آخری نبی محمد عربی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی اشک باری
اللہ کریم نے انسان کو احساس کی نِعمت سے نوازا ہے،اِسی نِعمت کی بدولت انسان خوشی کے موقع پر مسکراتا ہے اورغم کے موقع پرکبھی رنجیدہ ہوجاتاہے اور کبھی رو پڑتا ہے۔ ہنسنا اور رونا دونوں اللہ پاک کی طرف سے ہے چنانچہ قراٰنِ کریم میں ہے:
وَ اَنَّهٗ هُوَ اَضْحَكَ وَ اَبْكٰىۙ(۴۳)
ترجَمۂ کنزُالایمان: اور یہ کہ وہ ہی ہے جس نے ہنسایا اور رولایا ۔ ([1])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
اللہ کی کرم نوازی دیکھیےکہ اُس نےرونے کوغم کےوقت ڈھارس، مصیبت کے وقت تسلّی اورحوصلہ کو پَست ہونے سے بچانے کا ذَریعہ بنایا ہے۔اللہ کی رَحْمت دیکھیے کہ اُس نے آخِری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی مبارَک ذات کو دیگر معاملات ِ زندگی کی طرح خوشی اور غمی کے مواقع میں بھی ہمارےلیےرَہبرو رَہنما بنایاہے، ہمارے کریم آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اشکباری فرما کراِس اُمّت کوتعلیم دی ہے،آئیے!ہم اپنے آقاکریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے اندازِ اشکباری سےمتعلّق چند واقعات کاعِلْم حاصل کرتے ہیں:
دوران ِنَماز اشکباری
(1)شیرِخدا حضرتِ علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: بدر کے دن حضرت مِقْداد رضی اللہ عنہ کے سِوا ہم میں کوئی گھڑ سُوار نہ تھا۔ میں نے دیکھا کہ رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے علاوہ سب سو ئے ہیں،آپ ایک درخت کے نیچے نَماز پڑھ رہے ہیں اور رو رہے ہیں یہاں تک کہ صبح ہو گئی۔([2])
(2)حضرت عبداللہ بن شخیر رضی اللہ عنہ فرماتےہیں: میں اللہ کے رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خدمت میں حاضِر ہوا تو آپ نَماز پڑھ رہے تھے اور رونےکی وجہ سےآپ کے سینے سے ہنڈیا(ابلنے) جیسی آواز آ رہی تھی۔([3])
اللہ کرےکہ ہمیں بھی اِس اندازِ مصطفیٰ کا صدقہ نصیب ہو۔ نَماز میں روتے ہوئے چند باتوں کی احتِیاط لازم ہے: (1)نمازی خُشوع اپنائے،جہاں اللہ کے عدل کاخوف دل میں ہو وہیں اُس کی رَحْمت سے بھی اُمّید لگی رہے۔(2)جہنّم کے خوف اور جنّت کےاشتیاق میں بغیر آواز کےرونے میں کوئی حرج نہیں۔ (3)نَماز کے دوران روتے ہوئےآہ، اُوہ، اُف، تُف، یہ الفاظ دَرْد یا مصیبت کی وجہ سے نکلے یا آواز سے رویا اور حَرف پیدا ہوئے، ان سب صورتوں میں نماز جاتی رہی،نماز ٹوٹنے کی وجہ یہ ہے کہ اِس طر ح رونا بطورِ شکایت کے ہے اورمقصدیہ بتانا ہے کہ ”مجھے تکلیف ہے یا مجھے مصیبت آئی۔“ یہ لوگوں کا کلام ہے جو کہ نَماز کو فاسِد کر دیتا ہے۔اگر یہ الفاظ جنّت و دوزخ کی یاد میں کہے، تو نماز فاسد نہ ہوئی کیوں کہ اِس صورت میں یہ الفاظ دُعا،طلبِ رَحمت اور مُعافی مانگنےکے درجے میں ہیں اِس وجہ سے نماز نہیں ٹوٹے گی۔([4])
قُراٰن سنتے وقت اشکباری
رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نےحضرت عبدُاللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے تلاوتِ قراٰن کرنے کا فرمایا تو آپ نے تعجّب سے عرض کی:میں (قراٰن کی) تِلاوت کروں؟حالانکہ(یہ قراٰن) اُتراآپ پر ہے؟فرمایا: دوسرے سےسننا مجھے اچّھا لگتا ہے۔ چنانچہ رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے سامنے حضرت عبدُاللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نےسورۂ نسآء کی تِلاوت کی، جب اس آیت پر پہنچے:
فَكَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍۭ بِشَهِیْدٍ وَّ جِئْنَا بِكَ عَلٰى هٰۤؤُلَآءِ شَهِیْدًاﳳ(۴۱)
(ترجَمۂ کنزُالایمان: تو کیسی ہوگی جب ہم ہر اُمت سے ایک گواہ لائیں اور اے محبوب تمہیں ان سب پر گواہ اور نگہبان بنا کر لائیں ۔) ([5])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
