آخری نبی محمد عربی ﷺ کا انداز تبسم (قسط:01)


آخری نبی محمد عربی کااندازِ تبسم (قسط:01)


اللہ کریم نے آخری نبی  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کو کیسی شان عطافرمائی ہے کہ آپ کی ادا کوحکمِ شریعت کا درجہ حاصل ہوا نیزربِّ کریم نےحدیثِ رسول امّت کےبہترین افراد یعنی صحابَۂ کرام کے ذریعے ہم تک پہنچانے کا اہتمام فرمایا یوں حدیثِ رسول صرف زبان سے کہی ہوئی بات میں منحصر نہیں رہی بلکہ آخری نبی  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی زندگی کی پوری تفصیل حدیث قرار پائی۔ اِس پہلو پرغور کیجیے تو ہرصحابیِ نبی کی آنکھوں پر قربان ہونے کو دل چاہےگاکہ دیدارِ مصطفےٰ کی بدولت اِن حضرات کو وہ رتبہ حاصل ہوا ہےکہ جس تک اب کوئی کبھی بھی نہیں پہنچ سکتا۔

کچھ ایسا کردے میرے کردگار آنکھوں میں

ہمیشہ نَقْش رہے رُوئے یار آنکھوں میں

انہیں نہ دیکھا تو کس کام کی ہیں یہ آنکھیں

کہ دیکھنے کی ہے ساری بہار آنکھوں میں([1])

عادتِ مصطفےٰ:

مسکراہٹ ہمارے آقا کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی عادتِ کریمہ تھی۔([2]) جن ہستیوں کو آپ کا مبارک تبسم دیکھنا نصیب ہوا، انہوں نےاُن مناظر کی تسکین کو دل و دماغ میں محفوظ کیا جیسا کہ (1)رحمت ِ عالم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم جب دنیا میں آئے، حضرت حلیمہ سعدیہ   رضی اللہ عنہا  حاضر ہوئیں توآخری نبی  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  سفید اُونی کپڑے میں لپٹے ہوئے سبز ریشمی بچھونے پر آرام فرما تھے۔ حضرت حلیمہ نے آہستگی سے سینۂ مبارَکہ پر ہاتھ رکھا، پیارے آقا  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  مسکُرا دئیے اور مبارک آنکھیں کھول دِیں،جن سے ایک نُور نکلا اور آسمانِ بریں تک جا پہنچا۔([3]) (2)حضرت جریر بن عبد اللہ  رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: حضورِ اکرم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  مجھے جب بھی دیکھتے تومسکرا کر دیکھتے۔([4]) (3)حضرت عبدُاللہ بن حارِث بن جَز ْء  رضی اللہ عنہ  کہتے ہیں: میں نے کسی کو نبیِّ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے بڑھ کر تَبَسُّم فرمانے والا نہیں دیکھا۔([5])

جس کی تسکیں سے روتے ہوئے ہنس پڑیں

اس تبسم کی عادت پہ لاکھوں سلام

اندازِ تبسم:

اُمُّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہ   رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے کبھی نبیِ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کو اس طرح کھل کر ہنستے نہیں دیکھا کہ آپ کے تالو کا گوشت نظر آتا ہو۔ آپ صرف تبسم فرمایا کرتے تھے۔([6])

آخری نبی کب کب مسکرائے؟

اللہ کےآخری نبی  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے اپنےاندازسے ہمیں چہرے کے ذریعے خوشی کا اظہار کرنا سکھایا نیز یہ بھی سکھایا کہ یہ اظہار کب کب کرنا ہے؟آئیے!چند واقعات کو منتخب عنوانات کے تحت سمجھتے ہیں:

(1)اللہ کی شانِ کرم نوازی کے ذکر پر مسکراہٹ

اللہ کی شانِ کریمی دل و دماغ میں بیٹھ جائے تو شرعی احکام پر عمل میں بہت آسانی ہوجاتی ہے، آخری نبی  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کااللہ کی شانِ کریمی ذہن نشین کروانے کا انداز دیکھیے چنانچہ ایک موقع پر آپ نے فرمایا:بلاشبہ میں جہنم سے نکلنے والے آخری شخص کوجانتا ہوں اور جنّت میں جانے والے آخری شخص کو جانتا ہوں۔ایک بندہ جہنم سے گھسٹتا ہوا نکلے گا، اللہ کریم اُس سے فرمائے گا:جا!جنّت چلاجا۔ چنانچہ اُسے جنّت جاکریہ خیال آئے گا کہ وہ تو بھری ہوئی ہےلہٰذاوہ واپس آکر عرض کرے گا:اے میرے ربّ! مجھے تو وہ بھری ہوئی ملی ہے!اللہ کریم فرمائے گا:جا! جنّت چلاجا۔ چنانچہ اُسے جنّت جاکریہ خیال آئے گا کہ وہ تو بھری ہوئی ہےلہٰذاوہ (اللہ پاک سےمناجات کرنے کے مقام پر) واپس آکر عرض کرے گا:اے میرے ربّ! مجھےتو وہ بھری ہوئی ملی ہے! اللہ کریم اُس سے فرمائے گا: جا! جنّت چلاجا، تیرے لیےدنیاجتنی بلکہ اُس سے دس گُنا (زیادہ جگہ) ہے۔ آخری نبی  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  فرماتے ہیں:وہ (بےتحاشا خوش ہوکر) کہے گا: تو بادشاہ ہوکر ہنسی فرماتا ہے۔ یہ فرماکر رحمتِ عالم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اتنا مسکرائےکہ آپ کے مبارک دانت ظاہر ہوگئے۔([7])

