قیام و رکوع و سجود میں معذور کیلئے حکم شرعی

اسلامی بہنوں کے شرعی مسائل


(1)ماشآء اللہ کے کلمات کو بے وضو چھونا کیسا؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ  ہمارے ہاں خواتین حجاب  میں  ایک پٹی استعمال کرتی ہیں، جس پر قرآنی کلمہ ”ماشآء اللہ “ لکھا ہوتا ہے ، یونہی مردوں کیلئے بھی  پٹی آتی ہے، جس کو بازو پر باندھا جاتا ہے ، اس پر بھی  ”ماشآء اللہ لکھا ہوتا ہے، سوال یہ ہے کہ ایسے کپڑے  یا  پٹی کو بے وضو  چھو سکتے ہیں یا نہیں ؟

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

بیان کردہ صورت میں ایسی پٹی جس پر  ”ماشآء اللہ “  کےکلمات  لکھے ہوں،اُسےبے وضو چھو سکتے ہیں،شرعاً اس  میں گناہ نہیں، کیونکہ  عموماً اس طرح کی چیزوں پر  یہ کلمات آیتِ قرآنی  کی حکایت کے طور پر نہیں،بلکہ حصولِ برکت یا کسی  اور مقصد،مثلاً نظرِ بد سے بچنے کیلئے لکھے جاتے ہیں، اس لیے  ایسے کلمات جن کو ان مقاصد کیلئے لکھنے میں لوگوں کامعمول ہے،ان کو بے وضو  حالت میں چھونا، گناہ نہیں، ہاں! وضو و طہارت کی حالت میں چھونا ، بہتر ہے۔ البتہ یہ یاد رہے کہ  انہیں پہنے ہوئے بیت الخلاء میں جانا منع ہے۔

اس کی فقہی اعتبار سےنظیر”بسم اللہ الرحمن الرحیم “ ہے کہ  ہمارے ہاں کتابوں یا تحریرات وغیرہ کے شروع میں لکھی جاتی ہے  اور اس میں عموماً آیتِ قرآنی کی حکایت مقصود نہیں ہوتی ،  بلکہ اللہ تعالیٰ کے  مقدس ناموں سے برکت لینا مقصود ہوتا ہے،اسی طرح کلمۂ استرجاع ”انا للہ وانا الیہ راجعون“ کہ اس     کو  محض اظہارِ افسوس کیلئے یا خبرِ غم کے جواب   میں یا مصیبت کے وقت اس جملے کو   کہنے کی حدیثِ پاک میں   بیان کردہ  فضیلت پانے کی غرض سے لکھا  و بولاجاتا ہے،ان   دونوں کلمات کو  دعا و ثنا و برکت وغیرہ کی  نیّت سے لکھنے و بولنے میں  تعاملِ ناس ہے کہ ہر خاص و عام کسی خاص موقع پر   ان کلمات کو بطورِ دعا و ثنا  یا  تبرک کے طور  پر لکھتا ،بولتا ہے اور لکھتے ،بولتے وقت حکایتِ قرآن کی طرف توجہ ہی نہیں ہوتی،اسی طرح  کلمۂ”ماشآء اللہ “  کو بھی حصولِ برکت یا نظرِ بد سے بچنے کیلئے لکھا جاتا ہے ، اس لیے اس کلمہ کو  بے وضو لکھنا اور چھونا ، جائز ہے  ۔

وَاللہ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

(2)قیام و رکوع و سجود میں معذور کیلئے حکم شرعی

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس  بارے میں کہ ایک خاتون کو  استحاضے    کامرض ہے،انہیں کھڑے ہو کر نماز پڑھنے    اور رکوع و سجود میں جھکنے کی وجہ  سے خون آتا ہے، جبکہ بیٹھ کر اشارے سے نماز پڑھنے کی صورت میں خون نہیں آتا،تواس صورت میں  اس خاتون کیلئے کیا  حکم شرعی ہے  ؟

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

پوچھی گئی صورت میں اس خاتون پر   لازم ہےکہ   بیٹھ کر  اشارے سے نماز پڑھے، کہ ہر وہ   طریقہ جس سےمعذورِ شرعی  کا عذر جاتا رہے یا اس میں   کمی ہو جائے،  اسے اختیار  کرنا معذور پر  واجب ہے اور ایسا کرنے  سے معذورِ شرعی کا حکم بھی ختم ہوجائے گا جبکہ عذر ختم ہونے کی دیگر شرائط بھی پائی جائیں۔

 مسئلے کی  توجیہ یہ ہے کہ      بلا رخصتِ شرعی نماز میں  قیام  اور رکوع وسجود  بھی ضروری ہیں ،البتہ  بے وضو نماز پڑھنے کی بنسبت قیام اور رکوع و سجود  کا ترک کرنا کچھ   خفیف حکم  رکھتا ہے، کہ شریعت مطہرہ نے  بحالت ِ اختیار  بعض صورتوں میں  قیام اور سجدہ   ترک کرنے کی رخصت دی ہے، جیسا کہ  نفل نماز  پڑھنےوالے کو    بیٹھ کر  یابیرون ِ شہر  سواری پر اشارے سے نفل نماز پڑھنے کی اجازت ہے، جبکہ   بحالتِ اختیار بے وضو   نماز پڑھنے کی  کسی  صورت بھی  اجازت نہیں، اورشرعی اصول ہے کہ     جب کوئی شخص  دو آزمائشوں میں مبتلا ہوجائے، تو  اسے حکم ہے کہ ان میں سے  کمتر کو اختیار کرے۔  لہٰذا  مذکورہ خاتون بھی   طہارت ووضو قائم  رکھنے کیلئے بیٹھ کر اشارے کے ساتھ  نماز پڑھےگی ۔

وَاللہ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* نگران مجلس تحقیقات شرعیہ، دارالافتاء اہل سنت، فیضان مدینہ کراچی


Share