حضرت عمیر بن وہب جمحی رضی اللہ عنہ


حضرت عُمیر بن وَہَب جُمَحِی  رضی اللہ عنہ

عظیم صحابیِ رسول حضرت عُمیر بن وَہب جُمَحِی  رضی اللہ عنہ اسلام لانے سے پہلےاسلام اور اہلِ اسلام کے شدید مخالف تھے آپ رسولُ اللہ   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم   اور صحابٔہ کرام   رضی اللہ عنہم  کو شدید تکالیف دیتے تھے۔ آپ کے اسلام لانے کا واقعہ معجزاتِ نبوی کی ایک روشن مثال ہے۔ ([1])

غزوۂ بدر سے پہلے:

 آپ  رضی اللہ عنہ غزوۂ بدر میں مشرکین کی طرف سے شریک ہوئےچونکہ بہت بہادر اور قریش میں بڑی عزّت کا مقام رکھتے تھے ([2])اس لیے قریش نے آپ کو مسلمانوں کی تعداد اور طاقت کا اندازہ لگانے کے لیے بھیجا۔ آپ نے اپنے گھوڑے پر لشکر ِاسلام کے گِرد چکر لگایا  اور کہا:مسلمان تین سو کے قریب ہیں، پھر وادی کا چکر لگایا اور آکر خبر دی: ان کے پیچھے کوئی مدد نہیں،پھر کہا: اے گروہِ قریش! میں نے ایسی بلائیں دیکھی ہیں جو موت کو اُٹھائے ہوئے ہیں، ان لوگوں کے پاس اپنی تلواروں کے سوا کوئی پناہ گاہ نہیں۔ اب تم اپنی رائے پر غور کر لو (کہ جنگ کرنی ہے یا نہیں)۔ ([3]) معرکۂ بدر میں کفّارِ قریش کو ذلّت آمیز شکست ہوئی اور آپ کا بیٹا ”وَہب“ مسلمانوں کے ہاتھوں قید ہوگیا۔([4]) آپ خود ایک انصاری صحابی کے ہاتھوں شدید زخمی ہوکر گر پڑے لیکن رات کی ٹھنڈک سے کچھ افاقہ ہوا تو چھپتے چھپاتے مکہ پہنچ گئے اور صحت یابی پائی۔([5])

قتل کا منصوبہ:

کچھ دنوں بعد آپ اور صَفوان بن اُمَیّہ حطیمِ کعبہ میں بیٹھے بدر کے مقتولین کو یاد کر رہے تھے۔ (صفوان کا باپ اُمیہ بن خلف بھی میدانِ بدر میں مارا گیا تھا،)صفوان نے کہا:خدا کی قسم! ان کے بعد زندگی میں کوئی لطف نہیں۔ آپ نےکہا:تم سچ کہتے ہو۔ اللہ کی قسم! اگر مجھ پر بھاری قرض نہ ہوتا اور اپنے بعد اپنے بچّوں کی مفلسی کی فکر نہ ہوتی تو میں محمد (  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  ) کے پاس جا کر ان کو قتل کردیتا۔ میرے پاس وہاں جانے کا ایک بہانہ بھی ہے کہ میرا بیٹا ان کی قیدمیں ہے، صفوان نے فوراً کہا: تمہارا قرض میرے ذمّہ ہے، میں اسے اَدا کروں گا اور میں تمہارے بچّوں کی کفالت کروں گا۔ آپ نے کہا:پھر تم اس معاملے کو پوشیدہ رکھنا، صفوان نے راز داری کا وعدہ کر لیا۔([6])

مدینے کا سفر:

 آپ نےتلوار کو تیز کروایا پھر اسے زہر میں بجھایا اور مدینہ کی طرف چل دئیے۔ مسجدِ نبوی کے قریب پہنچے تو فاروقِ اعظم  رضی اللہ عنہ  نے پہچان لیا اور فرمایا:یہ اللہ کا دشمن عُمیر بن وَہب ہے! خدا کی قسم! یہ کسی شر کے اِرادے سے ہی آیا ہے۔ فوراً بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوکر خبر دی، رحمتِ عالم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: میرے پاس لے آؤ۔ فاروقِ اعظم  رضی اللہ عنہ  آپ کو سختی سے کھینچتے ہوئے بارگاہِ رسالت میں لےآئے۔([7])

غیبی خبر کا ظہور:

 رسولِ مکرّم   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم   نے فرمایا: اے عمیر! تم کس اِرادے سے آئے ہو؟ عرض کی: اپنے قیدی بیٹے کی وجہ سے آیا ہوں، آپ اس پر احسان فرمائیں، ارشاد فرمایا: تَو پھر گردن میں یہ تلوار کیوں لٹک رہی ہے؟ عرض کی: اللہ ان تلواروں کا بھلا نہ کرے، کیا یہ ہمارے کچھ کام آئیں؟ رسولِ کریم نے فرمایا: سچ بتاؤ ! کس لیے آئے ہو؟ آپ نے وہی بات دہرادی۔ تب رسولِ اکرم   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم   نے فرمایا:تم اور صفوان حطیم میں بیٹھے تھے، تم نے قریش کے مقتولین کا ذکر کیااور کہا: اگر مجھ پر قرض اور بچّوں کا بوجھ نہ ہوتا تو میں محمد کو قتل کر دیتا۔ اس پر صفوان نے تمہارے قرض اور بچّوں کی ذمّہ داری اس شرط پر اُٹھا لی کہ تم مجھے قتل کرو گے، لیکن اللہ میرے اور تمہارے اِرادے کے درمیان حائل ہے۔ یہ سن کر آپ  رضی اللہ عنہ  حیران ہوگئے اور پکار اُٹھے: میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں، ہم آپ کو آسمانی خبروں اور وحی کے معاملے میں جھٹلاتے تھے، لیکن یہ ایک ایسا معاملہ تھا جو میرے اور صفوان کے علاوہ کوئی نہ جانتا تھا، خدا کی قسم! مجھے یقین ہے کہ یہ خبر آپ کو اللہ ہی نے دی ہے۔ پھر رسولُ اللہ   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم   نے صحابہ   رضی اللہ عنہم سے فرمایا: اپنے بھائی کو دین کی سمجھ دو، اسے قراٰن پڑھاؤ اور اس کے قیدی کو آزاد کر دو۔صحابۂ کرام   رضی اللہ عنہم  نے آپ کو قراٰن سکھایا اور آپ کے قیدی بیٹے ”وَہب“ کو آزاد کردیا انہوں نے بھی اسلام قبول کرلیا۔([8])

