خلیفۂ امیرِ اہلِ سنّت کا سفرِ انڈونیشیا(قسط:01)
خلیفۂ امیرِ اہلِ سنّت، حضرت علّامہ مولانا احمد عبید رضا عطّاری مدنی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ دعوتِ اسلامی کے دینی کاموں کے سلسلے میں ملک و بیرونِ ملک سفر فرماتے رہتے ہیں۔ اکتوبر 2025ء میں ایک ایسا ہی تاریخی سفر انڈونیشیا کے صوبہ آچے کی طرف ہوا جو اپنے اندر تبلیغ و تربیَت، محبّت و عقیدت اور دینی جذبے کی داستان سموئے ہوئے ہے۔
سفر کا آغاز: آزمائش اور صبر کا درس
5اکتوبر2025ء کو انڈونیشیا کے عاشقانِ رسول خلیفۂ امیراہلِ سنّت کے استقبال اور دیدار کے لیے چشمِ براہ تھے، لیکن اللہ کریم کی اس میں کوئی مشیّت و حکمت تھی کہ ایئرپورٹ پر کچھ پیچیدگیوں کی وجہ سے سفر نہ ہوسکا، لیکن یہ آزمائش دراصل صبر اور توکل کا درس تھی۔
اگلے دن6 اکتوبر 2025ء کی ٹکٹ بک کروائی گئی اور ایک دن کا شیڈول منسوخ ہونے کے باوجود، خلیفۂ امیرِ اہلِ سنّت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے کامل صبر اور حوصلے کا مظاہرہ فرمایا۔ شام پانچ بجے کے قریب جب طیارہ انڈونیشیا کے صوبہ اَچے کی سرزمین پر اُترا تو اسلامی بھائیوں کی ایک کثیر تعداد استقبال کے لیے موجود تھی۔ ملائیشیا سے آئے ہوئے دو اسلامی بھائی بھی اس استقبالیہ میں شریک تھے۔ خلیفۂ امیرِ اہلِ سنت اپنے صاحبزادے حاجی اُسید رضا کے ہمراہ تھے، مدرسۃُ المدینہ اور جامعۃُ المدینہ کے طلبہ بھی ہاتھوں میں پھول لیے استقبال کے لیے کھڑے تھے۔ یہ منظر جہاں لبوں پر مسکراہٹ کے پھول بکھیر رہا تھا وہیں دلوں میں محبتوں اور خوشیوں کا سمندر بن کر موجیں مار رہا تھا ۔
پہلی حاضری صوبے کی سب سے بڑی مسجد، مسجد بیت الرحمٰن میں ہوئی۔ یہ مسجد نہ صرف وُسعت میں بلکہ اپنی روحانی عظمت میں بھی آچے کی شان ہے۔ یہاں مغرب کی نَماز اَدا کی گئی اور نَماز کے بعد وہیں ایک بُز ُرگ حضرت حبیب ابوبکر بن حسین رحمۃُ اللہ علیہ کے مزار شریف پر حاضری کا شرف حاصل ہوا۔ اولیاء اللہ کے مزارات پر حاضری دراصل روحانی تربیَت کا ایک اَہم ذریعہ ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ دین کی خدمت کرنے والے بُزرگانِ دین کس طرح اپنی زندگیاں اللہ کی راہ میں وقف کر دیتے ہیں۔
مزار پر فاتحہ خوانی کے بعد مسجد میں ایک مدنی حلقہ منعقد ہوا جس میں خلیفۂ امیرِ اہلِ سنّت نے حاضرین کو تربیَت، اصلاح اور عشقِ رسول کے مدنی پھول پیش کیے اور ان کا انڈونیشین زبان میں ترجمہ بھی کیا گیا۔اس کے بعد قِیام گاہ پر پہنچ کر کھانا تناول فرمایا اور آرام کیا۔
پِیڈی کی طرف: دارُالعلوم اور تربیَت کا سفر
7اکتوبر بروز منگل پِیڈی شہر کی طرف سفر شروع ہوا۔ سب سے پہلے دارالعلوم نُورُالرشاد العزیزیہ پہنچے۔ یہاں کے طلبہ اور اساتذہ نے پرتپاک استقبال کیا۔
خلیفۂ امیر اہل سنت نے یہاں بچّوں کو اساتذہ کے اَدب کا درس دیا۔ دارُ العلوم کے مرحوم مہتمم اعلیٰ کی قبر پر حاضری دی اور ان کے لیے دُعائے مغفرت کی گئی۔ اس کے بعد موجودہ مہتمم اعلیٰ جو مرحوم کے داماد ہیں، ان سمیت کئی اساتذہ نے سلسلہ عالیہ عطاریہ قادریہ میں بیعت کی سعادت حاصل کی۔ بیعت دراصل ایک روحانی رشتہ ہے جو طالب کو مرشد سے جوڑتا ہے اور اس کی روحانی تربیَت کا آغاز کرتا ہے۔ یہاں دیگر لوگوں نے بھی بیعت کی اور نَماز اَدا کرنے کے بعد اگلے مقام کی طرف روانگی ہوئی۔
