حضرت سیدنا یوسف علیہ السلام کا حسن اور برکات (قسط:06)


حضرت یوسف علیہ السّلام کا حسن اور برکات(قسط:6)

حُسنِ یوسفی کی شان:

آخِر کار بھائی پھر مصر کی طرف روانہ ہوئے، جب وہ حضرت یوسف  علیہ السَّلام  کے پاس پہنچے تو کہنے لگے : اے عزیز! ہمیں اور ہمارے گھر والوں کو تنگی، بھوک کی سختی اور جسموں کے دُبلا ہوجانے کی وجہ سے مصیبت پہنچی ہوئی ہے، ہم حقیر سا سرمایہ لے کر آئے ہیں جسے کوئی سوداگر اپنے مال کی قیمت میں قبول نہ کرے۔ وہ سرمایا چند کھوٹے درہم اور گھر کی اشیاء میں سے چند پُرانی بوسیدہ چیزیں تھیں،آپ ہمیں پورا ناپ دےدیجیے جیسا کھرے داموں سے دیتے تھے اور یہ ناقص پونجی قبول کرکے ہم پر کچھ خیرات کیجیے بیشک اللہ تعالیٰ خیرات دینے والوں کو صِلہ دیتا ہے۔ ([1])بھائیوں کا یہ حال سُن کر حضرت یوسف  علیہ السَّلام  پر گِریہ طاری ہوگیا اور مبارَک آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور فرمایا: کیا یوسف کو مارنا، کنوئیں میں گرانا، بیچنا، والد صاحب سے جُدا کرنا اور اُن کے بعد اُن کے بھائی کو تنگ رکھنا، پریشان کرنا تمہیں یاد ہے اور یہ فرماتے ہوئے حضرت یوسف  علیہ السَّلام کو تبسّم آگیا، بھائیوں نے جب حضرت یوسف کے گوہرِ دندان کا حُسن دیکھا تو پہچانا کہ یہ تو جمالِ یوسفی کی شان ہے([2])لہٰذا کہنے لگے: کیا واقعی آپ ہی یوسف ہیں؟ حضرت یوسف  علیہ السَّلام نے فرمایا: ہاں! میں یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی ہے،بیشک اللہ تعالیٰ نے ہم پر احسان کیا، ہمیں جُدائی کے بعد سلامتی کے ساتھ ملایا اور دین و دنیا کی نعمتوں سے سرفراز فرمایا۔ بے شک جو گُناہوں سے بچے اور اللہ تعالیٰ کے فرائض کی بجاآوری کرے، اپنے نفس کو ہر ا س بات یا عمل سے روک کر رکھے جسے اللہ تعالیٰ نے اس پر حرام فرمایا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی نیکیوں کا ثواب اورا س کی اِطاعت گُزاریوں کی جَزا ضائع نہیں کرتا۔

اعترافِ جُرم:

حضرت یوسف  علیہ السَّلام  کے بھائیوں نے اپنی خطاؤں کا اعتِراف کرتے ہوئے کہا: خدا کی قسم! بے شک اللہ تعالیٰ نے آپ کو منتخب فرمایا اور آپ کو ہم پر علم، عقل، صبر، حِلم اور بادشاہت میں فضیلت دی، بے شک ہم خطاکار تھے اور اسی کا نتیجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو عزّت دی، بادشاہ بنایا اور ہمیں مسکین بنا کر آپ کے سامنے لایا۔([3])

والدِ ماجِد کےلیے اپنا کُرتا بھیجا:

جب تعارُف ہو گیا تو حضرت یوسف  علیہ السَّلام  نے بھائیوں سے اپنے والدِ ماجِد کا حال دریافت کیا اُنہوں نے کہا: آپ کی جُدائی کے غم میں روتے روتے اُن کی بینائی بحال نہیں رہی۔ حضرت یوسف  علیہ السَّلام  نے فرمایا: میرا یہ کُرتا لے جاؤ جو میرے والدِ ماجد نے تعویذ بنا کر میرے گلے میں ڈال دیا تھا اور اسے میرے باپ کے منہ پر ڈال دینا وہ دیکھنے والے ہوجائیں گے اور اپنے سب گھر بھر کو میرے پاس لے آؤ تاکہ جس طرح وہ میری موت کی خبر سُن کر غمزدہ ہوئے اسی طرح میری بادشاہت کا نظارہ کر کے خوش ہو جائیں۔([4])جب (بھائیوں کا) قافلہ مصر کی سَرزمین سے نکلا اور کَنْعان کی طرف روانہ ہوا تو حضرت یعقوب  علیہ السَّلام  نے اپنے بیٹوں اور پوتوں یا پوتوں اور پاس والوں سے فرما دیا: بیشک ! میں یوسف کی قمیص سے جنّت کی خوشبو پا رہا ہوں۔ اگر تم مجھے کم سمجھ نہ کہو تو تم ضَرور میری بات کی تصدیق کرو گے۔([5]) ایک بیٹے یہودا بہت تیزی سے سفر طے کرکے والد صاحب کے پاس پہنچے اور جونہی حضرت یوسف  علیہ السَّلام  کی قمیص حضرت یعقوب  علیہ السَّلام  کے چہرے پر ڈالی تو اسی وقت ان کی آنکھیں دُرُست ہوگئیں اور کمزوری کے بعد قوّت اور غم کے بعد خوشی لوٹ آئی، پھر حضرت یعقوب  علیہ السَّلام نے فرمایا: میں نے تم سے نہ کہا تھا کہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہ بات جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے کہ حضرت یوسف  علیہ السَّلام  زندہ ہیں اور اللہ تعالیٰ ہمیں آپس میں ملا دے گا۔([6])

