اسلام میں نابینا افراد کی تکریم اور مقام
آنکھیں اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہیں، لیکن اسلام نے کبھی بھی انسانی عظمت کا معیار ظاہری اَعضا کی سلامتی کو نہیں بنایا۔ اسلام وہ واحد دین ہے جس نے جسمانی معذوری خاص طور پر نابینا پَن کو ”محرومی“ کے بجائے ”آزمائش“ اور ”درجات کی بلندی“ کا ذریعہ قرار دیا۔ تاریخِ اسلام کے اَوراق پلٹیں تو ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ نابینا افراد کا جو اِکرام اور احتِرام اسلام نے سکھایا اس کی مثال جدید دنیا کے نام نہاد انسانی حقوق کے چارٹر بھی پیش کرنے سے قاصر ہیں۔
سورۂ عَبَس: ایک نابینا صحابی کی خاطر آسمانی پیغام
اسلام میں نابینا افراد کے احتِرام کی سب سے بڑی دلیل قراٰن کریم کی سورۂ عَبَس ہے۔ یہ واقعہ تاریخِ انسانی کا ایک منفرد واقعہ ہے۔ ایک مرتبہ جانِ دو عالم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم قریش کے بڑے سرداروں عتبہ بن ربیعہ، ابوجہل بن ہشام، عبّاس بن عبدالمطلب، اُبی بن خلف اور اُمیّہ بن خَلف کو دین کی دعوت دے رہے تھے، اسی دوران ایک نابینا صحابی حضرت عبدُاللہ ا بن اُمِّ مکتوم رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے اور اُنہوں نے نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو بار بار ندا کرکے عرض کی کہ اللہ پاک نے جو آپ کو سکھایا ہے وہ مجھے تعلیم فرمائیے۔ گفتگو میں خلل پڑنے پر آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے چہرہ ٔ مبارک پر ناگواری کے آثار نمایاں ہوئے یہاں تک کہ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اپنے دولت سرائے اَقدس کی طرف واپس تشریف لے آئے۔
اس موقع پر اللہ پاک نے فوراً وحی نازل فرمائی اور سورۂ عبس کی ابتدائی آیات میں فرمایا گیا:
عَبَسَ وَ تَوَلّٰۤىۙ(۱) اَنْ جَآءَهُ الْاَعْمٰىؕ(۲) وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّهٗ یَزَّكّٰۤىۙ(۳) اَوْ یَذَّكَّرُ فَتَنْفَعَهُ الذِّكْرٰىؕ(۴)
ترجَمۂ کنزُالعرفان: تیوری چڑھائی اور منہ پھیرا۔ اس بات پر کہ ان کے پاس نابینا حاضِر ہوا۔اور تمہیں کیا معلوم شاید وہ پاکیزہ ہوجائے۔یا نصیحت حاصل کرے تو نصیحت اسے فائدہ دے۔“ ([1])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
اِن آیات کے نازل ہونے کے بعد تاجدارِ رسالت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم حضرت عبدُاللہ بن اُمِّ مکتوم رضی اللہ عنہ کی بہت عزّت فرماتے تھے اور خود اُن سے اُن کی حاجتیں دریافت فرماتے۔([2])غور کریں تو یہ صرف ایک واقعہ نہیں، بلکہ نابینا افراد کے احتِرام کا ایک اَبدی چارٹر ہے۔
ترس نہیں، اعتماد اور ذمّہ داری