تو آپ نے ارشاد فرمایا:”ابھی اتنا کافی ہے۔ (یعنی اگلی آیت مت پڑھناکیوں کہ میں اِس آیت میں غوروفکرکررہا ہوں،گریہ وزاری کی کیفیت مجھ پر طاری ہے،یہ کیفیت مزید تلاوتِ قرآن سننے میں رکاوٹ بنےگی۔)حضرت سیدنا عبدُ اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے(تلاوتِ قراٰن سے روکنے کا سبب جاننے کے لیے) رسولِ کریم رءوف رحیم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی طرف توجّہ کی تو آپ کی دونوں آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔([6])
قبرستان میں اشکباری
حضرت بَرَاء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کےساتھ ایک جَنازہ میں شریک تھے، آپ قَبر کے کنارے بیٹھے اور اتنا روئے کہ (آپ کےآنسوؤں سے) مٹّی نم ہوگئی۔پھرفرمایا:يَااِخواني لِمِثْلِ هَذَا فَاَعِدُّوا یعنی اے میرےبھائیو!اس جیسی(قبر)کےلیے(قبرمیں ساتھ جانے والی نیکیاں) تیاررکھو۔([7])اِس حدیث کو پڑھنے کے بعد ہمارا قبرستان جانے کا انداز بدل جاناچاہیے۔
فکرِ امّت میں اشکباری
حضرت عبدُ اللہ بن عَمرو بن عاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نےقراٰنِ پاک میں سے حضرت ابراہیم علیہ السّلام کے اس قول کی تلاوت فرمائی:
رَبِّ اِنَّهُنَّ اَضْلَلْنَ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِۚ-فَمَنْ تَبِعَنِیْ فَاِنَّهٗ مِنِّیْۚ-وَ مَنْ عَصَانِیْ فَاِنَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۳۶)
(ترجَمۂ کنزُالایمان: اے میرے رب بےشک بتوں نے بہت لوگ بہکادئیے تو جس نے میرا ساتھ دیا وہ تو میرا ہے اور جس نے میرا کہا نہ مانا تو بےشک تو بخشنے والا مہربان ہے۔) ([8])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
اور وہ آیت تلاوت فرمائی جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کا یہ قول ہے:
اِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَاِنَّهُمْ عِبَادُكَۚ-وَ اِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَاِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ(۱۱۸)
(ترجَمۂ کنزُالایمان: اگر تو انہیں عذاب کرے تو وہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انہیں بخش دے تو بے شک تو ہی ہے غالب حکمت والا) ([9])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
تو رسولِ کریم رءوف رحیم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر گِریہ طاری ہو گیا اور اپنے ہاتھ اُٹھا کر دُعا کی: ’’اے اللہ!میری اُمّت،میری اُمّت۔“ اللہ پاک نے حضرت جبریل علیہ السلام سے فرمایا:’’اے جبریل! میرے حبیب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں جاؤ، تمہارا ربّ خوب جانتا ہے مگر ان سے پوچھو کہ انہیں کیا چیز رُلا رہی ہے۔حضرت جبریل علیہ السّلام حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور پوچھا تو انہیں رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اپنی عرض معروض کی خبر دی۔ اللہ پاک نےحضرت جبریل علیہ السلام سے فرمایا: تم میرے حبیب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کےپاس جاؤ اور ان سے کہو:اِنَّا سَنُرْضِیْکَ فِی اُمَّتِکَ وَلَا نَسُوْ ءُکَ یعنی آپ کی اُمّت کی بخشش کے معاملے میں ہم آپ کو راضی کر دیں گے اور آپ کو غمگین نہ کریں گے۔([10])
موت پر اشکباری
(1)آخِری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کےفرزند حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کی رَضاعی والِدہ کا نام حضرت خولہ بنتِ مُنذِر رضی اللہ عنہا ہے،اِن کے شوہر کا نام بَرَاء بن اَوْس انصاری تھا وہ” ابو سَیف لوہار“کہلاتےتھے۔([11])حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:(ایک مرتبہ) ہم رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ساتھ ابو سَیف لوہار کے گھر گئے،وہ حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کے رَضاعی والِد تھے۔رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے حضرت ابراہیم کو اُٹھایا،انہیں بوسا دیا اور سونگھا۔ اس کے بعد ہم دوبارہ گئے جبکہ ابراہیم آخری سانسیں لے رہے تھے، (ان کی یہ حالت دیکھ کر) رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ حضرت عبدُالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:یا رسولَ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ! آپ بھی (رو رہے ہیں جبکہ آپ نے مصیبت پر صبر کرنےکا اور میّت پر نہ رونے کا حکم دیا ہے) فرمایا:اے ابنِ عَوف! ( یہ رونا بے صبری اور ناشکری کے لیے نہیں ہے بلکہ)یہ رَحمت ہے(جو ہر باپ کو اپنے بیٹے سے ہوتی ہے)۔پھر دوبارہ آنسو نکلے تو فرمایا : بیشک آنکھ آنسو بہا رہی ہے،دل بھی غمزدہ ہےمگر ہم صرف وہی کہیں گےجس سے ہمارا ربّ راضی ہو اور اے ابراہیم!تیری جدائی پر ہم غمزدہ ہیں۔([12])
(2)رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اپنی صاحبزادی حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے گھرتشریف لائے،حضرت سَعْد بن عُبادہ اور حضرت مُعاذ بن جبل رضی اللہ عنہما بھی ساتھ تھے، رَحمتِ عالَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو آپ کانواسہ دیا گیا اُس وقت بچے کا سانس اکھڑ رہا تھا۔ یہ دیکھ کر آپ کی آنکھیں اشکبار ہوگئیں۔ حضرت سَعد بن عُبادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی :یارسولَ اللہ! یہ کیا ہے؟ فرمایا:هٰذِهٖ رَحْمَةٌ جَعَلَهَا اللهُ فِي قُلُوبِ عِبَادِهٖ، وَإِنَّمَا يَرْحَمُ اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ الرُّحْمَاءَ یعنی یہ وہی رَحمت ہےجسے اللہ پاک نے اپنے بندوں کے دلوں میں ڈالا ہے،اللہ پاک اپنے رَحم دل بندوں پر رَحم فرماتا ہے۔([13])
تعلیمِ اشکباری کے نتائج و اثرات
غورکیجیے کہ ہمارے ربّ نےکتنی کرم نوازی فرمائی کہ ہمیں سیّدِ عالَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کےدامنِ کرم سےوابستہ کردیا، صحبتِ مصطفیٰ نے صحابَۂ کرام علیہمُ الرّضوان کو خوب نوازا، اشکِ مصطفیٰ سے فیض پاکر دل کو رقّت و سوز اورشفقت و احساس جیسی خوبیوں سے آراستہ کیا، صحابَۂ کرام سے یہ فیض تابعین،ائمّہ مجتہدین، اولیائے کاملین اور علما و صلحا میں منتقل ہوکر دنیا بھر میں عام ہوا اور اسلام کی روشن تعلیمات ہر طبقے تک پہنچانے کا ذریعہ بنا۔ اندازِمصطفیٰ سے حاصل شدہ تعلیمِ اشکباری آج بھی دنیا سے سفاکیّت و بربریّت کےخاتمے کے لیے مؤثّر ہے، احساسِ ذمّہ داری کو جگانے میں معاون ہے،انسان کومثبت فکر کی تربیَت دینے میں مدد گار ہے، اجتماعی بےحسی سے پیدا ہونے والی ہولناکی سے نکالنے کا راستہ ہے۔یہاں یہ بتاناضروری ہے کہ دعوتِ اسلامی کی ترقی و کامیابی کے بہت سارے عوامل ہیں اُن میں درس و بیان، سنّتوں بھرے اجتماعات اور دیگردینی کاموں کے ذریعے اندازِ مصطفیٰ سے حاصل شدہ تعلیمِ اشکباری کا کردار بہت بنیادی اور نہایت اہم ہے، دعوتِ اسلامی میں یہ سکھایا جاتا ہے کہ
رونا مصیبت کا مت رو تُو پیارے نبی کے دیوانے
کرب و بلا والے شہزادوں پر بھی تُو نے دھیان کیا
بارگاہِ الٰہی میں یوں التجا کرنے کی تربیت دی جاتی ہے :
یارب! غمِ حبیب میں رونا نصیب ہو
آنسو نہ رائیگاں ہوں غمِ روزگار میں
بارگاہِ مصطفیٰ میں یوں عرض کرنے کا سلیقہ سکھایا جاتا ہے:
رونا بھی سکھا دو اور سِکھلا دو تڑپنا بھی
بُلوا کے شہنشاہِ اَبرار مدینے میں
خوفِ خدااور عشقِ مصطفیٰ میں رونے کی اہمیت یوں ذہن نشین کروائی جاتی ہے:
رونے والی آنکھیں مانگو رونا سب کا کام نہیں
ذکرِ محبت عام ہے لیکن سوزِ محبت عام نہیں
خوفِ خدا،عشقِ مصطفیٰ،فکرِآخرت میں رونے والی آنکھیں جسے مل جاتی ہیں اور پھر وہ اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کا جذبہ لے کرمیدانِ عمل میں اُترتا ہے تو اللہ کریم کے کرم سے ترقی و کامیابی اُس کااستقبال کرتی ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* ذمہ دار مرکز خدمۃ الحدیث، حدیث ریسرچ سینٹر کراچی
([4])شرح ابوداؤد للعینی، 4/126،تحت الحدیث:881،مرقاۃ المفاتیح، 3/82، تحت الحدیث:1000،بہارشریعت،1/ 608
Comments