یعقوب علیہ السّلام مصر روانہ ہوگئے:

حضرت یوسف  علیہ السَّلام  نے اپنے والدِ ماجد کو اور اُن کے اہل واولاد کوبلانے کے لیے اپنے بھائیوں کے ساتھ 200 سواریاں اور کثیر سامان بھیجا تھا، حضرت یعقوب  علیہ السَّلام  نے مصر تشریف لے جانے کا اِرادہ فرمایا اور اپنے اہلِ خانہ کو جمع کیا تو وہ کُل مرد وعورت 72 یا73 افراد تھے۔([7])

 والد کی آمد پر خوشی کا اظہار :

جب حضرت یعقوب  علیہ السَّلام  مصر کے قریب پہنچے تو اُدھر سے حضرت یوسف  علیہ السَّلام  نے مصر کے بادشاہِ اعظم کو اپنے والدِ ماجد کی تشریف آوری کی اِطلاع دی اور چار ہزار لشکری اور بہت سے مصری سواروں کو ہمراہ لے کر آپ اپنے والد صاحب کے استقبال کے لیے صدہا ریشمی پَھریرے اُڑاتے اور قطاریں باندھے روانہ ہوئے۔

فرشتے بھی حاضر ہوگئے:

 حضرت یعقوب  علیہ السَّلام  اپنے فرزند یہودا کے ہاتھ پر ٹیک لگائے تشریف لا رہے تھےکہ آپ  علیہ السَّلام  کی نظر لشکرپر پڑی تو دیکھا کہ صحرا زَرق بَرق سواروں سے پُر ہورہا ہے، فرمانے لگے: اے یہودا! کیا یہ فرعونِ مصر ہے جس کا لشکر اس شان وشوکت سے آرہا ہے؟ یہودا نے عرض کی: نہیں! یہ آپ کے فرزند حضرت یوسف  علیہ السَّلام  ہیں۔ حضرت جبریل  علیہ السَّلام  نے حضرت یعقوب  علیہ السَّلام  کو متعجب دیکھ کر عرض کیا: ہَوا کی طرف نظر فرمایئے، آپ کی خوشی میں شرکت کے لیے فرشتے حاضر ہوئے ہیں جو کہ مدّتوں آپ  علیہ السَّلام  کے غم کی وجہ سے روتے رہے ہیں۔ فرشتوں کی تسبیح، گھوڑوں کے ہنہنانے اور طبل و بگل کی آوازوں نے عجیب کیفیت پیدا کردی تھی۔

والد کے اَدب کا نرالہ انداز:

یہ محرم کی دسویں تاریخ تھی، جب دونوں حضرات یعنی حضرت یعقوب اور حضرت یوسف علیہما السَّلام قریب ہوئے تو حضرت یوسف  علیہ السَّلام  نے سلام عرض کرنے کا اِرادہ ظاہر کیا۔ حضرت جبریل  علیہ السَّلام نے عرض کی: آپ توقف کیجیے! والد صاحب کو پہلے سلام کا موقع دیجیے، چنانچہ حضرت یعقوب  علیہ السَّلام  نے فرمایا: اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَامُذْھِبَ الْاَحْزَانِ یعنی اے غم و اَندوہ کے دُور کرنے والے! تجھ پر سلام ہو۔ پھر دونوں صاحبوں نے اُتر کر معانقہ کیا اور مل کر خوب روئے، پھر اس مزیّن رہائش گاہ میں داخل ہوئے جو پہلے سے حضرت یعقوب  علیہ السَّلام  کے استقبال کے لیے نفیس خیمے وغیرہ نصب کرکے آراستہ کی گئی تھی۔([8])

خواب شرمندۂ تعبیر ہوا:

جب حضرت یوسف  علیہ السَّلام  اپنے والدین اور بھائیوں کے ساتھ مصر میں داخِل ہوئے اور دربارِ شاہی میں اپنے تخت پر جلوہ اَفروز ہوئے تو انہوں نے اپنے والدین کو بھی اپنے ساتھ تخت پر بٹھا لیا، اس کے بعد والدین اور سب بھائیوں نے حضرت یوسف  علیہ السَّلام  کو سجدہ کیا۔([9]) حضرت یوسف  علیہ السَّلام  نے جب انہیں سجدہ کرتے دیکھا توکہا : اے میرے باپ! یہ میرے اس خواب کی تعبیر ہے جو میں نے بچپن کی حالت میں دیکھا تھا۔ بیشک وہ خواب میرے ربِّ پاک نے بیداری کی حالت میں سچّا کردیا۔([10])

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ شعبہ ماہنامہ فیضانِ مدینہ کراچی



([1])صراط الجنان،5/52

([2])صراط الجنان، 5/52 بتغیر

([3])صراط الجنان، 5/53 بتغیر

([4])صراط الجنان،5/55

([5])صراط الجنان، 5/57

([6])صراط الجنان،5/58بتغیر

([7])صراط الجنان، 5/59بتغیر

([8])صراط الجنان، 5/59، 60بتغیر

([9])صراط الجنان،5/62، یہ سجدہ تعظیم اور عاجزی کے اظہار کے طور پر تھا اور اُن کی شریعت میں جائز تھا جیسے ہماری شریعت میں کسی عظمت والے کی تعظیم کے لیے کھڑا ہونا، مصافحہ کرنا اوردست بوسی کرنا جائز ہے۔ یاد رہے کہ سجدۂ عبادت اللہ تعالیٰ کے سوا اورکسی کے لیے کبھی جائز نہیں ہوا اورنہ ہوسکتا ہے کیونکہ یہ شرک ہے اور سجدۂ تعظیمی بھی ہماری شریعت میں جائز نہیں۔ (صراط الجنان،5/62)

([10])صراط الجنان،5/62


Share