عام طور پر معاشرے میں نابینا افراد کو ترس کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے لیکن اسلام نے انہیں ترس کا نہیں بلکہ ”اعتماد“ کا مستحق سمجھا۔ اس کی سب سے بڑی مثال یہ ہے کہ نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اپنی زندگی میں کئی مرتبہ مدینۂ منورہ سے باہر جاتے ہوئے اِنہی نابینا صحابی حضرت عبدُاللہ ابنِ اُمِّ مکتوم رضی اللہ عنہ کو اپنا قائم مقام بنا کر مدینہ کا گورنر اور مسلمانوں کی اِمامت کے لیے مقرّر فرمایا۔([3])
سوچیے! ایک نابینا شخص کو ”ریاستِ مدینہ“ کا گورنر بنانا اور اپنی نیابت جیسے اَہم منصب پر فائز کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام صلاحیّت کو دیکھتا ہے، بَصارت کو نہیں۔ یہ عمل بتاتا ہے کہ اگر بصیرت (دل کی آنکھ) روشن ہو تو ظاہری بینائی کا نہ ہونا قیادت کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتا۔
نابینا افراد کے لیےجنّت کی بشارت
اسلام نے نابینا افراد کی دلجوئی کے لیے انہیں عظیم اَجر کی خوشخبری سنائی ہے۔
(1) حدیثِ قدسی ہے،اللہ پاک فرماتا ہے:”جب میں اپنے بندے کو اس کی دو پیاری چیزوں یعنی آنکھوں کے ذَریعے آزماتا ہوں اور وہ اس پر صبر کرتاہے تو میں اُسے ان کے بدلے جنَّت عطا فرماتاہوں۔ “ ([4])
(2)حضرت زید بن اَرقم رضی اللہ عنہ سے رِوایت ہے کہ ایک بار نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اُن کی بیماری کے وقت اُن کی عیادت کے لیے تشریف لائے اور فرمایا: تمہیں تمہارے اِس مرض سے کوئی نقصان نہ ہوگا، لیکن جب میرے بعد تم عمر پاؤگے اور نابینا ہوجاؤ گے تو کیا ہو گا؟انہوں نے عرض کی: میں ثواب کی اُمّید رکھوں گا اور صبر کروں گا، آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: پھر تو تم بغیر حساب کے جنَّت میں جاؤ گے۔( آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی دی ہوئی یہ غیبی خبر سچ ہوئی اور) جنابِ زید بن اَرقم رضی اللہ عنہ نبیِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے پَردہ فرمانے کے بعد نابینا ہوگئے۔([5])
(3)حضرت اَنس رضی اللہ عنہ سے رِوایت ہے کہ رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا کہ اللہ پاک فرماتا ہے: جب میں دُنیا میں اپنے بندے کی دونوں آنکھیں لے لیتا ہوں تو میرے پاس اُس کے لیے جنَّت ہی جَزا ہے۔([6])امام غزالی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ بشارت سُن کر کئی انصاری صحابَۂ کرام علیہمُ الرّضوان نابینا ہونےکی تمنّا کرنے لگے۔([7]) اِن روایات میں موجود خدائے ذُوالجلال کے یہ وعدے نابینا افراد کے لیے اُمید کی کرنیں ہیں کہ اُن کی یہ محرومی دراصل اَبَدی نعمت ”جنّت“ کا پیش خیمہ ہے۔
آج ہماری ذمّہ داری کیا ہے؟
افسوس کی بات یہ ہے کہ آج ہمارے معاشرے میں نابینا افراد کے ساتھ وہ رویّہ نہیں رکھا جاتا جس کا درس اسلام نے دیا ہے۔ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ بصارت سے محروم افراد ہمارے معاشرے کا ایک نہایت اَہم اور باصلاحیّت حصّہ ہیں۔ ان کے ساتھ ہمارا رویّہ برابری، احتِرام اور تعاون پر مبنی ہونا چاہیے۔
