آگ کا شعلہ
اللہ پاک کے فضل سے حُضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی نظرِ عِنایت سے جسم و جان کی ہی نہیں بلکہ دل کی کیفیت و حالت بھی بدل جایا کرتی ہے جیساکہ حضرت شَیْبَہ بن عُثمان رضی اللہ عنہ کا بڑا ہی ایمان افروز واقعہ ہے، دراصل ان کے چچا اور والد جنگِ احد میں رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے خلاف لڑائی میں شامل ہوئے اور حضرت علی اور حمزہ رضی اللہ عنہ ما نے ان کو قتل کیا۔ جب غزوۂ حنین پیش آیا تو اس وقت تک شیبہ بن عثمان مسلمان نہیں ہوئے تھے، کہتے ہیں کہ غزوۂ حنین کے دن مجھے اپنے چچا اور باپ کی یاد آگئی۔ میں نے دل میں کہا کہ آج میں محمد ( صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ) سے بدلہ لوں گا۔ میں نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے قریب آیا تو دائیں طرف حضرت عبّاس رضی اللہ عنہ تھے میں نے سوچا کہ یہ حضرت محمد کو بے آسرا نہیں چھوڑیں گے، بائیں طرف سے قریب ہوا تو حضرت ابو سفیان بن حارث رضی اللہ عنہ کو دیکھا، سوچا کہ یہ بھی انہیں اکیلا نہیں چھوڑیں گے۔ پھر میں پیچھے سے قریب ہوا یہاں تک کہ تلوار چلانے ہی والا تھا کہ اچانک آگ کا شعلہ بجلی کی مانند میرے سامنے بُلند ہوا، میں اس خوف سے اپنے ہاتھ آنکھوں پر رکھ کر اُلٹے قدموں پیچھے ہٹا کہ کہیں یہ شعلہ مجھے جلا کر راکھ نہ کردے۔ نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے مجھے پکارا : اے شیبہ! پھر آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اپنا ہاتھ میرے سینے پر رکھا اور دعا کی: اے اللہ! اس کے دل سے شیطان کو دُور فرما دے ، پھر جو میں نے نظر اٹھا کر رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی طرف دیکھا تو آپ مجھے میرے کان آنکھوں بلکہ ہر چیز سے زیادہ محبوب لگنے لگے (ایک قول یہ ہے کہ اللہ پاک نے ان کے دل میں اسلام کی محبت و حقانیت داخل فرمادی تو آپ اسی روز اسلام لے آئے)، حُضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے مجھ سے فرمایا کہ اے شیبہ! کفّار سے لڑو تو میں حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے آگے کھڑا ہوگیا ، بخدا اس وقت مجھے اپنی جان داؤ پر لگا کر ہر خطرے سے حُضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی حفاظت کرنا محبوب و پسندیدہ ہوگیا۔(دیکھئے:الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب،2/269، تاریخ ابن عساکر، 23/ 256تا 258)
حُضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر جانی حملے کے عین وقت پر ناگہاں آگ کے شعلے کا ظاہر ہونا اور پھر دستِ مبارک اور دُعائے نبوی سے جانی دشمن کے دل کی کیفیت بدل جانا یقیناً حُضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی معجزانہ شان ہے۔ اس واقعہ سے کچھ باتیں سیکھنے کو ملتی ہیں:
صحابۂ کرام حُضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے سچّے اہلِ محبّت، جانثار اور محافظ تھے یہ بات کفّار کو بھی تسلیم تھی۔
دُعائے نبوی سے ظاہر ہوتا ہے کہ رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو اللہ پاک کی عطا سے علمِ غیب حاصل تھا۔
آپ کے دستِ مبارَک اور زبانِ اقدس میں ایسی برکت تھی کہ فضلِ خدا سے دل کی کیفیت بدل جایا کرتی، ایمان نصیب ہوجاتا گویا آپ بیمار دلوں کے معالج تھے۔
نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ذات سراپا رَحمت ہے، جو دشمن کو بھی خیر اور ہدایت عطا فرماتی ہے۔
دشمن کے ساتھ بھی نرمی اور بھلائی کا سُلوک کرنا چاہیے کہ یہ حُضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے اخلاق میں سے ہے۔
نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم میدانِ جنگ میں بھی اللہ پاک پر کامل اعتماد اور سُکون کے ساتھ رہتے تھے۔
کسی ظاہری سبب کے بغیر آگ کا شعلہ ظاہر ہونا اللہ والوں کو اللہ کی غیبی مدد حاصل ہونے کا ثبوت ہے۔
کسی کا موجودہ حال دیکھ کر اس کے مستقبل کا فیصلہ یا مستقبل کے بارے میں یقینی رائے قائم نہیں کی جاسکتی۔
دشمن جب دوست بن جائے تو اس پر بھروسا اور اعتماد کر لینا چاہیے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ شعبہ ماہنامہ فیضانِ مدینہ کراچی
Comments