آئیے!مصطفےٰکریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کے اِس انداز کو ہم بھی اپنا لیں، مسکراہٹ کے ساتھ اپنی گفتگو میں ربّ کی نعمتوں اوررحمتوں کاچرچا کریں تو اُمید کےچراغ روشن ہوجائیں گےاور نااُمیدی کا اندھیرا ختم ہوگا۔ اِن شآءَ اللہ الکریم

(2)خوف کی کیفیت دور ہوجانےپر مسکراہٹ

بارگاہ ِ رسالت میں ایک شخص آیا اور عرض کی: یارسولَ اللہ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم !میں ہلاک ہوگیا۔آپ نے پوچھا: كس چیز نے تجھے ہلاک کیا؟اس نے عرض کی:میں نے روزے کی حالت میں اپنی زوجہ سے صحبت کرلی ہے۔آپ نے پوچھا: کیا تمہارے پاس کوئی غلام ہے جسے تم کفارہ کے طور پر آزاد کردو؟ اس نےعرض کی:نہیں۔ آپ نے فرمایا: کیا تم لگاتار دو مہینے کے روزے رکھ سکتے ہو؟عرض کی:نہیں۔ آپ نے ایک اور سوال کیا: کیا تم ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتے ہو؟ عرض کی:نہیں۔ رسولُ اللہ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے کچھ دیر توقف فرمایا، اتنے میں آپ کی بار گاہ میں کھجوروں کا ایک ٹوکرا پیش کیا گیا تو آپ نےپوچھا کہ وہ شخص کہاں ہے؟ اس نےعرض کی: میں حاضر ہوں۔ آپ نے اس سے فرمایا: یہ ٹوکرا لو اور اس کی کھجوریں صدقہ کردو۔عرض کی: کیا مجھ سے بڑھ کر بھی کوئی حاجت مند ہوگا؟اللہ کی قسم! اس زمین کےدونوں کناروں (اس کی مراد مدینہ منورہ کی ایک زمین تھی) کے درمیان کوئی گھر والامیرے گھر والوں سے زیادہ محتاج نہیں۔ (اس کی یہ بات سُن کر)رسولُ اللہ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اتنا مسکرائے کہ آپ کے سامنے کے نوکیلے دانت ظاہر ہوگئے۔ پھر آپ نے فرمایا:(جاؤ)اسے اپنے گھر والوں کو کھلادو۔([8])

ہو اگر شانِ تبسم کا کرم

صبح ہو جائے شب دِیجورِ غم([9])

غور تو کیجیےکہ جب یہ شخص بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوا تو کس قدر خوف زدہ تھا، درِ حضور پر سب کچھ کہہ دیا، مراد پوری ہوئی بلکہ تبسمِ مصطفےٰکےذریعےرضائےمصطفےٰ کی نعمت بھی نصیب ہوئی۔تو پھر ہم بھی یہ عہد نہ کرلیں کہ پریشان حال مسلمانوں کی مشکلات دور کرنے کے لیےتیار رہیں گے اور مسکراہٹ کےذریعے اُن کےبےچین دل کو راحت پہنچانے کا سامان بھی کریں گے۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* ذمہ دار مرکز خدمۃ الحدیث، حدیث ریسرچ سینٹر کراچی



([1])سامانِ بخشش،ص145

([2])مراۃ المناجیح،7/14

([3])حجۃ اللہ علی العالمین، ص190

([4])بخاری، 2/320،حدیث:3035

([5])ترمذی، 5/366، حدیث:3661

([6])بخاری،4/125، حديث: 6092

([7])مسلم،ص99، حديث: 461، الدیباج علی المسلم، 1/243، دلیل الفالحین، 8/735

([8])بخاری،1/638،حدیث: 1936، یاد رہے اس طرح سے کفارے کی ادائیگی ان صحابی کے حق میں حضور کا خصوصی اختیار تھا، اور یہ حکم صرف ان ہی صحابی کے ساتھ خاص ہے۔

([9])ذوقِ نعت،ص298


Share