تعلیم و تربیَت:
نابینا افراد ذہنی طور پر انتہائی زَرخیز ہوتے ہیں۔ اِس لیےانہیں بریل سسٹم یا جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے تعلیم دینا معاشرے کی ذمہ داری ہے۔ ویسے بھی آج کے ڈیجیٹل دَور میں نابینا افراد کے لیے تعلیم حاصل کرنا پہلے سے کہیں آسان ہو چکا ہے۔ ”ٹاک بیک“ (Talkback) سافٹ ویئر اور آڈیو بکس نے لائبریریوں کو اُن کی اُنگلیوں کی پوروں اور سماعت کے دائرے میں لا کھڑا کیا ہے۔ اب کوئی بھی نابینا طالبِ علم محض اس لیے پیچھے نہیں رہ سکتا کہ اس کے پاس دیکھنے کی قوّت نہیں، کیونکہ اب سننے اور محسوس کرنے کی قوّت کو علم کا ذریعہ بنا لیا گیا ہے اور ہمارے سامنے کئی مثالیں موجود ہیں کہ تعلیم یافتہ نابینا افراد آج کمپیوٹر، موبائل ایپس اور اسکرین ریڈرز کی مدد سے بینکنگ، تدریس اور آئی ٹی جیسے شعبوں میں بہترین کام کر رہے ہیں۔
خدمت کیجئے:
جس قدر ہوسکے اُن کی خدمت کریں۔ امير المؤمنين حضرت سیّدنا فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ مدینۂ منوّرہ کے اَطراف میں رہنے والی ايک نابينا بوڑھی عورت کے گھر کے کام کاج کردیا کرتے اور رات کو (گھڑوں میں) پانی بھر دیا کر تے اور اس کی پوری خبر گیری رکھتے تھے۔([8])
راستہ پار کروادیجئے:
نابینا کو راستہ دکھانا، اُس کی مدد کرنا اسلام میں صدقہ جاریہ ہے۔ فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے: جس نے کسی نابینا کو ایک مِیل تک چلایا تو اسے مِیل کے ہر ذِراع (یعنی گَز ) کے بدلے ایک غلام آزاد کرنے کا ثواب ملے گا۔ جب تم نابینا کو چلاؤ تو اس کا اُلٹا ہاتھ اپنے سیدھے ہاتھ سے تھام لو کہ یہ بھی صدقہ ہے۔([9])جو کسی نابینا کو 40 قدم ہاتھ پکڑ کر چلائے، اُس کے چہرے کو جہنّم کی آگ نہیں چُھوئے گی۔([10])
عزّتِ نفس:
جس طرح آپ کی عزّت ہے اُسی طرح سامنے والے کی بھی عزّت ہے۔ ویسے تو سب کی ہی لیکن بِالخصوص خصوصی افراد کی عزّتِ نفس کا ہمیں بھرپورخیال رکھنا چاہیے۔ انہیں طعنے نہ دیں، دھکے نہ دیں بلکہ خیال رہے کہ ان کی مدد کرتے وقت بھی ان کی عزّتِ نفس کو مجروح نہ کیا جائے۔
گُزرگاہوں کو نابینا دوست بنائیں:
کیا ہماری سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر”ٹیکٹائل ٹائلز“ (Tactile paving) موجود ہیں؟ افسوس کہ ہمارے مین ہولز کھلے ہیں جو اِن افراد کے لیے جان لیوا ثابت ہوتے ہیں۔ کیا ہمارے عوامی اِدارے ایسے ہیں کہ جہاں ایک نابینا شخص کسی کی مدد کے بغیر آ جا سکے؟
سماجی شمولیت:
اپنی محفلوں میں، مشوروں میں اور تقریبات میں انہیں نظر انداز نہ کریں۔ انہیں محسوس کروائیں کہ وہ آپ کے لیے اَہم ہیں۔
دعوتِ اسلامی کی نابینا افراد کے لیے خدمات
اسلام کی اِن روشن تعلیمات کوعصرِ حاضر میں عملی جامہ پہنانے کے لیے دینی تنظیم”دعوتِ اسلامی“ جس طرح میدانِ عمل میں ہے، وہ دورِ جدید کی فلاحی تاریخ کا ایک سنہرا باب ہے۔ دعوتِ اسلامی نے نابینا افراد کو معاشرے کا ایک فعّال اور معزّز رُکن بنانے کے لیے محض ہمدردی نہیں بلکہ ”عملی اقدامات“ کا راستہ اختِیار کیا ہے۔
