نزولِ قراٰن کے مقاصد اور حکمتیں (قسط:02)


نزولِ قرآن کے مقاصد اور حکمتیں(قسط02)

دینِ حق کی تکمیل:

نُزولِ قراٰن کا ایک مقصد قراٰنِ کریم میں یہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ یہ کتاب دین کی تکمیل کے لیے نازل کی گئی۔ سورۃُ المآئدۃ میں اللہ تعالیٰ کا یہ عظیم اعلان ہے:

اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْكُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًاؕ-

ترجَمۂ کنزالایمان: آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل کردیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لیے اسلام کو دین پسند کیا۔ ([1])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

سورۃُ الانعام میں فرمایا:

وَ تَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّ عَدْلًاؕ-لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖۚ-وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ(۱۱۵)

ترجَمۂ کنزالایمان: اور پوری ہے تیرے رب کی بات سچ اور انصاف میں اس کی باتوں کا کوئی بدلنے والا نہیں اور وہی ہے سنتا جانتا۔([2])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

یہ آیات بتاتی ہیں کہ قراٰن کے نزول کے ساتھ دینِ اسلام مکمل ہوگیا۔ اب نہ کسی نئے نبی کی ضَرورت ہے، نہ کسی نئی کتاب کی، اور نہ ہی دین میں کسی قسم کی کمی بیشی کی گنجائش ہے۔ قراٰن نے عقائد، عبادات، معاملات، اخلاقیات، معاشرت، معیشت، سیاست، جنگ و امن، خاندان اور معاشرے کے ہر پہلو کے بارے میں واضح رَہنمائی فراہم کردی اور رسولُ اللہ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے اپنے فرامین میں قراٰنِ کریم کے تمام اُصولوں اور تعلیمات کو قولاً اور عملاً واضح فرمادیا۔ یہ تکمیلِ دین اللہ کی نعمت ہے اور مسلمانوں پر بہت بڑا احسان ہے۔ اس کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اس مکمل دین کو اپنی زندَگی میں مکمّل طور پر نافذ کریں، اس میں اپنی طرف سے کوئی اضافہ یا کمی نہ کریں، اور کسی دوسرے نظامِ زندَگی کو اس پر ترجیح نہ دیں۔ معاشرے میں جب لوگ اس حقیقت کو سمجھ لیتے ہیں کہ اسلام ایک مکمّل نِظام ہے تو وہ مغربی نظریات اور افکار کی غلامی سے نکل آتے ہیں اور اپنی اصل شناخت پر فخر کرتے ہیں۔

قلب ِ مصطفےٰ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی تقویت:

قراٰنِ کریم کے  بتدریج نازل ہونے کابھی ایک اہم مقصد تھا ۔ سورۃُ الفرقان میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَیْهِ الْقُرْاٰنُ جُمْلَةً وَّاحِدَةًۚۛ-كَذٰلِكَۚۛ-لِنُثَبِّتَ بِهٖ فُؤَادَكَ وَ رَتَّلْنٰهُ تَرْتِیْلًا(۳۲)

ترجَمۂ کنزالایمان: اور کافر بولے قرآن ان پر ایک ساتھ کیوں نہ اُتار دیا ہم نے یونہی بتدریج اُسے اُتارا ہے کہ اس سے تمہارا دل مضبوط کریں اور ہم نے اُسے ٹھہر ٹھہر کر پڑھا۔([3])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

سورۂ ہود میں بھی اسی مضمون کا ذکر ہے:

وَ كُلًّا نَّقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهٖ فُؤَادَكَۚ-وَ جَآءَكَ فِیْ هٰذِهِ الْحَقُّ وَ مَوْعِظَةٌ وَّ ذِكْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَ(۱۲۰)

ترجَمۂ کنزالایمان: اور سب کچھ ہم تمہیں رسولوں کی خبریں سناتے ہیں جس سے تمہارا دل ٹھہرائیں اور اس سورَت میں تمہارے پاس حق آیا اور مسلمانوں کو پند و نصیحت۔([4])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

یہ آیات بتاتی ہیں کہ قراٰن کا بتدریج نُزول اور اس میں پچھلے اَنبیا کے واقعات کا تذکِرہ رسولُ اللہ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کے لیے تقویتِ قلب کا باعث تھا۔ جب کفّار کی طرف سے مخالفت شدید ہوتی، مشکلات بڑھتیں اور حالات دشوار ہوتے تو اللہ تعالیٰ  وحی نازل فرماتا جو نبیِ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کے حوصلے بڑھاتی اور آپ کو یہ یقین دلاتی کہ اللہ آپ کے ساتھ ہے۔ گزشتہ اَنبیا کے صبر اور استقامت کے واقعات سن کر آپ کو تسلّی ہوتی کہ یہ راہ ہمیشہ مشکل رہی ہے لیکن آخر  کامیابی حق کی ہوتی ہے ۔ یہ ہمارے لیے بھی سبق ہے کہ جب ہم دین کے راستے میں مشکلات کا سامنا کریں تو قراٰن کی تلاوت اور اس کے واقعات پر غور و فکر کریں تاکہ ہمارے دل مضبوط   ہوں  اور ہمیں صبر و استقامت کی توفیق   ملے ۔

