روزہ تقویٰ کی تربیَت کا عملی موقع
اللہ پاک نے اِنسان کو اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا ہے۔ اِنسان پر جوبھی عِبادات لازِم فرمائی گئی ہیں انہیں بجا لانے اور جن چیزوں سے منع کیا ہے اُن سے خود کو بچانے میں اِنسان کا اپنا ہی فائدہ اور بھلا ہے۔ اللہ پاک اِرشاد فرماتا ہے:
اِنْ اَحْسَنْتُمْ اَحْسَنْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ وَ اِنْ اَسَاْتُمْ فَلَهَاؕ-
ترجَمۂ کنزالایمان: اگر تم بھلائی کرو گے اپنا بھلا کرو گے اور بُرا کرو گے تو اپنا۔ ([1])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
ایک اور مقام پر اِرشاد فرمایا:
وَ مَنْ جَاهَدَ فَاِنَّمَا یُجَاهِدُ لِنَفْسِهٖؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَغَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ(۶)
ترجَمۂ کنزالایمان: ”اور جو اللہ کی راہ میں کوشش کرے تو اپنے ہی بھلے کو کوشش کرتا ہے بےشک اللہ بے پرواہ ہے سارے جہان سے۔“([2])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
اللہ پاک ہماری عبادات سے بےنیاز ہے، کوئی عبادت کرے یا نہ کرے اس کی شان میں کوئی کمی نہیں آتی۔ ہم عبادات کے محتاج ہیں کہ اِن کے ذَریعے ہمیں اللہ پاک کی رضا اور تقویٰ و پرہیزگاری حاصل ہوتی ہے۔اللہ پاک اِرشاد فرماتا ہے:
یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّكُمُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَۙ(۲۱)
ترجَمۂ کنزالایمان:” اے لوگو! اپنے رَب کو پوجو جس نے تمہیں اور تم سے اگلوں کو پیدا کیا یہ اُمید کرتے ہوئے کہ تمہیں پرہیزگاری ملے۔“([3])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
یادرکھیے!روزہ محض بھوک اور پیاس کا نام نہیں بلکہ یہ تقویٰ کی عملی تربیَت کا سنہری موقع فراہم کرتا ہے۔ رمضان میں بندہ اپنی خواہشات پر قابو پا کر اپنے نفس کو اللہ پاک کے احکامات پر عمل کی مشق کرواتا ہے۔اورمسلسل یہ کوشش اس کے اندرتقویٰ ، صبر اور پرہیزگاری کے جذبات کو مضبوط کرتی ہے۔ یوں روزہ انسان کو عملی طور پر تقویٰ کی حقیقی روح سمجھنے اور اسے اپنی زندگی میں نافذ کرنے کا موقع دیتا ہے۔
روزے کی فرضیت کے ساتھ ساتھ اس کےمقصد کے بارے میں بطورِ خاص اِرشاد فرمایا:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الصِّیَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَۙ(۱۸۳)
ترجَمۂ کنزالایمان: ”اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے جیسے اَگلوں پر فرض ہوئے تھے کہ کہیں تمہیں پرہیزگاری ملے۔“ ([4])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
اِس آیتِ کریمہ کے تحت تفسیر صراطُ الجنان میں ہے: روزے کا مقصد تقویٰ و پرہیزگاری کا حُصول ہے۔ روزے میں چونکہ نفس پر سختی کی جاتی ہے اور کھانے پینے کی حلال چیزوں سے بھی روک دیا جاتا ہے تو اس سے اپنی خواہشات پر قابو پانے کی مشق ہوتی ہے، جس سے ضبط ِنفس اور حرام سے بچنے پر قوّت حاصل ہوتی ہے اور یہی ضبط ِ نفس اور خواہشات پر قابو وہ بنیادی چیز ہے جس کے ذَریعے آدمی گناہوں سے رُکتا ہے۔([5])یہی وجہ ہے کہ نکاح کی اِستطاعت نہ رکھنے والوں کو روزہ رکھنے کا حکم دیا گیا تاکہ وہ اپنی خواہشات پر قابو پا کر گُناہوں سے بچے رہیں۔چنانچہ رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اِرشاد فرمایا:اے جوانو! تم میں جوکوئی نکاح کی اِستطاعت رکھتا ہے وہ نکاح کرے کہ یہ اجنبی عورت کی طرف نظر کرنے سے نگاہ کو روکنے والا ہے اور شرمگاہ کی حفاظت کرنے والا ہے اور جس میں نکاح کی اِستطاعت نہیں وہ روزے رکھے کہ روزہ شہوت کو توڑنے والا ہے۔([6])