علمی و اِشاعتی خدمات (بریل سسٹم):
دعوتِ اسلامی کے اشاعتی شعبے ”مکتبۃُ المدینہ“ نے نابینا افراد کی علمی پیاس بجھانے کے لیے ”بریل (Braille) “میں ایک عظیمُ الشان علمی ذخیرہ منتقل کیا ہے۔ اب تک نہ صرف مدنی قاعدہ اور قراٰنِ پاک کے منتخب پاروں کی تفسیر و ترجمہ شائع ہو چکا ہے، بلکہ ان کی اخلاقی و دینی تربیَت کے لیے درج ذیل رسائل بھی بریل میں دستیاب ہیں:غسل و وُضو کا طریقہ، مسواک کی فضیلت، احترامِ مسلم، انمول ہیرے، بڈّھا پجاری، پُراسرار خزانہ، جنّات کا بادشاہ اور صبحِ بہاراں۔ (مزید کئی کتب و پارے اشاعت کے مراحل میں ہیں)۔
تعلیمی نیٹ ورک:
نابینا بچّوں کو زیورِتعلیم سے آراستہ کرنے کے لیے دعوتِ اسلامی نے ملک بھر میں خصوصی مدارس قائم کررکھے ہیں۔ میرپور (کشمیر)، ملکوال (منڈی بہاؤالدین)، سرگودھا، ملتان، حیدرآباد (قادر ایوینیو) اور کراچی (گلستانِ جوہر) میں”مدرسۃ المدینہ برائے نابینا“ کامیابی سے کام کر رہے ہیں، جبکہ لاہور میں ”اماں حاجن فروٹ منڈی نزد ٹرک اڈا “ کے قریب ایک عظیمُ الشان مدرسے کا آغاز عنقریب ہونے والا ہے۔ قابلِ ستائش بات یہ ہے کہ حیدرآباد میں ”جامعۃ المدینہ برائے نابینا“ کے ذریعے انہیں عالمِ دین بننے کی اعلیٰ تعلیم بھی فراہم کی جا رہی ہے۔
جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل رسائی:
وقت کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے دعوتِ اسلامی نے ”اسپیشل پرسنز موبائل ایپلی کیشن“ متعارف کروائی ہے جس میں آڈیو بکس اور دیگر فیچرز کے ذریعےٹیکنالوجی کی مدد سے سیکھنے کا عمل آسان بنا دیا گیا ہے۔ یہ اقدام بتاتا ہے کہ دعوتِ اسلامی نابینا افراد کو جدید دنیا کے شانہ بشانہ کھڑا کرنے کا عزم رکھتی ہے۔
عملی تربیَت اور سماجی شمولیت:
دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار اجتماعات میں ان افراد کے لیے مخصوص جگہ اور خصوصی سیٹ اَپ ہوتا ہے تاکہ وہ کسی بھی دِقّت کے بغیر دین سیکھ سکیں۔ یہی نہیں، بلکہ یہ باہمّت افراد ”قافلوں“میں سفر کرتے ہیں اور ہر سال رمضان المبارک میں ”اجتماعی اعتکاف“ کی برکات سے بھی فیضیاب ہوتے ہیں۔
فیلڈ ورک:
دعوتِ اسلامی کی ٹیمیں نہ صرف اسپیشل پرسنز کے اسکولوں میں جا کر نیکی کی دعوت دیتی ہیں بلکہ ان کے والدین اور سرپرستوں کے لیے خصوصی ”ٹریننگ سیشنز“ بھی منعقد کرتی ہیں۔ ان ملاقاتوں کا مقصد والدین کے دِلوں سے مایوسی ختم کر کے انہیں یہ ذہن دینا ہے کہ ان کے بچّے بوجھ نہیں بلکہ اَثاثہ ہیں۔ دعوتِ اسلامی ان کے بچّوں کی مکمل ذمّہ داری اُٹھاتے ہوئے انہیں تعلیم و تربیَت کے محفوظ حِصار میں لینے کی پیشکش کرتی ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ، ذمہ دارشعبہ دعوتِ اسلامی کے شب وروز، کراچی
Comments