اگلا پڑاؤ دارُالعلوم باب البرکۃ المنورہ تھا۔ یہاں کا منظر دیکھنے سے تعلّق رکھتا تھا۔ طلبہ، اہلِ محلّہ، اہلِ علاقہ سب جمع ہو گئے تھے۔ خلیفۂ امیر اہل سنت نے ایک جامع بیان فرمایا جسے مقامی لوگوں نے بڑے شوق سے سنا، اور پردے میں خواتین نے بھی اس بیان سے استفادہ کیا۔ یہ اسلام کی خوبصورتی ہے کہ خواتین بھی علم دین سے محروم نہیں رہتیں۔
یہاں بھی بیعت کا سلسلہ ہوا اور نیک اولاد کے طلبگاروں کے لیے سیبوں پر اور بہت ساری پانی کی بوتلوں پر بھی دم کیا جنہیں لوگ برکت کے لیے اپنے ساتھ لے گئے۔ اس کے بعد اسی شہر میں مسجد استقامہ پہنچے جہاں مغرب کے فوراً بعد بیان کا اہتمام تھا۔
مسجد استقامہ میں معجزاتِ رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر بیان ہوا۔ یہ موضوع لوگوں کے دلوں میں حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی محبّت بڑھانے اور دین اسلام کی حقانیّت دلوں میں بٹھانے کا بہترین ذریعہ ہے۔ لوگوں نے خلیفۂ امیر اہل سنت کی بڑی عزّت و تکریم کی اور انہیں آنکھوں پر بٹھایا۔ یہ وہ عقیدت ہے جو مسلمانوں کے دلوں میں اللہ کے نیک بندوں کے لیے ہوتی ہے۔
بیان کے بعد پِیڈی کے نگران کے گھر پر کھانے کی دعوت تھی۔ کھانے کے بعد تبرکات اور تحفے تقسیم ہوئے، خلیفۂ امیرِ اہلِ سنّت نے بعض شرکاء کے سر پر عمامے پہنائے اور حاضرین کو سلسلہ عطاریہ میں بیعت کیا۔
اس کے بعد ایک شخصیت کے کارخانے میں تشریف لے گئے، جو پاکستان بھی آچکے تھے۔ انہوں نے اپنے کارخانے میں ایسی جگہ بنائی ہے جہاں علما آ کر وَرکرز کو پڑھاتے ہیں۔ یہ دین کی خدمت کی ایک نادر مثال ہے۔ یہاں خیرخواہی ہوئی، اور خلیفۂ امیرِ اہلِ سنّت نے وَرکز اور دیگر حاضرین کو تربیَت و اصلاح کے مدنی پھول بھی عطا فرمائے۔
یہاں سے رُخصت ہونے کے بعد رات دس بجے ایک اور دارُالعلوم تنویر الفتٰی میں جانا ہوا، جہاں مہتمم ِ ادارہ مولانا والد رملی صاحب دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ سے ملاقات ہوئی، انہوں نے کچھ سوالات کیے جن کے خلیفہ امیر اہل سنت نے تفصیلی جوابات دیے، وہ بہت مطمئن ہوئے۔ اس کے بعد تقریباً دو گھنٹے کا سفر طے کر کے واپس بندہ اَچے شہر پہنچے۔ خلیفۂ امیرِ اہلِ سنّت نے رات گئے پہنچنے کے باوُجود تھکان کا کوئی تأَثّر نہ دیا۔ یقیناً یہ دین کی خدمت کا جذبہ تھا جو تھکاوٹ کو محسوس ہی نہیں ہونے دیتا۔
بندہ اَچے: مزارات اور مدارس کا دورہ
8 اکتوبر، بدھ کا دن تھا۔ دوپہر دو بجے کے بعد دارُ السنہ بندہ اَچے میں حاضری ہوئی جہاں سیّد عبد الکبیر عطّاری جو وقف مبلغ ہیں اور اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ وہیں رہائش پذیر ہیں، انہوں نے کھانے کی دعوت کا اہتمام کیا تھا۔ خلیفہ امیر اہل سنت صومِ داؤدی کے معمول کے مطابق ایک دن روزہ رکھتے ہیں اور ایک دن نہیں رکھتے۔ یہ ان کے روزہ نہ رکھنے کا دن تھا، لہٰذا انہوں نے اِن کی دلجوئی کے لیے دعوت قبول فرمائی۔([1])
بیرونِ شہر سے آئے ہوئے کچھ مہمان مبلغین نے عمامہ پہننے کی خواہش ظاہر کی تو انہیں عمامہ شریف باندھا۔ عمامہ حُضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سنّت ہے اور مسلمانوں کا تاج ہے۔ اس سے ایک خاص وقار اور سنجیدگی پیدا ہوتی ہے۔
اس کے بعد بندہ اَچے کے ایک دارُالعلوم ”منی اَچے“کا دورہ ہوا جہاں کے مہتمم اعلیٰ ابی عمر رفسنجانی عطاری قادری ہیں۔ ان سے ملاقات ہوئی اور انہوں نے تازہ ناریل پیش کیے۔ یہ مقامی روایات اور مہمان نوازی کی ایک خوبصورت مثال تھی۔