شبہات کا ازالہ اور حقائق کی وضاحت:

نُزولِ قراٰن کا ایک مقصد قراٰنِ کریم میں یہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ یہ کتاب لوگوں کے شکوک و شبہات کو دُور کرنے اور حقائق کو واضح کرنے کے لیے نازل کی گئی۔ سورۃُ النحل میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الذِّكْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْهِمْ وَ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ(۴۴)

ترجَمۂ کنزالایمان: اور اے محبوب ہم نے تمہاری طرف یہ یادگار اُتاری کہ تم لوگوں سے بیان کردو جو ان کی طرف اترا اور کہیں وہ دھیان کریں۔([5])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

سورۃُ البقرۃ میں فرمایا:

وَ لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍۚ-وَ مَا یَكْفُرُ بِهَاۤ اِلَّا الْفٰسِقُوْنَ(۹۹)

ترجَمۂ کنزالایمان: اور بےشک ہم نے تمہاری طرف روشن آیتیں اتاریں اور ان کے منکر نہ ہوں گے مگر فاسق لوگ۔([6])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

سورۃُ النسآء میں بھی اسی مضمون کا ذکر ہے:

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلُنَا یُبَیِّنُ لَكُمْ كَثِیْرًا مِّمَّا كُنْتُمْ تُخْفُوْنَ مِنَ الْكِتٰبِ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍ ﱟ قَدْ جَآءَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ نُوْرٌ وَّ كِتٰبٌ مُّبِیْنٌۙ(۱۵)

ترجَمۂ کنزالایمان: اے کتاب والو بے شک تمہارے پاس ہمارے یہ رسول تشریف لائے کہ تم پر ظاہر فرماتے ہیں بہت سی وہ چیزیں جو تم نے کتاب میں چُھپا ڈالی تھیں اور بہت سی معاف فرماتے ہیں بے شک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک نور آیا اور روشن کتاب۔ ([7])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

قراٰنِ کریم کی یہ خصوصیّت انتہائی اَہَم ہے کہ یہ ہر طرح کے شبہات کا جواب دیتا ہے اور عقیدے، شریعت، اخلاق اور تاریخ سے متعلق تمام حقائق کو واضح کرتا ہے۔ عہدِ نبوی میں کفّار اور منافقین کی طرف سے مختلف شبہات پیش کیے جاتے تھے، یہودی اور نصاریٰ اپنی مذہبی تحریفات کی وجہ سے اُلجھنیں پیدا کرتے تھے، اور مشرکین اپنے باطل عقائد کا دفاع کرتے تھے۔ قراٰن نے ان تمام شبہات کا مدلّل اور واضح جواب دیا۔ آج بھی جب دین کے بارے میں شکوک پیدا ہوتے ہیں، مغربی فکر کے زیرِ اثر سُوالات اُٹھائے جاتے ہیں، یا نئے فتنے سَر اٹھاتے ہیں تو قراٰن ہی وہ معیار ہے جس کی روشنی میں ان کا جواب دیا جاسکتا ہے۔ معاشرے میں جہالت اور غلط فہمیوں کی وجہ سے بہت سے مسائل پیدا ہوتے ہیں، قراٰن کی تعلیم سے یہ   شکوک و شبہات  دُور ہوجاتے ہیں اور لوگوں کی سوچ میں وضاحت آجاتی ہے۔

اللہ کی نشانیوں پر تفکر کی دعوت:

نُزولِ قراٰن کا ایک مقصد قراٰنِ کریم میں یہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ یہ کتاب لوگوں کو کائنات میں موجود اللہ کی نشانیوں پر غور کرنے کی دعوت دینے کے لیے نازل کی گئی۔ سورۂ صٓ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ مُبٰرَكٌ لِّیَدَّبَّرُوْۤا اٰیٰتِهٖ وَ لِیَتَذَكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ(۲۹)

ترجَمۂ کنزالایمان: یہ ایک کتاب ہے کہ ہم نے تمہاری طرف اتاری برکت والی تاکہ اس کی آیتوں کو سوچیں اور عقل مند نصیحت مانیں۔([8])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

سورۂ محمد میں فرمایا:

اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰى قُلُوْبٍ اَقْفَالُهَا(۲۴)

ترجَمۂ کنزالایمان: تو کیا وہ قرآن کو سوچتے نہیں یا بعضے دلوں پر اُن کے قفل لگے ہیں۔([9])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

سورۃُ النسآء میں بھی فرمایا:

اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَؕ-وَ لَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوْا فِیْهِ اخْتِلَافًا كَثِیْرًا(۸۲)

ترجَمۂ کنزالایمان: تو کیا غور نہیں کرتے قرآن میں اور اگر وہ غیر خدا کے پاس سے ہوتا تو ضرور اس میں بہت اختلاف پاتے۔([10])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