مکّہ واپسی:

جب حضرت عمیر  رضی اللہ عنہ نے مکہ واپس جانے کا اِرادہ کیا توعرض کی:یا رسولَ اللہ! میں اللہ کے نور کو بجھانے اور مسلمانوں کو تکالیف پہنچانے میں آگے آگے رہا، اب آپ سے اجازت چاہتا ہوں تاکہ اہل ِ مکہ کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلاؤں اور اسلام کی دعوت دوں، ورنہ جس طرح میں نےمسلمانوں کو دینِ حق قبول کرنے پر تکالیف دی تھیں اسی طرح ان کافروں کو کفرو شرک نہ چھوڑنے پر تکلیف دوں گا۔ رسولِ کریم   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے آپ کو اجازت دے دی۔ دوسری طرف مکّہ میں صفوان لوگوں کو خوشخبری دیتاکہ کچھ دنوں میں ایک واقعہ پیش آئے گا جو تمہیں بدر کا غم بھلا دے گا۔([9]) حضرت عمیر  رضی اللہ عنہ  نے مکّے تشریف لاکر اپنے اسلام لانے کا اعلان کیا پھر گھر والوں کو بھی ایمان لانے کی دعوت دی، صفوان کو معلوم ہوا تو کہنے لگا: میں کبھی بھی عمیر سے بات نہیں کروں گا۔ ایک مرتبہ صفوان اپنے گھر میں تھا آپ  رضی اللہ عنہ  اس کے پاس گئے اور اسے پکارا تو اس نے کوئی جواب نہ دیا، آپ نے فرمایا: اے صفوان! تو ہمارے قبیلے کا سردار ہے ہم پتّھروں کی عبادت کرتے اور ان کےلیے ذبح کیا کرتے تھے تم کیا سمجھتے ہو کہ کیا یہ دینِ حق ہے؟ لیکن صفوان نےکوئی جواب نہ دیا۔([10])آپ  رضی اللہ عنہ نے اہلِ مکّہ کو اسلام کی دعوت دی اور اسلام دشمنوں کو اذیت پہنچائی۔ آپ کی کوششوں سے بہت سے لوگ اسلام میں داخل ہوگئے([11])پھرآپ نے مدینے کی جانب ہجرت کی۔ ([12])

صفوان کو امان ملی:

فتحِ مکہ کے موقع پر صفوان جدّہ کی طرف بھاگ نکلا تاکہ سمندر کے راستے یمن چلا جائے، حضرت عُمیر نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: میری قوم کا سردار صفوان بھاگ گیا ہے آپ اسے امان عطا کر دیں۔ فرمایا: وہ امان میں ہے،اور بطورِ نشانی اپنا وہ عمامہ عطا فرمایا جسے پہن کر مکہ میں داخل ہوئے تھے۔ آپ  رضی اللہ عنہ عمامہ مبارکہ لے کر صفوان کے پاس پہنچے اور اسے واپس لے آئے۔ رسولِ اکرم   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے صفوان کو امان عطا فرما کر غور و فکر کے لیے چار ماہ کی مہلت دے دی، آخر کار حضرت صفوان بن امیہ  رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کر لیا۔([13])

غزوات و وفات:

حضرت عمیر بن وہب  رضی اللہ عنہ نے غزوۂ اُحد اور دیگر غزوات میں شرکت کی سعادت پائی ([14]) آپ فتحِ مصر کے جانثاروں میں بھی شامل رہے۔([15])فاروقِ اعظم  رضی اللہ عنہ کے دَورِ خلافت 22 ہجری کے بعد آپ کی وفات ہوئی([16])ایک قول کے مطابِق آپ نے حضرت عثمانِ غنی  رضی اللہ عنہ  کے زمانۂ خلافت کے شروع میں وفات پائی۔([17])

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* سینیئر استاذ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضانِ مدینہ، کراچ



([1])سیرت ابن ہشام، ص274

([2])الاستیعاب، 3/294

([3])سیرت ابن ہشام،ص257

([4])سیرت ابن ہشام، ص274

([5])طبقاتِ ابنِ سعد، 4/151

([6])سیرتِ ابنِ ہشام،ص274ملخصاً

([7])سیرتِ ابنِ ہشام،ص274

([8])سیرتِ ابنِ ہشام،ص274ملخصاً

([9])سیرتِ ابن ہشام، ص274

([10])الاستیعاب،3/295

([11])سیرتِ ابنِ ہشام، ص275

([12])الاعلام للزرکلی، 5/90

([13])سیرتِ ابنِ ہشام، ص475ملخصاً

([14])الاعلام للزرکلی، 5/90

([15])الاستیعاب، 3/295

([16])الاعلام للزرکلی، 5/90-انساب الاشراف للبلاذری، 10/253

([17])الاستیعاب، 3/295


Share