اس کے بعد معروف بُزرگ شیخ عبدالرؤف السنکیلی رحمۃُ اللہ علیہ کے مزار پر حاضری دی گئی۔ یہ بُزرگ انڈونیشیا میں اسلام کی اشاعت میں نمایاں کِردار اَدا کر چکے ہیں۔ ان کے مزار پر فاتحہ خوانی اور دُعا کی گئی۔
بعد اَزاں دعوتِ اسلامی کے رہائشی مدرسے مدرسۃ المدینہ میں حاضری ہوئی۔ یہ مدرسہ دعوتِ اسلامی کی ایک خاص کاوش ہے جہاں بچّوں کو نہ صرف دینی تعلیم دی جاتی ہے بلکہ ان کی مکمل تربیَت کی جاتی ہے۔ خلیفۂ امیر اہل سنت نے یہاں مدنی پھول پیش کیے اور بچّوں کی تربیَت فرمائی نیز بچّوں کو نماز باجماعت کی اہمیّت، والدین کی اِطاعت اور سنّتوں پر عمل کرنے کی ترغیب دلائی۔
نَمازِ عشا کے بعد بندہ آچے کی مسجد الجہاد میں سلطان الاولیاء شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃُ اللہ علیہ کی یاد میں گیارہویں شریف کا اجتماع تھا۔ اجتماع میں تلاوتِ قراٰن اور نعت شریف کے بعد خلیفۂ امیر اہل سنت نے غوث الاعظم رحمۃُ اللہ علیہ کی سیرت و کرامات پر بیان فرمایا۔ لوگوں نے بڑے شوق سے سنا اور بہت سے لوگوں نے سلسلہ عالیہ عطاریہ قادریہ میں بیعت کی سعادت حاصل کی۔
اجتماع کے بعد ملاقات اور کھانے کی دعوت کا سلسلہ رہا۔ جانشینِ مرشد کی رکنِ شوریٰ قاری ایاز صاحب کے گھر پر دیگر مبلغین کے ہمراہ دعوت تھی۔ یہاں بھی مبلغین کی تربیَت کے لیے ایک خاص نشست ہوئی جسے ”کسوٹی“ کہا جاتا ہے۔
یونیورسٹی میں سیمینار: عصری تعلیم اور دین کا امتزاج
9اکتوبر، جمعرات کو ایک خاص پروگرام تھا۔ اوئن الرانیری نیشنل یونیورسٹی آف اسلام میں اسلاموفوبیا کے موضوع پر سیمینار منعقد ہوا۔ یہ موضوع آج کے دور میں نہایت اَہم ہے کیونکہ دنیا بھر میں اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں غلط فہمیاں پھیلائی جا رہی ہیں۔ خلیفۂ امیر اہل سنت نے اس موضوع پر تفصیلی بیان فرمایا اور طلبہ کے سوالات کے جوابات دیے۔
اسلاموفوبیا دراصل اسلام کے بارے میں لاعلمی اور غلط پروپیگنڈے کا نتیجہ ہے۔ اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو امن، محبّت اور انسانیت کا درس دیتا ہے۔
یونیورسٹی سے نکلنے کے بعد ایک معروف مدرسہ دارُالعلوم میں حاضری ہوئی جہاں تقریباً تین سے چار ہزار طلبہ دینی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ یہ ایک بہت بڑا اِدارہ ہے جو انڈونیشیا میں اسلامی تعلیم کی ایک روشن مثال ہے۔ اسی دارالعلوم میں حضرت ابو ابراہیم رحمۃُ اللہ علیہ کے مزار پر حاضری دی گئی۔ اسی دن یہاں ایک شادی کی تقریب میں بھی شرکت ہوئی اور علمائے کرام سے ملاقات ہوئی۔ چونکہ یہ دن روزے کا دن تھا، اس لیے خلیفۂ امیر اہل سنت نے کھانا تناول نہیں فرمایا۔ اس کے بعد دارُالعلوم مصباح الوریٰ الامیریہ آمد ہوئی جہاں طلبہ اور اساتذہ نے بڑی محبّت سے آپ کا استقبال کیا، اس دارُ العلوم میں بھی آپ نے سنتوں بھرا بیان فرمایا، بیان کے بعد سیبوں اور پانی کی بوتلوں پر دم کیا گیا۔ پھر معروف عالمِ دین مولانا طوبلقینی صاحب سے ملاقات ہوئی۔
اس دن کا آخِری پروگرام بلانگ بنتانگ میں ہفتہ وار اجتماع تھا۔ یہاں مسجد میں خلیفۂ امیر اہل سنت نے بیان فرمایا۔ اجتماع کے بعد مقامی عالم دین ابو عبدالواحد عطّاری کے ہاں دعوت ہوئی جو مجلس حج و عمرہ کے ذمّہ دار اور دارُالعلوم کے مہتمم ہیں۔
دعوت کے بعد مدنی حلقہ ہوا جس میں انفرادی اصلاح اور سنّتوں پر عمل کی ترغیب دلائی گئی۔ (جاری ہے)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* نگران انڈونیشیا مشاورت
Comments