہے کہ بازار میں آپ کی ایک دُکان تھی ، ایک دفعہ اُس بازار میں آگ لگ گئی ، پورا بازار جل گیا ، لیکن آپ   رحمۃُ اللہ علیہ   کی دُکان بچ گئی۔ جب آپ کو اِس بات کی خبر دی گئی تو بے ساختہ آپ کے منہ سے نکلا : ”اَلحمد لِلّٰہ“ مگر فوراً ہی اپنے نفس کو ملامت کرتے ہوئے اِرشاد فرمایا: ” فقط اپنا مال بچ جانے پر میں نے کیسے اَلحمد لِلّٰہ کہہ دیا!‘‘ چنانچہ آپ نے تِجارت کو خیر باد کہہ دیا اور اَلحمد لِلّٰہ کہنے پر توبہ ومُعافی کی خاطر عُمر بھر کے لیے دُکان چھوڑ دی۔([5])

نیک کاموں میں شامل کریں:

بچّوں کو دوسروں کا احساس سکھانے کے لیے ماں باپ کو چاہیے کہ بچّوں کو عملی طور پر نیک کاموں میں شامل کریں۔ انہیں اپنے ہاتھ سے صدقہ دلوائیں، بچوں کے سامنے یتیموں اور مستحق لوگوں کی خدمت کریں۔ عید،میلاد النبی اور دیگر خوشی کے مواقع پر غریبوں میں کپڑے یا کھانا تقسیم کرنے میں شامل کریں کہ یہ کام بھی بچوں کے دل میں احساس پیدا کریں گے۔

 دُعا اور شکر کی عادت:

دوسروں کا خیال رکھنے کاایک طریقہ دُعا بھی ہے، والدین کو چاہیے کہ بچّوں کو دوسروں کے لیے دُعا کرنا سکھائیں۔ جب کوئی بیمار ہو، مشکل میں ہو، یا کامیاب ہو تو ان کے لیے بچے دُعا کریں۔

جانوروں اور دیگر مخلوق کا خیال:

بعض بچّے جانوروں، کیڑے مکوڑوں اور چرند پرند کو تکلیف پہنچاتے  ہیں۔والدین کو چاہیے کہ بچّوں کو انسانوں کے ساتھ ساتھ جانوروں اور دیگر اللہ کی مخلوق کا خیال رکھنا بھی سکھائیں۔

اگر ماں باپ بچپن ہی سے اولاد کے دل میں دوسروں کا خیال، ہمدردی اور حسنِ سلوک کی تربیت راسخ کر دیں تو یہی بچے مستقبل میں ایک صالح اور پُرامن معاشرے کی بنیاد بنتے ہیں۔ گھریلو تربیت کے یہ چھوٹے چھوٹے اصول دراصل بڑے اخلاقی انقلاب کا پیش خیمہ ہوتے ہیں۔ لہٰذا والدین کی ذمّہ داری ہے کہ وہ رول ماڈل بن کر اپنی اولاد کو انسانیت اور خیر خواہی کا راستہ دکھائیں۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ شعبہ ماہنامہ فیضانِ مدینہ کراچی



([1])مسلم،ص47،حدیث:170

([2])احیاء العلوم،2/242

([3])بخاری،4/104، حدیث:6016

([4])ترمذی،4/227، حدیث: 2514

([5])احیاء العلوم ، 5 / 71


Share