قراٰن کا یہ پہلو بہت اَہم ہے کہ یہ انسان کو تفکر اور تدبّر کی دعوت دیتا ہے۔ یہ کوئی ایسی کتاب نہیں جسے بغیر سمجھے محض پڑھ لیا جائے بلکہ اس کا مقصد یہ ہے کہ انسان اس کے معانی میں غور کرے، اس کی آیات پر تدبّر کرے، اللہ پر ایمان لائے،  تعلیماتِ قراٰن پر عمل کرے اور پھر ان کی روشنی میں اپنی زندَگی کو سنوارے ۔ قراٰن کائنات کی نشانیوں کی طرف متوجّہ کرتا ہے، آسمانوں اور زمین کی تخلیق، سورج اور چاند کے نظام، بارش اور نباتات، انسانی جسم کی ساخت، اور دیگر بے شمار حقائق کا ذکر کرکے انسان کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ معاشرے میں جب لوگ قراٰن پر تدبّر کرنا چھوڑ دیتے ہیں تو وہ محض رسمی تلاوت تک محدود ہوجاتے ہیں اور قراٰن کی تعلیمات ان کی زندَگیوں میں کوئی تبدیلی نہیں لاتیں۔

پچھلی کتابوں کی تصدیق :

نُزولِ قراٰن کا ایک مقصد قراٰن ِ کریم میں یہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ یہ کتاب سابقہ آسمانی کتابوں کی تصدیق کرنے  کے لیے نازل کی گئی۔ سورۂ اٰلِ عمرٰن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

نَزَّلَ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ وَ اَنْزَلَ التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَۙ(۳)

ترجَمۂ کنزالایمان: اس نے تم پر یہ سچی کتاب اتاری اگلی کتابوں کی تصدیق فرماتی اور اُس نے اس سے پہلے توریت اور انجیل اتاری۔([11])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

سورۃُ المآئدۃ میں فرمایا:

وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ الْكِتٰبِ وَ مُهَیْمِنًا عَلَیْه

ترجَمۂ کنزالایمان: اور اے محبوب ہم نے تمہاری طرف سچی کتاب اتاری اگلی کتابوں کی تصدیق فرماتی اور ان پر محافظ و گواہ۔([12])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

سورۃُ البقر ۃ میں بھی فرمایا:

وَ لَمَّا جَآءَهُمْ كِتٰبٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَهُمْۙ-وَ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ یَسْتَفْتِحُوْنَ عَلَى الَّذِیْنَ كَفَرُوْاۚ-فَلَمَّا جَآءَهُمْ مَّا عَرَفُوْا كَفَرُوْا بِهٖ٘-فَلَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ(۸۹)

ترجَمۂ کنزالایمان: اور جب ان کے پاس اللہ کی وہ کتاب (قرآن) آئی جو ان کے ساتھ والی کتاب (توریت) کی تصدیق فرماتی ہے اور اس سے پہلے اسی نبی کے وسیلہ سے کافروں پر فتح مانگتے تھے تو جب تشریف لایا ان کے پاس وہ جانا پہچانا اس سے منکر ہو بیٹھے تو اللہ کی لعنت منکروں پر۔([13])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ قراٰن نے تورات اور انجیل کی اصل تعلیمات کی تصدیق کی لیکن ساتھ ہی ان   باتوں کو واضح کیاجنہیں پہلے مانتے تھےاور  بعد میں ان کا انکار کربیٹھے۔ اہلِ کتاب نے اپنی آسمانی کتابوں میں تبدیلیاں کیں، کچھ حصّے چُھپائے، کچھ غلط تشریحات کیں اور اپنے مفادات کے مطابِق اَحکام بدل دیے۔ قراٰن نے آکر اصل توحید، رسالت اور آخرت کے عقائد اور تعلیمات  کو دوبارہ واضح کیا۔ یہ ہمارے لیے بھی سبق ہے کہ ہم قراٰن کی حفاظت کریں، اس میں کسی قسم کی تاویلِ فاسد یا تحریف سے بچیں اور اسے اسی طرح آگے منتقل کریں جیسے ہم تک پہنچا ہے۔ معاشرے میں جب لوگ قراٰن کی تعلیمات کو اپنی خواہشات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ دراصل وہی غلطی دہراتے ہیں جو اہلِ کتاب نے کی۔ قراٰن کی اَصل تعلیم پر قائم رہنا ہماری ذمّہ داری ہے۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ، ایم فل علوم اسلامیہ ایڈیٹر ماہنامہ فیضانِ مدینہ کراچی



([1])پ6، المآئدۃ: 3

([2])پ8، الانعام: 115

([3])پ19،الفرقان:32

([4])پ12،ھود:120

([5])پ14، النحل: 44

([6])پ1، البقرۃ: 99

([7])پ6، المآئدۃ: 15

([8])پ23، صٓ: 29

([9])پ26، محمد: 24

([10])پ5، النسآء: 82

([11])پ3 اٰل عمرٰن: 3

([12])پ6، المآئدۃ: 48

([13])پ1، البقرۃ: 89


Share