روزہ عملی طور پر روزہ دار کی تربیَت کا سامان کرتا ہے،روزہ دار کو بھوک اور پیاس کی شدّت محسوس ہوتی ہے،اس کے سامنے طرح طرح کی کھانے پینے کی لذیذ چیزیں،ٹھنڈے اور میٹھے مشروبات موجود ہوتے ہیں مگر وہ تنہائی میں چُھپ کر بھی اِن چیزوں کی طرف ہاتھ نہیں بڑھاتا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس کی یہ حرکت مخلوق سے تو چُھپ سکتی ہے مگر خالِق سے نہیں چُھپ سکتی،تو یہ خوفِ خُدا اور تقویٰ و پرہیزگاری کی تربیَت کا عملی موقع روزے ہی کی بَرَکت سے حاصِل ہوتا ہے۔ پھر اِس تربیَت کا اَثر یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اِنسان کی جَلوت اور خَلوت ایک جیسی ہو جاتی ہے،اِنسان جس طرح لوگوں کے سامنے گُناہوں سے رُکا رہتا ہے اِسی طرح تنہائی میں بھی گُناہوں سے بچا رہتا ہے۔اِس ضمن میں ایک رِوایت ملاحظہ کیجئے:
چنانچہ حضرت نافِع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:حضرت عبدُاللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنے بعض ساتھیوں کے ساتھ ایک سفر میں تھے راستے میں ایک جگہ ٹھہرے اور کھانے کے لیے دَسترخوان بچھایا،اتنے میں ایک چرواہا (یعنی بکریاں چرانے والا) وہاں آ گیا، آپ نے فرمایا: آئیے!د َسترخوان سے کچھ لے لیجئے! اُس نے عرض کی: میرا روزہ ہے۔حضرت عبدُاللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کیا تم اِس سخت گرمی کے دِن میں (نفل) روزہ رکھے ہوئے ہو جبکہ تم اِن پہاڑوں میں بکریاں چرا رہے ہو! اُس نے کہا:اللہ کی قسم! میں یہ اِس لیے کر رہا ہوں کہ زندگی کے گُزرے ہوئے دِنوں کی تلافی (یعنی بدلہ ادا) کر سکوں۔ آپ نے اُس کی پرہیزگاری کا اِمتحان لینے کے اِرادے سے فرمایا:کیا تم اپنی بکریوں میں سے ایک بکری ہمیں بیچو گے؟ اس کی قیمت اور گوشت بھی تمہیں دیں گے تاکہ تم اس سے روزہ اِفطار کر سکو، اُس نے جواب دیا:یہ بکریاں میری نہیں ہیں،میرے مالِک کی ہیں۔عبدُاللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نےآزمانے کے لیے فرمایا: مالِک سے کہہ دینا کہ بھیڑیا (Wolf) ان میں سے ایک کو لے گیا ہے۔ غلام نے کہا:تو پھر اللہ پاک کہاں ہے؟(یعنی اللہ پاک تو دیکھ رہا ہے،وہ اس پر میری پکڑ فرمائے گا) جب آپ مدینے واپس تشریف لائے تو اُس کے مالِک سے غلام اورساری بکریاں خرید لیں پھر چرواہے کو آزاد کر دیا اور بکریاں بھی اُسے تحفے میں دے دیں۔([7])
روزہ اِنسان کی تقویٰ و پرہیزگاری اور گناہوں سے بیزاری کی تربیَت کرتے ہوئے یوں بھی اِحساس دِلاتا ہے کہ کھانے پینے کی چیزیں جو روزے کے علاوہ جائز تھیں مگر روزے کی حالت میں ان سے بھی منع کر دیا گیا تو وہ چیزیں جو روزے کے علاوہ بھی ہمیشہ منع ہیں(مثلاً جھوٹ، غیبت، چغلی، گالم گلوچ، فلمیں ڈرامے، گانے باجے اور بد نگاہی وغیرہ) ان کا اِرتکاب کیسے کیا جا سکتا ہے! تو یوں اِنسان روزے کی بَرَکت سے کھانے پینے وغیرہ سے بچنے کے ساتھ ساتھ دِیگر گناہوں سے بھی خود کو بچانے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔
یوں ہی روزہ یہ اِحساس بھی دِلاتا ہے کہ جس طرح روزہ دار کھانے پینے کی چیزوں پر قدرت رکھنے کے باوُجود صرف اپنے رَب کے خوف سے انہیں چھوڑ دیتا ہے اِسی طرح گناہ کے اَسباب موجود ہونے کے باوجود اِنسان اپنے رَب کے خوف سے گُناہ چھوڑ دے کہ یہی حقیقی تقویٰ ہے اور اس کی بڑی فضیلت بیان ہوئی ہے۔چنانچہ رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اِرشاد فرمایا: جوشخص کسی حرام کام پر قادِر ہو پھر اسے صرف اللہ پاک کے خوف کی وجہ سے چھوڑ دے تو اللہ پاک آخِرت سے پہلے دُنیا ہی میں جلد اس کا ایسا بدل عطا فرماتا ہے جو اس حرام کام سے بہتر ہو۔([8])
اَلغرض روزہ ایک ایسی حالت ہے جس میں اِنسان ہر وقت عِبادت میں رہتا ہے، روزہ دار کا سحری کرنا عبادت، اِفطار کرنا عبادت یہاں تک کہ اس کا سونا بھی عبادت میں شمار ہوتا ہے۔ حدیثِ پاک میں ہے: روزہ دار کا سونا عبادت،ا س کی خاموشی تسبیح کرنا،اس کی دُعا قبول اور اس کا عمل مقبول ہوتا ہے۔([9]) یوں اِنسان کے متّقی اور پرہیزگار بننے میں روزے کا نمایاں کِردار ہوتا ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* رکن مجلس المدینۃ العلمیہ، ذمہ دار شعبہ خلیفہ امیراہل سنت


Comments